Connect with us

صحت

خصوصی بینڈیج متعارف

شائع شدہ

کو

خصوصی بینڈیج متعارف

میسا چوسٹس: سائنس دانوں نے جوڑوں پر لگنے والے زخم کے علاج کے لیے پھیلنے اور سکڑنے والے مخصوص بینڈیج تیار کر لی۔ گھٹنے اور کہنی کے مڑنے کے سبب ان پر لگے زخم کی مرہم پٹی نہایت مشکل کام ہے، ان اعضا کی حرکت سے مرہم پر لگی بینڈیج ہٹ جاتی ہے اس لیے ایسے زخموں کا علاج بروقت نہیں ہو پاتا جس کے باعث ایسی بینڈیج کی ضرورت محسوس ہوتی تھی جو گھٹنے اور کہنیوں کی حرکت کے باوجود جلد سے علیحدہ نہ ہو۔ اس الجھن کو میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے سائنس دانوں نے حل کرلیا اور چپکنے والی ایسی بینڈیج تیار کرلی جو لچک دار اور متحرک حصوں پر لگائی جا سکتی ہے یہ ربڑ کی مانند اور وزن میں ہلکی ہوتی ہے اسے صفحات کی طرح لپیٹ کر مختلف کارآمد چیزیں بنانے کے فن Kirigami کی طرز پر تیار کیا گیا ہے جو گھٹنے اور کہنیوں کی حرکت کے ساتھ ساتھ پھیلنے اور سکڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور 100 سے زائد بار پھیلنے سکڑنے کے باوجود جلد سے علیحدہ نہیں ہوتی۔
سائنسی جریدے Soft Matter میں شائع ہونے والے مقالے کے مطابق جوڑوں پر درست طریقے سے بینڈیج کے لیے الیکٹرانکس کا سہارا لیا گیا تاہم یہ ٹیکنالوجی بڑے جوڑ جیسے گھٹنے اور کہنی پر کارگر ثابت نہیں ہوئی جس کے بعد ایم آئی ٹی کی تحقیقی ٹیم نے کاغذ کے صفحوں سے کارآمد چیزیں بنانے والے فن Kirigami کا استعمال کرکے جلد سے چپکنے والے ایسی بینڈیج تیار کرلی جو پھیلنے اور سکڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

صحت

پہلی پروڈکٹ 2019 میں متوقع

شائع شدہ

کو

پہلی پروڈکٹ 2019 میں متوقع

آپ نے ڈی این اے میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی غیرمعمولی مقدار رکھنے کی خبریں تو سنی ہوں گی اور اب ایک کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اگلے سال ڈی این اے میں ڈیٹا والی پہلی تجارتی پروڈکٹ پیش کررہی ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی لائف لیب میں قائم ہونے والی اس کمپنی کا نام کیٹلاگ ہے جو اگلے سال ڈی این اے گولی (پیلٹ) بنائے گی اور ایک ایک پیلٹ میں بہ آسانی 40 بلیو رے ڈی وی ڈیز کے برابر ڈیٹا رکھا جاسکے گا۔ اس سے قبل ماہرین ثابت کرچکے ہیں کہ ڈی این اے میں ڈیٹا کو سیکڑوں سال تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل ماہرین ڈی این اے میں تصاویر اور معلومات رکھنے کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ اب کیٹلاگ کمپنی نے ڈی این اے پیلٹ میں معلومات رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے اگلے سال پہلی کمرشل پروڈکٹ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک سال قبل وہ ایک کلوبائٹ کے اشعار ڈی این اے پر لکھ چکے ہیں۔ اب وہ ایسی مشین پر کام کررہے ہیں جو فوری طور پر ڈی این اے کے اربوں مالیکیولز پر ڈیٹا منتقل کرسکے گی۔ اگلے مرحلے میں آئی ٹی کمپنیوں اور دیگر اداروں کو ڈی این اے ڈیٹا اسٹوریج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اب تک کئی بڑی کمپنیوں نے اس نظام میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

خطرہ کی گھنٹی

شائع شدہ

کو

خطرہ کی گھنٹی

دل کے امراض اور بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے والے دوا Valsartan میں شامل ایک کیمیکل میں آلودگی کی نشاندہی کے بعد پاکستان سمیت دیگر 22 ممالک کے مریضوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔دوا کو تجویزکرنے والے امراض قلب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں Valsartan دواکا نعم البدل موجود ہے اور اس حوالے سے مریضوںکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، Valsartan دوامیں شامل ایک (خام مال ) جوچائنا کی Zhejiang Tianyu Pharma Co,Ltd سے درآمدکیا گیا ہے صرف مذکورہ کمپنی کے اس ایک اجزا میں آلودگی ، نجاست کا انکشاف ہوا ہے۔جسے طبی زبان میں NDMAکہا جاتا ہے۔
ماہرین علم الادویہ کا کہنا ہے کہ NDMA آلودہ کیمیکل ہے جوکینسر پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اوریہ بات ادویہ کے کیمیائی تجربے گاہوں سے ثابت شدہ ہے، ان ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودہ کیمیکل سے Carcinogenic کینسر ہوتا ہے، اس انکشاف کے بعد پاکستان سمیت دنیاکے22ممالک سے چائناکی مذکورہ کمپنی کے اس خام مال (کیمیکل) سے تیارکی جانے ادویہ کو ری کال کرنے کی ہدایت دی گئی، یہ ہدایت یورپی میڈیسن ایجنسی نے دی ہے اس حوالے سے یورپی میڈیسن ایجنسی نے 5جولائی کو باقاعدہ مکتوب بھی جاری کیا تھا جس کے بعد پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈی آر اے)نے 8 جولائی کو پاکستان کے تمام فیڈرل ڈرگ انسپکٹروں اورپاکستان میں چائنا کی مذکورہ کمپنی کی مذکورہ خام مال سے تیارکی جانے والی دواکو مارکیٹ سے واپس لینے کے احکام جاری کردیے۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

دمے کیلئے مفید

شائع شدہ

کو

دمے کیلئے مفید

اگر کوئی شخص پھل اور سبزیوں کا زیادہ استعمال کرتا ہے تو اول اس میں دمے سے متاثر ہونے کا خطرہ بہت کم رہ جاتا ہے اور دوم متاثر ہونے کے بعد بھی اس کی شدت میں اضافہ نہیں ہوتا۔ایک سائنسی مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سبزیاں اور پھل کھانے والے افراد میں دمے کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ دمے کے مریض پھل اور سبزیاں کھا کر مرض کی شدت کم کرسکتے ہیں۔پھل اور سبزیاں ایسے اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم کے اندر جلن کو کم کرتے ہیں اور ان میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس سانس لینے کے عمل کو بہتر بناتے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں دمے کے مریض سبزیوں پر توجہ دے کر نظامِ تنفس کو بہتر بناسکتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں