Connect with us

ٹیکنا لوجی

سمارٹ بینڈیج

شائع شدہ

کو

سمارٹ بینڈیج

سائنس دانوں نے پیچیدہ زخموں پر نظر رکھنے اور ان کے علاج کےلیے ’سمارٹ بینڈیج‘ (ذہین پٹی) ایجاد کر لی جو نہ صرف زخم بھرنے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ زخم تک دوا کی فراہمی کو بھی یقینی بنائے گی۔
سائنسی جریدے اسمال میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق سمارٹ بینڈیج زخم کو بھرنے میں نہایت کارگر ہے جو زخم بھرنے کے روایتی طریقوں کو مات دے دے گی۔ زخموں کے علاج کےلیے ٹیکنالوجی کے استعمال سے مریضوں کو فوری فائدہ پہنچے گا بالخصوص جلے ہوئے اعضا، حادثات اور ذیابیطس کے باعث ہونے والے زخموں کے علاج میں اس ٹیکنالوجی سے خاصی مدد حاصل ہو گی۔ طبی محققین کی ایک ٹیم نے ایسی سمارٹ کمپیوٹرائزڈ پٹی تیار کی ہے جو زخم بھرنے کے عمل کے انڈیکیٹرز جیسے پی ایچ، آکسیجن اور درجہ حرارت پر نظر رکھنے کی اہلیت رکھتی ہے جب کہ اس بینڈیج کی سب سے خاص بات برقی توانائی کا استعمال کرکے زخم کو دوا فراہم کرنا ہے جس سے پیچیدہ سے پیچیدہ زخم بھی ٹھیک ہوجاتا ہے۔

ٹیکنا لوجی

جرمانہ

شائع شدہ

کو

جرمانہ

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گوگل نے اپنے اینڈرائڈ موبائل سافٹ ویئر کو مارکیٹ پر حاوی کرنے کی خاطر حریف سافٹ ویئر کے خلاف اقدامات کیے تھے جس پر یورپی یونین نے گوگل پر جرمانہ عائد کردیا۔ یورپی یونین نے گوگل کو جرمانے کے حوالے سے باقاعدہ طور پر آگاہ کردیا ہے اور ادائیگی کے لیے صرف 14 روز کی مہلت دی گئی ہے جب کہ انٹرنیٹ جائنٹ گوگل کو جرمانے کی پوری رقم 2 ہفتوں میں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے اب تک کسی بھی کمپنی پر عائد کیا جانے والا یہ سب سے بڑا جرمانہ ہے جب کہ گزشتہ سال ہی گوگل پر ریکارڈ جرمانہ عائد کیا گیا تھا جو 2.3 ارب یورو تھا۔ بظاہر گوگل کو یہ ریکارڈ جرمانہ زیادہ متاثر نہیں کرے گا کیونکہ کمپنی کے پاس اس وقت 645 ارب یورو کی ملکیت موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 80 فیصد اسمارٹ فونز میں اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال ہوتا ہے جو مستقبل میں آئن لائن خریدو فروخت کے لیے گوگل کی آمدنی میں اضافے کے لیے موثر ثابت ہوگا جب کہ دیگر کمپنیاں کم ریونیو حاصل کرنے کی وجہ سے پریشان ہیں اور ضمن میں گوگل نے واضح کیا ہے کہ کاروبار میں اضافے اور مارکیٹ پر برتری کے لیے اس نے کوئی غلط اقدامات نہیں اٹھائے۔ واضح رہے یہ جرمانہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین اور امریکا کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے،ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یورپی یونین کو اپنا بڑا دشمن قرار دیا تھا جب کی یورپی یونین پہلے ہی کہ چکا تھی کہ ٹرمپ جیسے دوست کے ہوتے ہوئے کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

ویژوئل اسنیپ شاٹ متعارف

شائع شدہ

کو

ویژوئل اسنیپ شاٹ متعارف

جدید دور میں انسان کی مصروفیات اس قدر بڑھ گئیں ہیں کہ اکثر ذہن سے کوئی نہ کوئی کام نکل ہی جاتا ہے ایسے میں گوگل اسیسٹنٹ ایپ میں نیا ’ویژوئل اسنیپ شاٹ‘ فیچر متعارف کیا گیا ہے جو صارف کے دن بھر کے شیڈول کا خاص خیال رکھے گا۔
گوگل بلاگ پوسٹ کے مطابق ’ویژوئل اسنیپ شاٹ‘ فیچر اہم ملاقات، بل اور دیگر اخراجات کی ادائیگی کی تاریخ، سالگرہ، تقاریب وغیرہ کی معلومات کو ویڈیو کے ذریعے نمایاں کرے گا تاکہ دن کے شیڈول میں صارف کوئی اہم کام کرنا نہ بھول جائے۔ اس فیچر میں مقامی جگہ، ٹریفک اور فلائٹ شیڈول کی معلومات بھی مکمل طور پر ویڈیو کی شکل میں دستیاب ہوگی۔ ’ویژوئل اسنیپ شاٹ‘ فیچر گاہے بگاہے صارفین کو دن بھر کے کاموں کے حوالے سے آگاہی فراہم کرتا رہے گا یہی نہیں فیچر کی نوٹیفکیشن فعال کرنے سے جس تاریخ پر کوئی پروگرام، بل کی تاریخ، جم اوقات یا دیگر کوئی کام ہوگا یہ اس حوالے سے آگاہ کرے گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

ہیروں کے ذخائر

شائع شدہ

کو

ہیروں کے ذخائر

ماہرین نے زمین کی اتھاہ گہرائی میں ہزاروں کھرب ٹن ہیرے کے ذخائر کا انکشاف کیا ہے۔
اگر آپ اب تک اس بات کو ماننے کےلیے تیار نہیں کہ ہیرا اتنا ہی نایاب اور قیمتی ہے جتنی اس کی تشہیر کی جاتی ہے تو آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ہیرے کی نئی کھیپ دریافت ہوچکی ہے۔ ماہرین ارضیات نے آواز کی لہروں کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی گہرائی میں ہیروں کا بہت بڑا ذخیرہ دریافت کیا ہے جو ممکنہ طور پر ہزاروں کھرب ٹن ہوسکتا ہے۔ دراصل ماہرین کی بین الاقوامی ٹیم ایک طویل ارضیاتی راز کی کھوج میں مصروف تھی کہ اس دوران ان پر یہ انکشاف ہوا جس کے بعد اس پر مزید تحققیات کا آغاز کیا گیا۔ سائنسدان زلزلے کی سرگرمیوں کا مطالعہ کرکے یہ معلوم کررہے تھے کہ زمین کن اقسام کے پتھروں اور چٹانوں پر مشتمل ہے؟ صدماتی موجیں یا شاک ویوز، زلزلے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں لیکن مختلف اقسام کی چٹانوں میں رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ اسی فرق کی مدد سے زمین کی گہرائی میں موجود مختلف مادوں یا ساختوں کے بارے میں پتا لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک علاقہ ایسا تھا جہاں سے آنے والی آواز کی لہروں کا انداز غیرمتوقع طور پر بالکل مختلف تھا۔ یہ علاقہ ’’کریٹن‘‘کہلاتا ہے جو سطح زمین سے 145 تا 240 کلومیٹر گہرائی میں واقع ہے اور جسے زمین کی سب سے بالائی پرت یعنی قشرِ ارض کی ’’جڑ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں