Connect with us

ٹیکنا لوجی

دنیا حیران رہ گئی

شائع شدہ

کو

دنیا حیران رہ گئی

ایک جاپانی ماہر نے ایسی منفرد گھڑیاں تیار کی ہیں جنہیں دیکھ کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔ انجینئر کا اصل نام تو معلوم نہیں ہوسکا لیکن وہ فِرسک پی کے نام سے مشہور ہیں اور وہ گھڑیوں کے ڈیزائن میں اس وقت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں جب دنیا میں بھاپ کے انجن چلا کرتے تھے اور اکثر آلات بڑے ، بھدے اور میکانکی تھے۔ اسی وجہ سے ان کی کئی گھڑیاں ہاتھ پر باندھنا کوئی آسان کام نہیں کیونکہ وہ بہت جگہ گھیرتی ہیں۔ اپنی گھڑیوں کی ڈیزائننگ کے بارے میں فِرسک کہتے ہیں کہ ایسی گھڑیاں دنیا میں شاید ہی کہیں موجود ہوں کیونکہ انہیں قدیم انداز میں تیار کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اسی بنا پر ڈیزائننگ کے ماہر ان کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ان کی گھڑیاں عملی طور پر زیادہ کارگر نہیں اور نہ ہی کوئی انہیں پہن کر گھوم سکتا ہے لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ کلائی پر باندھی جانے والی ایسی انوکھی گھڑیاں شاید ہی کہیں اور موجود ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے گھڑی سازی کو اگلے درجے تک پہنچادیا ہے۔ اب یہ ایجادات سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہورہی ہیں۔ فرسک ٹویٹر اور فیس بک پراپنی منفرد گھڑیوں کی وجہ سے مشہور ہیں جبکہ قدیم ڈیزائن ہونے کے باوجود تمام گھڑیاں اچھی طرح کام کرتی ہیں۔ پہلے تھری ڈی کمپیوٹر ایڈڈ ڈیزائن (سی اے ڈی) پر گھڑی کا ایک ایک پرزہ ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں فیوژن تھری سکسٹی پروگرام پر یکجا کیا جاتا ہے۔ آخری مرحلے میں گھڑی کو تھری ڈی پرنٹر سے تیار کیا جاتا ہے۔

ٹیکنا لوجی

ویژوئل اسنیپ شاٹ متعارف

شائع شدہ

کو

ویژوئل اسنیپ شاٹ متعارف

جدید دور میں انسان کی مصروفیات اس قدر بڑھ گئیں ہیں کہ اکثر ذہن سے کوئی نہ کوئی کام نکل ہی جاتا ہے ایسے میں گوگل اسیسٹنٹ ایپ میں نیا ’ویژوئل اسنیپ شاٹ‘ فیچر متعارف کیا گیا ہے جو صارف کے دن بھر کے شیڈول کا خاص خیال رکھے گا۔
گوگل بلاگ پوسٹ کے مطابق ’ویژوئل اسنیپ شاٹ‘ فیچر اہم ملاقات، بل اور دیگر اخراجات کی ادائیگی کی تاریخ، سالگرہ، تقاریب وغیرہ کی معلومات کو ویڈیو کے ذریعے نمایاں کرے گا تاکہ دن کے شیڈول میں صارف کوئی اہم کام کرنا نہ بھول جائے۔ اس فیچر میں مقامی جگہ، ٹریفک اور فلائٹ شیڈول کی معلومات بھی مکمل طور پر ویڈیو کی شکل میں دستیاب ہوگی۔ ’ویژوئل اسنیپ شاٹ‘ فیچر گاہے بگاہے صارفین کو دن بھر کے کاموں کے حوالے سے آگاہی فراہم کرتا رہے گا یہی نہیں فیچر کی نوٹیفکیشن فعال کرنے سے جس تاریخ پر کوئی پروگرام، بل کی تاریخ، جم اوقات یا دیگر کوئی کام ہوگا یہ اس حوالے سے آگاہ کرے گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

ہیروں کے ذخائر

شائع شدہ

کو

ہیروں کے ذخائر

ماہرین نے زمین کی اتھاہ گہرائی میں ہزاروں کھرب ٹن ہیرے کے ذخائر کا انکشاف کیا ہے۔
اگر آپ اب تک اس بات کو ماننے کےلیے تیار نہیں کہ ہیرا اتنا ہی نایاب اور قیمتی ہے جتنی اس کی تشہیر کی جاتی ہے تو آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ہیرے کی نئی کھیپ دریافت ہوچکی ہے۔ ماہرین ارضیات نے آواز کی لہروں کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی گہرائی میں ہیروں کا بہت بڑا ذخیرہ دریافت کیا ہے جو ممکنہ طور پر ہزاروں کھرب ٹن ہوسکتا ہے۔ دراصل ماہرین کی بین الاقوامی ٹیم ایک طویل ارضیاتی راز کی کھوج میں مصروف تھی کہ اس دوران ان پر یہ انکشاف ہوا جس کے بعد اس پر مزید تحققیات کا آغاز کیا گیا۔ سائنسدان زلزلے کی سرگرمیوں کا مطالعہ کرکے یہ معلوم کررہے تھے کہ زمین کن اقسام کے پتھروں اور چٹانوں پر مشتمل ہے؟ صدماتی موجیں یا شاک ویوز، زلزلے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں لیکن مختلف اقسام کی چٹانوں میں رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ اسی فرق کی مدد سے زمین کی گہرائی میں موجود مختلف مادوں یا ساختوں کے بارے میں پتا لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک علاقہ ایسا تھا جہاں سے آنے والی آواز کی لہروں کا انداز غیرمتوقع طور پر بالکل مختلف تھا۔ یہ علاقہ ’’کریٹن‘‘کہلاتا ہے جو سطح زمین سے 145 تا 240 کلومیٹر گہرائی میں واقع ہے اور جسے زمین کی سب سے بالائی پرت یعنی قشرِ ارض کی ’’جڑ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

مزید چاند دریافت

شائع شدہ

کو

مزید چاند دریافت

ہمارے نظامِ شمسی سے ایک خبر آئی ہے جس میں ماہرین فلکیات کہہ رہے ہیں کہ سیارہ مشتری (جوپیٹر) کے مزید 12 نئے چاند دریافت ہوئے ہیں، اس طرح مشتری کے چاند کی تعداد 79 ہوگئی ہے اور وہ سب سے زیادہ چاند والا سیارہ بن چکا ہے۔ واشنگٹن میں واقع کارنیگی انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے سائنس دان اسکاٹ ایس شیپرڈ زمینی دوربینوں سے نظامِ شمسی کے دوردراز مقامات کی کھوج میں لگے ہوئے تھے کہ انہوں نے مشتری کے گرد کئی چاند دریافت کیے۔ اس بار وہ طاقتور دوربین سے ایک وسیع علاقے کو دیکھ رہے تھے کہ انہیں مشتری کے ساتھ تیرتے نقطے نما چھوٹے سیارچے بھی دکھائی دیئے۔ چونکہ مشتری عموماً یکساں رفتار سے سفر کرتا ہے اسی بنا پر اس کے قریب موجود چاند بھی اسی ایک رفتار سے گردش کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اس کی تصدیق کے بعد مشتری کے مزید چاند کی تصدیق ہوسکتی تھی تاہم اس کام میں بہت صبر اور وقت درکار ہوتا ہے۔ اسکاٹ شیپرڈ کے مطابق مشتری کے نئے چاندوں کا حتمی اعلان کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگا اور ماہرین نے نئے چاندوں کی حرکت کا ایک سال تک مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیارہ جوپیٹر کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ اس طرح اب مشتری کے مزید 12 چاندوں کی حتمی تصدیق ہوچکی ہے۔
اس کے بعد بین الاقوامی فلکیاتی تنظیم میں چھوٹے سیاروں پر تحقیق کے ماہر گیرتھ ولیمز نے ان تمام چاندوں کے مدار ناپے ہیں۔ 12 میں سے 9 چاندوں کا مدار مشتری سے بہت دور ہے جبکہ تین سیاروں کو مشتری کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں زمین کے دو سال یعنی 730 دن لگ جاتے ہیں۔
ماہرین کا ابتدائی اندازہ ہے کہ جس مادے سے مشتری بنا ہے عین اسی مادے سے یہ چاند بھی بنے ہیں جو مشتری سے جڑنے سے بچ گئے اور اب اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں