Connect with us

کشمیر

گھٹنے ٹیکنے پر مجبور

شائع شدہ

کو

گھٹنے ٹیکنے پر مجبور

مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستان کی کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی تحریک آزادی کی بڑھتی ہوئی جدوجہد کے آگے بندھ باندھنے میں بے بس دکھائی دے رہی ہیں ،اسی لئے اب انہوں نے نیا پینترا بدلتے ہوئے مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان المبارک کے پیش نظر مجاہدین کے خلاف بھارتی فوج یکطرفہ سیز فائر کا اعلان کرے۔بھارتی نجی ٹی وی کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے نام نہاد ’’کل جماعتی کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مودی سرکار سے مطالبہ کیا کہ آج ہونے والے کل جماعتی اجلاس میں سبھی پارٹیاں اس بات پر متفق ہیں کہ بھارتی حکومت مجاہدین کے خلاف یکطرفہ سیز فائر کا اعلان کرے جیسے اس سے قبل 2000ہزار میں واجپائی حکومت نے کیا تھا ۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے عام لوگوں کو بھی کافی پریشانیاں ہوتی ہیں، عید اور امرناتھ یاترا کے پیش نظر ہماری کوشش پرامن حالات بنائے رکھنے کی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریاست میں اگر پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کے ایجنڈہ پر عمل کیا جائے تو کشمیر میں حالات بہتر ہوسکتے ہیں ،اجلاس میں سبھی پارٹیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم مودی سے ملاقات کرکے مقبوضہ کشمیر کے حالات کی معلومات فراہم کرائیں گے ، تاکہ جموں و کشمیر میں امن بحال ہوسکے۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ سبھی پارٹیاں مرکز سے اپیل کرنے پر متفق ہوئی ہیں کہ جیسے 2000 میں اس وقت کے وزیر اعظم واجپائی نے یک طرفہ سیز فائر کرکے پاکستان کے ساتھ بات چیت کی تھی ، مرکزی حکومت ایک مرتبہ پھر اسی طرح کا قدم اٹھائے تو ریاست میں امن بحال ہوسکے گا۔

کشمیر

ریمانڈ پرجیل منتقل

شائع شدہ

کو

ریمانڈ پرجیل منتقل

رپورٹ کے مطابق نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی تحویل میں 10 روز گزارنے کے بعد آسیہ اندرابی کو ان کی 2 ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت آج نئی دلی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے عدالت کے روبرو کہا کہ ایجنسی کو دختران ملت کی تینوں رہنماؤں کی مزید کسٹڈی کی ضرورت نہیں، جس کے بعد ڈسٹرکٹ جج پونم اے بامبا نے انہیں ایک ماہ کے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں پر رواں برس اپریل میں بھارت کے خلاف جنگ کے جھوٹے مقدمات بنائے گئے تھے۔ عدالتی حکم کے بعد دختران ملت کی رہنماؤں کو نئی دلی کی بدنام زمانہ تہار جیل میں رکھا جائے گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

کشمیر

نوجوان شہید

شائع شدہ

کو

نوجوان شہید

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو شہید کردیا، بھارتی فورسز نے نوجوان کی شہادت کے بعد علاقے میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے کپواڑہ میں ظالم بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے، بھارتی فوج کے دہشت گرد اہکاروں کی اندھا دھند فائرنگ سے ایک کشمیری نوجوان شہید ہوگیا۔ کشمیری میڈیا کا کہنا ہے کہ کپواڑہ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں بھارتی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے، نوجوان کو بھی سرچ آپریشن کے دوران بھارتی افواج نے نشانہ بنایا ہے۔ کشمیری میڈیا کے مطابق ہندوستانی فوج کی جانب سے نوجوان کی شہادت کے بعد علاقے میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا گیا ہے، جبکہ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی بند کردی گئی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

کشمیر

پاکستان کی حمایت

شائع شدہ

کو

پاکستان کی حمایت

دفترِ خارجہ نے کشمیر میں جاری بھارت کے ریاستی مظالم پر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ کے حوالے سے سیکریٹری جنرل آنٹونیو گواتیرس کی حمایت کا خیر مقدم کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کمیشن آفس (او ایچ سی ایچ آر) کی اس رپورٹ پر بھارتی اعتراضات کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی حمایت سے جواب مل گیا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے 12 جولائی کو کشمیر میں ہونے والے مظالم پر مرتب کی گئی رپورٹ کی حمایت میں آواز بلند کی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری جنرل آنٹونیو گواتیرس کا کہنا تھا کہ کشمیر مسئلے پر او ایچ سی ایچ آر کمشنر کے اقدامات اقوامِ متحدہ کے اقدامات کے مترادف ہیں۔خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ میں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے پہلی رپورٹ گزشتہ ماہ تیار کی گئی تھی۔
مذکورہ رپورٹ میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انصاف کی عدم فراہمی کے حوالے سے نشاندہی کی گئی ہے۔ او ایچ سی ایچ آر کمشنر سربراہ زید راعد الحسین نے انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ اس رپورٹ کے پیشِ نظر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی تحقیقات کے حوالے سے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔ پاکستان کی جانب سے اس رپورٹ اور اعلیٰ سطح کے انکوائری کمیشن کے قیام کی تجویز کا خیرمقدم کیا گیا تاہم بھارت کی جانب سے اس رپورٹ کو مسترد کردیا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ او ایچ سی ایچ آر کمشنر کی رپورٹ میں مینڈیٹ کا فقدان تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں