Connect with us

انٹرنیشنل

10 بڑی کمپنیاں رخصت

شائع شدہ

کو

10 بڑی کمپنیاں رخصت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علاحدگی کے فیصلے کے بعد ایران کی سابق صدر اوباما کی انتظامیہ اور پانچ عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے گئے معاہدے کی خوشی کافور ہو گئی ہے۔ تاہم واشنگٹن کے ہر دکھ سکھ کے حلیف ہونے کے باوجود یورپی ممالک کے اقتصادی مفادات نے انہیں نے حالیہ رجحان کی مخالف سمت چلنے پر مجبور کر دیا۔ 1 ۔ TOTAL : تیل اور توانائی کے شعبے کی فرانسیسی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے سے امریکا کے نکل جانے کی روشنی میں خلیجِ عربی میں واقع تہران کی SP11 فیلڈ سے انخلاء عمل میں لا سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اسے چاہیے کہ نومبر 2018ء سے قبل اس فیلڈ سے متعلق تمام آپریشنز کو ختم کرنا ہو گا۔
2 ۔ MAERSK : سمندری نقل و حمل کے میدان میں سرگرم ڈنمارک کی میرسک سِی لینڈ کمپنی کا شمار "کنٹینرز اینڈ فِریٹ" کے حوالے سے عالمی سطح پر سب سے بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ کمپنی نے امریکی اقتصادی پابندیوں کے سبب ایران میں اپنا آپریشن بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ ایران کے مقابلے میں امریکا کے ساتھ تجارتی معاملات کو ترجیح دیتی ہے۔ تاہم کمپنی نے ایران کے ساتھ معاملات روک دینے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔
3 ۔ PEUGEOT : گاڑیاں تیار کرنے والے اس فرانسیسی گروپ نے پیر کے روز ایک بیان میں اعلان کیا کہ وہ اب سے لے کر چھ اگست 2018ء تک ایران سے نکل جانے کے لیے تیار ہے۔ کمپنی نے گزشتہ برس ایران میں 4.44 لاکھ گاڑیاں فروخت کی تھیں۔
4 ۔ GENERAL ELECTRIC : یہ صنعت و ٹکنالوجی سے متعلق ایک کثیر القومی گروپ ہے جس کا صدر دفتر امریکا میں ہے۔ کمپنی نے امریکی وزارت خزانہ نے جوہری معاہدہ طے پانے اور ایران پر سے پابندیاں اٹھا لیے جانے کے بعد "جنرل الیکٹرک" ایران کے ساتھ کام کرنے کے لیے خصوص اجازت نامہ دیا تھا۔
5 ۔ HONEYWELL: متعدد سرگرمیوں کی حامل امریکی کمپنی جو جدید ترین الکٹرونک ٹکنالوجی کے میدان میں ایک بڑا نام ہے۔ سال 2016ء سے کمپنی ایران میں 11 کروڑ ڈالر کا منافع کما چکی ہے۔ کچھ عرصقہ قبل کمپنی نے ایران سے نکل جانے کا اعلان کیا۔
6 ۔ BOEING : طیارے تیار کرنے والی معروف کمپنی بوئنگ نے ایرانی فضائی کمپنیوں کو طیاروں کی فروخت کے لیے 20 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ تاہم حال ہی میں کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ تہران پر امریکی پابندیوں کی پاسداری کرتے ہوئے ایرانی کمپنیوں کو کوئی طیارہ فرخت نہیں کرے گی۔
7 ۔ LUKOIL : یہ تیل کی مصنوعات کے شعبے میں کام کرنے والی روس کی دوسری بڑی کمپنی شمار کی جاتی ہے۔ کمپنی نے مئی کے اختتام پر اعلان کیا کہ وہ تہران پر امریکی پابندیوں کے سبب تیل کے سیکٹر میں ایرانی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری جاری نہیں رکھے گی۔
8 ۔ RELIANCE : بھارتی کمپنی جو دنیا بھر میں آئل ریفائننگ کے سب سے بڑے کمپلیکس کی مالک ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز نے مئی کے اختتام پر اعلان کیا تھا کہ وہ ایران سے تیل کی درآمد روکنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ توقع ہے کہ کمپنی کی جانب سے اس فیصلے پر عمل درامد اکتوبر یا نومبر سے شروع ہو جائے گا۔
9 ۔ DOVER : ایک امریکی کمپنی جو صنعتی ساز و سامان، الکٹرونک آلات اور تیل کی صنعت کو مطلوب سامان تیار کرتی ہے۔ کمپنی نے 2017ء میں ایران کے ساتھ پہلا معاہدہ طے کیا تھا تاہم جوہری معاہدے سے امریکا کے نکل جانے کے بعد کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران میں اپنی تمام سرگرمیوں کے خاتمے کے درپے ہے۔
10 ۔ SIEMENS : ایک کثیر القومی کمپنی جس کا صدر دفتر جرمنی میں ہے۔ یہ مختلف صنعتی شعبوں میں کام انجام دے رہی ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ ایران سے کوئی نیا آرڈر قبول نہیں کرے گی اور اب سے بتدریج ایران میں اپنی سرگرمیوں میں کمی لائے گی۔

انٹرنیشنل

ہندو بننے کی دھمکی

شائع شدہ

کو

ہندو بننے کی دھمکی

بھارت میں پاسپورٹ بنوانے جانے والے جوڑے سے مذہب تبدیلی کا مطالبہ کردیا گیا۔ محمد انس صدیقی نے 2007 میں لکھنو میں تنوی سیٹھ سے شادی کی تھی ، ان کی ایک 6 سال کی بیٹی بھی ہے۔ انس صدیقی نے 19 جون کو اپنے اور اپنی بیوی کے پاسپورٹ کے لئے لکھنو میں درخواست دی ۔ 20 جون کو لکھنو کے پاسپورٹ آفس میں،وکاس مشرا نام کے آفیسرنے جب شوہر کانام محمد انس صدیقی لکھا دیکھا تو بیوی پر چلانے لگا، کہ اسےمسلمان سے شادی نہیں کرنی چاہئے تھی اور ان کی درخواست خارج کردی گئی۔ اس کے بعد پاسپورٹ آفیسر وکاس مشرا نے شوہر کو بلایا اور بے عزتی کرنے لگا اورکہا کہ ہندو مذہب اپنالو، ورنہ یہ شادی نہیں مانی جائے گی ۔ جوڑے نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے وزیر خارجہ سشما سوراج سے مدد کی اپیل کی ہے ۔

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

سنسنی خیزانکشافات

شائع شدہ

کو

سنسنی خیزانکشافات

دستاویزات میں 2016 سے 2017 تک ای میلز، پاسپورٹس، اور مقدمات کی فائلیں شامل ہیں۔ پاناما میں آف شور کمپنیاں بنانے میں معاون قانونی فرم موزیک فونسیکا اپنے 75 فیصد کلائنٹس سے بےخبرتھی۔ نئی دستاویز میں ہونے والے انکشاف کے مطابق پاناما پیپرز کمپنی برٹش ورجن آئی لینڈ میں 70، پاناما میں 75 فیصد مالکان شناخت نہ کرسکی۔ کمپنی نےاپنے کلائنٹس ڈھونڈنے کےلیے 2016 میں سرتوڑ کوششیں کی۔، اس کے علاوہ موزیک فونسیکا اپنے موکلوں کی شناخت میں مصروف رہی۔ ریکارڈ افشا ہونے کے 2 ماہ بعد بھی فونسیکا پاناما کی 75 فیصد آف شور کمپنیوں کےمالکان کی شناخت نہ کرسکی۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق موزیک فونسیکا نے 2016 میں پاناما لیک اپنےموکلوں کی ساڑھے 11 ملین فائلیں دیکھیں۔ نئی دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ موزیک فونسیکا نے موکلوں سے تعلق کو چھپانے کےلیے اپنا کاروباری نام بدلا اور ساموا میں سینٹرل کارپوریٹ سروسز کا نام اختیار کیا۔ فونسیکا نے کمپنی مالکان سے پاسپورٹ کاپی، گیس بل اورریفرنس لیٹر بھی اچانک مانگناشروع کردیئے۔ موزیک فونسیکا نے ہردوسرے روز موکلوں کو ای میل پر ای میل بھیجنا شروع کردیں۔
اپریل 2016 کو پاناما پیپرز سامنے آتے ہی موزیک فونسیکا پر پریشان موکلوں کی ای میلز کا تانتا بندھ گیا۔ نئی دستاویزات کے مطابق بیشتر پریشان موکل یہ جاننا چاہتے تھے کہ ’’بینی فیشل اونرشپ‘‘ سے متعلق حساس معلومات افشا تو نہیں ہوگئیں۔ سوئس وکیل نے کمپنی کو فوری بند کرنے کی درخواست کی جس پر فونسیکا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بینک کاریفرنس لیٹر دیں جس پر سوئس وکیل نے جواب دیا پاناما میں تم احمق بیٹھے ہو، قانون کے تحت ہو تو ریگولیٹر تمھیں بند کرڈالے۔ پریشان فرانسیسی مشیر نے فونسیکا کو ای میل کی جس میں انہوں نے کہا کہ میرانام اپنی تمام فائلوں سے ڈیلیٹ کردو۔ لکسمبرگ سے بھیجی جانے والی ایک ای میل میں کلائنٹ کے نمائندے نے لکھا کہ پاناما پیپرز کی وجہ سے اس کے موکل کو کینیڈا میں مشکلات کا سامنا ہے اس لیے پتا فوراً بدلا جائے۔ سوئس مینیجر کی جانب سے بھیجی جانے والی ای میل میں کہا گیا کہ ای میلزبھیج کرتم قائل کرنےکی کوشش کررہے ہو کہ صورتحال پرقابوپالوگے، 11 لاکھ 60 ہزار دیگر دستاویزات کی طرح یہ دستاویزات بھی شاید سامنےآجائیں، پروا نہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

بریگزیٹ بل منظور

شائع شدہ

کو

بریگزیٹ بل منظور

برطانوی پارلیمنٹ نے بریگزیٹ بل منظورکرلیا، دارالعوام میں بل کی منظوری میں حکومت کو دانتوں تلے پسینہ آگیا ۔ یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی سے متعلق بل پرکئی ماہ سے بحث جاری تھی ۔ شاہی منظوری کے بعد بریگزٹ بل قانون کادرجہ حاصل کرلےگا۔یورپی یونین میں رہنے کے حامی اراکین کا بل 303 کے مقابلے میں حکومتی اراکین نے 319 ووٹوں سے مسترد کر دیا تاہم حکومت کو دانتوں تلے پسینہ آگیا ۔ بیمار نازشاہ کو وہیل چیئر پراسپتال سے لایا گیا،نازشاہ شدید تکلیف کے باعث مارفین کے زیراثر تھیں، انہیںدس منٹ کا کہہ کر 3 گھنٹے تک ایوان میں رکھا گیا۔ لابی سے گزرنے کی باری آئی تو نازشاہ کی وہیل چیئر چوڑی پڑگئی۔ہاؤس کے دوسرے راستے سے وہیل چیئر پرناز شاہ کو واپس لایا گیا۔ اسی طرح ایک اور حاملہ رکن پارلیمنٹ کو ووٹ دینے کے لیئے مجبور کیا گیا ۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں