Connect with us

کالم کلوچ

6"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

شائع شدہ

کو

6"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

محترم جاوید چوہدری اپنے کالم "بحر مُردار کے کنارے" میں لکھتے ہیں کہ بحرمُرداریعنی ڈیڈ سی ہماری پہلی منزل تھی‘ میں نے یہ سفر سعودی عرب کے تین نوجوان پاکستانی بزنس مینوں کے ساتھ کیا‘ نعیم ارشد بورے والا سے تعلق رکھتے ہیں‘ انجم فیاض کلر سیداں اور علی رضا راولپنڈی کے رہنے والے ہیں‘ یہ تینوں سعودی عرب گئے‘ کمپنی بنائی‘ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور یہ عملی زندگی میں کامیاب ہو گئے‘ یہ اس وقت کامیاب بزنس مین ہیں‘ یہ لوگ جدہ سے اردن پہنچے اور میں پاکستان سے پہنچ گیا‘ ہم ائیر پورٹ سے سیدھے ڈیڈ سی نکل گئے۔
یہ عمان سے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ درمیان میں مودابا (Modaba) کا شہر ہے‘ یہ شہر موزیک انڈسٹری کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘مودابا کے کاریگر مختلف رنگوں کے پتھروں کے باریک ٹکڑے جوڑ کر تصویریں‘ نقشے اور پینٹنگز بناتے ہیں‘یہ شہر ہزاروں سال پرانے اس فن کا دارالحکومت ہے‘ آپ کوموزیک ویٹی کن سٹی سمیت دنیا کے تمام قدیم کلیساؤں میں ملتے ہیں۔
مصور دو ہزار سال سے پتھروں کے باریک ٹکڑے جوڑ کر چرچ کی دیواروں اور چھتوں پر انجیل مقدس کے مختلف واقعات پینٹ کرتے چلے آ رہے ہیں‘ یہ پینٹنگز ’’موزیک‘‘ کہلاتی ہیں‘ یہ فن مودابا سے فلسطین اور فلسطین سے پوری دنیا تک پہنچا‘ ہم مودابا سے گزرتے ہوئے ڈیڈ سی پہنچ گئے‘ عرب اسے بحرمیت کہتے ہیں‘ یہ قدیم زمانے میں بحر لوط بھی کہلاتا تھا‘ یہ دنیا کا پست ترین مقام ہے‘ سطح سمندر سے 1300 فٹ نیچے ہے۔ ڈیڈ سی دنیا کا واحد سمندر ہے جس میں کسی قسم کی حیات نہیں پائی جاتی ‘ اس میں مچھلی ہے اور نہ ہی کوئی پودا حتیٰ کہ اس میں کائی تک نہیں اگتی‘ آپ کو اس میں موج بھی دکھائی نہیں دیتی‘ اس پر کشتی‘ موٹر بوٹ اور بحری جہاز بھی نہیں چل سکتے‘ کیوں؟ کیونکہ ڈیڈ سی میں نمکیات کی مقدار 23 سے 25 فیصد ہے‘ عام سمندر میں یہ مقدار چار سے چھ فیصد ہوتی ہے چنانچہ بھاری نمکیات کی وجہ سے ڈیڈ سی میں زندگی ممکن ہے اور نہ ہی کشتی رانی‘ آپ جوں ہی سمندر میں کشتی ڈالتے ہیں یہ فوراً الٹ جاتی ہے۔
یہ دنیا کا واحد سمندر ہے جس میں کوئی زندہ شخص اور جانور ڈوب نہیں سکتا‘ سمندر کا بھاری پانی ہر جسم کو فوراً سطح پر لے آتا ہے‘ لوگ اس میں چھلانگ بھی نہیں لگاتے‘ یہ بس پانی میں بیٹھ جاتے ہیں اور پانی انھیں سطح پر لے آتا ہے جس کے بعد لوگ دیر تک سطح آب پر بیٹھے رہتے ہیں‘ بحرمیت کا کسی دوسرے سمندر سے کوئی رابطہ نہیں۔
قریب ترین سمندر بحیرہ روم ہے‘ خلیج عقبہ اردن کو ٹچ کرتی ہے لیکن عقبہ اور ڈیڈ سی کے درمیان ساڑھے تین سو کلو میٹر کا فاصلہ اور 1300فٹ کی اونچائی ہے، یوں یہ سمندر‘ سمندر کم اور 351 مربع میل لمبی جھیل زیادہ محسوس ہوتا ہے‘ گہرائی 1300فٹ‘ لمبائی 50 میل اور چوڑائی گیارہ میل ہے‘ اسرائیل نے 1967ء میں اس کے مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا تھا، یوں اس کا جنوب مشرقی علاقہ اردن اور مغربی علاقہ اسرائیل کے پاس ہے‘ بیت المقدس اس سے صرف 15 میل کے فاصلے پر ہے۔
آپ ڈیڈسی پر کھڑے ہو کر بڑی آسانی سے فلسطینی علاقے دیکھ سکتے ہیں‘ رات کے وقت بیت المقدس کی روشنیاں بھی دکھائی دیتی ہیں‘ سمندر کا پانی بخارات بن کر اڑتا رہتا ہے چنانچہ فضا میں ایک خواب ناک سی دھند چھائی رہتی ہے‘ ہوا میں نمکیات بھی ہیں اور گرمی بھی‘ آپ جوں ہی ڈیڈ سی کے قریب پہنچتے ہیں درجہ حرارت بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آپ کنارے پر پہنچ کر کوٹ اور جیکٹس اتارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ پوری دنیا سے لوگ قدرت کے اس عجوبے کو دیکھنے آتے ہیں۔ جناب عبد القادرحسن اپنے کالم "اشرافیہ کے الیکشن" میں لکھتے ہیں کہ ہفتہ اتوار بچوں کو اسکول سے چھٹی ہوتی ہے اور یہ دونوں دن ان کی عیاشی کے دن ہوتے ہیں، اسکول کا کام جیسے تیسے مکمل کر کے وہ ٹی وی کے سامنے آبیٹھتے ہیں اور اپنے پسندیدہ پروگرام لگا لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ٹی وی کا ریموٹ بھی اپنے قبضے میں کر لیتے ہیں تا کہ میں ان کے پسندیدہ پروگرواموں میں مداخلت نہ کر سکوں۔ صبح سے شام اسی کھینچا تانی میں گزرجاتی ہے، میری خواہش یقیناًخبریں سننا جب کہ بچے اس کے لیے قطعاً تیار نہیں ہوتے اور کہتے ہیں کہ بابا آپ ہر وقت خبریں ہی سنتے رہتے ہیں، میں ان کے معصوم سوالوںکے جواب میں مسکرا دیتا ہوں کہ ابھی ان کی عمر اتنی نہیں ہوئی کہ یہ ملک کی سیاست کے بارے میں جان سکیں، ان بچوں کو اپنی اس عمر میں اپنی دنیا میں ہی مست رہنا چاہیے اور ہمیں اپنی دنیا میں کہ دونوں کے لیے اس دنیا میں الگ الگ جہاں آباد ہیں ۔
ہر انسان اپنی خواہشات کے تابع زندگی زندگی گزارتا ہے اور اپنی چھوٹی بڑی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے ہر جتن کرتا ہے، میری بھی اس عمر ایک ہی خواہش ہے کہ میرے چھوٹے بچے یعنی میرے بچوں کے بچے میر ے ارد گرد رہیں، وہ مجھے تنگ بھی کرتے ہیں لیکن میں اس کے باجود خوش رہتا ہوں کہ ان کے معصوم سوال اور حرکتیں میرے لیے زندگی ہیں، اس لیے اس ہفتہ کو جب میں نے اپنا ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے ٹی وی پر اپنی مرضی کا چینل لگا لیا توان بچوں نے منہ بسورنے شروع کر دیے کیونکہ ان کے پسندیدہ پروگرام مس ہو رہے تھے جب کہ میں اس دن ملک میں ہونے والی سینیٹ الیکشن کی بڑی کارروائی سے آگاہ رہنا چاہتا تھا۔ سینیٹ الیکشن میں ایک بار پھر اشرافیہ طبقے کو ہی سینیٹ کے ٹکٹ دیے گئے جنہوں نے اپنی تعلقات اور مال و دولت سے ایوان بالا کا رکن منتخب ہونے کے لیے اپنی راہ ہموار کی۔ سینیٹ الیکشن میں ماضی کی طرح اشرافیہ کے ووٹ خریدنے کی باز گشت سنی گئی جن کے ثبوت الیکشن کے نتائج کے ساتھ ہی سامنے آگئے کہ ہر صوبے میں توقع کے برعکس نتائج غیر متوقع رہے اور ایسے ممبران بھی منتخب ہو گئے جن کی پارٹیوں کے پاس مطلوبہ تعداد میں ووٹ موجود نہیں تھے، اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہمیشہ کی طرح مال و دولت کی چمک اپنا رنگ دکھا گئی اور اس کے بارے میں اکثریتی پارٹیوں کے لیڈروں نے بھی کہہ دیا کہ سینیٹ الیکشن میں بد ترین ہارس ٹریڈنگ ہوئی۔
ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاح کا استعمال کب شروع ہو ا،اس کے بارے کچھ واضح نہیں لیکن گھوڑا جو کہ ایک عالیشان جانور ہے اور ان کا کاروبار اور سواری بھی باعث فخر سمجھی جاتی ہے، اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کا تعلق بھی اشرافی طبقے سے ہی ہے دنیا بھر میں امیر ترین افراد ہی اس کاروبار سے منسلک ہیں اور اس کا کاروبار اونچے طبقے کا کاروبار سمجھا جاتا ہے اس لیے شائد یہ سمجھا گیا ہے کہ اگر اشرافیہ طبقے میں ووٹ کی لین دین کے معاملات ہوں تو اس کے بارے میںاصطلاح بھی ان کے شایان شان ہونی چاہیے اور یوں لگتا ہے کہ اس طرح ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاح وجود میں آئی اور اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کے علاوہ اعلیٰ نسل اور خاندان اشرافیہ سے تعلق رکھنے والوں کواپنے ووٹ کی خریدو فروخت کے لیے یہی اصطلاح پسند آئی اور رائج کر دی گئی۔
سینیٹ الیکشن میں سیاسی پارٹیوں نے جہاں پر اشرافیہ طبقے کو ہی ٹکٹ کے لیے ترجیح دی وہیں پر پیپلز پارٹی نے اپنے کارکنوں کو بھی سینیٹ میں بھجوا کر ایک اعلیٰ مثال قائم کی ۔ پیپلز پارٹی کی سندھ سے سینیٹ کی نومنتخب رکن کرشنا کماری کا کہنا ہے کہ ان کے والدین کو پتا ہی نہیں کہ سینیٹر کیا ہوتا ہے، وہ کہتی ہیں کہ مجھے خود بھی یقین نہیں آرہا کہ میں سینیٹر منتخب ہو گئی ہوں۔ یہ سب ایک خواب سا لگ رہا ہے، خاندان کے لوگ جو مبارکباد دینے آرہے ہیں ان کو میرے والدین یہ بتا رہے ہیں کہ ان کی بیٹی کو اسلام آباد میں اعلیٰ ملازمت مل گئی ہے اور وہ اب اسلام آباد چلی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کا وجود ہی اس کے غریب کارکنوں کے مرہون منت ہے، یہ بات الگ ہے کہ اس کے کارکنا ن اس سے ناراض ہیں لیکن آصف زرداری سیاسی جوڑ توڑ کر ماہر ہیں، وہ عام انتخابات سے پہلے ناراض کارکنوںکو منانے کے علاوہ پارٹی میں جیتنے والے امیدواروں کو شامل کرنے کے لیے جوڑ توڑ کر رہے ہیں جس کا آغاز انھوں نے سینیٹ الیکشن میں بلوچستان سے کر دیا اور اب ان کے برخوردار بلاول بھٹوکا دعویٰ ہے کہ چیئر مین سینیٹ ان کا ہوگا۔
اس دعویٰ کو حقیقت میں بدلنے کے لیے آصف زرداری خود میدان میں ہیں اور وہ یہ بھر پور کوشش کریں گے کہ نواز لیگ کو سینیٹ میں شکست دے کر اپنا چیئر مین منتخب کرا لیں جو ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن ناممکنات میں سے نہیں کیونکہ نواز لیگ کے پاس بھی مطلوبہ اکثریت نہیں، اس کو بھی چیئر مینی کے لیے اتحادیوں کی ضرورت ہے۔ سینیٹ کی تیسری بڑی پارٹی تحریک انصاف ہے جو اگر سیاسی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرے تو نواز لیگ کو سینیٹ سے باآسانی دور رکھا جاسکتا ہے لیکن عمران خان شائد یہ نہیں چاہئیں گے کہ عام انتخابات سے قبل وہ پیپلز پارٹی سے سینیٹ میں اتحاد کر لیں،اس سے ان کی عوامی ساکھ اور کرپشن مخالف مہم متاثر ہو نے کا خدشہ ہے ۔ بہر حال آنے والے چند دن میں سینیٹ کی صورتحال کسی حد تک واضح ہو جائے گی اور یہ معلوم ہو جائے گا کہ اشرافیہ کے یہ نمایندے اپنا چیئر مین منتخب کرنے کے لیے کس بھاؤ اپنے ضمیر کا سودا کرتے ہیں۔ محترم وسعت اللہ خان اپنے کالم "کیا قانون اور انصاف ایک ہی شے ہے؟" میں لکھتے ہیں کہ یہ قصہ تقریباً ہر قانون دان سناتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جب لندن پر جرمن فضائیہ غول در غول بمباری کر رہی تھی اور ہر جانب آگ اور ملبہ نظر آرہا تھا، وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کو روزانہ نقصانات کی تفصیل پیش کی جاتی۔ ایک روز چرچل نے پوچھا مادی نقصانات کی تو بھر پائی ہو جائے گی، یہ بتائیے کہ عدالتیں کام کر رہی ہیں ؟ بتایا گیا کہ جی ہاں عدالتیں کام کر رہی ہیں۔چرچل نے کہا زبردست۔جب تک عدالت فعال ہے کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا۔
وہ چرچل تھا اور وہ برطانوی نظامِ انصاف تھا کہ جس پر چرچل سمیت ہر ہما شما کو اعتماد تھا اور بہت حد تک آج بھی ہے۔مگر یہ اعتماد اوپر سے نیچے تک کیوں تھا اور آج تک کیوں ہے ؟ شائد اس لیے کہ جس ملک میں عام آدمی کو ایسا لگے کہ عدالتیں بنیادی حقوق کی مسلسل غیر مشروط ضامن ہیں، وہاں اندھے انصاف پر اندھا اعتماد ہی ہو سکتا ہے۔اگر ایسی عدالتوں کا دائرہ کار چیلنج کرنا بھی ایک چیلنج ہے اور اکثر ملزم بھی ایسا چیلنج قبول کرنے سے کتراتے ہیں۔
مستحکم معاشروں میں عدلیہ پر اندھے اعتماد کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عدلیہ محض کاغذ پر نہیں حقیقت میں بھی خودمختار ہوتی ہے۔کسی مستحکم معاشرے میں بھی اسقاطِ انصاف ( مس کیرج آف جسٹس ) ہو سکتا ہے مگر اس کا زیادہ تر سبب تحقیق و پراسکیوشن کا معیار ہوتا ہے۔اگر دونوں شعبے رپورٹنگ، شواہد اور گواہی کے معاملے میں صادق اور امین نہ ہوں تو پھر دستیاب ریکارڈ اور شواہد کی بنا پر اسقاطِ انصاف ممکن ہے۔ یعنی فیصلہ غلط، ناقص یا نامکمل ہو سکتا ہے فیصلہ دینے والا غلط نہیں ہو سکتا یا نہیں ہونا چاہیے۔ کئی ممالک میں آئینی عدالت الگ سے ہوتی ہے تاکہ آئینی حقوق و فرائص اور نفاذ سے متعلق امور کو زیادہ صراحت اور تیزی سے نمٹایا جا سکے۔کئی ممالک میں کوئی بھی مقدمہ سیدھا سپریم کورٹ میں نہیں آ سکتا۔توقع کی جاتی ہے کہ فریقین ہائی کورٹ کی سطح تک مطمئن کر دیے جائیں گے اور ہر فیصلے کو مزید اوپر چیلنج کرنے کے عادی نہ ہوں گے۔اگر نظام اس قدر ناقص ہو کہ ہر مسئلے کا ازخود نوٹس لینے کی ضرورت پیش آ رہی ہو تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ زیریں عدالتوں سے کام ، فیصلہ اور نفاذ نہیں ہو پا رہا۔لہذا اعلی عدلیہ کی سب سے بڑی ترجیح یہ بنتی ہے کہ وہ اوپر سے نیچے تک عدالتی مشینری کو موثر اور فعال بنائے اور جو کام مقننہ یا انتظامیہ کر سکتی ہے وہ انھی سے کروائے۔
کوئی چوکیدار پہرے کے اوقات میں غائب ہو رہا ہے یا چاق و چوبند رہنے کے بجائے پتھر کی طرح کرسی پر دھرا رہتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں خود پہرے پر کھڑا ہو جاؤں۔ بات تو تب ہے کہ میں اسی چوکیدار کو اپنے فرائص کی ادائی پر مجبور کر دوں۔خود کھڑا ہونے سے پہرہ تو ہو جائے گا مگر چوکیدار اور شیر ہو جائے گا کہ میں اپنا کام کروں نہ کروں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔صاحب خود آ کے پہرہ دے لیں گے۔دوسرے کا کام اپنے ذمے لے لینا حکمت نہیں۔ حکمت یہ ہے کہ جس کا کام ہے اسی سے خوش اسلوبی یا تادیب کے ساتھ بوجھ اٹھوایا جائے۔آگے آپ خود سیانے ہیں۔

کالم کلوچ

اپنی پہچان کی تلاش !

شائع شدہ

کو

اپنی پہچان کی تلاش !

تحریر- صبح صادق
دوچار ہفتے قبل جب مجھے میرے آفس میں ایک خط ملا جس میں فرمائش کی گئی تھی کہ آپ یہاں قصور میں بلھے شاہ کلچرل فورم میں ہمارے ساتھ آملیں اور پاکستانی ثقافت اور فنون لطیفہ کے موضوع پر گفتگو کریں تو یقین مانیں اس موضوع کو لے کر یکدم میرے اوپر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ اول تو اس لئے کہ یہ موضوع اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ ایک نشست میں اس پر سب کچھ سمیٹ پانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔دوم یہ کہ یہ میرا موغوب ترین موضوع ہے اور جو شے انسان کو عزیز ہوتی ہے اس کے ساتھ وہ برتاؤ بھی اپنوں جیسا کرتاہے ۔میری خوش قسمتی ہے کہ میں گزشتہ دس برسوں سے براہ راست ایک ادبی و ثقافتی ادارے لاہورآرٹس کونسل میں بطور پی آر او، ثقافت کی مہم سے وابستہ ہوں(جسے دن رات کی کوششوں سے ہم ایک مقامی ادارے سے بین الاقومی سطح پر لے گئے ہیں ) البتہ بالواسطہ تو اس شعبہ کے ساتھ عمربھر کا ساتھ رہا ہے یعنی خاکسار کو بچپن سے ہی ادب و ثقافت کے شعبے خاص دل چسپی رہی ہے۔بہرحال یہاں ہم ایک ایسے شعبہ پر بحث و مباحثے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے جس کی نہ تو حدود و قیودکاآج تک تعین ہو سکا نہ ہی اس کے لوازمات ، مندرجات وغیر ہ پر کوئی ٹھوس اتفاق موجود ہے۔میری نظر میں ہمارے قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (مرحوم) کی پہلی بات تو پوری ہو چکی یعنی پاکستان کی بستی بس گئی لیکن ہمارے اہل نظر ابھی تک یہ طے نہ کر پائے کہ اپنی نگاہ کو کیاکریں۔بہرحال یہ امر مسرت کا باعث ہے کہ آج یہاں پاکستان کے چوٹی کے مفکرین ادیب اور دانشور اور زندگی کے مختلف شعبوں کے تعلق رکھنے والے سکالز اپنے ثقافتی عوامل و مظاہر کی بہتر سے بہتر تفہیم کے لئے جمع ہوئے تھے اس پر میں اس کنونشن کے منتظمین و محققین کو مبار کبار پیش کرتاہوں کہ جنہوں نے اس کنونشن کو اپنی ذاتی دلچسپی ،عملی تعاون اور محققانہ صلاحیتوں سے پروقار بنایا ہے۔
میرے مطابق عملی طورپر زندہ اور جاندار کلچر کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرتاہے جس میں وسائل ،سرپرستی یا مواقع کی کمی کے باوجود مناسب تخلیقی ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچایا جاتا ہے اور پھر وہ ٹیلنٹ اپنے معاشرے کی جمالیات اور دانش کے میدانوں میں اعلیٰ ترین ہم عصر معیاروں کے مطابق ڈھل کر قومی دھارے میں شامل ہو جاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ آرٹ قوم کی پہچان بننے کے ساتھ ساتھ قومی فکر کی تعمیر کا ایک اہم وسیلہ ثابت ہوتا ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہمارے ہاں ثقافت کی رسمی تعریف میں ہمارے رسم ورواج،رہن سہن کے طریقے ،بودوباش یعنی کل طریقہ زندگی شامل ہیں اس تناظرمیں کسی بھی قوم کا اصل چہرہ تبھی خوبصورت نظرآئے گا جب مجموعی طورپر اس ملک کے نظام میں معیشت ،عدل و انصاف،امن وامان اور چیک اینڈ بیلنس سمیت دیگر زندگی کے دورے شعبے مستحکم ہونگے۔اگرآپ کے نوجوان کو تعلیم اور روز گاہ کے موقع میرٹ پر میسر آئے، سماجی رویے اعتدال پر مبنی ہو، کوئی کسی کی ناجائز پگڈی نہ اچھال پائے اور مانیٹرنگ کا خود کار مزاحتمی نظام کام کرنا شروع کردے تو پھر آپ اس بات پر اطمینان کر سکتے ہیں کہ آپ کی قوم کا چہرہ دنیا کو خود بخود خوب صورت نظر آنے لگے گا۔اگر معاشرے کا مجموعی نظام انحطاط پذیر ہو اور اسے بہتر بنانے کی کوئی سنجیدہ کاوشیں نہ کی جائیں تو پھر دنیا میں اپنے متعلق پھر اعتماد بیانیہ کی تشکیل کرپانامشکل نظر آتاہے ،بدقسمتی سے یہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے،چند برس قبل تو ہمارے حالات بہت بگاڑ کا شکار تھے بہر حال ان حالات میں بھی ہمارے ثقافتی اداروں نے ا پنا ایڑی چوٹی کا روز لگایااور دنیا میں اپنے وجود کی بقاء کی جنگ لڑی اور الحمد اللہ ہم اس نتیجے میں دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر عزت کے ساتھ مدعو کئے جاتے رہے اور ہمارے بات بھی سنی گی۔مگر موجود ہ دور میں ہمارے چندقومی اداروں کی حوصلہ بخش کار کردگی کے نتیجے میں حالات ساز گار ہونے شروع ہوئے ہیں کیونکہ ملک کے تمام نظاموں کا محور شعبہ ثقافت ہوتاہے ان مستحکم نظاموں کی صورت میں یہ امر ثقافتی اداروں کے لئے سہل ہو جاتا ہے کہ وہ خود کو دنیا میں منوا سکیں۔بہرحال یہ حقیقت ہے کہ جہاں ہمیں قومی سطح پر اپنی بہتر ثقافتی حکمت کاری سے ملکی یک جہتی اور ہم آہنگی کے لئے مدد مل سکتی ہے وہاں ہم بین الاقومی تناظر میں اپنے خلاف ہونے والے بے بنیاد ،من گھڑت اور پروپیگنڈہ پر مبنی بیانیے کے اثرات بھی زائل کر سکتے ہیں اس سے بھی بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم نے دشمن کی ساز شوں کا نہ صرف توڑ کرناہے بلکہ اپنے جوابی بیا نیے میں دنیا کے سامنے اپنی اقتصادی کا میابیوں، متوازن سماجی رویوں،بین الاقومی امن میں اپنے کردار کو قابل قبول انداز میں پیش بھی کرناہے سو اس حوالے سے مجھے بے حد خوشی ہے ہم باہمت قوم ہیں ہم نے مشکل حالات میں اپنی بقاء کے لئے بے دریغ قربانیاں دی ہیں اب یہ بات تمام قومی و صوبائی ثقافتی اداروں پر منحصر ہے کہ ہم کس انداز میں اپنی ان کا میابیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں ،مثلا میری نظر میں ا پنے آپ کو دنیا میں متعارف کروانے کے دو طریقے ہیں یا تو ہم دنیا کے اہل قلم اور صاحب آراء مفکرین کو اپنے ہاں مدعو کریں اور ان کے سامنے اپنا خوبصورت نظام زندگی رکھیں اور انھیں اپنا گرویدہ بنانے کی پرزور کوششیں کریں مثلا اس حوالے سے ہم نے گزشتہ دو برسوں سے دنیا بھر کے 50ممالک کے سفیروں کو لاہورآرٹس کونسل کے پلیٹ فارم پر مدعو کیا اور ان کو اپنی عوامی رویے اور اقدار سے روشناس کروایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان سفیروں نے اپنے اپنے ممالک کو جو رپورٹ بجھوائیں میں نے ان جب کا پتہ کیا تو یقین مانیں وہ ہمارے لئے بے حد تسلی بخش تھی ،یعنی ہمارا تجربہ کامیاب رہا الحمداللہ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود دیس دیس جاکر دنیا تک اپنی بات پہنچائیں اس محاذ پر بھی لاہورآرٹس کونسل الحمراء کی کارکردگی میں آپ کے سامنے رکھنے پر فخر محسوس کروں گا۔ہم نے ایک پراجیکٹ(PIC Pakistan)کہ نام سے شروع کیاہے جس کے پہلے مرحلے پر تھائی لینڈ میں پاکستان کا رنر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔تھاماسٹ یونیورسٹی ،بنکاک تھائی لینڈ میں اس پاکستان کارنر کے قیام سے 50000طلبہ و طالبات جو دنیا بھر سے یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں،سے مستفید ہونگے اور اپنے اپنے وطن واپسی پروہ پاکستان کے متعلق ایک مثبت رائے لے کر جائیں گے یہی ہمارے مقصد ہے ۔اس کو اب ہم آگے لے کر چل رہے ہیں اور اس کادائرہ کار کوئی درجن بھر ممالک تک پھیلا رہے ہیں۔
یہی بات اگر میں دوسرے انداز میں بیان کرؤں تو میری نظر میں ثقافت ایک باریک،کچے دھاگے کی مانند ایک ایسی لڑی کا نام ہے جس کی مضبوطی کا انحصار اس میں پردے جانے والے طرح طرح کے رنگ بر نگے خوبصورت مو تیوں کے حسن پر ہوتاہے۔جو جس قدردلکش ہونگے یہ لڑی قدر مضبوط ہوگی البتہ اگر اس میں بے کار موتی پروے دے جائے تو یہ اس ثقافت کی لڑی کو مضبوط کرنے کی بجائے کمزرو کر دیں گے جس سے کسی بھی قوم کا شہزازہ با آسانی بکھیرا جاسکتا ہے سو یہ اس قدراحساس نوعیت کا معاملہ ہے۔بہرحال یہ شعبہ ثقافت جزوئیات کوکُل میں پروتاہے،نہایت طاقتور ،جادوئی اثر کا حامل ہونے کی بناء پر کوئی اس کی اثر پذیر ئی سے بچ نہیں سکتاہے یہ بکھیری چیزوں کو اکائی بناتاہے مثلا ہمارے ملک کے تمام صوبوں کے لوگ اگر اس شعبہ سے صحیح معنوں میں استفادہ کریں یایہ شعبہ اپنا کام ڈھنگ سے سرانجام تو اسی صورت ہم اس کے اثرات کو اپنے حق میں استعمال کرسکتے ہیں مثلا جسے ہم لاہور میں کام کرتے ہوئے یہاں کے رہنے والوں کے سامنے فنون لطیفہ کی مدد سے دوسرے تمام صوبوں کے رنگ روپ پیش کرتے ہیں اگر یہی طریقہ کار دوسرے صوبوں کے ثقافت ادارے بھی اپنائے تو کوئی مشکل نہیں کہ ہم ایک نہ ہو سکیں میری نظر میںآج ثقافتی حالات کی کار کردگی جاننے کی سب سے بڑی کسوٹی یہی ہے کہ اگر ہمارے مختلف صوبوں میں بسنے والے افراد باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا شروع کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ثقافتی اداروں کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔سو ہمارا پہلا حدف اپنا گھر خوبصورت بنانا ہونا چاہے پھر اس کے بعد دنیا کے پاس ہماری اہمیت کے انکارکا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔
جہاں تک اس شعبے کو درپیش چیلنجز کا سوال ہے کہ وہ بے شمار ہیں مثلا اس شعبہ سے متعلق ایک عام بیا نیہ (Narrative)یہ ہے کہ کلچر اور فنون امراء کی عیاشی کی کسی شے کا نام ہے جو میری نظر میں بہت خطرناک ہے ۔سو آگے چلیں ایک نقطہ نظریہ بھی ہے کہ زندگی کی تمام ضروریات اور تقاضے پورے ہونے کے بعد کلچر اور اس کے دیگراجزاء کے بارے میں غور کیاجائے گا، دوسرے لفظوں میں ملک میں کلچر کا روز مرہ کی زندگی اورہماری قومی ضروریات کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے،گویا یہ دو الگ الگ باتیں ہے۔مزید ذرا غور کیجئے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ دراصل کلچر تو طبقاتی ہوتا ہے یعنی کلاس کلچر۔ہمارے ہاں امرا ء ہیں،غرباہیں،کسان ہیں،مزدور ہیں،سرمایہ دار ہیں اور افسر لوگ ہیں ان سب کا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے اب ان سب سے ماورا پاکستانی کلچریا پاکستان کے قومی کلچر کی تلاش بے کارسی بات ہے کیونکہ کلاس یا طبقے سے الگ کوئی کلچر نہیں ہوتاہے،میری نظر میں یہ نہایت غلط تصور ہے اس سے ملتی جلتی ایک اور بات بھی سننے میںآئی ہے کہ سندھی کلچر ،بلوچی کلچر، پختون کلچر،پنجابی کلچر، ہرجگہ کے الگ الگ کلچر ہیں اور یہی ہونا بھی چاہیے ۔ان سے الگ یاان کے اوپر کسی قومی کلچر یا ثقافت کی تلاش کرنا بے کار ہے ۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بغیر لوگ تو اسے شرارت کی بات کہتے ہیں اوراس کا مقصد یہ بتاتے ہیں اس سے ملک میں لادینی پن پھیلا یا جارہا ہے۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ سندھی ،پنجابی،بلوچی اور پختون کا فساد پیدا کرکے قومی وحدت کو نقصان پہنچا ہے اس شعبے کو اب اس سے بڑے اور چیلنج کیا لاحق ہوں گے-

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

میشا شفیع کے بعد ریشم بھی....

شائع شدہ

کو

کپتان کی عزت داؤ پر

میشا شفیع، علی ظفر اسکینڈل نے جہاں شوبز حلقوں میں ہلچل مچائی ہے وہیں دیگر سماجی حلقے بھی تشویش میں مبتلا ہیں اس حوالہ سے شوبز کے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ کل تک ایک دوسرے کے قریبی دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والی یہ فنکار جوڑی اس طرح اسکینڈل منظر عام پر لائے گی تو پھر ہماری شوبز انڈسٹری میں بہت سے ایسے رشتے ناطے ہیں جومذہبی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہیں مگر ان رشتوں کو اخلاقی دائرہ کار کے تحت جائز قرار دیا جاتا ہے ۔اس سے پہلے کہ علی ظفر کے خاندانی پس منظر پر نظر ڈالی جائے پہلے دیکھنا یہ ضروری ہے کہ میشا شفیع کا خاندانی پس منظر کیا ہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ میشا شفیع کا فیملی بیک گراؤنڈ نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس ‘‘ کہلانا پسند کرتا ہے۔ میشا شفیع کی والدہ صبا پرویز اپنے فنکارانہ کیریئر کے آغاز میں صبا حمید کہلائیں بعد ازاں انہیں شادی شدہ زندگی کے آغاز میں کبھی صبا شفیع کہا گیا تو کبھی صبا پرویز اور ایک وقت صبا پر صبا وسیم عباس کہلانے کا بھی آیا ۔ یہ درست ہے کہ وسیم عباس سے صبا حمید کے تعلق کو شرعی قرار نہیں دیا جاسکتاکیونکہ وسیم عباس کے ساتھ صبا حمید کی دوستی ایک مشترکہ ’’شوق‘‘کی وجہ سے ہوئی اور کئی برسوں تک قائم رہی۔یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ صبا کے والد خود کو کامریڈ(روشن خیال)کہلوانا پسند کرتے تھے کیونکہ وہ مذہبی رجحانات کے مالک نہیں تھے بالخصوص ہمارے اسلامی معاشرے میں انہیں اپنی موجودگی ہمیشہ ناگوار گزرتی تھی۔ میشا شفیع کو یہی ’’روشن خیالی‘‘ اپنے نانا اور والدہ سے ورثہ میں ملی۔ علی ظفر کے ساتھ ان کے ناجائز تعلقات کی کہانی خود ان کی زبانی منظر عام پر لانا ایسی ہی روشن خیالی اور ترقی پسندی کی ایک بھونڈی مثال ہے۔

میشا شفیع کا یہ اعتراف کہ انہیں علی ظفر نے بارہا جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا انہیں قریب سے جاننے والے لوگوں کو قطعی طور پر حیران نہیں کرتا مگر برائے نام تعلق رکھنے والے ساتھی فنکاروں کی اکثریت اور دونوں فنکاروں کے مداحوں کیلئے یہ انکشافات ہوش اڑا دینے کیلئے کافی تھے اسی لیے گزشتہ 48 گھنٹوں کے درمیان ملک بھر میں ریگولر اور سوشل میڈیا پر صرف اور صرف علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان ناجائز تعلقات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے بلکہ اب اس کی گونج سرحد پار بھی پہنچ چکی ہے۔ہالی ووڈ میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی اداکارہ کی طرف سے کیے جانے والے انکشافات کے بعد ’’#MeToo‘‘ کے نام سے شروع ہونے والی یہ مہم اب پاکستان میں موجود نام نہاد ترقی پسندوں کیلئے ایک مشغلہ بن چکی ہے ۔ لائم لائٹ میں رہنے والی شخصیات کو ہمیشہ سے عام لوگ اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں اور ان کے رنگ ڈھنگ ، بول چال اور رہن سہن کے طریقے بھی اپنانے کی کوشش کرتے ہی۔ میشا شفیع بھی بدقسمتی سے دور حاضر کی ایک سلیبریٹی ہیں جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو اس ’’#MeToo‘‘ مہم کا حصہ بنایا اور خود کو علی ظفر کا ’’شکار‘‘قرار دے دیا۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے علی ظفر کی خود سے جنسی زیادتی کا معاملہ اپنے ضمیر کی آواز پر ظاہر کیا لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بحیثیت فنکارہ میشا شفیع کو اس قدر مقبولیت حاصل نہیں ہوئی تھی جتنی شہرت انہوں نے علی ظفر پر زیادتی کا الزام لگا کر حاصل کرلی۔ میشا شفیع کی ’’روشن خیالی‘‘ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے بیان میں علی ظفر کی ایک سے زائد بار جنسی زیادتی کا ذکر کیا تھوڑا سا بھی شعور رکھنے والے ان کی اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بار بار کی زبردستی اور وہ بھی باہمی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔یہ روشن خیالی اور ترقی پسندی صرف اور صرف میشا شفیع جیسی نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس‘‘ سے تعلق رکھنے والی خواتین ہی دکھا سکتی ہیں کہ جن کے خاندان میں ایسی کسی بات کو اور ایسے کسی واقعہ کو کبھی معیوب نہیں سمجھا جاتا اور جن کا مقصد ہی صرف اتنا ہے کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسی مہم کو تقویت دی جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر الزام کیوں داغ دیا۔ میشا شفیع کے نانا حمید اختر اور ان کی والدہ صبا حمید ہمیشہ تنازعات کو ہوا دینے کی راہ پر گامزن رہے ہیں مقصد شہرت اور دولت کا حصول ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ بلیک میلنگ سے لوگوں کو ہراساں کرنا ہوتا تھا۔میشا شفیع کے حالیہ بیان کا مقصد علی ظفر کو بلیک میل کرنا ہے یا ان کی وجہ سے حاصل ہونے والی شہرت کو دولت کمانے کا ذریعہ بنانا ہے جہاں تک علی ظفر کا تعلق ہے تو ان کا خاندانی پس منظر انتہائی وضع دار اور تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے اور انہوں نے میشا شفیع کے بیان کے بعد انتہائی سادگی اور سمجھ داری سے قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

ریشم کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کی ورسٹائل فنکاروں میں ہوتا ہے اگر ریشم،میشا شفیع جیسی ’’غلطی ‘‘کرتے ہوئے اپنی زبان کھول دیں تو شاید پورے پاکستان میں ایسا بھونچال آجائے گا جیسے کسی نے ایٹم بم گرا دیا ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

مقتول ہی تو قاتل ہے (بشکریہ ایکسپریس)

شائع شدہ

کو

6"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

جناب محترم وسعتاللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ اس دنیا میں اگر کسی شے کا سب سے زیادہ ریپ ہوا ہے تو وہ دلیل ہے اور پھر اس ریپ زدہ دلیل کے ساتھ تہذیب کا جیسا ریپ ہوا اور ہو رہا ہے اس کا کوئی توڑ کم ازکم مجھے تو ٹپائی نہیں دے رہا ۔حل تو خیر لاینحل ہے۔ بہت دور کی کوڑی لانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس المیے سے بچپن میں ہی آشنا ہو جاتے ہیں جب چشمے پر پانی پینے والے بھیڑ کے بچے اور اسے دلیل دے کر ہڑپ کر جانے والے بھیڑئیے کی کہانی سنتے ہیں۔
اگر نازی دنیا پر قبضہ کر لیتے تو پھر ہماری نسلوں کو یہی نصابی علم عطا ہوتا کہ یہودیوں کو جرمنی سے نازیوں نے نہیں بلکہ خود یہودیوں نے ختم کیا۔نہ وہ سود خوری کے ذریعے جرمنوں کا خون چوستے اور نہ آریائی خون جوش میں آتا۔اگر جرمن خون آشام ہی ہوتے تو یہودیوں سے پہلے اور بعد میں کسی اور قوم پر ایسا عذاب کیوں نہیں آیا۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جرمنوں نے اپنی افریقی نوآبادی نمیبیا کی سیاہ فام آبادی کی بھی اسی پیمانے پر نسل کشی کی۔ مگر چونکہ بہت سے یورپی مستشرقین ایک زمانے تک کھلم کھلا اور آج دل ہی دل میں غیر سفید فاموں کو تہذیب و تمدن سے عاری نیم انسان سمجھتے ہیں لہذا نمیبیا کے سیاہ فاموں کا نوحہ کسی نے نہیں لکھا۔
یہی کچھ کانگو میں بلجئیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کے زمانے میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔کانگو بادشاہ کی ذاتی املاک میں شامل تھا۔ لہذا گدھے اور سیاہ فام کا فرق مٹ گیا۔ بلکہ گدھے سے زیادہ بہتر سلوک ان معنوں میں ہوا کہ وہ نسل کشی سے بچ گیا۔
برسلز میں لگنے والے میلوں ٹھیلوں اور نمائشوں میں ایک عرصے تک ہیومن زو بھی لگایا جاتا تھا۔اس میں کانگو سے لائے گئے سیاہ فام نیم انسانوں سے عام شہریوں کا دل بہلایا جاتا تھا۔آج یہ سب تماشے نہیں ہوتے مگر ان جرائم کو نوآبادیاتی دور کی بے اعتدالیوں اور غلطیوں کا نام دے کر مہین خوشنما تہذیبی پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔اب ہر کوئی اسرائیل تو نہیں ہوتا کہ جس سے مغربی جرمنی یہودی نسل کشی پر معافی مانگتے ہوئے پانچ ارب مارک کی ازالائی رقم بھی ادا کرے۔
کون کہتا ہے کشمیر میں بھارت ظلم کر رہا ہے۔یہ تو سرحد پار سے آنے والے گھس بیٹھیے یا ان کے ہاتھوں گمراہ ہونے والے مٹھی بھر کشمیری لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو بھارتی ایکتاکے درپے ہیں۔وہ جان بوجھ کر سیکیورٹی دستوں کو اشتعال دلاتے ہیں تاکہ وہ کشمیریوں کے منہ پر چھرے مار کے انھیں اندھا کر دیں اور پھر پیشہ ور کشمیری ان چھرہ زدہ چہروں کو ظلم کا اشتہار بنا کر دنیا بھر میں سینہ کوبی کرتے پھریں۔اہلِ دلی کی اس دلیل میں اگر وزن نہ ہوتا تو بیشتر بھارت کاہے کو آمنا و صدقنا کہتا۔
نیتن یاہو کی یہ بات ماننے میں کیا عار ہے کہ اسرائیلی فوج دنیا کی مہذب ترین فوج ہے۔اس نے آج تک کسی فلسطینی کو مارنے میں پہل نہیں کی۔کسی فلسطینی کو پتھر یا غلیل سے نشانہ نہیں بنایا۔لیکن جب کوئی فلسطینی بچہ یا بچی کسی اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارتا ہے یا ٹینک پر غلیل سے نشانہ باندھتا ہے یا مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کو مٹانے کا نعرہ لگاتا ہے تو کیا ریاست کو کوئی حق نہیں کہ وہ ایسے شرپسندوں کو اوقات میں رکھنے کے لیے ذرا سے گولے، کچھ بم اور دوچار نشانچیوں کو استعمال کر لے۔
کسی نے آج تک گولڈا مائیر کے اس دعویٰ کو چیلنج کیا کہ ’’ کون سے فلسطینی ؟ جب ہم یہاں آئے تو یہ خطہ تو غیر آباد تھا۔ہم نے آ کر اسے بسایا‘‘۔اگر اسرائیل واقعی کوئی سفاک ریاست ہے تو پھر کچھ عرب ممالک اس سے دوستی کے لیے آج مرے نہ جاتے۔
مشرقی پاکستانی اگر ایکتا کو چیلنج نہ کرتے ، وہاں بسنے والے ہندو اساتذہ اور دانشوروں کے بہکاوے میں نہ آتے اور غدار مجیب کے چھ نکاتی پھندے میں آئے بغیر وسیع تر قومی مفاد میں اپنے مغربی پاکستانی بھائیوں کے تھوڑے سے اور مطالبات مان لیتے اور اگر بھارت چند گمراہ مشرقی پاکستانیوں کی آڑ میں حالات سے فائدہ اٹھا کر فوج کشی نہ کرتا تو آج بھی ہم ہنسی خوشی رہ رہے ہوتے۔یہ ہیں، سقوطِ مشرقی پاکستان کی وہ وجوہات جوآج سینتالیس برس بعد بھی پاکستانی نصاب میں اتنی ہی سچ ہیں جتنی سینتالیس برس پہلے تھیں۔
اگر ریاستوں کا اپنا اپنا سچ ہے تو افراد اپنے اپنے سچ پر کیوں نہ قائم رہیں۔مثلاً اسے ماننے میں کیا قباحت ہے کہ ملالہ نے اپنے سر پر خود گولی ماری تھی تاکہ مغرب اسے اپنی ڈارلنگ بنا کر طالبان کو بدنام کرتا پھرے۔
مشال خان نے بھلے توہینِ مذہب نہ کی ہو مگر وہ ملحدوں کے شعر تو پڑھتا تھا ، اپنے کمرے کی دیواروں پر سرخوں جیسے نعرے تو لکھتا تھا ، ایک نظریاتی ریاست میں سیکولر لبرل نظریہ مسلط کرنے کا تو حامی تھا۔اسے کس نے مارا۔وہ تو مجمع کے غیض و غضب کا شکار ہوا۔مجمع کو اس سے کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی۔مجمع کو کنٹرول تو نہیں کیا جا سکتا۔یہ تو مشال خان کو خود خیال ہونا چاہیے تھا کہ وہ آگ سے کیوں کھیل رہا ہے ؟
مختاراں مائی نے باقاعدہ سوچ سمجھ کر خود کو ریپ کرایا تاکہ اسے بیرونِ ملک سے فنڈنگ مل سکے۔یہی حرکت سوئی میں رہنے والی ڈاکٹر شازیہ نے بھی کی تھی۔خواتین بن ٹھن کے نکلیں گی تو مٹھائی پر مکھیاں تو منڈلائیں گی۔
جموں کی آٹھ سالہ بکروال بچی آصفہ اگرچہ بن ٹھن کے نہیں نکلی تھی، پھر بھی انسان کے اندر بسے جہنم کی خوراک بن گئی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی سیاستداں جب آصفہ ریپ قتل کیس کے آٹھ مجرموں کی وکالت کرتے ہیں تو ان کے پاس بھی یہ دلیل ہوتی ہی ہے کہ بکروال ہندوؤں کی چراگاہوں پر زبردستی قبضہ کر رہے ہیں۔ غصہ کہیں تو نکلنا تھا۔لہذا قصور ریپسٹ کھجوریا اور اس کے آٹھ ساتھیوں کا نہیں بلکہ بکروال برادری کا اپنا ہے۔
پنجاب کے عیسائیوں، احمدیوں اور کوئٹہ کی ہزارہ برادری کا تو دھندہ ہی یہی ہے کہ وہ خود پر مظالم کی جھوٹی سچی داستانیں گھڑتے ہیں تاکہ مغرب میں مذہبی عقایذ کی بنا پر زیادتی کا کیس دائر کر کے پناہ حاصل کر سکیں۔اگر یہ معاشرہ اتنا ہی ظالم ہوتا تو پھر اکیس کروڑ لوگ یہاں کیوں رہ رہے ہیں۔
جب انصاف فٹ بال بن جائے اور ریاست گول کیپر ہو تو پھر ہر دلیل وزنی ہے، ظالم و مظلوم ایک ہی صف میں ہیں اور پھر پہاڑی چشمے پر اوپر کی جانب کھڑا بھیڑیا نیچے کھڑے میمنے کو بھی یہ دلیل دے کر ہڑپ کرنے میں حق بجانب ہے کہ تم میرا پانی گدلا کیوں کر رہے ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں