Connect with us

صحت

قدرتی شناختی کارڈ

شائع شدہ

کو

قدرتی شناختی کارڈ

ڈی این اے، ڈی آکسی رائبو نیوکلیک ایسڈ کا مخفف ہے۔ اس میں انسانوں اور تمام جانداروں کے جسم میں پایا جانے والا وراثتی مادہ ہوتا ہے۔ انسانی جسم کی اکائی خلیہ ہوتی ہے۔ اس خلیے کے درمیان میں مرکزہ یا نیوکلئیس ہوتا ہے جس کے اندر ڈی این اے ہوتا ہے۔ انسانی جسم کے تمام خلیوں میں ایک جیسا ہی ڈی این اے پایا جاتا ہے۔ ہر انسان کا ڈی این اے دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے۔ ہر انسان اپنے ڈی این اے کا نصف حصہ اپنی والدہ اور بقیہ اپنے والد سے وصول کرتا ہے۔ ان دونوں ڈی این اے کے مخصوص مرکب سے انسان کا اپنا ڈی این اے بنتا ہے۔
ڈی این اے میں انسان کے بارے میں بنیادی معلومات ہوتی ہیں مثلاً اس کی جنس، بالوں کا رنگ، آنکھوں کا رنگ اور جسمانی ساخت وغیرہ۔ اس کے علاوہ اس انسان کو کون کون سی بیماریاں لاحق ہونے کا امکان ہے، یہ بھی اس کے ڈی این اے سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ جس شخص کا بھی ڈی این اے کا ٹیسٹ مقصود ہو اس کا بال،خون، ہڈی اور گوشت یا ان میں سے کسی ایک چیز کا نمونہ لیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے انسانی خلیے میں سے ڈی این اے الگ کیا جاتا ہے اور پھر پولیمیریز چین ری ایکشن نامی طریقے کی مدد سے اس ڈی این اے کی کثیر نقول بنا لی جاتی ہیں۔

صحت

جلدی کھایئے، ماہرین

شائع شدہ

کو

جلدی کھایئے، ماہرین

اسپین کے ماہرینِ غذائیات نے ایک طویل مطالعے کے بعد دریافت کیا ہے کہ اگر رات کا کھانا جلدی کھا لیا جائے تو اس سے مردوں کو پروسٹیٹ کینسر سے جبکہ خواتین کو بریسٹ کینسر سے بچنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ بارسلونا انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ میں مانولس کوجیویناس کی سربراہی میں کیے گئے اس مطالعے میں مجموعی طور پر تقریباً 4000 رضاکاروں کو شریک کیا گیا جن میں 2500 خواتین اور 1500 مرد شامل تھے۔ رضاکاروں میں سے نصف صحت مند جبکہ نصف کو پروسٹیٹ/ بریسٹ کینسر تھا۔ ان تمام افراد کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا جبکہ ان کے روزمرہ معمولات سے متعلق ان سے سوالنامے بھی بھروائے گئے۔ تفصیلی تجزیئے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو رات کا کھانا جلدی کھانے کے عادی تھے یا رات کے کھانے کے کم از کم دو گھنٹے بعد سونے کےلیے جاتے تھے، ان میں پروسٹیٹ کینسر اور بریسٹ کینسر کی شرح ایسے افراد کے مقابلے میں 20 فیصد کم تھا جو یا بالعموم رات کا کھانا دیر سے کھایا کرتے تھے یا پھر رات کا کھانا کھانے کے فوراً بعد ہی سونے کےلیے لیٹ جایا کرتے تھے۔
انٹرنیشنل جرنل آف کینسر کے تازہ شمارے میں شائع شدہ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر رات کا کھانا ایسے وقت پر کھالیا جائے کہ جب سونے میں کم از کم دو گھنٹے باقی ہوں، تو جہاں صحت کے دوسرے فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں کم از کم دو اقسام کے سرطانوں کا خطرہ بھی بڑی حد تک کم ہوجاتا ہے۔ کوجیوناس کے مطابق اب تک کیے گئے مطالعات میں صرف کھانے میں شامل چیزوں اور سرطان میں تعلق ہی پر تحقیق کی گئی تھی جبکہ یہ پہلا موقعہ ہے جب غذا کے ساتھ ساتھ اس کے وقت اور سونے جاگنے کے اوقات بھی مدنظر رکھے گئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

ان کا بالکل فائدہ نہیں

شائع شدہ

کو

ان کا بالکل فائدہ نہیں

اگر آپ مچھلی کے تیل کے کیپسول اس توقع کے ساتھ کھاتے ہیں کہ اس سے دل کی صحت بہتر ہوگی تو بہتر ہے کہ یہ پیسے سبزیوں پر خرچ کریں۔
یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایسٹ Anglia یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ مچھلی میں موجود فیٹی ایسڈز جو کہ دل کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، مچھلی کے تیل کے کیپسول کے سپلیمنٹ کی صورت میں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے۔
دنیا بھر میں لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد مچھلی کے تیل کے کیپسول اس توقع کے ساتھ کھاتے ہیں کہ اس سے امراض قلب کو تحفظ مل سکے گا۔ محققین نے اس حوالے سے شواہد کا جائزہ لیا تاکہ جانا جاسکے کہ یہ امراض قلب، ہارٹ اٹیک یا فالج سے بچاﺅ میں کس حد تک مدگار ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ مچھلی کے تیل کے کیپسول ہارٹ اٹیک، فالج یا دیگر امراض قلب کے خطرے میں کوئی خاص کمی نہیں لاتے۔ درحقیقت انہوں نے دریافت کیا کہ اس سپلیمنٹ کا استعمال صحت کے لیے فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے کا باعث بن سکتا ہے جس سے شریانوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کے سپلیمنٹ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند نہیں یا ان کے استعمال سے فالج کا خطرہ کم نہیں ہوتا۔
اس سے قبل گزشتہ سال نیویارک یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے فوائد کا حصول تیل کے کیپسول سے نہیں بلکہ مچھلی کھانے سے حاصل ہوتے ہیں۔اسی طرح امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مچھلی کے تیل کے کیپسول کا استعمال کسی قسم کے طبی فوائد کا حامل نہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

مریضوں کیلئے خوشخبری

شائع شدہ

کو

مریضوں کیلئے خوشخبری

بلند فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر ایک ایسی بیماری ہے جو دیگر کئی امراض اور خطرات کو پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ دماغ کی رگ پھٹنے یا دل کے دورے کا سبب بن سکتی ہے جس سے فوری طور پر موت واقع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ غذائیں ایسی ہیں جن کے باقاعدہ استعمال سے ہم اپنا بلڈ پریشر قابو میں رکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں تو آپ کو ان غذاؤں کا باقاعدہ استعمال کرنا چاہیئے۔
کیلا
مریضوں کیلئے خوشخبری
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ 2 کیلے کھانا آپ کے بلڈ پریشر کو معمول کی سطح پر رکھتا ہے، جبکہ 3 کیلے فالج سے بھی حفاظت فراہم کرتے ہیں۔ کیلوں میں پوٹاشیم کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو ان دونوں امراض سے حفاظت فراہم کرتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ آسانی سے ہضم ہونے والی غذا ہے جو دن کے کسی بھی حصے میں کھائی جاسکتی ہے۔
تربوز
مریضوں کیلئے خوشخبری
تربوز میں موجود عناصر جسم کی مختلف رگوں کو آرام دہ حالت میں لاتے ہیں جس سے بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے۔ طبی ماہرین کی تجویز ہے کہ ناشتے میں تربوز کا استعمال دن بھر آپ کو مختلف اقسام کے تناؤ سے محفوظ رکھتا ہے۔
خشک میوہ جات
مریضوں کیلئے خوشخبری
خشک میوہ جات کی مناسب مقدار جسم میں شوگر اور فشار خون کی سطح کو معمول کے مطابق رکھتی ہے تاہم اس کا زیادہ استعمال صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہے کیونکہ یہ چکنائی سے بھرپور ہوتے ہیں۔
نارنگی
مریضوں کیلئے خوشخبری
سردیوں کا خاص پھل نارنگی نہ صرف قوت مدافعت کو مضبوط اور کئی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ یہ بلڈ پریشر کو بھی قابو میں رکھتا ہے۔
دلیہ
مریضوں کیلئے خوشخبری
ماہرین کے مطابق ناشتے میں دلیہ کھانا جسم میں خون کی سطح کو معمول پر رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ لیکن خیال رہے کہ اس کے لیے سادہ دلیہ استعمال کیا جائے، مختلف فلیورز کے دلیہ میں شوگر کی غیر ضروری مقدار شامل کی جاتی ہے جو جسم کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ٹماٹر
مریضوں کیلئے خوشخبری
کچے ٹماٹر کھانا نہ صرف بلڈ پریشر میں کمی کرتا ہے بلکہ یہ جلد کو بھی جوان اور خوبصورت رکھتا ہے اور جھریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
گاجر
مریضوں کیلئے خوشخبری
گاجر میں موجود پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس بلڈ پریشر کو معمول کی سطح پر لانے کا اہم ذریعہ ہیں۔ گاجر کا جوس ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے نہایت فائدہ مند ہے۔
آلو
مریضوں کیلئے خوشخبری
زیادہ آلو کھانا ویسے تو موٹاپے کا سبب بنتا ہے لیکن یہ خون کے بہاؤ کو نارمل رکھتا ہے لہٰذا کبھی کبھار آلو کھا لینے میں کوئی حرج نہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں