Connect with us

کالم کلوچ

7"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

شائع شدہ

کو

7"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

محترم جناب محمد سعید اظہراپنے کالم "نواز شریف VSآصف علی زرداری" میں لکھتے ہیں کہ ’’مولا بخش چانڈیو بنام نواز شریف‘‘ کا گزشتہ عنوان ایک حوالے پر ختم کیا گیا تھا یعنی ’’احد چیمہ کی گرفتاری ٹائمنگ کے ساتھ ترپ کی بہت بڑی چال ہے، اس نے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ والے بیانئے کو بھلا دیا ہے، جوابی وار کے لئے شریف برادران کو اب کوئی نئی چال سوچنا ہو گی۔
کیا نواز شریف کی ذہنی اپروچ اور عملی رویے پر بیا ن کردہ اندیشے کے اثرات دکھائی دے رہے ہیں، ان کے گزرے صرف دس پندرہ دنوں کے تازہ ترین بیانات کو بطور مثال ایک بار اپنی نظروں سے گزاریں، آپ بے ساختہ کہہ اٹھیں گے ’’عزیز! ہم وطنو‘‘ کے متوقع اندیشوں کا نواز شریف پر کوئی اثر تو درکنار اس کا تصور تک دکھائی نہیں دے رہا، ’’اندر خانے مذاکرات‘‘ کی مقدس سنسنی خیزی کو مسترد کر دیں، جلسوں میں موجود عوام اور اخبارات کے لاکھوں قارئین تک ’’اندر خانے مذاکرات‘‘ کی ’’مقدس سنسنی خیزی‘‘ کی رسائی ہی نہیں، ان تک نواز شریف کا وہ بیانیہ ہی پہنچ رہا ہے جس کے نتیجے میں ’’عزیز! ہم وطنو‘‘ کے خطرات کی سرخ بتیوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان دس پندرہ دنوں کا بیانیہ دو تین ماہ کے نواز بیانئے سے کہیں آگے بڑھا ہے، نواز بیانئے کا تازہ ترین منظر نامہ بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔ -oآمروں نے آئین کو زخم کچھ ججوں کے ذریعے لگائے، پارلیمنٹ کا بنایا نیا قانون ختم کرنا خطرناک ہو گا، پارلیمنٹ کے قانون بھی عدالتی توثیق کے محتاج ہو جائیں تو یہ کون سا آئین ہے، پارلیمنٹ کو دنیا بھر میں اداروں کی ماں سمجھا جاتا ہے، عدلیہ اگر آئین کو بالاتر دستاویز سمجھتی تو جمہوریت 70سال سے یوں رسوا نہ ہوتی۔ -oکمزور فیصلہ ہے، عمران خان نے بھی کہہ دیا تو میں کیوں نہ پوچھوں، اٹل فیصلہ کر لیا، جو ووٹ کی عزت نہیں کرے گا ہم بھی اس کی عزت نہیں کریں گے۔
-oپاکستان مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے غیر رسمی اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک خوبصورت شعر پڑھا؎
دل بغض و حسد سے رنجور نہ کر
یہ نورِ خدا ہے اسے بے نور نہ کر
نااہل و کمینہ کی خوشامد سے اگر
جنت بھی ملے تجھ کو تو منظور نہ کر
-oمیرا بیانیہ عوام کے دلوں میں اتر چکا، اب ووٹ کی عزت کے لئے فیصلہ کن جنگ لڑیں گے۔ ملک کو 70سال سے لگی بیماری کو ختم کرنے کا وقت آ گیا۔ نواز شریف کی مہر اور دستخط ایٹمی پروگراموں، ہوائی اڈوں، بجلی کے کارخانوں اور اعلیٰ عدالتوں میں بیٹھے ججوں کی تعیناتی پر بھی ہیں پھر انہیں بھی ختم کر دو۔ ووٹ کا تقدس پیروں تلے روندنے والی سکھا شاہی قبول نہیں، فیصلے کرنے والوں کا ابھی دل نہیں بھرا، مجھے الیکشن سے مستقل باہر کرنے والا ایک اور فیصلہ آنے والا ہے۔ عام انتخابات میں صرف ووٹ نہیں ڈالنا انقلاب لانا ہے، ہم نے اس نظام کو ختم کرنا ہے جس نے آپ کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ یہ فیصلے غصے اور انتقام میں آ رہے ہیں، سارا انتقام مجھ پر نکالا جا رہا ہے، جب فیصلے انتقام اور غصے میں ہوں تو ایسے فیصلوں کا یہی حشر ہوتا ہے جو عوام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کو فارغ کر دیا اور کہا، چلو گھر جائیں کروڑوں ووٹروں کی کوئی پروا نہیں، 5بندوں نے منتخب وزیراعظم کو فارغ کر دیا، یہ آپ کی اوقات ہے، ان کے دل میں آپ کے ووٹ کی کوئی عزت نہیں، کیا سکھا شاہی آپ کو منظور ہے؟ اگر یہ کہتے نواز شریف نے فلاں ٹھیکے میں پیسے کھائے، خورد برد کی، قومی خزانہ لوٹا تو میں مجرم ہوتا لیکن بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر گھر بھیج دیا گیا، یہ وزیراعظم کے ساتھ سلوک ہوا ہے، یہ بے عزتی منظور ہے؟ یہ فیصلے پہلے بھی آئے اور اب بھی آ رہے ہیں، 70سال میں کچھ نہیں بدلا، اگلے 70سال پہلے 70سال سے بہتر ہونے چاہئیں، مسلم لیگ ن کے امیدواروں سے پارٹی کا ٹکٹ چھین کر کیا ملا؟ فیصلہ آج دے رہے ہو، امیدوار ایک ہفتہ پہلے میدان میں آ چکے تھے، اس نظام نے پاکستان کے عوام کا خون چوس لیا، ان کی قسمت کے ساتھ کھیلا گیا، آپ شوق سے ووٹ ڈالتے ہیں، وہ کہتے ہیں لے جائو اپنا ووٹ، بڑا ووٹ لے کر آتے ہیں‘‘ کیا اس بیانیے کی شدت گزرے نہیں چار مہینوں کے بیانیوں کی شدت سے کہیں آگے نہیں اور کیا نواز شریف کسی اور ’’مقام‘‘ پر ’’اندرونی مذاکرات‘‘ کی ’’مقدس سنسنی خیزی‘‘ کی THRILLSکا کوئی بھی پریشر یا تاثر قبول کر رہے ہیں؟
چنانچہ ایک صاحب دانش نظر کا دکھانا یہ ہے:’’اب اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ٹکر لے سکتا ہے تو وہ نواز شریف ہی ہے، اس سے پہلے جس نے ٹکر لی وہ بھٹو سمیت عبرت ناک انجام سے دوچار ہوا، پہلے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ امریکہ کی اتحادی تھی، اب اس کے ساتھ لڑائی ہے، نواز شریف کے ذریعے ہی پنجاب میں انتہاء پسند لابی کو غیر موثر کیا جا سکتا ہے، پاکستان کے لبرل اور سیکولر طبقے اس معاملے میں امریکہ اور نواز شریف کے ہمنوا ہیں، یہ ان کے لئے سنہری موقع ہے کہ 70سالہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میںطاقت کو توڑ کر رکھ دیا جائے، یہ اب نہیں تو کبھی نہیں کا معاملہ ہے، امریکی ایجنڈے کے مطابق اب برصغیر کی تقسیم سے پہلے کا کلچر پروان چڑھے گا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ملکوں کی سرحدیں ختم ہو جائیں گی لیکن جنگ اور دشمنی کی فضا ختم ہو جائے گی، پاکستانی اور بھارتی پنجاب، سندھ، کراچی اور ممبئی انتہاء پسندوں کو بے معانی بنا دیں گے۔ (یہاں پر صاحب دانش یہ کہنا بھول گئے، یہ کہ مستقبل قریب میں’’ہمسایوں سے نارمل تعلقات‘‘ کا علمبردار کوئی آصف زرداری کردار کشی کا نشانہ بھی نہیں بنایا جا سکے گا) لیکن اس راستے پر چلتے چلتے بیچ میں گہری کھائی بھی آ سکتی ہے، ’’اکانومسٹ ہو یا نیو یارک ٹائمز‘‘وہ امریکی برطانوی مفادات کو خوب سمجھتے ہیں، بلاوجہ ان کا کالم نواز شریف کے حق میں نہیں چلتا‘‘۔
اتفاق سے ’’اکانومسٹ‘‘ کی اس پس منظر میں ایک ’’اکانومسٹ‘‘ کی ایک تازہ ترین تحریر کے چند جملے بھی پڑھتے جائیں، جریدے کا کہنا ہے:۔
’’اکانومسٹ‘‘ اور ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے جملے مذکورہ پس منظر کی تصدیق کرتے ہیں، مثلاً ’’اکانومسٹ‘‘ کا کہنا ہے ’’سینیٹ انتخابات میں ’’ن‘‘ لیگ کو نقصان پہنچانے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ ن لیگ کے امیدواروں کو الیکشن کمیشن نے ’’آزاد امیدوار‘‘ کے طور پر انتخابات لڑنے پر مجبور کیا۔ ایسا کون ہو سکتا ہے جو حکمران جماعت مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے انتخابی نشان ’’شیر‘‘ کو ’’ٹرک‘‘ میں تبدیل کر دے؟ تبدیل شدہ ’’لوگو‘‘ سینیٹ انتخابات میں حکمران جماعت کے امیدواروں پر زبردستی تھوپے گئے‘‘۔ اور ’’نیو یار ک ٹائمز‘‘ کی نظر میں، ’’مسلم لیگ نواز کی صدارت سے ہٹائے جانے کے حالیہ عدالتی فیصلے پر نواز شریف کے تنقیدی ردعمل میں کوئی تعجب نہیں، جج صاحبان نجات دہندہ کا جو کھیل کھیلتے ہیں وہ ملک کے لئے خطرناک ہے، مشرف نے دو ٹوک کہا تھا کہ ان کے خلاف متعدد کیسز میں فوج نے مداخلت کر کے انہیں عدالت سے ضمانت دلائی، مشرف پر آئین سے غداری کا الزام ہے، انہیں آرام دہ اور پُر سکون جلا وطنی میں رہنے کی اجازت دی گئی۔ عدلیہ نواز شریف کی طرح کبھی بھی مشرف کو اپنی پارٹی کی سربراہی سے نہیں روک پائی، پاکستانی جج صاحبان اپنے کام کو ’’جاب‘‘ سمجھ کر کریں، گاڈ فادر کا حوالہ دینے کے بجائے قانون کی کتابوں کا حوالہ دیں، جج صاحب صرف انصاف ہی نہیں کرنا چاہتے، وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا اور سنا جانا چاہئے، جج صاحبان اپنی آوازوں سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں کہ وہ اعلیٰ عدالتوں کو ایک ’’ٹاک شوز‘‘ کی طرح چلانا چاہتے ہیں، جج کو خود نہیں بلکہ ان کے عدالت میں کئے گئے فیصلوں کو بولنا چاہئے، عدلیہ نے بھی فوجی آمروں کے سامنے دوسرے الفاظ میں ’’ملازم‘‘ کا کردار ادا کیا، مشکوک الزامات پر منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی، ایک اور منتخب وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو سزا دینے میں ناکام رہی‘‘
یہ وہ لمحہ ہے جب ’’اکانومسٹ‘‘ اور نیو یارک ٹائمز کی تجزیاتی آرا میں اپنے وطن کے ایک صد واجب الاحترام سپریم کورٹ کے جج جسٹس دوست محمد کے اس نظریے کو قومی تاریخ کے تسلسل کی دستاویز کا حصہ بنانا ہمارے قومی فرائض سے جڑا ہوا ہے، وہ نظریہ یہ ہے:۔ ’’سیاسی معاملات عدالتوں میں لے جانے سے مارشل لاء کی راہ ہموار ہوتی ہے‘‘
یہی وہ لمحہ ہی ہے جب ہم پاکستان کے وژنری قومی رہنما آصف علی زرداری کے ’’نواز اور پاکستان اسٹیبلشمنٹ‘‘ کے مابین جاری محاذ آرائی کے فریم میں اس دعوے کا جائزہ لئے بغیر نہیں گزر سکتے جس میں انہوں نے کہا:۔ ’’وہ دن دور نہیں جب صدر، وزیراعظم اور چاروں صوبوں کا وزیر اعلیٰ جیالا ہو گا‘‘، یہ جائزہ عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی اس قسم کے احترای تذکرے کی ایک منطقی تصویر بھی اجاگر کر سکتا ہے جب انہوں نے فرمایا تھا ’’خدا کی قسم کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، خواہش ہے عوام کو روٹی اور صاف پانی مل جائے‘‘ گفتگو ابھی جاری رہے گی! انشاء اللہ!
جناب سہیل وڑائچ اپنے کالم "بچہ جمورا بمقابلہ بچہ جمہورا" میں لکھتے ہیں کہ یہ تحریر بالغوں کے لئے نہیں بلکہ سیاسی اور غیر سیاسی نابالغوں کے لئے ہے۔ دراصل تو یہ بچوں کی دنیا کی کہانی ہے جس میں دو بچے، بچہ جمورا اور بچہ جمہورا آپس میں محو گفتگو ہیں، بچہ جمورا گملے میں پلا بڑھا ہے تلواروں اور تیروں کے سائے میں پرورش پائی ہے جبکہ بچہ جمہورا گلی محلے میں پروان چڑھا ہے، عوام کے درمیان دھکے کھائے ہیںاور اس میں عوامی رنگ زیادہ ہے۔ آیئے طفلستان کے ان دو بچوں کا سیاسی مکالمہ سنیں، ہو سکتا ہے کہ اس میں کئی اشارے ایسے ہوں جن سے آئندہ کی صورتحال کا اندازہ ہوسکے۔
بچہ جمورا:ملک بہتر ہو رہا ہے۔ رونے پیٹنے سے کچھ نہیں ہو گا احتساب ہو کر رہے گا، کرپٹ اور نااہل قیادت کا ناطقہ بند ہو گا۔
بچہ جمہورا:عدالتی فیصلوں سے سیاست کی سمت کا تعین نہیں ہوتا۔ سیاست کے فیصلے سیاسی میدان میں ہوتے ہیں۔ انصاف کے ایوانوں میں تو اکثر ناانصافیاں ہوتی رہی ہیں۔
بچہ جمورا:اب نئی قیادت، نیا زمانہ ہو گا۔ اب ماضی کے حکمرانوں کو کون پھر سے موقع دے گا یہ جیلوں کی سیر کریں گے، مقدمات بھگتیں گے، جائیدادوں کا حساب کتاب پیش کریں گے یہ سیاست کو بھول جائیں شریفوں کے بعد زرداریوں کی باری ہے۔
بچہ جمہورا:عوامی طاقت کو جیلیں، مقدمے اور احتساب روک نہیں سکتے۔ عوامی طاقت بروئے کار آئے گی تو یہ قانون ضابطے نااہلیاں سب بدل جائیں گی۔ پارلیمان سب کچھ بدل سکتی ہے۔
بچہ جمورا:ایسی ایک کوشش اکتوبر 2017ء میں کی گئی ایک سابق وزیر قانون کے لیپ ٹاپ میں اس قانون کا مسودہ موجود ہے جس میں پارلیمان کے ذریعے آرمی چیف کی جگہ سی ڈی ایس کا عہدہ تخلیق کیا جانا تھا، چیف آف ڈیفنس سروسز کو کورکمانڈرز کی تعیناتی اور تقرری کا اختیار نہیں ہونا تھا یہ اختیار وزیر دفاع کے پاس جانا تھا، اسی طرح ججوں کی عمر میں تبدیلی کا قانون بھی تیار تھا تاکہ ’’ایماندار اور غیر جانبدار‘‘ ججوں کو فارغ کر دیا جائے۔ محب وطن حلقوں کو پتہ چلا تو پھر سرخ لکیر لگا دی گئی کہ یہ سب کچھ کرنے نہیں دیا جائے گا۔
بچہ جمہورا:ایسی خبر تو سنی تک نہیں۔ وزیراعظم عباسی کو بھی ایسی خبر نہیں لیکن ظاہر ہے اگر ن لیگ کو مینڈیٹ ملا تو نواز شریف کی نااہلی کی سزا کے خاتمے کے لئے قانون سازی تو ہو گی اور اس سے کونسا آسمان گر پڑے گا۔ اگر آمروں کے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ دیا جا سکتا ہے تو کیا پارلیمان کو اپنے حقوق کے تحفظ کی قانون سازی کے لئے فوج اور سپریم کورٹ سے اجازت لینے کی ضرورت ہے؟
بچہ جمورا:پارلیمان مادر پدر آزاد نہیں ہر ادارے کے اپنے اختیارات اور حقوق ہیں، پارلیمان کو دوسرے اداروں پر آمریت مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
بچہ جمہورا:پارلیمان تو آئین کی ماں ہے خودمختار ہے، عوام نے ووٹ دیئے تو قانون میں تبدیلی لائی جائے گی۔ یہ نہیں رک سکتی۔ کبھی تاریخ کا دھارا بھی رکا ہے؟
بچہ جمورا:اس ملک کے ادارے طاقتور نہ ہوتے تو سیاستدان تو ملک تک بیچ کھاتے، بھارت کے آگے گھٹنے ٹیک چکے ہوتے، امریکہ کی ہر جائز اور ناجائز خواہش مان کر ملک کی خودمختاری کھو چکے ہوتے۔
بچہ جمہورا:ہاہاہا۔ ملک کے دریا جنرل ایوب خان نے بیچے کسی سیاستدان نے نہیں، سیٹو اور سینٹو پر دستخط آمر نے کئے اور تو اور ملک بھی جنرل یحییٰ خان کے دور میں ٹوٹا۔ افسانے چھوڑو اور حقیقت کو جانو۔
بچہ جمورا:سیاستدان تو ملک لوٹتے ہیں اربوں کے قرض لیتے اور ہڑپ کر جاتے ہیں، ترقی ایوب خان، جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے دور میں ہوئی صنعتی ترقی اور خوشحالی کے اعداد و شمار میری دلیل کی تصدیق کرتے ہیں۔
بچہ جمہورا:ترقی تو ہوئی مگر امریکہ کے ساتھ فوجی معاہدوں کے بعد، افغانستان کی دو خون آشام جنگوں میں شرکت کے بعد۔ تو کیا انسانی جانوں کے بدلے معاشی ترقی کا سودا اچھا تھا؟
بچہ جمورا:کرپشن بھی تو اہل سیاست ہی کا وطیرہ ہے، ملک کو لوٹ کر کھا گئے ہیں۔ پاکستان کی لوٹ مار سے لندن اور یورپ میں محل بناتے ہیں۔ پاکستان کی غربت کی وجہ سیاستدانوں کی کرپشن ہے۔
بچہ جمہورا:سیاستدانوں کے پاس 30فیصد بجٹ ہے جبکہ 70فیصد اداروں کے پاس۔ 30فیصد سے پورا ملک چلتا ہے تنخواہیں، سڑکیں، اسپتال اور تعلیمی ادارے۔ 70فیصد کا کوئی حساب کتاب نہیں لے سکتا اور 30فیصد پر روز سوال کھڑے کئے جاتے ہیں کیا جنرل مشرف نے لندن اور دوبئی میں جائیدادیں نہیں بنائیں؟ کیا ایوب خان کے بیٹے 22خاندانوں میں شامل نہیں ہو گئے تھے؟ ضیاء الحق کے بیٹے کا کاروبار کیا ہے وہ کیسے زندگی گزار رہا ہے؟
بچہ جمورا:ہر ادارے میں احتساب کا نظام موجود ہے، اداروں میں بہت ڈسپلن ہے ہر کرپٹ کو سزا ملتی ہے، سیاستدان کا کوئی احتساب نہیں، جج اور جرنیل تو تنخواہ پر گزارہ کرتے ہیں بڑی مشکل سے ایک آدھ گھر بناتے ہیں، بچوں کو اچھی تعلیم دلاتے ہیں مگر یہ سیاستدان اور بیورو کریٹ مل کر بیرون ملک منی لانڈرنگ کرتے ہیں اور جائیدادیں بناتے ہیں۔
بچہ جمہورا:طفلستان میں تو صرف سیاستدانوں کا احتساب ہوا ہے، ہر وزیر اعظم کو زبردستی اتارا گیا جبکہ پاکستان توڑنے والے جنرل یحییٰ خان کو قومی پرچم کی سلامی دے کر دفن کیا گیا، یہ تضاد کیوں؟ ایڈمرل منصور اور جنرل زاہد علی اکبر کے خلاف الزامات ثابت ہوئے انہیں زبردستی واپس لایا گیا مگر پھر انہیں چھوڑ دیا گیا، کیوں؟
بچہ جمورا:وائٹ کالر کرائم کو پکڑنا مشکل ہوتا ہے سیاستدان جرم اس طرح سے کرتے ہیں کہ پکڑے نہیں جاتے۔ مگر اب یہ سارے مجرم پکڑے جائیں گے، ادارے فعال ہو چکے ہیں اور فیصلہ کر چکے ہیں کہ کرپشن اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے۔ اگلے الیکشن میں یہ کرپٹ لوگ نہیں ہوں گے۔
بچہ جمہورا:سیاستدانوں کی چھانٹی کا فارمولا، ہر دور میں آزمایا گیا مگر ناکام ہوا۔ ایوب خان نے ایبڈو لگایا، جنرل ضیاء الحق نے سینکڑوں لوگوں کو نااہل کیا اور عدالتوں سے اس پر مہر تصدیق ثبت کروائی، جنرل مشرف نے کبھی بی اے کی ڈگری کے نام پر اور کبھی کسی اور بیانیے سے چھانٹی کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا جبر کم ہوا تو پھر سے وہی بے نظیر اور نواز شریف نکل کر سامنے آ گئے۔ اب پھر ایسا نہ ہوا کہ چھانٹی، احتساب اور سزائوں کے باوجود پھر سے ن لیگ زندہ و تابندہ مگر زخمی حالت میں نکل کر پھر سے کھڑی ہو جائے۔ ایسا ہوا تو کیا ہو گا۔
بچہ جمہورا:یقین رکھو، ایسا کچھ نہیں ہو گا، سب بندوبست ہو چکا ہے (قہقہہ) محترم سلیم صافی اپنے کالم "گدھوں سے معذرت" میں لکھتے ہیں کہ جونہی پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات کے لئے شیڈول کا اعلان ہوا تو پشاور سے لے کر کراچی تک اور کوئٹہ سے لے کر لاہور تک منڈی لگ گئی ۔ تجوریوں کے منہ کھل گئے ۔ روایتی بیوپاری اور کھلاڑی میدان میں اترآئے ۔ آصف زرداری ، میاں نوازشریف ،عمران خان وغیرہ نے کھرب پتیوں کو ٹکٹ دینے شروع کردئیے جس سے واضح ہورہا تھاکہ اب کی بار سیاسی اسٹاک ایکسچینج میں خوب گرمی رہے گی۔مجھ تک خریدوفروخت کی جو خبریں پہنچیں وہ ناقابل یقین تھیں۔ چنانچہ الیکشن کمیشن اور قوم کو بروقت آگاہ کرنے کی خاطر مجھے اس موضوع پر اس وقت کالم لکھنا پڑا جو 6فروری 2018 کو روزنامہ جنگ میں ’’ڈنکی ٹریڈنگ‘‘ کے زیرعنوان شائع ہوا۔ اگرچہ پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی خریدوفروخت اور وفاداریاں تبدیل کرنے کے عمل کے لئے سیاست کی زبان میںہارس ٹریڈنگ کا لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن تب میرا خیال تھا کہ چونکہ گھوڑا ایک کارآمد اور وفاشعار جانور ہے اور خصوصاً ہمارے معاشرے میں اسے ایک عزت دار اور سمجھدار جانور سمجھا جاتا ہے ، اس لئے اس عمل کو ہارس ٹریڈنگ کہنا میں نے گھوڑوں کی توہین سمجھا اور یوں اپنی فہم کے مطابق اس عمل کے لئے ڈنکی ٹریڈنگ یعنی گدھوں کی تجارت کا لفظ استعمال کیا ۔ تب سوچ یہ تھی کہ ہمارے معاشرے میں گدھا، چونکہ بے وقوفی ، بے وفائی اور بے ڈھنگے پن کی علامت سمجھا جاتا ہے ، اس لئے میں نے ووٹ اور ضمیر فروخت کرنے والوں کو گھوڑوں کی بجائے گدھوں سے تشبیہ دینا ضروری سمجھا، لیکن سینیٹ کے انتخابات کے دوران جو کچھ ہوا اور جس بے شرمی اور بے حیائی کے ساتھ ہوا ، ا س نے مجھے گدھوں کے سامنے شرمندہ کیا۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ووٹ اور ضمیر فروخت کرنے والے اراکین سے تشبیہ دے کر میں گدھوں کی توہین کا مرتکب ہوا ہوں اور اسی لئے میں آج دنیا بھر کے گدھوں سے معذرت کرنے پر مجبور ہوں ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ گدھے بھی اس طرح نہیں بک سکتے جس طرح سینیٹ کے ان انتخابات میں ایم پی ایز اور ایم این ایز (خصوصا فاٹا کے بعض ایم این ایز)بکے ۔ گدھاگاڑی کے لئے گدھے کا انتخاب کرتے ہوئے بھی کوئی معیار ہوتا ہے لیکن تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے سینیٹ کے اکثر ٹکٹوں کی الاٹمنٹ (سوائے چند ایک کے ) کے وقت پیسے کے سوا کسی معیار کو مدنظر نہیں رکھا۔ یقین نہ آئے تو چند نمونے ملاحظہ کیجئے ۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں تبدیلی کی علمبردار جماعت پاکستان تحریک انصاف کے دو درجن سے زائد اراکین صوبائی اسمبلی جن میں صوبائی وزراء بھی تھے، فروخت ہوئے ۔ حالانکہ اپنی پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کی صورت میں ان کو اپنی حکومت کی طرف سے دیگر مراعات کے ساتھ ساتھ رقم بھی مل رہی تھی لیکن دوسری پارٹی کی رقم چونکہ بہت زیادہ تھی ، اس لئے یہ بے شرم نوٹوں کے آگے ڈھیر ہوگئے۔ بعض ایسے ہیں جنہوںنے اپنی حکومت سے رقم لے کر بھی ووٹ فروخت کیا جبکہ بعض ایسے ہیں جنہوں نے دوسری پارٹی سے رقم لے کر بھی ووٹ اس کے امیدوار کو نہیں ڈالا۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کومسترد کرکے تبدیلی کے نام پر تحریک انصاف کو ووٹ ڈالے تھے اور اس لئے بعض ایسے لوگ بھی ایم پی اے اور ایم این اے منتخب ہوئے جو گدھوں کے اصطبل کا انتظام چلانے کے بھی اہل نہ تھے ۔ عوام کے مینڈیٹ کی رو سے پیپلز پارٹی کو اتنی کم سیٹیں ملی تھیں کہ ان کا ایک سینیٹر بھی منتخب نہیں ہوسکتا تھا لیکن ان ضمیر فروشوں کی وجہ سے اس کے دو سینیٹرز منتخب ہوئے اور تیسرا سینیٹر منتخب ہوتے ہوتے رہ گیا۔
ہر پارٹی نے نمائشی طور پر پارٹی کے بعض رہنمائوں اور نظریاتی لوگوں کو بھی ٹکٹ دئیے لیکن مسلم لیگ (ن)ہو ، پیپلز پارٹی یا پی ٹی آئی ، ہر ایک نے ایسے ایسے کھرب پتیوں کو سینیٹ کے ٹکٹ دئیے کہ جو صلاحیت اور پارٹی کے لئے خدمات کے لحاظ سے یونین کونسل کے ٹکٹ کے بھی حقدار نہیں ۔ یہ لوگ اس خیال سے امیدوار بنائے گئے کہ وہ اپنی جماعتوں کے ایم پی ایز بھی خرید سکیں ۔ بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کی پوری پارٹی نے آزاد امیدواروں کو ووٹ دئیے ۔ سندھ میں ایم کیوایم جیسی جماعت کے درجنوں ایم پی ایز لوٹا ہو گئے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کے چوہدری سرور نے اپنے استحقاق سے کئی ووٹ زیادہ حاصل کئے ۔ سوائے چند کے سب پارٹیوں کے لوگوں نے وفاداریاں بدلیں ۔اس بہتی گنگا میں قوم پرستوںنے بھی ہاتھ دھوئے اور مذہبی لوگوں نے بھی ، پی ٹی آئی والوں نے بھی اور مسلم لیگیوں نے بھی ۔ جمہوریت کی ٹھیکیدار پیپلز پارٹی کی تو خیر بات ہی کیا ہے۔ اس سے زیادہ افسوسناک اور شرمناک بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان ارب پتی نہ ہونے کی وجہ سے ہار گئے لیکن طلحہ محمود کھرب پتی ہونے کی وجہ سے سینیٹر منتخب ہوگئے ۔ فاٹا میں تو حسب روایت بے شرمی اور قوم فروشی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے گئے ۔ حسب روایت چھ ایم این ایز نے حکومت کے تعاون سے پول بنایا اور چھ بندوں نے چار سینیٹروں کا انتخاب کیا ۔ باقی پانچ ایم این ایز کا سرے سے ووٹ ہی ضائع ہوا ۔ اور تو اور حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کے ایم این اے شہاب الدین خان سالارزئی نے بطور احتجاج انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا۔ بے شرمی اور قوم فروشی کی انتہادیکھ لیجئے کہ اس معاملے میں انضمام کے چیمپئن حاجی شاہ جی گل آفریدی اور انضمام کے مخالف بلال رحمان اور جی جی جمال ایک ساتھ رہ کر جوڑ توڑ کرتے رہے ۔ جس طرح یہ ایم این ایز کسی صورت قبائلی عوا م کے حقیقی نمائندے نہیں اسی طرح دولت کے زور پر منتخب ہونے والے سینیٹرز کسی صورت قبائلی عوام کے نمائندے اور ترجمان نہیں ہوسکتے ۔ اس طرح کے تماشے بھی ہوتے رہے کہ سابق سینیٹر نے دولت کے زور پر اپنے والد کو مسلم لیگ(ن) کے تعاون سے فاٹا سے سینیٹر بنوادیا جبکہ ان کے بھائی جو خیبر پختونخوا سے ایم پی اے ہیں، زرداری صا حب کی خدمت میں مگن رہے ۔
قصہ مختصر یہ کہ سینیٹ کے انتخابات کے نام پر عوام کی رائے اور ووٹ کی بدترین توہین ہوئی ۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے جس نظریے کو ووٹ دیا تھا، سینیٹ کے انتخابات میں اس رائے کے برعکس ہوا اور ووٹ کا تقدس بری طرح پامال ہوا۔ سندھ میں ایک اور طریقے سے جبکہ بلوچستان میں ایک اور طریقے سے ووٹ کا تقدس پامال ہوا۔ فاٹا کے تو خیر نہ ایم این اے وہاں کے عوام کے نمائندے کہلانے کے مستحق ہیں اور نہ ان کے منتخب شدہ سینیٹرز ۔ لیڈران کرام نے عوامی رائے اور ووٹ کی توہین اس طریقے سے کی کہ اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر دولت دیکھ کر ٹکٹ دئیے اور پھر ایم پی ایز اور ایم این ایز کی ایک بڑی تعداد نے چمک کی بنیاد پر ووٹ دے کر عوامی رائے کی توہین کی۔ہم وہ بدقسمت لوگ ہیں جو دن رات اس پارلیمنٹ کی بالادستی کے خواب دیکھتے اور دکھاتے ہیں اوراس پر لعنت بھیجنے والوںپر ہم لعنت بھیجنے میں دیر نہیں لگاتے ۔ جمہوریت پر یقین تقاضائے حب الوطنی ہے اور پارلیمنٹ کی عزت اور توقیر ہم پر فرض ہے لیکن بہر حال جن لوگوںنے نوٹ دیکھ کر ووٹ اور ضمیر کا سودا کیا ، ان پر لکھ لعنت ۔ ضمیر اور عوام کا مینڈیٹ فروخت کرنے والے گدھوں سے بھی بدتر ہیں لیکن جن لیڈروں اور امیدواروں نے نوٹ دے کر ووٹ خریدے ، یا نوٹ دیکھ کر یا لے کر ٹکٹ دئیے ، وہ گدھے تو کیا الوئوں سے بھی بدتر ہیں ۔ انسان اشرف المخلوقات ہے اور انسانیت کے دائرے میں رہے تو فرشتوں سے بھی افضل قرار پاتا ہے لیکن وہ قوم کا ، عوام کا اور اپنے مینڈیٹ کا سودا کرے اور انسانوںکو نوٹوں میں تولنے لگے تو الوئوں سے بھی بدتر ہے۔ یہی لوگ ہیں جو ہزار بار جمہوریت کا نام لیں لیکن وہ آئین اور جمہوریت کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔

کالم کلوچ

اپنی پہچان کی تلاش !

شائع شدہ

کو

اپنی پہچان کی تلاش !

تحریر- صبح صادق
دوچار ہفتے قبل جب مجھے میرے آفس میں ایک خط ملا جس میں فرمائش کی گئی تھی کہ آپ یہاں قصور میں بلھے شاہ کلچرل فورم میں ہمارے ساتھ آملیں اور پاکستانی ثقافت اور فنون لطیفہ کے موضوع پر گفتگو کریں تو یقین مانیں اس موضوع کو لے کر یکدم میرے اوپر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ اول تو اس لئے کہ یہ موضوع اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ ایک نشست میں اس پر سب کچھ سمیٹ پانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔دوم یہ کہ یہ میرا موغوب ترین موضوع ہے اور جو شے انسان کو عزیز ہوتی ہے اس کے ساتھ وہ برتاؤ بھی اپنوں جیسا کرتاہے ۔میری خوش قسمتی ہے کہ میں گزشتہ دس برسوں سے براہ راست ایک ادبی و ثقافتی ادارے لاہورآرٹس کونسل میں بطور پی آر او، ثقافت کی مہم سے وابستہ ہوں(جسے دن رات کی کوششوں سے ہم ایک مقامی ادارے سے بین الاقومی سطح پر لے گئے ہیں ) البتہ بالواسطہ تو اس شعبہ کے ساتھ عمربھر کا ساتھ رہا ہے یعنی خاکسار کو بچپن سے ہی ادب و ثقافت کے شعبے خاص دل چسپی رہی ہے۔بہرحال یہاں ہم ایک ایسے شعبہ پر بحث و مباحثے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے جس کی نہ تو حدود و قیودکاآج تک تعین ہو سکا نہ ہی اس کے لوازمات ، مندرجات وغیر ہ پر کوئی ٹھوس اتفاق موجود ہے۔میری نظر میں ہمارے قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (مرحوم) کی پہلی بات تو پوری ہو چکی یعنی پاکستان کی بستی بس گئی لیکن ہمارے اہل نظر ابھی تک یہ طے نہ کر پائے کہ اپنی نگاہ کو کیاکریں۔بہرحال یہ امر مسرت کا باعث ہے کہ آج یہاں پاکستان کے چوٹی کے مفکرین ادیب اور دانشور اور زندگی کے مختلف شعبوں کے تعلق رکھنے والے سکالز اپنے ثقافتی عوامل و مظاہر کی بہتر سے بہتر تفہیم کے لئے جمع ہوئے تھے اس پر میں اس کنونشن کے منتظمین و محققین کو مبار کبار پیش کرتاہوں کہ جنہوں نے اس کنونشن کو اپنی ذاتی دلچسپی ،عملی تعاون اور محققانہ صلاحیتوں سے پروقار بنایا ہے۔
میرے مطابق عملی طورپر زندہ اور جاندار کلچر کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرتاہے جس میں وسائل ،سرپرستی یا مواقع کی کمی کے باوجود مناسب تخلیقی ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچایا جاتا ہے اور پھر وہ ٹیلنٹ اپنے معاشرے کی جمالیات اور دانش کے میدانوں میں اعلیٰ ترین ہم عصر معیاروں کے مطابق ڈھل کر قومی دھارے میں شامل ہو جاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ آرٹ قوم کی پہچان بننے کے ساتھ ساتھ قومی فکر کی تعمیر کا ایک اہم وسیلہ ثابت ہوتا ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہمارے ہاں ثقافت کی رسمی تعریف میں ہمارے رسم ورواج،رہن سہن کے طریقے ،بودوباش یعنی کل طریقہ زندگی شامل ہیں اس تناظرمیں کسی بھی قوم کا اصل چہرہ تبھی خوبصورت نظرآئے گا جب مجموعی طورپر اس ملک کے نظام میں معیشت ،عدل و انصاف،امن وامان اور چیک اینڈ بیلنس سمیت دیگر زندگی کے دورے شعبے مستحکم ہونگے۔اگرآپ کے نوجوان کو تعلیم اور روز گاہ کے موقع میرٹ پر میسر آئے، سماجی رویے اعتدال پر مبنی ہو، کوئی کسی کی ناجائز پگڈی نہ اچھال پائے اور مانیٹرنگ کا خود کار مزاحتمی نظام کام کرنا شروع کردے تو پھر آپ اس بات پر اطمینان کر سکتے ہیں کہ آپ کی قوم کا چہرہ دنیا کو خود بخود خوب صورت نظر آنے لگے گا۔اگر معاشرے کا مجموعی نظام انحطاط پذیر ہو اور اسے بہتر بنانے کی کوئی سنجیدہ کاوشیں نہ کی جائیں تو پھر دنیا میں اپنے متعلق پھر اعتماد بیانیہ کی تشکیل کرپانامشکل نظر آتاہے ،بدقسمتی سے یہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے،چند برس قبل تو ہمارے حالات بہت بگاڑ کا شکار تھے بہر حال ان حالات میں بھی ہمارے ثقافتی اداروں نے ا پنا ایڑی چوٹی کا روز لگایااور دنیا میں اپنے وجود کی بقاء کی جنگ لڑی اور الحمد اللہ ہم اس نتیجے میں دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر عزت کے ساتھ مدعو کئے جاتے رہے اور ہمارے بات بھی سنی گی۔مگر موجود ہ دور میں ہمارے چندقومی اداروں کی حوصلہ بخش کار کردگی کے نتیجے میں حالات ساز گار ہونے شروع ہوئے ہیں کیونکہ ملک کے تمام نظاموں کا محور شعبہ ثقافت ہوتاہے ان مستحکم نظاموں کی صورت میں یہ امر ثقافتی اداروں کے لئے سہل ہو جاتا ہے کہ وہ خود کو دنیا میں منوا سکیں۔بہرحال یہ حقیقت ہے کہ جہاں ہمیں قومی سطح پر اپنی بہتر ثقافتی حکمت کاری سے ملکی یک جہتی اور ہم آہنگی کے لئے مدد مل سکتی ہے وہاں ہم بین الاقومی تناظر میں اپنے خلاف ہونے والے بے بنیاد ،من گھڑت اور پروپیگنڈہ پر مبنی بیانیے کے اثرات بھی زائل کر سکتے ہیں اس سے بھی بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم نے دشمن کی ساز شوں کا نہ صرف توڑ کرناہے بلکہ اپنے جوابی بیا نیے میں دنیا کے سامنے اپنی اقتصادی کا میابیوں، متوازن سماجی رویوں،بین الاقومی امن میں اپنے کردار کو قابل قبول انداز میں پیش بھی کرناہے سو اس حوالے سے مجھے بے حد خوشی ہے ہم باہمت قوم ہیں ہم نے مشکل حالات میں اپنی بقاء کے لئے بے دریغ قربانیاں دی ہیں اب یہ بات تمام قومی و صوبائی ثقافتی اداروں پر منحصر ہے کہ ہم کس انداز میں اپنی ان کا میابیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں ،مثلا میری نظر میں ا پنے آپ کو دنیا میں متعارف کروانے کے دو طریقے ہیں یا تو ہم دنیا کے اہل قلم اور صاحب آراء مفکرین کو اپنے ہاں مدعو کریں اور ان کے سامنے اپنا خوبصورت نظام زندگی رکھیں اور انھیں اپنا گرویدہ بنانے کی پرزور کوششیں کریں مثلا اس حوالے سے ہم نے گزشتہ دو برسوں سے دنیا بھر کے 50ممالک کے سفیروں کو لاہورآرٹس کونسل کے پلیٹ فارم پر مدعو کیا اور ان کو اپنی عوامی رویے اور اقدار سے روشناس کروایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان سفیروں نے اپنے اپنے ممالک کو جو رپورٹ بجھوائیں میں نے ان جب کا پتہ کیا تو یقین مانیں وہ ہمارے لئے بے حد تسلی بخش تھی ،یعنی ہمارا تجربہ کامیاب رہا الحمداللہ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود دیس دیس جاکر دنیا تک اپنی بات پہنچائیں اس محاذ پر بھی لاہورآرٹس کونسل الحمراء کی کارکردگی میں آپ کے سامنے رکھنے پر فخر محسوس کروں گا۔ہم نے ایک پراجیکٹ(PIC Pakistan)کہ نام سے شروع کیاہے جس کے پہلے مرحلے پر تھائی لینڈ میں پاکستان کا رنر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔تھاماسٹ یونیورسٹی ،بنکاک تھائی لینڈ میں اس پاکستان کارنر کے قیام سے 50000طلبہ و طالبات جو دنیا بھر سے یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں،سے مستفید ہونگے اور اپنے اپنے وطن واپسی پروہ پاکستان کے متعلق ایک مثبت رائے لے کر جائیں گے یہی ہمارے مقصد ہے ۔اس کو اب ہم آگے لے کر چل رہے ہیں اور اس کادائرہ کار کوئی درجن بھر ممالک تک پھیلا رہے ہیں۔
یہی بات اگر میں دوسرے انداز میں بیان کرؤں تو میری نظر میں ثقافت ایک باریک،کچے دھاگے کی مانند ایک ایسی لڑی کا نام ہے جس کی مضبوطی کا انحصار اس میں پردے جانے والے طرح طرح کے رنگ بر نگے خوبصورت مو تیوں کے حسن پر ہوتاہے۔جو جس قدردلکش ہونگے یہ لڑی قدر مضبوط ہوگی البتہ اگر اس میں بے کار موتی پروے دے جائے تو یہ اس ثقافت کی لڑی کو مضبوط کرنے کی بجائے کمزرو کر دیں گے جس سے کسی بھی قوم کا شہزازہ با آسانی بکھیرا جاسکتا ہے سو یہ اس قدراحساس نوعیت کا معاملہ ہے۔بہرحال یہ شعبہ ثقافت جزوئیات کوکُل میں پروتاہے،نہایت طاقتور ،جادوئی اثر کا حامل ہونے کی بناء پر کوئی اس کی اثر پذیر ئی سے بچ نہیں سکتاہے یہ بکھیری چیزوں کو اکائی بناتاہے مثلا ہمارے ملک کے تمام صوبوں کے لوگ اگر اس شعبہ سے صحیح معنوں میں استفادہ کریں یایہ شعبہ اپنا کام ڈھنگ سے سرانجام تو اسی صورت ہم اس کے اثرات کو اپنے حق میں استعمال کرسکتے ہیں مثلا جسے ہم لاہور میں کام کرتے ہوئے یہاں کے رہنے والوں کے سامنے فنون لطیفہ کی مدد سے دوسرے تمام صوبوں کے رنگ روپ پیش کرتے ہیں اگر یہی طریقہ کار دوسرے صوبوں کے ثقافت ادارے بھی اپنائے تو کوئی مشکل نہیں کہ ہم ایک نہ ہو سکیں میری نظر میںآج ثقافتی حالات کی کار کردگی جاننے کی سب سے بڑی کسوٹی یہی ہے کہ اگر ہمارے مختلف صوبوں میں بسنے والے افراد باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا شروع کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ثقافتی اداروں کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔سو ہمارا پہلا حدف اپنا گھر خوبصورت بنانا ہونا چاہے پھر اس کے بعد دنیا کے پاس ہماری اہمیت کے انکارکا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔
جہاں تک اس شعبے کو درپیش چیلنجز کا سوال ہے کہ وہ بے شمار ہیں مثلا اس شعبہ سے متعلق ایک عام بیا نیہ (Narrative)یہ ہے کہ کلچر اور فنون امراء کی عیاشی کی کسی شے کا نام ہے جو میری نظر میں بہت خطرناک ہے ۔سو آگے چلیں ایک نقطہ نظریہ بھی ہے کہ زندگی کی تمام ضروریات اور تقاضے پورے ہونے کے بعد کلچر اور اس کے دیگراجزاء کے بارے میں غور کیاجائے گا، دوسرے لفظوں میں ملک میں کلچر کا روز مرہ کی زندگی اورہماری قومی ضروریات کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے،گویا یہ دو الگ الگ باتیں ہے۔مزید ذرا غور کیجئے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ دراصل کلچر تو طبقاتی ہوتا ہے یعنی کلاس کلچر۔ہمارے ہاں امرا ء ہیں،غرباہیں،کسان ہیں،مزدور ہیں،سرمایہ دار ہیں اور افسر لوگ ہیں ان سب کا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے اب ان سب سے ماورا پاکستانی کلچریا پاکستان کے قومی کلچر کی تلاش بے کارسی بات ہے کیونکہ کلاس یا طبقے سے الگ کوئی کلچر نہیں ہوتاہے،میری نظر میں یہ نہایت غلط تصور ہے اس سے ملتی جلتی ایک اور بات بھی سننے میںآئی ہے کہ سندھی کلچر ،بلوچی کلچر، پختون کلچر،پنجابی کلچر، ہرجگہ کے الگ الگ کلچر ہیں اور یہی ہونا بھی چاہیے ۔ان سے الگ یاان کے اوپر کسی قومی کلچر یا ثقافت کی تلاش کرنا بے کار ہے ۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بغیر لوگ تو اسے شرارت کی بات کہتے ہیں اوراس کا مقصد یہ بتاتے ہیں اس سے ملک میں لادینی پن پھیلا یا جارہا ہے۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ سندھی ،پنجابی،بلوچی اور پختون کا فساد پیدا کرکے قومی وحدت کو نقصان پہنچا ہے اس شعبے کو اب اس سے بڑے اور چیلنج کیا لاحق ہوں گے-

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

میشا شفیع کے بعد ریشم بھی....

شائع شدہ

کو

کپتان کی عزت داؤ پر

میشا شفیع، علی ظفر اسکینڈل نے جہاں شوبز حلقوں میں ہلچل مچائی ہے وہیں دیگر سماجی حلقے بھی تشویش میں مبتلا ہیں اس حوالہ سے شوبز کے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ کل تک ایک دوسرے کے قریبی دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والی یہ فنکار جوڑی اس طرح اسکینڈل منظر عام پر لائے گی تو پھر ہماری شوبز انڈسٹری میں بہت سے ایسے رشتے ناطے ہیں جومذہبی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہیں مگر ان رشتوں کو اخلاقی دائرہ کار کے تحت جائز قرار دیا جاتا ہے ۔اس سے پہلے کہ علی ظفر کے خاندانی پس منظر پر نظر ڈالی جائے پہلے دیکھنا یہ ضروری ہے کہ میشا شفیع کا خاندانی پس منظر کیا ہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ میشا شفیع کا فیملی بیک گراؤنڈ نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس ‘‘ کہلانا پسند کرتا ہے۔ میشا شفیع کی والدہ صبا پرویز اپنے فنکارانہ کیریئر کے آغاز میں صبا حمید کہلائیں بعد ازاں انہیں شادی شدہ زندگی کے آغاز میں کبھی صبا شفیع کہا گیا تو کبھی صبا پرویز اور ایک وقت صبا پر صبا وسیم عباس کہلانے کا بھی آیا ۔ یہ درست ہے کہ وسیم عباس سے صبا حمید کے تعلق کو شرعی قرار نہیں دیا جاسکتاکیونکہ وسیم عباس کے ساتھ صبا حمید کی دوستی ایک مشترکہ ’’شوق‘‘کی وجہ سے ہوئی اور کئی برسوں تک قائم رہی۔یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ صبا کے والد خود کو کامریڈ(روشن خیال)کہلوانا پسند کرتے تھے کیونکہ وہ مذہبی رجحانات کے مالک نہیں تھے بالخصوص ہمارے اسلامی معاشرے میں انہیں اپنی موجودگی ہمیشہ ناگوار گزرتی تھی۔ میشا شفیع کو یہی ’’روشن خیالی‘‘ اپنے نانا اور والدہ سے ورثہ میں ملی۔ علی ظفر کے ساتھ ان کے ناجائز تعلقات کی کہانی خود ان کی زبانی منظر عام پر لانا ایسی ہی روشن خیالی اور ترقی پسندی کی ایک بھونڈی مثال ہے۔

میشا شفیع کا یہ اعتراف کہ انہیں علی ظفر نے بارہا جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا انہیں قریب سے جاننے والے لوگوں کو قطعی طور پر حیران نہیں کرتا مگر برائے نام تعلق رکھنے والے ساتھی فنکاروں کی اکثریت اور دونوں فنکاروں کے مداحوں کیلئے یہ انکشافات ہوش اڑا دینے کیلئے کافی تھے اسی لیے گزشتہ 48 گھنٹوں کے درمیان ملک بھر میں ریگولر اور سوشل میڈیا پر صرف اور صرف علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان ناجائز تعلقات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے بلکہ اب اس کی گونج سرحد پار بھی پہنچ چکی ہے۔ہالی ووڈ میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی اداکارہ کی طرف سے کیے جانے والے انکشافات کے بعد ’’#MeToo‘‘ کے نام سے شروع ہونے والی یہ مہم اب پاکستان میں موجود نام نہاد ترقی پسندوں کیلئے ایک مشغلہ بن چکی ہے ۔ لائم لائٹ میں رہنے والی شخصیات کو ہمیشہ سے عام لوگ اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں اور ان کے رنگ ڈھنگ ، بول چال اور رہن سہن کے طریقے بھی اپنانے کی کوشش کرتے ہی۔ میشا شفیع بھی بدقسمتی سے دور حاضر کی ایک سلیبریٹی ہیں جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو اس ’’#MeToo‘‘ مہم کا حصہ بنایا اور خود کو علی ظفر کا ’’شکار‘‘قرار دے دیا۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے علی ظفر کی خود سے جنسی زیادتی کا معاملہ اپنے ضمیر کی آواز پر ظاہر کیا لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بحیثیت فنکارہ میشا شفیع کو اس قدر مقبولیت حاصل نہیں ہوئی تھی جتنی شہرت انہوں نے علی ظفر پر زیادتی کا الزام لگا کر حاصل کرلی۔ میشا شفیع کی ’’روشن خیالی‘‘ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے بیان میں علی ظفر کی ایک سے زائد بار جنسی زیادتی کا ذکر کیا تھوڑا سا بھی شعور رکھنے والے ان کی اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بار بار کی زبردستی اور وہ بھی باہمی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔یہ روشن خیالی اور ترقی پسندی صرف اور صرف میشا شفیع جیسی نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس‘‘ سے تعلق رکھنے والی خواتین ہی دکھا سکتی ہیں کہ جن کے خاندان میں ایسی کسی بات کو اور ایسے کسی واقعہ کو کبھی معیوب نہیں سمجھا جاتا اور جن کا مقصد ہی صرف اتنا ہے کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسی مہم کو تقویت دی جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر الزام کیوں داغ دیا۔ میشا شفیع کے نانا حمید اختر اور ان کی والدہ صبا حمید ہمیشہ تنازعات کو ہوا دینے کی راہ پر گامزن رہے ہیں مقصد شہرت اور دولت کا حصول ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ بلیک میلنگ سے لوگوں کو ہراساں کرنا ہوتا تھا۔میشا شفیع کے حالیہ بیان کا مقصد علی ظفر کو بلیک میل کرنا ہے یا ان کی وجہ سے حاصل ہونے والی شہرت کو دولت کمانے کا ذریعہ بنانا ہے جہاں تک علی ظفر کا تعلق ہے تو ان کا خاندانی پس منظر انتہائی وضع دار اور تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے اور انہوں نے میشا شفیع کے بیان کے بعد انتہائی سادگی اور سمجھ داری سے قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

ریشم کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کی ورسٹائل فنکاروں میں ہوتا ہے اگر ریشم،میشا شفیع جیسی ’’غلطی ‘‘کرتے ہوئے اپنی زبان کھول دیں تو شاید پورے پاکستان میں ایسا بھونچال آجائے گا جیسے کسی نے ایٹم بم گرا دیا ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

مقتول ہی تو قاتل ہے (بشکریہ ایکسپریس)

شائع شدہ

کو

6"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

جناب محترم وسعتاللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ اس دنیا میں اگر کسی شے کا سب سے زیادہ ریپ ہوا ہے تو وہ دلیل ہے اور پھر اس ریپ زدہ دلیل کے ساتھ تہذیب کا جیسا ریپ ہوا اور ہو رہا ہے اس کا کوئی توڑ کم ازکم مجھے تو ٹپائی نہیں دے رہا ۔حل تو خیر لاینحل ہے۔ بہت دور کی کوڑی لانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس المیے سے بچپن میں ہی آشنا ہو جاتے ہیں جب چشمے پر پانی پینے والے بھیڑ کے بچے اور اسے دلیل دے کر ہڑپ کر جانے والے بھیڑئیے کی کہانی سنتے ہیں۔
اگر نازی دنیا پر قبضہ کر لیتے تو پھر ہماری نسلوں کو یہی نصابی علم عطا ہوتا کہ یہودیوں کو جرمنی سے نازیوں نے نہیں بلکہ خود یہودیوں نے ختم کیا۔نہ وہ سود خوری کے ذریعے جرمنوں کا خون چوستے اور نہ آریائی خون جوش میں آتا۔اگر جرمن خون آشام ہی ہوتے تو یہودیوں سے پہلے اور بعد میں کسی اور قوم پر ایسا عذاب کیوں نہیں آیا۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جرمنوں نے اپنی افریقی نوآبادی نمیبیا کی سیاہ فام آبادی کی بھی اسی پیمانے پر نسل کشی کی۔ مگر چونکہ بہت سے یورپی مستشرقین ایک زمانے تک کھلم کھلا اور آج دل ہی دل میں غیر سفید فاموں کو تہذیب و تمدن سے عاری نیم انسان سمجھتے ہیں لہذا نمیبیا کے سیاہ فاموں کا نوحہ کسی نے نہیں لکھا۔
یہی کچھ کانگو میں بلجئیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کے زمانے میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔کانگو بادشاہ کی ذاتی املاک میں شامل تھا۔ لہذا گدھے اور سیاہ فام کا فرق مٹ گیا۔ بلکہ گدھے سے زیادہ بہتر سلوک ان معنوں میں ہوا کہ وہ نسل کشی سے بچ گیا۔
برسلز میں لگنے والے میلوں ٹھیلوں اور نمائشوں میں ایک عرصے تک ہیومن زو بھی لگایا جاتا تھا۔اس میں کانگو سے لائے گئے سیاہ فام نیم انسانوں سے عام شہریوں کا دل بہلایا جاتا تھا۔آج یہ سب تماشے نہیں ہوتے مگر ان جرائم کو نوآبادیاتی دور کی بے اعتدالیوں اور غلطیوں کا نام دے کر مہین خوشنما تہذیبی پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔اب ہر کوئی اسرائیل تو نہیں ہوتا کہ جس سے مغربی جرمنی یہودی نسل کشی پر معافی مانگتے ہوئے پانچ ارب مارک کی ازالائی رقم بھی ادا کرے۔
کون کہتا ہے کشمیر میں بھارت ظلم کر رہا ہے۔یہ تو سرحد پار سے آنے والے گھس بیٹھیے یا ان کے ہاتھوں گمراہ ہونے والے مٹھی بھر کشمیری لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو بھارتی ایکتاکے درپے ہیں۔وہ جان بوجھ کر سیکیورٹی دستوں کو اشتعال دلاتے ہیں تاکہ وہ کشمیریوں کے منہ پر چھرے مار کے انھیں اندھا کر دیں اور پھر پیشہ ور کشمیری ان چھرہ زدہ چہروں کو ظلم کا اشتہار بنا کر دنیا بھر میں سینہ کوبی کرتے پھریں۔اہلِ دلی کی اس دلیل میں اگر وزن نہ ہوتا تو بیشتر بھارت کاہے کو آمنا و صدقنا کہتا۔
نیتن یاہو کی یہ بات ماننے میں کیا عار ہے کہ اسرائیلی فوج دنیا کی مہذب ترین فوج ہے۔اس نے آج تک کسی فلسطینی کو مارنے میں پہل نہیں کی۔کسی فلسطینی کو پتھر یا غلیل سے نشانہ نہیں بنایا۔لیکن جب کوئی فلسطینی بچہ یا بچی کسی اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارتا ہے یا ٹینک پر غلیل سے نشانہ باندھتا ہے یا مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کو مٹانے کا نعرہ لگاتا ہے تو کیا ریاست کو کوئی حق نہیں کہ وہ ایسے شرپسندوں کو اوقات میں رکھنے کے لیے ذرا سے گولے، کچھ بم اور دوچار نشانچیوں کو استعمال کر لے۔
کسی نے آج تک گولڈا مائیر کے اس دعویٰ کو چیلنج کیا کہ ’’ کون سے فلسطینی ؟ جب ہم یہاں آئے تو یہ خطہ تو غیر آباد تھا۔ہم نے آ کر اسے بسایا‘‘۔اگر اسرائیل واقعی کوئی سفاک ریاست ہے تو پھر کچھ عرب ممالک اس سے دوستی کے لیے آج مرے نہ جاتے۔
مشرقی پاکستانی اگر ایکتا کو چیلنج نہ کرتے ، وہاں بسنے والے ہندو اساتذہ اور دانشوروں کے بہکاوے میں نہ آتے اور غدار مجیب کے چھ نکاتی پھندے میں آئے بغیر وسیع تر قومی مفاد میں اپنے مغربی پاکستانی بھائیوں کے تھوڑے سے اور مطالبات مان لیتے اور اگر بھارت چند گمراہ مشرقی پاکستانیوں کی آڑ میں حالات سے فائدہ اٹھا کر فوج کشی نہ کرتا تو آج بھی ہم ہنسی خوشی رہ رہے ہوتے۔یہ ہیں، سقوطِ مشرقی پاکستان کی وہ وجوہات جوآج سینتالیس برس بعد بھی پاکستانی نصاب میں اتنی ہی سچ ہیں جتنی سینتالیس برس پہلے تھیں۔
اگر ریاستوں کا اپنا اپنا سچ ہے تو افراد اپنے اپنے سچ پر کیوں نہ قائم رہیں۔مثلاً اسے ماننے میں کیا قباحت ہے کہ ملالہ نے اپنے سر پر خود گولی ماری تھی تاکہ مغرب اسے اپنی ڈارلنگ بنا کر طالبان کو بدنام کرتا پھرے۔
مشال خان نے بھلے توہینِ مذہب نہ کی ہو مگر وہ ملحدوں کے شعر تو پڑھتا تھا ، اپنے کمرے کی دیواروں پر سرخوں جیسے نعرے تو لکھتا تھا ، ایک نظریاتی ریاست میں سیکولر لبرل نظریہ مسلط کرنے کا تو حامی تھا۔اسے کس نے مارا۔وہ تو مجمع کے غیض و غضب کا شکار ہوا۔مجمع کو اس سے کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی۔مجمع کو کنٹرول تو نہیں کیا جا سکتا۔یہ تو مشال خان کو خود خیال ہونا چاہیے تھا کہ وہ آگ سے کیوں کھیل رہا ہے ؟
مختاراں مائی نے باقاعدہ سوچ سمجھ کر خود کو ریپ کرایا تاکہ اسے بیرونِ ملک سے فنڈنگ مل سکے۔یہی حرکت سوئی میں رہنے والی ڈاکٹر شازیہ نے بھی کی تھی۔خواتین بن ٹھن کے نکلیں گی تو مٹھائی پر مکھیاں تو منڈلائیں گی۔
جموں کی آٹھ سالہ بکروال بچی آصفہ اگرچہ بن ٹھن کے نہیں نکلی تھی، پھر بھی انسان کے اندر بسے جہنم کی خوراک بن گئی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی سیاستداں جب آصفہ ریپ قتل کیس کے آٹھ مجرموں کی وکالت کرتے ہیں تو ان کے پاس بھی یہ دلیل ہوتی ہی ہے کہ بکروال ہندوؤں کی چراگاہوں پر زبردستی قبضہ کر رہے ہیں۔ غصہ کہیں تو نکلنا تھا۔لہذا قصور ریپسٹ کھجوریا اور اس کے آٹھ ساتھیوں کا نہیں بلکہ بکروال برادری کا اپنا ہے۔
پنجاب کے عیسائیوں، احمدیوں اور کوئٹہ کی ہزارہ برادری کا تو دھندہ ہی یہی ہے کہ وہ خود پر مظالم کی جھوٹی سچی داستانیں گھڑتے ہیں تاکہ مغرب میں مذہبی عقایذ کی بنا پر زیادتی کا کیس دائر کر کے پناہ حاصل کر سکیں۔اگر یہ معاشرہ اتنا ہی ظالم ہوتا تو پھر اکیس کروڑ لوگ یہاں کیوں رہ رہے ہیں۔
جب انصاف فٹ بال بن جائے اور ریاست گول کیپر ہو تو پھر ہر دلیل وزنی ہے، ظالم و مظلوم ایک ہی صف میں ہیں اور پھر پہاڑی چشمے پر اوپر کی جانب کھڑا بھیڑیا نیچے کھڑے میمنے کو بھی یہ دلیل دے کر ہڑپ کرنے میں حق بجانب ہے کہ تم میرا پانی گدلا کیوں کر رہے ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں