Connect with us

انٹرنیشنل

فیصلےکیخلاف ہنگامے،4 ہلاک

شائع شدہ

کو

فیصلےکیخلاف ہنگامے،4 ہلاک

بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کے قانون سے متعلق متنازع عدالتی فیصلے کے خلاف ہنگامے پھوٹ پڑے جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔ دلت تنظیموں کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ’بھارت بند‘ ہڑتال کے دوران کئی شہروں میں حالات کشیدہ ہوگئے۔ کاروبار، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہے۔ مشتعل افراد سڑکوں پر نکل آئے اور جلاؤ گھیراؤ پتھراؤ شروع کردیا۔ میرٹھ میں ایک تھانے اور کئی گاڑیوں کو جلا دیا گیا، پٹنا میں مختلف مقامات پر ٹرینیں روکی گئیں۔ گوالیار شہر میں بگڑتی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے انٹرنیٹ، موبائل اور ٹی وی نشریات پر پابندی کے علاوہ شہر میں کرفیو نافذ کردیا گیا جب فوج کو بھی ہائی الرٹ کردیا گیا۔ اقلیتوں کو مظالم سے بچانے کے ایکٹ (1989 Prevention of Atrocities) کے تحت گرفتاریوں اور مقدمات کے اندراج پر بھارتی سپریم کورٹ نے پابندی عائد کردی ہے۔ اس پر بھارت میں نچلی ذات تصور کیے جانے والی دلت قوم میں بے چینی اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دلتوں کی نمائندگی کرنے والی تقریباً تمام ہی جماعتوں نے عدالتی فیصلے کے خلاف صوبے بھر میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ بھارتی حکومت نےسپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کردی ہے۔ اتر پردیش کے سیاحیت مقام گوالیار میں جاری احتجاج کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت نے نہ صرف یہ کے انٹرنیٹ، موبائل اور ٹی وی نشریات بند کردی ہیں بلکہ شہر میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔ اب تک کی موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گوالیار میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں 4 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے پٹیشن دائر کردی گئی ہے جس کے بعد مظاہرین کو پُر امن طور پر منتشر ہو جانا چاہیے تھا لیکن اب بھی لدھیانہ سمیت پنجاب کے دیگر علاقوں میں پُر تشدد ہنگاموں کا سلسلہ جاری ہے جس کے دوران 15 بسوں کو نذر آتش کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 20 مارچ کو بھارتی سپریم کورٹ نے اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے لیے نافذ کیے گئے ایکٹ 1989 کے تحت خودکار گرفتاریوں اور مقدمات کے اندراج پر پابندی عائد کردی تھی۔ دلت سمیت اقلیتی برادریوں نے اس پابندی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

انٹرنیشنل

فلپائنی سفیرکوکویت چھوڑنے کا حکم

شائع شدہ

کو

فلپائنی سفیرکوکویت چھوڑنے کا حکم

کویت نے فلپائنی سفیر کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندرملک چھوڑ دیں۔ کویت نے منیلا میں موجود اپنے سفیر کو مشاورت کیلئے وطن بلایا۔
کویتی دفتر خارجہ نے بدھ کو اعلامیہ جاری کرکے واضح کیا کہ کویت میں متعین فلپائنی سفیر نے جو کچھ کیا اس کے باعث وہ ناپسندیدہ شخصیت بن گئے ہیں۔ انہوں نے1961ءکے دوران سفارتی تعلقات کے لئے طے شدہ ویانا معاہدے کی دفعہ 9کی خلاف ورزی کی ہے۔ کویتی دفتر خارجہ نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ کویت میں فلپائن کے سفارتخانے نے جو کچھ کیا وہ قابل مذمت ہے۔ کویت اسے مسترد کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ فلپائنی سفیر نے سفارتی قواعد و ضوابط کی سنگین اور کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ سفارتکاروں نے دیگر افراد کے تعاون و اشتراک سے فلپائنی ملازماﺅں کو اسمگل کرکے کویتی قوانین اور بین الاقوامی روایات اور دستاویزات کو کھلا چیلنج کیا اس طرح وہ کویت کے اندرونی امور میں مداخلت کے مرتکب ہوئے۔

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

بگلیہار ڈیم ،پانی کھول دیا گیا

شائع شدہ

کو

بگلیہار ڈیم ،پانی کھول دیا گیا

بھارت کی طرف سے سات ماہ کے بعد دریائے چناب کا مقبوضہ کشمیر کے علاقہ میں بگلیہارڈیم پر روکا گیا پانی کھول دیا لیکن کھولے جانے والے پانی کی مقدار 1960ءمیں ہونے والے سندھ طاس معاہدہ کے مطابق نہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے سندھ طاس معاہدہ کے مطابق بھارت ہر لمحہ دریائے چناب میں 55ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا پابند ہے لیکن سات ماہ قبل بھارت نے گلیہارڈیم پردریائے چناب کا پانی روک لیا تھااور چند ہزار کیوسک پانی کی وجہ سے دریائے چناب کا بہت بڑا حصہ خشک ہوچکا ہے اور سات ماہ کے بعد اب دریائے چناب میں بھارت نے چند ہزار مزید کیوسک پانی چھوڑد یا ہے۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق دریائے چناب میں پانی کی مجموعی آمد چھ ہزار کیوسک سے بڑھ کر سولہ ہزار چار سو چوہتر کیوسک ہوگئی ہے جس میں دریائے جموں توی کا ایک ہزار چھ سو انچاس کیوسک پانی اور دریائے مناور توی کا سات سو 67کیوسک پانی بھی دریائے چناب میں شامل ہوا ہے تاہم دریائے چناب کا اپنا پانی چودہ ہزار اٹھاون کیوسک پانی‘ دریائے چناب سے نکلنے والی ایک نہر مرالہ راوی لنک سات ماہ سے بند پڑ ی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

اعتکاف کے لئے اہم اعلان

شائع شدہ

کو

اعتکاف کے لئے اہم اعلان

سعودی عرب میں حرمین شریفین انتظامیہ کی جنرل پریزیڈنسی نے ماہِ رمضان المبارک کے دوران مسجدالحرام میں اعتکاف میں بیٹھنے کے خواہشمند افراد سے درخواستیں طلب کرلی ہیں۔ عرب ٹی وی کے مطابق حرمین شریفین انتظامیہ کی جنرل پریزیڈنسی نے مکہ مکرمہ میں مسجدالحرام میں اعتکاف میں بیٹھنے کی خواہش رکھنے والے افراد سے درخواستیں طلب کرلی ہیں۔ درخواستیں جنرل پریزیڈنسی کی ویب سائٹ کے ذریعے دی جاسکتی ہیں جب کہ درخواست دینے کی آخری تاریخ 15 شعبان مقرر کی گئی ہے۔
اعلان کے مطابق 16 رمضان سے 20 رمضان تک اعتکاف کارڈ جاری کیے جائیں گے جب کہ اعتکاف کا سلسلہ 19 رمضان سے ماہ رمضان کے اختتام تک جاری رہے گا۔ حرمین شریفین انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اعتکاف کے سلسلے میں دائر کی گئی درخواستوں کے اندراج کا تعلق مرد حضرات سے ہے، جب کہ اعتکاف کے خواہش مند امیدوار مسجدالحرام کے گیٹ نمبر 119 کے سامنے قائم خصوصی کیبن پر سرکاری خدمات سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں