Connect with us

ٹیکنا لوجی

سورج کی جانب اپنا نام بھیجیں

شائع شدہ

کو

سورج کی جانب اپنا نام بھیجیں

پیساڈینا، کیلیفورنیا: اب آپ ناسا کے ذریعے اپنا نام سورج کی جانب بھیج سکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو ناسا کی اس ویب سائٹ پر جا کر اپنا نام اور ای میل ایڈریس شامل کرنا ہوگا۔ اس کے بعد آپ کو اپنے نام کا سرٹیفکیٹ بھی بھیج دیا جائے گا۔ ناسا نے پوری دنیا کے لوگوں سے اپنا نام شامل کرنے کی درخواست کی ہے۔ناسا نے اسے سورج کے ٹکٹ کا نام دیا ہے جس کا مقصد عوام کو اس خلائی منصوبے اور سورج کے متعلق معلومات فراہم کرنا ہے۔ آپ کا نام ایک مائیکرو چپ میں ڈیجیٹل انداز میں لکھ کر اسے پارکر سولر پروب سورج کی جانب بھیجا جائے گا ۔ ناسا کے مطابق پارکر خلائی جہاز اس سال موسمِ سرما میں زمین سے لانچ کیا جائے گا۔
پارکر سولر پروب زمین سے جانے والا پہلا خلائی جہاز ہے جو سورج کے انتہائی قریب جاکر وہاں کا احوال بھیجے گا اور آخرکار وہاں پگھل کر ختم ہوجائے گا۔ اس دوران وہ سورج کی تصاویر اور ڈیٹا بھیجتا رہے گا۔ ناسا کی سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ 6 عشروں سے ماہرین کے ذہنوں میں سورج کے متعلق جو سوالات ہیں پارکر خلائی جہاز ان کا جواب دینے کی کوشش کرے گا۔خلائی جہاز کی جسامت ایک چھوٹی کار جتنی ہے جو سورج کے بہت سے راز فاش کرے گا۔ سورج کے قریب پہنچنے کے بعد یہ قریبا 4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی زبردست رفتار سے اپنا سفر طے کرے گا۔ دوسری جانب پارکر سولر مشن کے ڈپٹی مینیجر پیٹرک ہِل نے کہا ہے کہ اب تک انہیں دنیا بھر سے 2 لاکھ نام موصول ہوچکے ہیں۔
خلائی جہاز کا نام ایک سائنسدان یوگین پارکر کے نام پر رکھا گیا ہے جس نے ستاروں اور خود ہمارے سورج پر بہت تحقیق کی تھی۔ پارکر میں چار اہم ، جدید ترین اور حساس آلات لگے ہیں جو سورج کے مقناطیسی نظام، پلازمہ اور توانائی کے ذرات کے علاوہ اس کی تفصیلی اور خوبصورت تصاویر بھی لے گا۔ اس کے کئی آلات جانز ہاپکنز کی اپلائیڈ فزکس لیبارٹری کے ماہرین نے بھی تیار کیے ہیں۔
خلائی جہاز کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں کاربن کمپوزٹ کی ایک حفاظتی ڈھال لگائی گئی ہے جس کی موٹائی ساڑھے چار انچ ہے۔ اس کے ذریعے خلائی جہاز 2500 فارن ہائٹ درجہ حرارت برداشت کرسکتا ہے۔ کروڑوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے پارکر خلائی جہاز 2025ء میں سورج تک پہنچے گا۔

ٹیکنا لوجی

نئی ایپ متعارف

شائع شدہ

کو

نئی ایپ متعارف

ایپل فون کے سافٹ ویئر آئی او ایس کے لیے پکسار اور ایپل کمپنی نے مشترکہ طور پر ایک نیا فائل فارمیٹ متعارف کرایا ہے جسے یو ایس ڈی زیڈ فائل فارمیٹ کا نام دیا گیا ہے۔
ہم کمپیوٹراورٹیبلٹ پر تصاویر اور ویڈیو کے کئی فارمیٹ سے واقف ہیں تاہم موبائل فون کی آمد سے ہم آگمینٹڈ ریئلٹی کے ایک نئے تصور سے روشناس ہوئے ہیں جو اس سے قبل خاص ہیلمٹ ڈسپلے کی بدولت ہی ممکن تھا۔ لیکن اب یو ایس ڈی زیڈ فارمیٹ والی فائلوں کو کسی بھی حقیقی ماحول کی ویڈیو میں رکھ کر اس کو تھری ڈی انداز میں دیکھنا ممکن ہوگا اور اسے بطور معیار اپنا کر لاتعداد اقسام کے آلات کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ یوایس ڈی زیڈ فائلوں کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان پر کلک کرکے انہیں انٹرایکٹو انداز میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

نئی دلچسپ ایپلی کیشن

شائع شدہ

کو

نئی دلچسپ ایپلی کیشن

ایپل فون کے سافٹ ویئر آئی او ایس کے لیے پکسار اور ایپل کمپنی نے مشترکہ طور پر ایک نیا فائل فارمیٹ متعارف کرایا ہے جسے یو ایس ڈی زیڈ فائل فارمیٹ کا نام دیا گیا ہے۔ہم کمپیوٹراورٹیبلٹ پر تصاویر اور ویڈیو کے کئی فارمیٹ سے واقف ہیں تاہم موبائل فون کی آمد سے ہم آگمینٹڈ ریئلٹی کے ایک نئے تصور سے روشناس ہوئے ہیں جو اس سے قبل خاص ہیلمٹ ڈسپلے کی بدولت ہی ممکن تھا۔ لیکن اب یو ایس ڈی زیڈ فارمیٹ والی فائلوں کو کسی بھی حقیقی ماحول کی ویڈیو میں رکھ کر اس کو تھری ڈی انداز میں دیکھنا ممکن ہوگا اور اسے بطور معیار اپنا کر لاتعداد اقسام کے آلات کے لیے استعمال کیا جاسکےگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

نئی ایجاد

شائع شدہ

کو

نئی ایجاد

گوگل کمپنی صارفین کی سہولت کے پیش نظر مختلف اقدامات اٹھاتی رہتی ہے اور اب اس نے ایک نئی اَپ ڈیٹ متعارف کروائی ہے، جس کے تحت اینڈرائڈ موبائل پیغامات یعنی میسجز ڈیسک ٹاپ پر بھی آسانی کے ساتھ وصول اور بھیجے جا سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ میش ایبل کی رپورٹ کے مطابق گوگل آج سے اینڈرائڈ میسجز کے لیے ڈیسک ٹاپ کی خدمات فراہم کر رہا ہے، بالکل اُسی طرح جیسے واٹس ایپ اور آئی او ایس میسجز کے لیے ڈیسک ٹاپ کی سہولت موجود ہے۔ اب صارف چاہے لیپ ٹاپ، کمپیوٹر یا آئی پیڈ استعمال کر رہا ہو، اسے صرف اینڈرائڈ میسجز ویب کو ڈیسک ٹاپ پر کھولنا ہوگا جس کے بعد کیو آر کوڈ موبائل سے اسکین کرکے چلانا ہوگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں