Connect with us

انٹرنیشنل

روزہ داروں کیلئے مفت سفری سہولت

شائع شدہ

کو

روزہ داروں کیلئے مفت سفری سہولت

بھارت میں مذہبی ہم آہنگی کی ایک اور مثال دیکھنے میں آ گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی دہلی کے علاقہ میں ایک 32 سالہ ہندو رکشہ ڈرائیور نے رمضان المبارک میں روزہ رکھنے والے مسلمانوں کو مفت سفری سہولیات دینے کا آغاز کر دیا ہے، پاراہلد نامی اس ہندو شہری ، جس کو لوگ مُکھیا اور گُرو بھی کہتے ہیں، نے روزے دار مسلمانوں کے لیے مفت سفری سہولیات کا آغاز کر دیا۔
پاراہلد کے اس اقدام سے مذہبی منافرت کو ختم کرنے میں کافی حد تک مدد حاصل ہو گی۔ 32 سالہ ہندو شہری نے اپنے آٹو رکشہ میں ایک نوٹ بھی لگا رکھا ہے جس پر تحریر ہے کہ ''روزے داروں کے لیے مفت سواری''۔ اپنے کام میں نقصان ہونے کے باوجود 32 سالہ شہری رمضان کے آغاز سے ہی روزانہ کی بنیاد پر 8 سے 10 مسلمان روزے داروں کو مفت سفری سہولیات فراہم کرتا ہے۔ پاراہلد نے کہاکہ میں نے سوچا کہ اس رمضان گرمی کا کافی زور ہے ، ایسے میں اگر میں روزے داروں کی مدد کروں گا تو میں بھی تھوڑی نیکیاں کما لوں گا۔ چونکہ میں رکشہ چلا کر ہی گزر بسر کرتا ہوں لہٰذا میں روزے داروں کے لیے صرف اتنا ہی کر سکتا ہوں۔

انٹرنیشنل

ہندو بننے کی دھمکی

شائع شدہ

کو

ہندو بننے کی دھمکی

بھارت میں پاسپورٹ بنوانے جانے والے جوڑے سے مذہب تبدیلی کا مطالبہ کردیا گیا۔ محمد انس صدیقی نے 2007 میں لکھنو میں تنوی سیٹھ سے شادی کی تھی ، ان کی ایک 6 سال کی بیٹی بھی ہے۔ انس صدیقی نے 19 جون کو اپنے اور اپنی بیوی کے پاسپورٹ کے لئے لکھنو میں درخواست دی ۔ 20 جون کو لکھنو کے پاسپورٹ آفس میں،وکاس مشرا نام کے آفیسرنے جب شوہر کانام محمد انس صدیقی لکھا دیکھا تو بیوی پر چلانے لگا، کہ اسےمسلمان سے شادی نہیں کرنی چاہئے تھی اور ان کی درخواست خارج کردی گئی۔ اس کے بعد پاسپورٹ آفیسر وکاس مشرا نے شوہر کو بلایا اور بے عزتی کرنے لگا اورکہا کہ ہندو مذہب اپنالو، ورنہ یہ شادی نہیں مانی جائے گی ۔ جوڑے نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے وزیر خارجہ سشما سوراج سے مدد کی اپیل کی ہے ۔

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

سنسنی خیزانکشافات

شائع شدہ

کو

سنسنی خیزانکشافات

دستاویزات میں 2016 سے 2017 تک ای میلز، پاسپورٹس، اور مقدمات کی فائلیں شامل ہیں۔ پاناما میں آف شور کمپنیاں بنانے میں معاون قانونی فرم موزیک فونسیکا اپنے 75 فیصد کلائنٹس سے بےخبرتھی۔ نئی دستاویز میں ہونے والے انکشاف کے مطابق پاناما پیپرز کمپنی برٹش ورجن آئی لینڈ میں 70، پاناما میں 75 فیصد مالکان شناخت نہ کرسکی۔ کمپنی نےاپنے کلائنٹس ڈھونڈنے کےلیے 2016 میں سرتوڑ کوششیں کی۔، اس کے علاوہ موزیک فونسیکا اپنے موکلوں کی شناخت میں مصروف رہی۔ ریکارڈ افشا ہونے کے 2 ماہ بعد بھی فونسیکا پاناما کی 75 فیصد آف شور کمپنیوں کےمالکان کی شناخت نہ کرسکی۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق موزیک فونسیکا نے 2016 میں پاناما لیک اپنےموکلوں کی ساڑھے 11 ملین فائلیں دیکھیں۔ نئی دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ موزیک فونسیکا نے موکلوں سے تعلق کو چھپانے کےلیے اپنا کاروباری نام بدلا اور ساموا میں سینٹرل کارپوریٹ سروسز کا نام اختیار کیا۔ فونسیکا نے کمپنی مالکان سے پاسپورٹ کاپی، گیس بل اورریفرنس لیٹر بھی اچانک مانگناشروع کردیئے۔ موزیک فونسیکا نے ہردوسرے روز موکلوں کو ای میل پر ای میل بھیجنا شروع کردیں۔
اپریل 2016 کو پاناما پیپرز سامنے آتے ہی موزیک فونسیکا پر پریشان موکلوں کی ای میلز کا تانتا بندھ گیا۔ نئی دستاویزات کے مطابق بیشتر پریشان موکل یہ جاننا چاہتے تھے کہ ’’بینی فیشل اونرشپ‘‘ سے متعلق حساس معلومات افشا تو نہیں ہوگئیں۔ سوئس وکیل نے کمپنی کو فوری بند کرنے کی درخواست کی جس پر فونسیکا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بینک کاریفرنس لیٹر دیں جس پر سوئس وکیل نے جواب دیا پاناما میں تم احمق بیٹھے ہو، قانون کے تحت ہو تو ریگولیٹر تمھیں بند کرڈالے۔ پریشان فرانسیسی مشیر نے فونسیکا کو ای میل کی جس میں انہوں نے کہا کہ میرانام اپنی تمام فائلوں سے ڈیلیٹ کردو۔ لکسمبرگ سے بھیجی جانے والی ایک ای میل میں کلائنٹ کے نمائندے نے لکھا کہ پاناما پیپرز کی وجہ سے اس کے موکل کو کینیڈا میں مشکلات کا سامنا ہے اس لیے پتا فوراً بدلا جائے۔ سوئس مینیجر کی جانب سے بھیجی جانے والی ای میل میں کہا گیا کہ ای میلزبھیج کرتم قائل کرنےکی کوشش کررہے ہو کہ صورتحال پرقابوپالوگے، 11 لاکھ 60 ہزار دیگر دستاویزات کی طرح یہ دستاویزات بھی شاید سامنےآجائیں، پروا نہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

بریگزیٹ بل منظور

شائع شدہ

کو

بریگزیٹ بل منظور

برطانوی پارلیمنٹ نے بریگزیٹ بل منظورکرلیا، دارالعوام میں بل کی منظوری میں حکومت کو دانتوں تلے پسینہ آگیا ۔ یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی سے متعلق بل پرکئی ماہ سے بحث جاری تھی ۔ شاہی منظوری کے بعد بریگزٹ بل قانون کادرجہ حاصل کرلےگا۔یورپی یونین میں رہنے کے حامی اراکین کا بل 303 کے مقابلے میں حکومتی اراکین نے 319 ووٹوں سے مسترد کر دیا تاہم حکومت کو دانتوں تلے پسینہ آگیا ۔ بیمار نازشاہ کو وہیل چیئر پراسپتال سے لایا گیا،نازشاہ شدید تکلیف کے باعث مارفین کے زیراثر تھیں، انہیںدس منٹ کا کہہ کر 3 گھنٹے تک ایوان میں رکھا گیا۔ لابی سے گزرنے کی باری آئی تو نازشاہ کی وہیل چیئر چوڑی پڑگئی۔ہاؤس کے دوسرے راستے سے وہیل چیئر پرناز شاہ کو واپس لایا گیا۔ اسی طرح ایک اور حاملہ رکن پارلیمنٹ کو ووٹ دینے کے لیئے مجبور کیا گیا ۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں