Connect with us

کھیل

نیشنل سٹیڈیم میزبانی کیلئے تیار

شائع شدہ

کو

نیشنل سٹیڈیم میزبانی کیلئے تیار

کراچی: پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچز  پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ آج کھیلا جائے گا جس کے لئے خصوصی ٹریفک اور سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
نیشنل اسٹیڈیم میں دونوں ٹیمیں رات 8 بجے مدمقابل ہوں گی جب کہ شائقین کرکٹ کو 7 بجے تک اسٹیڈیم پہنچنے کی تاکید کی گئی ہے۔اسٹیڈیم کے دروازے سہہ پہر 3 سے 7 بجے تک کھلے رہیں گے اور شائقین کو ٹکٹ کے ساتھ اصل شناختی کارڈ کی کاپی بھی ساتھ لانا ہوگی ، شائقین کو موبائل فون اسٹیڈیم کے اندر لے جانے کی اجازت ہوگی تاہم انتظامیہ کی جانب سے پاور بینک لے جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

کھیل

ماہرہ خان کی طرح دماغ خراب نہیں

شائع شدہ

کو

ماہرہ خان کی طرح دماغ خراب نہیں

پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر نے اداکارہ ماہرہ خان کو خوبصورت نظرآنے کیلئے گوری رنگت اور چمکدار جلد کےاشتہار میں کام کرنے کیلئے کھری کھری سنادیں۔ ثنا میر نےاپنی فیس بک پوسٹ میں کہاکہ اسپورٹس کی فیلڈ میں قدم رکھنے والی نئی اور نوجوان لڑکیوں کا دماغ کیسے ان کمپنیوں کے کنٹرول میں ہوتا ہے، ان کمپنیوں کی وجہ سے ان لڑکیوں کی زندگی کا صرف ایک مقصد رہ جاتا ہے ’خوبصورت جلد کا حصول‘۔ ثنا میر نے مشہور شخصیات اور ان پروڈکٹس کو اسپانسرکرنے والی کمپنیوں کو ذمہ دار ٹہراتے ہوئے کہاکہ یہ خواتین کو ہمیشہ ایک ’چیز‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان لڑکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا غلطی مت کریں، آپ کو اسپورٹس کی فیلڈ میں مقام بنانے کیلئے نرم و نازک ہاتھوں کی نہیں بلکہ مضبوط بازوؤں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا ہمیں یہ سب برابھی لگتا ہے اور ہم سوشل میڈیا پر اپنا غصہ ظاہر کرنے کیلئے مختلف پوسٹ اور اسٹیٹس لگاتے ہیں لیکن اب اس پر بات کرنے کا وقت آگیا ہے۔ میں نے بہت کم اسپانسرز اور مشہور شخصیات کو دیکھا ہے جو خواتین کی اصل رنگت کی حمایت میں کھڑے رہتے ہیں۔آج کل میڈیا میں جلد کونرم اور چمکدار بنانے والی ایک اشتہاری مہم چل رہی ہے جس نے مجھے اس موضوع پر بولنے اور اس حوالے سےاپنے تحفظات بیان کرنے کیلئےاکسایا۔ مجھے پتہ چلا کہ یہ اشتہاری مہم بھارت اور پاکستان دونوں میں جاری ہے جس میں لڑکیوں کو باسکٹ بال کورٹ میں اپنی رنگت کے حوالے سے تشویش میں مبتلا دکھایا جارہا ہے۔ بدترین بات یہ ہے کہ جہاں ہم نوجوان لڑکیوں کویہ پیغامات دے رہے ہیں کہ آپ کی جلد کی رنگت کوئی معنی نہیں رکھتی وہیں ہم اس بات کی بھی ترویج کررہے ہیں کہ جسم کی خوبصورتی کتنی ضروری ہے۔ کیا لڑکیوں کی صلاحیت، ان کا جنون اور مہارت اسپورٹس کھیلنے کیلئے کافی نہیں ہے؟۔ ہمارے آس پاس اسپورٹس میں نمایاں مقام حاصل کرنے والی خواتین ہیں جنہوں نے خود کو اس مقام تک کڑی محنت اوراپنی صلاحیتوں کے بل بوطے پر پہنچایا۔ ثنامیر نے نوجوان لڑکیوں سے کہا میں نے پاکستان میں اسپورٹس کی فیلڈ میں12 برس گزارے ہیں اور اس دوران میں نے خوبصورتی بڑھانے والی اشتہاری کمپنیوں کی متعدد پیشکش ٹھکرائی ہیں۔ میں چاہتی ہوں اسپورٹس کی فیلڈ میں جانے والی لڑکیوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہئیے کہ انہیں اس فیلڈ میں کامیابی حاصل کرنےکیلئے مسلسل پریکٹس، آرام دہ جوتے، آرام دہ کپڑے پانی کی بوتل اور دھوپ سے بچاؤ کیلئے کیپ کی ضرورت ہے۔ثنا میر نے تمام اسپانسرز اور مشہور شخصیات سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ آپ نوجوان لڑکیوں کو یقین دہانی کرائیں کہ وہ اپنے خوابوں کو ضرور پوراکریں گی، ہمیں انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کیلئے خود اعتمادی کی ضرورت ہے نہ کہ انہیں ان کی جلد کے حوالے سے کمزوری کے احساس میں مبتلا کرنا۔

پڑھنا جاری رکھیں

کھیل

’میں نہ مانوں‘ کی بھارتی تکرار

شائع شدہ

کو

ہوم سیریز ملائیشیا میں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے بھارتی بورڈ کی جانب سے حکومتی اجازت نہ ملنے کے اصرار پر کہا تھا کہ اگر یہ مسئلہ تھا تواس کو باہمی معاہدے میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ جب یہی بات بی سی سی آئی کے سیکریٹری امیتابھ چوہدری سے پوچھی گئی تو انھوں نے پینترا بدلتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی قانونی دستاویز یا تفصیلی معاہدہ نہیں ہے، پی سی بی نے کیوں اس بات پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ ابتدائی ڈرافٹ کے بعد تفصیلی معاہدہ ہوگا۔ حکومتی اجازت کی شق تو تفصیلی معاہدے میں ڈالنی تھی جوکبھی وجود میں ہی نہیں آیا، 1952 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر سیریز سے قبل ایک تفصیلی معاہدہ ہوتا آیا ہے۔
امیتابھ چوہدری نے کہا کہ ہم بھی پاکستان سے کھیلنا پسند کرتے ہیں مگر درمیان میں کچھ چیزیں حائل اور وہ ہمارے اختیار میں نہیں ہیں، ہم کیا کرسکتے ہیں، ہم نے حکومت کو تو ایشیا کپ کی میزبانی کے حوالے سے بھی لکھا اور بتایا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے مقابلے کے بغیر یہ ایونٹ بے کار ہوگا۔ ہم نے حکومت کو یہ بھی لکھا کہ اگر بھارت میں میزبانی ممکن نہیں تو کسی دوسرے ملک میں ایونٹ منعقد کرلیتے ہیں جس پر حکومت نے کہا کہ ٹھیک ہے ایسا کرو۔
ایک سوال پر امیتابھ نے کہاکہ میں پہلے ہی پی سی بی کے آئی سی سی تنازعات کمیٹی میں جانے کی وجہ بتا چکا کہ ان پر اپنے ملک میں کافی دباؤ تھا اس میں ہماری کوئی سفارتی ناکامی نہیں ہے۔ دوسری جانب نجم سیٹھی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ ایک باضابطہ معاہدہ ہے، انھیں اس بات کا فیصلہ کرنے دیں یہ کنٹریکٹ ہے یا کوئی اور چیز ہے، ہم تو اس کی بنیاد پر چیلنج کرچکے ہیں، اس سوال کا فیصلہ اب آئی سی سی کی تنازعات حل کرنے والی کمیٹی کو کرنا ہے اور ہم اس مسئلے کے حل ہونے کا انتظار کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

کھیل

موسم کا خوف

شائع شدہ

کو

موسم کا خوف

آئر لینڈ اور انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ میچز کی تیاری کیلیے پاکستان ٹیم کینٹربری میں ڈیرے ڈال چکی ہے، پہلے پریکٹس سیشن کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہاکہ آئرش ٹیم کیخلاف واحد ٹیسٹ کو ’’واک اوور‘‘ میچ سمجھنے کی غلطی نہیں کر سکتے،اگرچہ میزبان سائیڈ اپنی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ کھیل رہی ہے لیکن کسی بھی ہوم سائیڈ کو کمزور حریف خیال نہیں کیا جا سکتا، آج کل بہت کم ٹیمیں دوسرے ملکوں میں جاکر میچ جیت پاتی ہیں۔ مکی آرتھر نے کہا کہ پاکستان کو اپنی پوری توجہ کھیل پر مرکوز رکھتے ہوئے انٹرنیشنل معیار کے تقاضوں پر پورا اترنے والی بہترین کرکٹ کھیلنا ہوگی،امید ہے کہ موسم کی مداخلت نہیں ہوگی اور شائقین اچھی کرکٹ سے لطف اندوز ہونگے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل اور ٹیسٹ کرکٹ میں ناتجربہ کار ہے لیکن باصلاحیت کرکٹرز کچھ کر دکھانے کا جذبہ رکھتے اور اپنی اہلیت ثابت کرنے کیلیے بے تاب ہیں،انگلینڈ میں دونوں ٹیسٹ میچز بھی کڑا امتحان ہونگے، میزبان ٹیم اپنی کنڈیشنز میں کسی بھی حریف کیلیے مشکلات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ایشز کے نتائج سے قطع نظر نئی سیریز ہمارے لیے نیا چیلنج ثابت ہوگی، انگلش ٹیم کا مقابلہ کرنے کیلیے کنڈیشنز سے جتنی جلد ہم آہنگ ہوجائیں بہتر ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ لاہور میں تربیتی کیمپ کے دوران اچھی تیاری کی ہے، انگلینڈ میں بھی قبل ازوقت آمد کے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرینگے۔ میچز سے پہلے اور دوران میں ملنے والے وقت کا فائدہ اٹھاکر بہترین تیاری کے ساتھ میدان میں اترتے ہوئے نتیجہ اپنے حق میں کرنے کیلیے سخت محنت کریں گے۔ ایک سوال پر ہیڈ کوچ نے کہا کہ محمد عامر کی سوئنگ مہلک ہتھیار ثابت ہوسکتی ہے، پیسر انگلش کنڈیشنز میں حریف کو پریشان کرنے کے اہل ہیں، حسن علی بھی طویل فارمیٹ کا چیلنج قبول کرنے کیلیے تیار ہیں،دیگر پیسرز اچھے ردھم میں نظر آرہے ہیں۔
آرتھر نے کہا کہ یاسر شاہ کی خدمات سے محرومی ٹیم کیلیے نقصان ہے لیکن غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل شاداب خان سینئر لیگ اسپنر کا خلا پُرکرسکتے ہیں، انگلینڈ میں پیسرز پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے تاہم ضروت پڑنے پر شاداب ٹیم کیلیے اہم کردار ادا کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ اوپننگ جوڑی کے حوالے سے فی الحال کچھ نہیں بتا سکتا لیکن ٹیم میں ٹاپ آرڈر کا بوجھ اٹھانے والے سینئرز موجود ہیں، قبل ازوقت انگلینڈ پہنچ کر پریکٹس کا بیٹنگ لائن کو خاص طور پر زیادہ فائدہ ہوگا، بیٹسمینوں کو کنڈیشنز اور میچ کی صورتحال کے مطابق کھیل پیش کرنا پڑیگا،ٹیسٹ میچز مشکل ضرور ہیں لیکن کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے مطابق کھیل پیش کرنے میں کامیاب ہوئے تو انگلینڈ میں سرخرو ہوسکتے ہیں۔
محمد عامر پر کرکٹ کا زیادہ بوجھ ہونے کے سوال پر مکی آرتھر نے کہا کہ تمام بولرز کو بڑی دانش مندی سے استعمال کرنے کا خصوصی پلان ہے،ورلڈ کپ 2019میں پیسرز سمیت سپر فٹ اسکواڈ کے ساتھ میدان میں اترنے کیلیے اچھی حکمت عملی بنانا اور اس پر کاربند بھی رہنا ہوگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں