Connect with us

کالم کلوچ

8،"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

شائع شدہ

کو

8،"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

جناب عطا ء الحق قاسمی اپنے کالم "الیکشن کمیشن کے نادر سوالات" میں لکھتے ہیں کہ
مجھے کیا علم تھا کہ علم وہ سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ ہی نہیں، اس کا اندازہ تو الیکشن کمیشن کے ایک فارم سے ہوا جو بردار عزیز قمر ریاض نے اس میں درج ایک لفظ کے معنی پوچھنے کے لئے ارسال کیا تھا، یہ فارم ووٹر بننے کے لئے ہے اور اس میں درخواست گزار سے کچھ ایسے سوالات پوچھے گئے ہیں جن کا جواب ویسے تو مشاہدے اور تجربے ہی سے سامنے آتا ہے لیکن علم غیب خدا کے علاوہ کس کو ہے، چنانچہ جب درخواست گزار سے انٹرا الیکشن ہی نہ ہوا ہو، ان سوالوں کا جواب صرف پوچھنے ہی کی صورت میں مل سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کا متذکرہ فارم اس وقت میرے سامنے ہے جس میں بہت سے سوال پوچھے گئے ہیں، ایک سوال تو مذہب کے بارے میں ہے کہ کیا آپ مسلمان ،عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی ، بدھ مت، قادیانی (احمدی) یا کسی اور مذہب کے پیروکار ہیں۔ چلیں یہ تو ٹھیک ہے لیکن جو شخص خود کو مسلمان قرار دے، اس سے یہ پوچھا جانا ہی ضروری تھا کہ آپ دیوبندی ہیں، اہل حدیث ہیں ، شیعہ ہیں یا اہل سنت ہیں اور ان چاروں کے مسلمان ہونے کے دعوے کی تصدیق ان کے مخالف فرقوں کے علماء سے کرائی جائے تاکہ ان لوگوں کی یہ غلط فہمی دور ہو جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
چلیں یہ بات تو بس برسبیل تذکرہ درمیان میں آگئی، میری معلومات میں اضافہ تو ان سوالات نے کیا، جو درخواست گزارکی جنس کے حوالے سے پوچھے گئے ہیں، پہلا سوال یہ ہے کہ کیا آپ مرد ہیں؟ ممکن ہے بہت سے لوگ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سوچ میں پڑجائیں، اسی طرح یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا آپ عورت ہیں؟ اس امر کا امکان یہاں بھی موجود ہے کہ کچھ عورتیں بھی اس حوالے سے سوچ میں پڑجائیں کیونکہ مرد کہلانے والے بہت سے مردوں میں مردوں والی اور عورت کہلانے والی بہت سی عورتوں میں عورتوں والی کوئی بات نہیں ہوتی۔ میں دانستہ اس تذکرے کو زیادہ طویل نہیں کرنا چاہتا ورنہ مرد والے خانے میں اگلا سوال یہ بھی ہوسکتا تھا کہ آپ نے ملک کو درپیش بحرانوں میں کب مرد ہونے کا ثبوت دیا ہے اگر وہ اس حوالے سے کوئی ثبوت دیں تو یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ یہاں ’’مردانگی‘‘ دکھانے کا اصل محرک کیا تھا؟ اور عورت والے خانےمیں بھی اس سوال کی گنجائش موجود تھی کہ اگر آپ خود کو عورت کہہ رہی ہیں تو مردوں کے اس معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے لئے آپ نے کبھی کچھ کیا ہے، اس کا ممکنہ جواب کچھ عورتیں یہ بھی دے سکتی ہیں کہ جی ہاں ہم نے کئی عورتوں کو طلاق دلائی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس فارم کا سب سے اہم حصہ دراصل وہ ہے جس میں ایک سوال یہ ہے کہ کیا آپ خواجہ سرا ہیں اور یہ بھی کہ کیا آپ خواجہ سرا مرد ہیں یا خواجہ سرا عورت ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اس سوال نے مجھے اندر سے چکنا چور کردیا، میں خود کو اچھا خاصا عالم سمجھتا تھا لیکن اپنی جہالت کا اندازہ ہونے پر دل اندر سے بجھ سا گیا۔ مجھے افسوس ہوا کہ زندگی میں ایسے بہت سے مواقع آئے جب مجھے اس سوال کے اندر پوشیدہ معنویت کے بارے میں پوچھنے کاموقع مل سکتا تھا، مگر افسوس میں نے وہ سب مواقع گنوا دئیے، مثلاً جب میں ماڈل ٹائون میں رہا کرتا تھا، وہاں پھوپھی خدا بخش سے اکثر دلدار کے کھوکھے پر ملاقات ہوا کرتی تھی۔ میں اس سے پوچھ سکتا تھا کہ پلیز مجھے بتائو کہ تم پھوپھی خدا بخش ہو یا پھوپھا خدا بخش ہو۔ دراصل لوگوں نے اس دریائے معانی میں پوشیدہ بہت سے نازک امور کی وجہ سے اس خواجہ سرا کو خود بخود پھوپھی خدا بخش کہنا شروع کردیا تھا، اگر ایسا نہیں تھا تو اس ’’پھوپے‘‘ کا دل’’پھوپھی‘‘ کہلائے جانے پر کتنا دکھتا ہوگا، اللہ مجھے معاف فرمائے۔ مگر اصل مرحلہ تو ابھی درپیش ہے جس کے لئے قمر ریاض نے مجھ سے رجوع کیا تھا۔ اس فارم میں خواجہ سرا مرد اور خواجہ سرا عورت سے اگلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ’’خنثہ شکل‘‘ ہیں، قمر ریاض جاننا چاہتا تھا کہ یہ خنثہ شکلکیا چیز ہے؟ مجھے حیرت ہوئی کہ قمر ریاض جو بہت اچھا شاعر ہی نہیں، اتنا بڑا عالم بھی ہے کہ اسے جنس کی تمام ا قسام کا بخوبی علم ہے تو پھر اس نے یہ سوال مجھ سے کیوں پوچھا، یہ تو ایسے ہی جیسے کسی گنجے سے کنگھی مانگی جائے، مگر پیشتر اس کے کہ میں قمر کے علم و دانش کے حوالے سے تذبذب میں پڑتا ، کچھ ہی دیر بعد اس کا فون آگیا کہ اس کی ریسرچ کے مطابق’’خنثہ شکل‘‘ اس خو اجہ سرا کو کہتے ہیں جو سرجری کے ذریعے ’’مرد‘‘ یا’’ عورت‘‘ بنا ہو، شاباش قمر ریاض اور ہیٹس آف ٹو الیکشن کمیشن کہ جس نے اردو کو ایک ایسا لفظ دیا، جس کے ساتھ اس نے خود ہی لفظ’’شکل‘‘ بھی شامل کردیا، تاہم میرے نزدیک اس حوالے سے دوایک سوالات اور بھی بنتے تھے کہ اگر آپ دیکھنے میں مرد لگتے تھے مگر عادتیں زنانہ قسم کی تھیں تو آپریشن کی کیا ضرورت تھی، آخر ہمارے ہاں دکھاوے کے مرد بھی تو موجود ہیں اور اگر آپ عورت نظر آتے تھے اور شوق مردانہ نوعیت کے تھے توبھی کوئی حرج نہیں تھا کیونکہ مردوں کی طرح دکھاوے کی عورتیں بھی تو ہمارے سماج میں رہتی ہیں اور ہمارے سماج کا یہی حسن ہے، تاہم واضح رہے یہ سب باتیں محض کالمانہ ہیں اور نہ اس میں کسی انسان کی اپنی مرضی یا خواہش کا کوئی دخل نہیں، یہ ٹیکنالوجی ہی علیحدہ ہے، البتہ بعض ملکوں میں خواجہ سرائوں کی تمام بیان کردہ قسمیں شوقیہ یا کاروباری مقاصد کے لئے بھی تیار ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں خواجہ سرا (مرد) مختلف شعبوں میں کھپ گئے ہیں، زیادہ تر شوبز سے منسلک ہیں، باقی چوراہوں میں نظر آتےہیں، ان میں سے کچھ بھیک مانگتے ہیں اور کچھ بھیک کو حرام سمجھتے ہوئے بن سنور کر نہر کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں، جہاں کئی کار سوار ان کے قریب پہنچ کر کار کی رفتار آہستہ کردیتے ہیں۔ پس نوشت ، کالم کے آخر تک پہنچتے پہنچتے آپ کو شک گزرا ہوگا کہ شاید میں بھی قمر ریاض کی طرح عالم فاضل ہوں اور اگر آپ کو یہ شک گزرا ہے تو یہ بےجا نہیں ہے، واضح رہے خود کو جاہل مطلق ظاہر کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ کالم علم کی بنیاد پر نہیں، بنتا ہی جہالت کی بنیاد پر ہے۔ جناب محترم الطاف حسن قریشی اپنے کالم "اعلیٰ وفاقی عہدوں میں بلوچستان کا حصہ" میں لکھتے ہیں کہ
بلوچستان کو ہماری قومی سیاست میں نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ قائداعظم نے 1928ء میں ہندوستان کے آئینی مسائل حل کرنے کے لئے جو چودہ نکات دیے تھے، ان میں بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر لانے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے 1948ء میں سبی میلے کے موقع پر یہی عزم دہرایا تھا اور اپنی زندگی کے آخری ایام صحت افزا مقام زیارت میں گزارے تھے۔ ان کی وفات کے بعد اس پس ماندہ علاقے پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کا تقاضا وہاں کی غربت اور افلاس کر رہے تھے۔ 1970ء میں اسے پہلی بار صوبے کا درجہ ملا اور انتخابات کے نتیجے میں نیپ اور جمعیت علمائے اسلام نے سردار عطاء اللہ مینگل کی سربراہی میں حکومت بنائی جو بھٹو صاحب نے 14فروری 1973ء کی سہ پہر برطرف کر دی اور فوجی آپریشن شروع ہو گیا۔ عشروں کے بعد وفاق نے بلوچستان کے حالات سنوارنے پر کام شروع کیا اور فوج نے بھی اس کی سماجی اور معاشی ترقی میں حصہ ڈالا۔ نوازشریف کی حکومت جو 2013ء میں قائم ہوئی، اس نے بلوچستان کی نیشنلسٹ جماعتوں کو حکمرانی کا موقع دیا۔ ڈھائی سال ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیراعلیٰ رہے اور انہوں نے عسکری قیادت کے تعاون سے علیحدگی پسند عناصر سے مذاکرات شروع کئے جو قومی دھارے میں آتے گئے اور صوبے میں دہشت گردی کے واقعات بتدریج کم ہوتے گئے۔ ڈھائی سال بعد نواب ثناء اللہ زہری وزیراعلیٰ بنے جو مسلم لیگ نون کے صوبائی صدر بھی تھے۔ ان کی مدت پوری ہونے سے چھ ماہ قبل انہیں تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا اَور حالات نے انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ سیاسی بغاوت ان کی اپنی جماعت میں ہوئی۔ جس گروپ نے بغاوت کی، اسے سینیٹ میں چھ ارکان کی حمایت حاصل ہے اور وہ سینیٹ کے چیئرمین کے منصب کا مطالبہ کر رہا ہے۔
سینیٹ کے انتخابات جو 3مارچ کو منعقد ہوئے، ان کے بارے میں یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ بدترین ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے اور عمران خان نے فاضل چیف جسٹس سے عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اہلِ دانش اپنے تجزیوں میں یہ نکتہ واقعات اور دلائل کی روشنی میں اُجاگر کر رہے ہیں کہ سیاسی تنازعات اور معاملات کو عدالتوں میں لے جانے سے غیر سیاسی اداروں کو دخل اندازی کا موقع ملتا ہے۔ سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے بعض اچھے پہلو بھی سامنے آئے ہیں جن کی روشنی میں انتخابی نظام کے اندر اصلاحات کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان کی حکومت میں جو بغاوت ہوئی، اس میں بعض حلقوں کو اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ نظر آیا اور زرداری صاحب نے دعویٰ کیا کہ ہم نے صرف ’دعا‘ کی تھی۔ مجھ ایسے بے خبر کالم نگار کو بھی انتخابات سے صرف چھ ماہ پہلے حکومت کی اتھل پتھل بہت ناگوار گزری، مگر اس کا ایک پہلو اور بھی ہو سکتا ہے کہ نواب ثناء اللہ زہری کی حکومت کے معاملات میں عدم دلچسپی ناقابلِ برداشت ہوتی گئی جس نے انوارالحق کاکڑ اور وزیرداخلہ سرفراز بگتی کو حالات کے خلاف اُٹھنے پر مجبور کر دیا۔ یہ دونوں پاکستان کی محبت سے سرشار نڈر اشخاص ہیں کہ جب کوئٹہ میں پاکستان کا نام لینا اپنی موت کو دعوت دینا تھا، تو یہ سریاب روڈ پر پاکستان کے حق میں نعرے بلند کرتے، قومی پرچم بلند رکھتے اور علیحدگی پسند عناصر کے سامنے ڈٹے رہے۔ ان کی کوششوں سے بگتی علاقے میں امن قائم ہوا اور تعمیری عمل کو فروغ ملا، مگر وفاقی حکومت کے اعلیٰ عہدے دار بلوچستان آئے نہ اپنی حکومت کا کوئی خیال رکھا۔ ناقدین کہتے رہے کہ اچکزئی قبیلے کے سرداروں کے حوالے تمام اختیارات کر دینے سے شدید عدم توازن پیدا ہوا۔ اس عدم توازن کے نتیجے میں مسلم لیگ نون کے اندر باغیانہ رجحانات کو غالب آنے کا موقع ملا۔ اب وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ سینیٹ کی چیئرمین شپ بلوچستان کو ملنی چاہیے۔ مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کو اس پر ہمدردانہ غور کرنا اور اپنے ساتھیوں کو سینے سے لگا لینا چاہیے۔اس امر کا قوی امکان ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جناب حاصل بزنجو کی چیئرمین شپ پر متفق ہو جائیں۔ یہ انتخاب مسلم لیگ نون کے لیے بھی قابلِ قبول ہو گا۔ وفاق کی چاروں اکائیوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وفاقی سطح پر وہ اقتدار میں شامل ہیں جہاں چار چھ منصب بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں صدرِ مملکت، وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین، اسپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر شامل ہیں۔ قومی یک جہتی کا تقاضا ہے کہ ان میں ایک عہدہ بلوچستان کے حصے میں آئے۔ اس طرح سیاسی اقتدار میں ایک توازن قائم ہو گا اور اچھی روایت پروان چڑھے گی کہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ بھی وفاقی سطح پر ایک اعلیٰ منصب پر فائز ہو سکتا ہے۔سینیٹ کے انتخابات میں یہ سیاسی شعور بھی اُبھرتا دکھائی دیا کہ صوبائی ارکانِ اسمبلی نے اپنی قیادت کے بعض فیصلوں سے اختلاف کیا۔ مثال کے طور پر زبیرگل کو جناب نوازشریف نے اس لیے ٹکٹ دیا کہ وہ لندن میں ان کی خدمت بجا لاتے ہیں۔ وہ چودھری سرور کے مقابلے میں شکست کھا گئے اور مسلم لیگ نون سے وابستہ چند ارکانِ اسمبلی نے زبیرگل کے بجائے انہیں ووٹ دیئے جو زیادہ اہل ہیں۔ تحریکِ انصاف کے ارکانِ اسمبلی کی خاصی تعداد نے خیبرپختونخوا میں عمران خان کی اس پالیسی سے اختلاف کا عملی مظاہرہ کیا جس میں قابل افراد کے بجائے دولت مند اشخاص کو ٹکٹ دیئے گئے۔ اسی طرح ایم کیو ایم کے ارکانِ اسمبلی نے اپنے قائدین کی داخلی جنگِ اقتدار کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے۔ اب آزاد سینیٹرز بادشاہ گر بن گئے ہیں اور قیاس کیا جا رہا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کا ایک اور خوفناک دور چلے گا۔
سیاسی قائدین کو ہارس ٹریڈنگ کا نوحہ پڑھتے رہنے کے بجائے اپنی اخلاقی اور سیاسی پستی کا جائزہ لینا اور اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت کو فروغ دینا ہوگا۔ انہیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ ان اشخاص کو جاری کرنے چاہئیں جن میں اخلاق کے بنیادی اوصاف پائے جاتے ہوں اور عوام کی خدمت کرنے کا اچھا ریکارڈ رکھتے ہوں۔ اس پورے عمل میں سیاسی کارکنوں کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ بلاشبہ مسلم لیگ نون نے سخت آزمائش کے موقع پر غیر معمولی یک جہتی اور حمیت کا ثبوت دیا ہے اور حریفوں کے تمام حربے ناکام بنا دیے ہیں۔ یہ ہماری تاریخ کا بہت اہم واقعہ ہے جو اس کا متقاضی ہے کہ اس جماعت کی جڑیں تمام صوبوں میں بہت مضبوط ہوں اور اس کی قیادت پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ایک فعال پالیسی اختیار کرے۔ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے جس کا احترام تمام اداروںپر واجب ہے۔ اسی طرح دنیا کے تمام مہذب معاشروں میں عدلیہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور اس کے فیصلوں کا اختلاف کے باوجود احترام کیا جاتا ہے۔ احترام لفظی نہیں عملی اور حقیقی ہونا چاہیے۔ نفرتوں کو پھیلانے سے مکمل اجتناب حددرجہ لازم ہے کہ ان کے بطن سے جو تصادم اُبھرتا ہے، اس پر قابو پانا محال ہو جاتا ہے۔ انصاف، توازن اور باہمی احترام سے معاشرہ ترقی کرتا اور اس کی آغوش میں نئی منزلیں طے کرتا جاتا ہے۔ زبان میٹھی ہونی چاہیے اور خیرخواہی کا جذبہ عوام کی زندگی میں آسودگی لاتا اور اداروں کو قوت عطا کرتا ہے۔ محترم جاوید چوہدری اپنے کالم "پیٹرا میں" میں لکھتے ہیں کہ پیٹرا کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا‘ یہ ہوا کی طرح ہے‘ یہ خوشبو کی طرح ہے اور یہ برف میں گرم جھونکے کی طرح ہے‘ آپ اسے صرف محسوس کر سکتے ہیں آپ بیان نہیں کر سکتے‘ یہ اگر دنیا کا تیسرا عجوبہ ہے تو یہ واقعی عجوبہ ہے اور یہ عجوبہ ٹشو پیپر کی طرح آپ کو اپنی سرخ چٹانوں میں جذب کر لیتا ہے‘ آپ آپ نہیں رہتے‘ آپ بھی پیٹرا بن جاتے ہیں‘ پیٹرا کیا ہے؟
پیٹرا انسانی ہاتھوں کی صناعی ہے‘ میلوں لمبی پینٹنگ‘ صدیوں پر پھیلا تہذیب کاایک نغمہ اور وقت کے صفحوں پر درج ایک حیران کن داستان ہے۔ اردن کے پاس اگر کچھ نہ بھی ہوتا تو بھی اردن کی بقا‘ اردن کی عزت کے لیے پیٹرا کافی تھا‘ یہ کسی بھی ملک کے لیے ایک مکمل حوالہ ہے‘ وقت کا حوالہ‘ وقت وہ جو گزر گیا‘ وقت وہ جو گزر رہا ہے اور وقت وہ جو ہمارے بعد بھی گزرتا رہے گا‘ پیٹرا وقت اور انسان دونوں کی اجتماعی داستان ہے۔
آپ اگر عمان سے خلیج عقبہ کی طرف سفر کریں تو آپ ساڑھے تین گھنٹے میں پیٹرا میں داخل ہو جاتے ہیں‘ یہ وادی موسیٰ کے پہاڑوں میں واقع ہے‘ حضرت موسیٰ ؑ صحرائے سینا سے ہوتے ہوئے یہاں تشریف لائے تھے‘ شہر میں حضرت موسیٰ ؑسے منسوب ایک چشمہ بھی موجود ہے‘ یہ چشمہ بھی عین موسیٰ کہلاتا ہے‘ چشمے کا پانی بہت ٹھنڈا‘ صاف اور صحت بخش ہے اور یہ ساڑھے تین ہزار سال سے علاقے کی ضرورت پوری کر رہا ہے‘ حکومت نے چشمے کے اوپر عمارت بنا دی ہے‘ ہم نے چشمے کا پانی پیا‘ پانی واقعی صاف اور ٹھنڈا تھا‘ اس میں حضرت موسیٰ ؑ کی دعاؤں کی تاثیر بھی تھی۔
پیٹرا وادی موسیٰ کے آخر میں تھا‘یہ شہر 14ویں صدی کے بعد گم ہو گیا تھا‘ یہ انیسویں صدی میں مقامی چرواہوں نے بکری کی تلاش کے دوران دریافت کیا‘یورپ سے اسے سوئس سیاح جوہان لڈوک نے 1812ء میں متعارف کرایا‘ ہم چار گھنٹے کے بعد پیٹرا پہنچے‘ ٹکٹ خریدے اور ایک پتھریلی سڑک پر آ کھڑے ہوئے‘ سامنے گھوڑوں کا تھان تھا‘ ہر ٹکٹ ہولڈر کو گھوڑے کی سواری کا موقع دیا جاتا ہے‘ ہم گھوڑوں کے ذریعے پتھریلی زمین پر چلتے ہوئے بلند وبالا پہاڑوں کے درمیان پہنچ گئے۔
ہمارے چاروں اطراف پہاڑ تھے اور ان پہاڑوں کے درمیان پانچ چھ میٹر چوڑا ایک درہ تھا‘ ہم درے میں داخل ہو گئے‘ ہمارے دائیں اور بائیں اونچے پہاڑ تھے اور پہاڑوں کے درمیان لمبی اور پیچ دار گلی کی طرح ایک طویل درہ تھا‘ درے میں سیکڑوں سیاح چل رہے تھے‘ یہ راستہ ہزاروں سال قبل انسانوں نے سرخ پتھر کاٹ کر بنایا تھا‘ وہ لوگ پہاڑوں کے اوپر بیٹھ کر پتھر کاٹتے کاٹتے دو اڑھائی سو فٹ نیچے آئے‘ گلی بنائی اور وہ اس گلی کو چار کلو میٹر تک لے گئے۔
آپ اس سرنگ نما گلی میں چلتے جائیں‘ آپ کو دو سو فٹ اوپر آسمان کی سفید لکیر دکھائی دے گی اور آپ کے دائیں بائیں سرخ پتھروں کی دیواریں ہوں گی‘ گلی کے دونوں طرف فرش سے پانچ فٹ اوپر پانی کی نالیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں‘ ان نالیوں میں پینے کا صاف پانی چلتا تھا‘ نالیاں سودو سو فٹ کے بعد حوض میں تبدیل ہو جاتی تھیں اور حوض پانی کی کثافت دھو کر اسے آگے روانہ کر دیتا تھا‘ درے کے اندر دونوں طرف پچاس ساٹھ فٹ کی بلندی پر غار تھے‘ یہ غار قدیم دور میں پیٹرا کے لوگوں کی رہائش گاہیں تھے۔
ان میں شہر کے نگران اور فوج بھی رہتی ہو گی‘ہر آدھ کلو میٹر بعد گلی کھلی ہو جاتی تھی‘ یہ جگہیں قدیم زمانے میں ’’میٹنگ پلیس‘‘ یا چوک ہوتی ہوں گی‘ گلی کے دونوں اطراف قدیم زبان میں فرمان بھی تحریر تھے‘ پتھر کے اندر بت بھی تراشے ہوئے تھے اور دیویاں اور دیوتا بھی‘ یہ پتھر وقت کے ہاتھوں مدہم ہو چکے ہیں‘ صرف ان کے آثار باقی ہیں‘ راستے میں دو جگہ ٹیمپل بھی تھے‘ گھوڑے باندھنے کی جگہیں بھی اور پانی کے حوض بھی‘ درے کے اندر خاص قسم کی خوشبو اور ٹھنڈ تھی‘ یہ جگہ یقینا گرمیوں کے موسم میں ٹھیک ٹھاک ٹھنڈی ہوتی ہو گی۔
گلی کے آخر میں ایک وسیع عمارت تھی‘ یہ عمارت خزانہ کہلاتی ہے‘ پوری عمارت پہاڑ کاٹ کر بنائی گئی تھی‘ عمارت کے چھ ستون تھے‘ ستونوں کے اوپر آرچ تھی‘ آرچ کے اوپر دو دو ستونوں کے تین سیٹ تھے اور ان کے اوپر گنبد تھے‘ گنبدوں کے اوپر قدیم دیوتاؤں کے بت تھے ‘ یہ تمام چٹان تراش کر بنائے گئے تھے اور یہ ’’ون پیس‘‘ تھے‘ یہ فن کا نکتہ کمال تھا اور وہ لوگ جو اسے بناتے رہے تھے وہ کوئی عام لوگ نہیں تھے‘ وہ ہنر اور فن کی مٹی سے تراشے ہوئے حیران کن لوگ تھے۔
خزانہ پیٹرا کا شناختی نشان ہے‘ آپ جہاں بھی پیٹرا ٹائپ کریں گے یا پیٹرا کی تصویر دیکھیں گے آپ کو خزانے کی تصویر ملے گی‘ یہ عمارت صرف عمارت نہیں یہ ایک جادوگری‘ ایک طلسم کدہ ہے‘ خزانے سے دائیں طرف مڑیں تو دنیا کے اس عظیم خفیہ شہر کاسب سے بڑا چوک آ جاتا ہے۔
چوک کے چاروں طرف پہاڑوں کے مختلف لیولز پر مختلف قسم کے ٹیمپل‘ محلات اور مکان ہیں‘ ہر عمارت پہاڑ تراش کر بنائی گئی تھی‘ ہر عمارت کے نیچے گیراج تھا‘ یہاں پرانے زمانے میں گھوڑے‘ گدھے اور خچر باندھے جاتے تھے‘ گیراج کے اندر سیڑھیاں تھیں‘ یہ سیڑھیاں مختلف لیولز سے ہوتی ہوئیں چٹان کے آخری سرے تک چلی جاتی تھیں‘ وہ لوگ چٹان کے آخری سرے پر اپنی خواب گاہیں بناتے تھے‘ خواب گاہوں کے باقاعدہ ٹیرس بھی ہوتے تھے اور کھڑکیاں اور دروازے بھی اور یہ سب چوک کی طرف کھلتے تھے۔
چٹان تراش کر غار بنانا اور پھر غاروں کو خوبصورت‘ ہوادار اور محفوظ گھروں میں تبدیل کرنا آسان کام نہیں تھا لیکن وہ لوگ ہزاروں سال تک یہ کارنامہ سرانجام دیتے رہے‘ چوک کے درمیان میں اسٹیڈیم تھا‘ یہ پورا اسٹیڈیم نیچے سے لے کر اوپر تک پہاڑ تراش کر بنایا گیا تھا اور یہ دنیا میں اس نوعیت کا واحد اسٹیڈیم تھا‘ قبل مسیح میں یقینا وہاں گلیڈی ایٹرز بھی ہوتے ہوں گے‘ اسٹیڈیم سے آگے دائیں جانب پہاڑ کی بلندی پر ٹیمپل تھے۔
ٹیمپلز کے جہازی سائز کے کالمز دل میں ہیبت طاری کر رہے تھے‘ ٹیمپلز کے اوپر پہاڑوں کا طویل سلسلہ تھا‘ ہم نے پہاڑوں پر چڑھنا شروع کر دیا‘ چڑھائی مشکل بھی تھی اور تھکا دینے والی بھی لیکن ہم جیسے تیسے چڑھ گئے‘ ٹاپ کا منظر حیران کن تھا‘ دور دور تک سرخ پہاڑ تھے اور ان پہاڑوں میں پیٹرا چھپا ہوا تھا‘ ہمیں وہاں جا کر پتہ چلا‘ یہ کوئی ایک شہر نہیں تھا‘ یہ چھوٹے چھوٹے شہروں کا گروپ تھا۔
ہماری نظر جہاں تک جا رہی تھی وہاں تک پہاڑ تھے‘ ان پہاڑوں پر غار تھے اور ان غاروں میں گھر تھے‘ وادی کے درمیان سے دریا بھی گزر رہا تھا‘ دریا خشک تھا‘ شاید یہ دریا برسات کے موسم میں زندہ ہوتا ہو‘ پہاڑوں کے اوپر سے پانی کے چھوٹے چھوٹے چینلز نیچے آ رہے تھے‘ پیٹرا کے لوگوں نے اس پانی کو گھروں تک پہنچانے کے لیے پہاڑوں کے ساتھ ساتھ نالیاں بنا رکھی تھیں‘ یہ نالیاں تمام گھروں تک پانی پہنچاتی تھیں‘ گھر اور نالیاں ضرورت اور پانی کے فلو کو ذہن میں رکھ کر بنائی گئی تھیں۔
پہاڑوں کے اوپر تک باقاعدہ سیڑھیاں ہیں‘یہ سیڑھیاں بڑی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں پہاڑوں کے اوپر بھی گھر اور چھاؤنیاں تھیں اور وہ لوگ گھوڑوں‘ گدھوں اور خچروں کے ساتھ یہاں تک پہنچتے تھے‘آپ کو بلندی سے تمام شہر پہاڑ دکھائی دیتے ہیں‘ آپ وہاں کھڑے ہو کر کسی طور اندازہ نہیں کر سکتے نیچے آبادی بھی ممکن ہے‘ پیٹرا کے لوگوں نے شاید اپنے دفاع کے لیے پہاڑوں کے اندر یہ شہر تراشے تھے لیکن پھر وہ یہ معجزاتی شہر چھوڑ کر کہاں چلے گئے؟
کسی کو معلوم نہیں! ہم چوٹی پر دائرے میں گھوم کر اس چٹان تک پہنچ گئے جس کے بالکل نیچے خزانے کا گیٹ تھا‘ یہ دنیا کی ’’موسٹ وانٹیڈ راک‘‘ ہے‘ آپ اگر زندگی اور موت کے خطرات سے بچ کر اس چٹان تک پہنچ جائیں اورآپ میں اگر مزید خطرات مول لے کر دو سو فٹ نیچے کھائی میں لٹکنے کی ہمت ہو تو آپ تین بائی دو فٹ کے اس پتھر تک پہنچ سکتے ہیں جس کے عین نیچے خزانے کا گیٹ ہے‘ یہ پیٹرا میں تصویر کے لیے شاندار ترین اسپاٹ ہے لیکن اس اسپاٹ پر صرف ایک فیصد سیاح پہنچ پاتے ہیں‘ ہم چاروں ڈھیٹ قسم کے لوگ تھے چنانچہ ہم وہاں پہنچ گئے‘ ہم نے فضا میں لٹکے اس پتھر پر بھی قدم رکھ دیا ۔
جس پر ذرا سی لرزش انسان کو دو سو فٹ نیچے لے جا سکتی ہے‘ ہم نے اس خطرناک پتھر پر لیٹ کر تصویریں بنوائیں اور واپسی کا سفر شروع کر دیا‘ پیٹرا کے تمام نوجوان انڈیانا جونز کے مرکزی کردار(ہیریسن فورڈ) کی طرح لمبے لمبے بال رکھتے ہیں‘ ماتھے پر رنگین رومال باندھتے ہیں اور تنگ جینز پہنتے ہیں‘ یہ گیٹ اپ شاید ان لوگوں نے فلم سے لیا تھا یا پھر ہیریسن فورڈنے ان لوگوں کے گیٹ اپ کو فلم میں کاپی کیا‘ اللہ بہتر جانتا ہے تاہم یہ حقیقت ہے انڈیانا جونز سیریز کی فلم لاسٹ کروسیڈ کا ایک بڑا حصہ پیٹرا میں فلمایا گیا تھا۔پیٹرا کی بلند ترین چوٹیوں پر اللہ کے نبی اور حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی حضرت ہارون ؑ کا مزار بھی ہے لیکن وہاں پہنچنے کے لیے کم از کم تین گھنٹے کی چڑھائی چڑھنا پڑتی ہے لہٰذا ہم وہاں نہیں جا سکے۔
ہم واپسی کے لیے چوٹی سے روانہ ہوئے تو سورج ڈوب رہا تھا‘ قدرت پیٹرا کے افق پر سرخی مل رہی تھی‘ سرمئی چٹانیں سرخ ہو رہی تھیں‘ میں کنارے پر پہنچ کر رک گیا‘ میرے سامنے سرخ افق تھا‘ وادی میں اندھیرے کی سیاہ لکیریں ابھر رہی تھیں اور ہمارے پاؤں کے نیچے سرمئی چٹانیں اپنا رنگ‘ اپنا روپ بدل رہی تھیں‘ شام کے اس لمحے ہماری پشت پر چودھویں کا چاند بھی چمک رہا تھا۔
میں نے زندگی میں بہت کم چاند اور سورج کو اکٹھا دیکھا‘ یہ دونوں اس وقت پیٹرا کی چوٹی پر موجود تھے‘ سامنے ایک گورا سیاح اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ ایک غار صاف کر رہا تھا‘ یہ دونوں وہ رات دنیا کی اس طلسماتی جگہ پر گزارنے کا منصوبہ بنا رہے تھے‘ میں نے لمبی سانس لی اور پیٹرا کا سارا فسوں اپنی رگوں میں اتار لیا‘ پیٹرا اب بے خود لہو کی طرح‘ دل مضطرب کی آوارہ دھڑکنوں کی طرح اور بے ربط اداس سانسوں کی طرح میری رگوں میں دوڑ رہا تھا‘میں سر سے پاؤں تک پیٹرا بن چکا تھا۔

کالم کلوچ

اپنی پہچان کی تلاش !

شائع شدہ

کو

اپنی پہچان کی تلاش !

تحریر- صبح صادق
دوچار ہفتے قبل جب مجھے میرے آفس میں ایک خط ملا جس میں فرمائش کی گئی تھی کہ آپ یہاں قصور میں بلھے شاہ کلچرل فورم میں ہمارے ساتھ آملیں اور پاکستانی ثقافت اور فنون لطیفہ کے موضوع پر گفتگو کریں تو یقین مانیں اس موضوع کو لے کر یکدم میرے اوپر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ اول تو اس لئے کہ یہ موضوع اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ ایک نشست میں اس پر سب کچھ سمیٹ پانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔دوم یہ کہ یہ میرا موغوب ترین موضوع ہے اور جو شے انسان کو عزیز ہوتی ہے اس کے ساتھ وہ برتاؤ بھی اپنوں جیسا کرتاہے ۔میری خوش قسمتی ہے کہ میں گزشتہ دس برسوں سے براہ راست ایک ادبی و ثقافتی ادارے لاہورآرٹس کونسل میں بطور پی آر او، ثقافت کی مہم سے وابستہ ہوں(جسے دن رات کی کوششوں سے ہم ایک مقامی ادارے سے بین الاقومی سطح پر لے گئے ہیں ) البتہ بالواسطہ تو اس شعبہ کے ساتھ عمربھر کا ساتھ رہا ہے یعنی خاکسار کو بچپن سے ہی ادب و ثقافت کے شعبے خاص دل چسپی رہی ہے۔بہرحال یہاں ہم ایک ایسے شعبہ پر بحث و مباحثے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے جس کی نہ تو حدود و قیودکاآج تک تعین ہو سکا نہ ہی اس کے لوازمات ، مندرجات وغیر ہ پر کوئی ٹھوس اتفاق موجود ہے۔میری نظر میں ہمارے قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (مرحوم) کی پہلی بات تو پوری ہو چکی یعنی پاکستان کی بستی بس گئی لیکن ہمارے اہل نظر ابھی تک یہ طے نہ کر پائے کہ اپنی نگاہ کو کیاکریں۔بہرحال یہ امر مسرت کا باعث ہے کہ آج یہاں پاکستان کے چوٹی کے مفکرین ادیب اور دانشور اور زندگی کے مختلف شعبوں کے تعلق رکھنے والے سکالز اپنے ثقافتی عوامل و مظاہر کی بہتر سے بہتر تفہیم کے لئے جمع ہوئے تھے اس پر میں اس کنونشن کے منتظمین و محققین کو مبار کبار پیش کرتاہوں کہ جنہوں نے اس کنونشن کو اپنی ذاتی دلچسپی ،عملی تعاون اور محققانہ صلاحیتوں سے پروقار بنایا ہے۔
میرے مطابق عملی طورپر زندہ اور جاندار کلچر کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرتاہے جس میں وسائل ،سرپرستی یا مواقع کی کمی کے باوجود مناسب تخلیقی ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچایا جاتا ہے اور پھر وہ ٹیلنٹ اپنے معاشرے کی جمالیات اور دانش کے میدانوں میں اعلیٰ ترین ہم عصر معیاروں کے مطابق ڈھل کر قومی دھارے میں شامل ہو جاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ آرٹ قوم کی پہچان بننے کے ساتھ ساتھ قومی فکر کی تعمیر کا ایک اہم وسیلہ ثابت ہوتا ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہمارے ہاں ثقافت کی رسمی تعریف میں ہمارے رسم ورواج،رہن سہن کے طریقے ،بودوباش یعنی کل طریقہ زندگی شامل ہیں اس تناظرمیں کسی بھی قوم کا اصل چہرہ تبھی خوبصورت نظرآئے گا جب مجموعی طورپر اس ملک کے نظام میں معیشت ،عدل و انصاف،امن وامان اور چیک اینڈ بیلنس سمیت دیگر زندگی کے دورے شعبے مستحکم ہونگے۔اگرآپ کے نوجوان کو تعلیم اور روز گاہ کے موقع میرٹ پر میسر آئے، سماجی رویے اعتدال پر مبنی ہو، کوئی کسی کی ناجائز پگڈی نہ اچھال پائے اور مانیٹرنگ کا خود کار مزاحتمی نظام کام کرنا شروع کردے تو پھر آپ اس بات پر اطمینان کر سکتے ہیں کہ آپ کی قوم کا چہرہ دنیا کو خود بخود خوب صورت نظر آنے لگے گا۔اگر معاشرے کا مجموعی نظام انحطاط پذیر ہو اور اسے بہتر بنانے کی کوئی سنجیدہ کاوشیں نہ کی جائیں تو پھر دنیا میں اپنے متعلق پھر اعتماد بیانیہ کی تشکیل کرپانامشکل نظر آتاہے ،بدقسمتی سے یہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے،چند برس قبل تو ہمارے حالات بہت بگاڑ کا شکار تھے بہر حال ان حالات میں بھی ہمارے ثقافتی اداروں نے ا پنا ایڑی چوٹی کا روز لگایااور دنیا میں اپنے وجود کی بقاء کی جنگ لڑی اور الحمد اللہ ہم اس نتیجے میں دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر عزت کے ساتھ مدعو کئے جاتے رہے اور ہمارے بات بھی سنی گی۔مگر موجود ہ دور میں ہمارے چندقومی اداروں کی حوصلہ بخش کار کردگی کے نتیجے میں حالات ساز گار ہونے شروع ہوئے ہیں کیونکہ ملک کے تمام نظاموں کا محور شعبہ ثقافت ہوتاہے ان مستحکم نظاموں کی صورت میں یہ امر ثقافتی اداروں کے لئے سہل ہو جاتا ہے کہ وہ خود کو دنیا میں منوا سکیں۔بہرحال یہ حقیقت ہے کہ جہاں ہمیں قومی سطح پر اپنی بہتر ثقافتی حکمت کاری سے ملکی یک جہتی اور ہم آہنگی کے لئے مدد مل سکتی ہے وہاں ہم بین الاقومی تناظر میں اپنے خلاف ہونے والے بے بنیاد ،من گھڑت اور پروپیگنڈہ پر مبنی بیانیے کے اثرات بھی زائل کر سکتے ہیں اس سے بھی بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم نے دشمن کی ساز شوں کا نہ صرف توڑ کرناہے بلکہ اپنے جوابی بیا نیے میں دنیا کے سامنے اپنی اقتصادی کا میابیوں، متوازن سماجی رویوں،بین الاقومی امن میں اپنے کردار کو قابل قبول انداز میں پیش بھی کرناہے سو اس حوالے سے مجھے بے حد خوشی ہے ہم باہمت قوم ہیں ہم نے مشکل حالات میں اپنی بقاء کے لئے بے دریغ قربانیاں دی ہیں اب یہ بات تمام قومی و صوبائی ثقافتی اداروں پر منحصر ہے کہ ہم کس انداز میں اپنی ان کا میابیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں ،مثلا میری نظر میں ا پنے آپ کو دنیا میں متعارف کروانے کے دو طریقے ہیں یا تو ہم دنیا کے اہل قلم اور صاحب آراء مفکرین کو اپنے ہاں مدعو کریں اور ان کے سامنے اپنا خوبصورت نظام زندگی رکھیں اور انھیں اپنا گرویدہ بنانے کی پرزور کوششیں کریں مثلا اس حوالے سے ہم نے گزشتہ دو برسوں سے دنیا بھر کے 50ممالک کے سفیروں کو لاہورآرٹس کونسل کے پلیٹ فارم پر مدعو کیا اور ان کو اپنی عوامی رویے اور اقدار سے روشناس کروایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان سفیروں نے اپنے اپنے ممالک کو جو رپورٹ بجھوائیں میں نے ان جب کا پتہ کیا تو یقین مانیں وہ ہمارے لئے بے حد تسلی بخش تھی ،یعنی ہمارا تجربہ کامیاب رہا الحمداللہ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود دیس دیس جاکر دنیا تک اپنی بات پہنچائیں اس محاذ پر بھی لاہورآرٹس کونسل الحمراء کی کارکردگی میں آپ کے سامنے رکھنے پر فخر محسوس کروں گا۔ہم نے ایک پراجیکٹ(PIC Pakistan)کہ نام سے شروع کیاہے جس کے پہلے مرحلے پر تھائی لینڈ میں پاکستان کا رنر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔تھاماسٹ یونیورسٹی ،بنکاک تھائی لینڈ میں اس پاکستان کارنر کے قیام سے 50000طلبہ و طالبات جو دنیا بھر سے یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں،سے مستفید ہونگے اور اپنے اپنے وطن واپسی پروہ پاکستان کے متعلق ایک مثبت رائے لے کر جائیں گے یہی ہمارے مقصد ہے ۔اس کو اب ہم آگے لے کر چل رہے ہیں اور اس کادائرہ کار کوئی درجن بھر ممالک تک پھیلا رہے ہیں۔
یہی بات اگر میں دوسرے انداز میں بیان کرؤں تو میری نظر میں ثقافت ایک باریک،کچے دھاگے کی مانند ایک ایسی لڑی کا نام ہے جس کی مضبوطی کا انحصار اس میں پردے جانے والے طرح طرح کے رنگ بر نگے خوبصورت مو تیوں کے حسن پر ہوتاہے۔جو جس قدردلکش ہونگے یہ لڑی قدر مضبوط ہوگی البتہ اگر اس میں بے کار موتی پروے دے جائے تو یہ اس ثقافت کی لڑی کو مضبوط کرنے کی بجائے کمزرو کر دیں گے جس سے کسی بھی قوم کا شہزازہ با آسانی بکھیرا جاسکتا ہے سو یہ اس قدراحساس نوعیت کا معاملہ ہے۔بہرحال یہ شعبہ ثقافت جزوئیات کوکُل میں پروتاہے،نہایت طاقتور ،جادوئی اثر کا حامل ہونے کی بناء پر کوئی اس کی اثر پذیر ئی سے بچ نہیں سکتاہے یہ بکھیری چیزوں کو اکائی بناتاہے مثلا ہمارے ملک کے تمام صوبوں کے لوگ اگر اس شعبہ سے صحیح معنوں میں استفادہ کریں یایہ شعبہ اپنا کام ڈھنگ سے سرانجام تو اسی صورت ہم اس کے اثرات کو اپنے حق میں استعمال کرسکتے ہیں مثلا جسے ہم لاہور میں کام کرتے ہوئے یہاں کے رہنے والوں کے سامنے فنون لطیفہ کی مدد سے دوسرے تمام صوبوں کے رنگ روپ پیش کرتے ہیں اگر یہی طریقہ کار دوسرے صوبوں کے ثقافت ادارے بھی اپنائے تو کوئی مشکل نہیں کہ ہم ایک نہ ہو سکیں میری نظر میںآج ثقافتی حالات کی کار کردگی جاننے کی سب سے بڑی کسوٹی یہی ہے کہ اگر ہمارے مختلف صوبوں میں بسنے والے افراد باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا شروع کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ثقافتی اداروں کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔سو ہمارا پہلا حدف اپنا گھر خوبصورت بنانا ہونا چاہے پھر اس کے بعد دنیا کے پاس ہماری اہمیت کے انکارکا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔
جہاں تک اس شعبے کو درپیش چیلنجز کا سوال ہے کہ وہ بے شمار ہیں مثلا اس شعبہ سے متعلق ایک عام بیا نیہ (Narrative)یہ ہے کہ کلچر اور فنون امراء کی عیاشی کی کسی شے کا نام ہے جو میری نظر میں بہت خطرناک ہے ۔سو آگے چلیں ایک نقطہ نظریہ بھی ہے کہ زندگی کی تمام ضروریات اور تقاضے پورے ہونے کے بعد کلچر اور اس کے دیگراجزاء کے بارے میں غور کیاجائے گا، دوسرے لفظوں میں ملک میں کلچر کا روز مرہ کی زندگی اورہماری قومی ضروریات کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے،گویا یہ دو الگ الگ باتیں ہے۔مزید ذرا غور کیجئے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ دراصل کلچر تو طبقاتی ہوتا ہے یعنی کلاس کلچر۔ہمارے ہاں امرا ء ہیں،غرباہیں،کسان ہیں،مزدور ہیں،سرمایہ دار ہیں اور افسر لوگ ہیں ان سب کا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے اب ان سب سے ماورا پاکستانی کلچریا پاکستان کے قومی کلچر کی تلاش بے کارسی بات ہے کیونکہ کلاس یا طبقے سے الگ کوئی کلچر نہیں ہوتاہے،میری نظر میں یہ نہایت غلط تصور ہے اس سے ملتی جلتی ایک اور بات بھی سننے میںآئی ہے کہ سندھی کلچر ،بلوچی کلچر، پختون کلچر،پنجابی کلچر، ہرجگہ کے الگ الگ کلچر ہیں اور یہی ہونا بھی چاہیے ۔ان سے الگ یاان کے اوپر کسی قومی کلچر یا ثقافت کی تلاش کرنا بے کار ہے ۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بغیر لوگ تو اسے شرارت کی بات کہتے ہیں اوراس کا مقصد یہ بتاتے ہیں اس سے ملک میں لادینی پن پھیلا یا جارہا ہے۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ سندھی ،پنجابی،بلوچی اور پختون کا فساد پیدا کرکے قومی وحدت کو نقصان پہنچا ہے اس شعبے کو اب اس سے بڑے اور چیلنج کیا لاحق ہوں گے-

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

میشا شفیع کے بعد ریشم بھی....

شائع شدہ

کو

کپتان کی عزت داؤ پر

میشا شفیع، علی ظفر اسکینڈل نے جہاں شوبز حلقوں میں ہلچل مچائی ہے وہیں دیگر سماجی حلقے بھی تشویش میں مبتلا ہیں اس حوالہ سے شوبز کے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ کل تک ایک دوسرے کے قریبی دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والی یہ فنکار جوڑی اس طرح اسکینڈل منظر عام پر لائے گی تو پھر ہماری شوبز انڈسٹری میں بہت سے ایسے رشتے ناطے ہیں جومذہبی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہیں مگر ان رشتوں کو اخلاقی دائرہ کار کے تحت جائز قرار دیا جاتا ہے ۔اس سے پہلے کہ علی ظفر کے خاندانی پس منظر پر نظر ڈالی جائے پہلے دیکھنا یہ ضروری ہے کہ میشا شفیع کا خاندانی پس منظر کیا ہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ میشا شفیع کا فیملی بیک گراؤنڈ نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس ‘‘ کہلانا پسند کرتا ہے۔ میشا شفیع کی والدہ صبا پرویز اپنے فنکارانہ کیریئر کے آغاز میں صبا حمید کہلائیں بعد ازاں انہیں شادی شدہ زندگی کے آغاز میں کبھی صبا شفیع کہا گیا تو کبھی صبا پرویز اور ایک وقت صبا پر صبا وسیم عباس کہلانے کا بھی آیا ۔ یہ درست ہے کہ وسیم عباس سے صبا حمید کے تعلق کو شرعی قرار نہیں دیا جاسکتاکیونکہ وسیم عباس کے ساتھ صبا حمید کی دوستی ایک مشترکہ ’’شوق‘‘کی وجہ سے ہوئی اور کئی برسوں تک قائم رہی۔یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ صبا کے والد خود کو کامریڈ(روشن خیال)کہلوانا پسند کرتے تھے کیونکہ وہ مذہبی رجحانات کے مالک نہیں تھے بالخصوص ہمارے اسلامی معاشرے میں انہیں اپنی موجودگی ہمیشہ ناگوار گزرتی تھی۔ میشا شفیع کو یہی ’’روشن خیالی‘‘ اپنے نانا اور والدہ سے ورثہ میں ملی۔ علی ظفر کے ساتھ ان کے ناجائز تعلقات کی کہانی خود ان کی زبانی منظر عام پر لانا ایسی ہی روشن خیالی اور ترقی پسندی کی ایک بھونڈی مثال ہے۔

میشا شفیع کا یہ اعتراف کہ انہیں علی ظفر نے بارہا جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا انہیں قریب سے جاننے والے لوگوں کو قطعی طور پر حیران نہیں کرتا مگر برائے نام تعلق رکھنے والے ساتھی فنکاروں کی اکثریت اور دونوں فنکاروں کے مداحوں کیلئے یہ انکشافات ہوش اڑا دینے کیلئے کافی تھے اسی لیے گزشتہ 48 گھنٹوں کے درمیان ملک بھر میں ریگولر اور سوشل میڈیا پر صرف اور صرف علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان ناجائز تعلقات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے بلکہ اب اس کی گونج سرحد پار بھی پہنچ چکی ہے۔ہالی ووڈ میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی اداکارہ کی طرف سے کیے جانے والے انکشافات کے بعد ’’#MeToo‘‘ کے نام سے شروع ہونے والی یہ مہم اب پاکستان میں موجود نام نہاد ترقی پسندوں کیلئے ایک مشغلہ بن چکی ہے ۔ لائم لائٹ میں رہنے والی شخصیات کو ہمیشہ سے عام لوگ اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں اور ان کے رنگ ڈھنگ ، بول چال اور رہن سہن کے طریقے بھی اپنانے کی کوشش کرتے ہی۔ میشا شفیع بھی بدقسمتی سے دور حاضر کی ایک سلیبریٹی ہیں جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو اس ’’#MeToo‘‘ مہم کا حصہ بنایا اور خود کو علی ظفر کا ’’شکار‘‘قرار دے دیا۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے علی ظفر کی خود سے جنسی زیادتی کا معاملہ اپنے ضمیر کی آواز پر ظاہر کیا لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بحیثیت فنکارہ میشا شفیع کو اس قدر مقبولیت حاصل نہیں ہوئی تھی جتنی شہرت انہوں نے علی ظفر پر زیادتی کا الزام لگا کر حاصل کرلی۔ میشا شفیع کی ’’روشن خیالی‘‘ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے بیان میں علی ظفر کی ایک سے زائد بار جنسی زیادتی کا ذکر کیا تھوڑا سا بھی شعور رکھنے والے ان کی اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بار بار کی زبردستی اور وہ بھی باہمی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔یہ روشن خیالی اور ترقی پسندی صرف اور صرف میشا شفیع جیسی نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس‘‘ سے تعلق رکھنے والی خواتین ہی دکھا سکتی ہیں کہ جن کے خاندان میں ایسی کسی بات کو اور ایسے کسی واقعہ کو کبھی معیوب نہیں سمجھا جاتا اور جن کا مقصد ہی صرف اتنا ہے کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسی مہم کو تقویت دی جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر الزام کیوں داغ دیا۔ میشا شفیع کے نانا حمید اختر اور ان کی والدہ صبا حمید ہمیشہ تنازعات کو ہوا دینے کی راہ پر گامزن رہے ہیں مقصد شہرت اور دولت کا حصول ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ بلیک میلنگ سے لوگوں کو ہراساں کرنا ہوتا تھا۔میشا شفیع کے حالیہ بیان کا مقصد علی ظفر کو بلیک میل کرنا ہے یا ان کی وجہ سے حاصل ہونے والی شہرت کو دولت کمانے کا ذریعہ بنانا ہے جہاں تک علی ظفر کا تعلق ہے تو ان کا خاندانی پس منظر انتہائی وضع دار اور تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے اور انہوں نے میشا شفیع کے بیان کے بعد انتہائی سادگی اور سمجھ داری سے قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

ریشم کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کی ورسٹائل فنکاروں میں ہوتا ہے اگر ریشم،میشا شفیع جیسی ’’غلطی ‘‘کرتے ہوئے اپنی زبان کھول دیں تو شاید پورے پاکستان میں ایسا بھونچال آجائے گا جیسے کسی نے ایٹم بم گرا دیا ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

مقتول ہی تو قاتل ہے (بشکریہ ایکسپریس)

شائع شدہ

کو

6"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

جناب محترم وسعتاللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ اس دنیا میں اگر کسی شے کا سب سے زیادہ ریپ ہوا ہے تو وہ دلیل ہے اور پھر اس ریپ زدہ دلیل کے ساتھ تہذیب کا جیسا ریپ ہوا اور ہو رہا ہے اس کا کوئی توڑ کم ازکم مجھے تو ٹپائی نہیں دے رہا ۔حل تو خیر لاینحل ہے۔ بہت دور کی کوڑی لانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس المیے سے بچپن میں ہی آشنا ہو جاتے ہیں جب چشمے پر پانی پینے والے بھیڑ کے بچے اور اسے دلیل دے کر ہڑپ کر جانے والے بھیڑئیے کی کہانی سنتے ہیں۔
اگر نازی دنیا پر قبضہ کر لیتے تو پھر ہماری نسلوں کو یہی نصابی علم عطا ہوتا کہ یہودیوں کو جرمنی سے نازیوں نے نہیں بلکہ خود یہودیوں نے ختم کیا۔نہ وہ سود خوری کے ذریعے جرمنوں کا خون چوستے اور نہ آریائی خون جوش میں آتا۔اگر جرمن خون آشام ہی ہوتے تو یہودیوں سے پہلے اور بعد میں کسی اور قوم پر ایسا عذاب کیوں نہیں آیا۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جرمنوں نے اپنی افریقی نوآبادی نمیبیا کی سیاہ فام آبادی کی بھی اسی پیمانے پر نسل کشی کی۔ مگر چونکہ بہت سے یورپی مستشرقین ایک زمانے تک کھلم کھلا اور آج دل ہی دل میں غیر سفید فاموں کو تہذیب و تمدن سے عاری نیم انسان سمجھتے ہیں لہذا نمیبیا کے سیاہ فاموں کا نوحہ کسی نے نہیں لکھا۔
یہی کچھ کانگو میں بلجئیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کے زمانے میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔کانگو بادشاہ کی ذاتی املاک میں شامل تھا۔ لہذا گدھے اور سیاہ فام کا فرق مٹ گیا۔ بلکہ گدھے سے زیادہ بہتر سلوک ان معنوں میں ہوا کہ وہ نسل کشی سے بچ گیا۔
برسلز میں لگنے والے میلوں ٹھیلوں اور نمائشوں میں ایک عرصے تک ہیومن زو بھی لگایا جاتا تھا۔اس میں کانگو سے لائے گئے سیاہ فام نیم انسانوں سے عام شہریوں کا دل بہلایا جاتا تھا۔آج یہ سب تماشے نہیں ہوتے مگر ان جرائم کو نوآبادیاتی دور کی بے اعتدالیوں اور غلطیوں کا نام دے کر مہین خوشنما تہذیبی پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔اب ہر کوئی اسرائیل تو نہیں ہوتا کہ جس سے مغربی جرمنی یہودی نسل کشی پر معافی مانگتے ہوئے پانچ ارب مارک کی ازالائی رقم بھی ادا کرے۔
کون کہتا ہے کشمیر میں بھارت ظلم کر رہا ہے۔یہ تو سرحد پار سے آنے والے گھس بیٹھیے یا ان کے ہاتھوں گمراہ ہونے والے مٹھی بھر کشمیری لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو بھارتی ایکتاکے درپے ہیں۔وہ جان بوجھ کر سیکیورٹی دستوں کو اشتعال دلاتے ہیں تاکہ وہ کشمیریوں کے منہ پر چھرے مار کے انھیں اندھا کر دیں اور پھر پیشہ ور کشمیری ان چھرہ زدہ چہروں کو ظلم کا اشتہار بنا کر دنیا بھر میں سینہ کوبی کرتے پھریں۔اہلِ دلی کی اس دلیل میں اگر وزن نہ ہوتا تو بیشتر بھارت کاہے کو آمنا و صدقنا کہتا۔
نیتن یاہو کی یہ بات ماننے میں کیا عار ہے کہ اسرائیلی فوج دنیا کی مہذب ترین فوج ہے۔اس نے آج تک کسی فلسطینی کو مارنے میں پہل نہیں کی۔کسی فلسطینی کو پتھر یا غلیل سے نشانہ نہیں بنایا۔لیکن جب کوئی فلسطینی بچہ یا بچی کسی اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارتا ہے یا ٹینک پر غلیل سے نشانہ باندھتا ہے یا مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کو مٹانے کا نعرہ لگاتا ہے تو کیا ریاست کو کوئی حق نہیں کہ وہ ایسے شرپسندوں کو اوقات میں رکھنے کے لیے ذرا سے گولے، کچھ بم اور دوچار نشانچیوں کو استعمال کر لے۔
کسی نے آج تک گولڈا مائیر کے اس دعویٰ کو چیلنج کیا کہ ’’ کون سے فلسطینی ؟ جب ہم یہاں آئے تو یہ خطہ تو غیر آباد تھا۔ہم نے آ کر اسے بسایا‘‘۔اگر اسرائیل واقعی کوئی سفاک ریاست ہے تو پھر کچھ عرب ممالک اس سے دوستی کے لیے آج مرے نہ جاتے۔
مشرقی پاکستانی اگر ایکتا کو چیلنج نہ کرتے ، وہاں بسنے والے ہندو اساتذہ اور دانشوروں کے بہکاوے میں نہ آتے اور غدار مجیب کے چھ نکاتی پھندے میں آئے بغیر وسیع تر قومی مفاد میں اپنے مغربی پاکستانی بھائیوں کے تھوڑے سے اور مطالبات مان لیتے اور اگر بھارت چند گمراہ مشرقی پاکستانیوں کی آڑ میں حالات سے فائدہ اٹھا کر فوج کشی نہ کرتا تو آج بھی ہم ہنسی خوشی رہ رہے ہوتے۔یہ ہیں، سقوطِ مشرقی پاکستان کی وہ وجوہات جوآج سینتالیس برس بعد بھی پاکستانی نصاب میں اتنی ہی سچ ہیں جتنی سینتالیس برس پہلے تھیں۔
اگر ریاستوں کا اپنا اپنا سچ ہے تو افراد اپنے اپنے سچ پر کیوں نہ قائم رہیں۔مثلاً اسے ماننے میں کیا قباحت ہے کہ ملالہ نے اپنے سر پر خود گولی ماری تھی تاکہ مغرب اسے اپنی ڈارلنگ بنا کر طالبان کو بدنام کرتا پھرے۔
مشال خان نے بھلے توہینِ مذہب نہ کی ہو مگر وہ ملحدوں کے شعر تو پڑھتا تھا ، اپنے کمرے کی دیواروں پر سرخوں جیسے نعرے تو لکھتا تھا ، ایک نظریاتی ریاست میں سیکولر لبرل نظریہ مسلط کرنے کا تو حامی تھا۔اسے کس نے مارا۔وہ تو مجمع کے غیض و غضب کا شکار ہوا۔مجمع کو اس سے کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی۔مجمع کو کنٹرول تو نہیں کیا جا سکتا۔یہ تو مشال خان کو خود خیال ہونا چاہیے تھا کہ وہ آگ سے کیوں کھیل رہا ہے ؟
مختاراں مائی نے باقاعدہ سوچ سمجھ کر خود کو ریپ کرایا تاکہ اسے بیرونِ ملک سے فنڈنگ مل سکے۔یہی حرکت سوئی میں رہنے والی ڈاکٹر شازیہ نے بھی کی تھی۔خواتین بن ٹھن کے نکلیں گی تو مٹھائی پر مکھیاں تو منڈلائیں گی۔
جموں کی آٹھ سالہ بکروال بچی آصفہ اگرچہ بن ٹھن کے نہیں نکلی تھی، پھر بھی انسان کے اندر بسے جہنم کی خوراک بن گئی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی سیاستداں جب آصفہ ریپ قتل کیس کے آٹھ مجرموں کی وکالت کرتے ہیں تو ان کے پاس بھی یہ دلیل ہوتی ہی ہے کہ بکروال ہندوؤں کی چراگاہوں پر زبردستی قبضہ کر رہے ہیں۔ غصہ کہیں تو نکلنا تھا۔لہذا قصور ریپسٹ کھجوریا اور اس کے آٹھ ساتھیوں کا نہیں بلکہ بکروال برادری کا اپنا ہے۔
پنجاب کے عیسائیوں، احمدیوں اور کوئٹہ کی ہزارہ برادری کا تو دھندہ ہی یہی ہے کہ وہ خود پر مظالم کی جھوٹی سچی داستانیں گھڑتے ہیں تاکہ مغرب میں مذہبی عقایذ کی بنا پر زیادتی کا کیس دائر کر کے پناہ حاصل کر سکیں۔اگر یہ معاشرہ اتنا ہی ظالم ہوتا تو پھر اکیس کروڑ لوگ یہاں کیوں رہ رہے ہیں۔
جب انصاف فٹ بال بن جائے اور ریاست گول کیپر ہو تو پھر ہر دلیل وزنی ہے، ظالم و مظلوم ایک ہی صف میں ہیں اور پھر پہاڑی چشمے پر اوپر کی جانب کھڑا بھیڑیا نیچے کھڑے میمنے کو بھی یہ دلیل دے کر ہڑپ کرنے میں حق بجانب ہے کہ تم میرا پانی گدلا کیوں کر رہے ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں