Connect with us

ٹیکنا لوجی

پہلا سیارہ دریافت

شائع شدہ

کو

پہلا سیارہ دریافت

فلکیات دانوں نے ایک اہم دریافت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے قدیم یا ابتدائی کائنات کے روشن ترین جسم کو دیکھا ہے جو 13 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، یہ ایک کوزار ہے جو ایک قدیم کہکشاں کے مرکز میں بہت بڑے بلیک ہول پر مشتمل تھا۔
تیرہ ارب نوری سال پرانے اس منظر کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ تماشا اب ختم ہوچکا ہوگا کیونکہ ہم کائنات کی 13 ارب سال پرانی تصویر دیکھ رہے ہیں۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق اس روشن تصویر کی وجہ یہ ہے کہ کوزار کے بیچوں بیچ موجود بلیک ہول بڑی تیزی سے مادہ نگل رہا تھا جس سے زبردست توانائی خارج ہورہی تھی جس کا مشاہدہ روشنی اور ریڈیو لہروں کی شکل میں گیا گیا ہے۔ مادے اور گرد کا ایک عظیم ذخیرہ بلیک ہول کے اندر گرتے ہوئے اس تیزی سے گھوم رہا تھا جیسے ایک گڑھے میں پانی گرتے ہوئے بھنور کی طرح چکر کھاتا ہے۔ اس سے بلیک ہول کے مرکز میں طاقتور ثقلی لہریں پیدا ہورہی تھیں۔ مادہ نگلتے دوران بلیک ہول سے پلازما کی بڑی مقدار خارج ہورہی تھی جو بہت روشن نظر آرہی ہے۔

ٹیکنا لوجی

جرمانہ

شائع شدہ

کو

جرمانہ

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گوگل نے اپنے اینڈرائڈ موبائل سافٹ ویئر کو مارکیٹ پر حاوی کرنے کی خاطر حریف سافٹ ویئر کے خلاف اقدامات کیے تھے جس پر یورپی یونین نے گوگل پر جرمانہ عائد کردیا۔ یورپی یونین نے گوگل کو جرمانے کے حوالے سے باقاعدہ طور پر آگاہ کردیا ہے اور ادائیگی کے لیے صرف 14 روز کی مہلت دی گئی ہے جب کہ انٹرنیٹ جائنٹ گوگل کو جرمانے کی پوری رقم 2 ہفتوں میں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے اب تک کسی بھی کمپنی پر عائد کیا جانے والا یہ سب سے بڑا جرمانہ ہے جب کہ گزشتہ سال ہی گوگل پر ریکارڈ جرمانہ عائد کیا گیا تھا جو 2.3 ارب یورو تھا۔ بظاہر گوگل کو یہ ریکارڈ جرمانہ زیادہ متاثر نہیں کرے گا کیونکہ کمپنی کے پاس اس وقت 645 ارب یورو کی ملکیت موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 80 فیصد اسمارٹ فونز میں اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال ہوتا ہے جو مستقبل میں آئن لائن خریدو فروخت کے لیے گوگل کی آمدنی میں اضافے کے لیے موثر ثابت ہوگا جب کہ دیگر کمپنیاں کم ریونیو حاصل کرنے کی وجہ سے پریشان ہیں اور ضمن میں گوگل نے واضح کیا ہے کہ کاروبار میں اضافے اور مارکیٹ پر برتری کے لیے اس نے کوئی غلط اقدامات نہیں اٹھائے۔ واضح رہے یہ جرمانہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین اور امریکا کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے،ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یورپی یونین کو اپنا بڑا دشمن قرار دیا تھا جب کی یورپی یونین پہلے ہی کہ چکا تھی کہ ٹرمپ جیسے دوست کے ہوتے ہوئے کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

ویژوئل اسنیپ شاٹ متعارف

شائع شدہ

کو

ویژوئل اسنیپ شاٹ متعارف

جدید دور میں انسان کی مصروفیات اس قدر بڑھ گئیں ہیں کہ اکثر ذہن سے کوئی نہ کوئی کام نکل ہی جاتا ہے ایسے میں گوگل اسیسٹنٹ ایپ میں نیا ’ویژوئل اسنیپ شاٹ‘ فیچر متعارف کیا گیا ہے جو صارف کے دن بھر کے شیڈول کا خاص خیال رکھے گا۔
گوگل بلاگ پوسٹ کے مطابق ’ویژوئل اسنیپ شاٹ‘ فیچر اہم ملاقات، بل اور دیگر اخراجات کی ادائیگی کی تاریخ، سالگرہ، تقاریب وغیرہ کی معلومات کو ویڈیو کے ذریعے نمایاں کرے گا تاکہ دن کے شیڈول میں صارف کوئی اہم کام کرنا نہ بھول جائے۔ اس فیچر میں مقامی جگہ، ٹریفک اور فلائٹ شیڈول کی معلومات بھی مکمل طور پر ویڈیو کی شکل میں دستیاب ہوگی۔ ’ویژوئل اسنیپ شاٹ‘ فیچر گاہے بگاہے صارفین کو دن بھر کے کاموں کے حوالے سے آگاہی فراہم کرتا رہے گا یہی نہیں فیچر کی نوٹیفکیشن فعال کرنے سے جس تاریخ پر کوئی پروگرام، بل کی تاریخ، جم اوقات یا دیگر کوئی کام ہوگا یہ اس حوالے سے آگاہ کرے گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

ہیروں کے ذخائر

شائع شدہ

کو

ہیروں کے ذخائر

ماہرین نے زمین کی اتھاہ گہرائی میں ہزاروں کھرب ٹن ہیرے کے ذخائر کا انکشاف کیا ہے۔
اگر آپ اب تک اس بات کو ماننے کےلیے تیار نہیں کہ ہیرا اتنا ہی نایاب اور قیمتی ہے جتنی اس کی تشہیر کی جاتی ہے تو آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ہیرے کی نئی کھیپ دریافت ہوچکی ہے۔ ماہرین ارضیات نے آواز کی لہروں کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی گہرائی میں ہیروں کا بہت بڑا ذخیرہ دریافت کیا ہے جو ممکنہ طور پر ہزاروں کھرب ٹن ہوسکتا ہے۔ دراصل ماہرین کی بین الاقوامی ٹیم ایک طویل ارضیاتی راز کی کھوج میں مصروف تھی کہ اس دوران ان پر یہ انکشاف ہوا جس کے بعد اس پر مزید تحققیات کا آغاز کیا گیا۔ سائنسدان زلزلے کی سرگرمیوں کا مطالعہ کرکے یہ معلوم کررہے تھے کہ زمین کن اقسام کے پتھروں اور چٹانوں پر مشتمل ہے؟ صدماتی موجیں یا شاک ویوز، زلزلے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں لیکن مختلف اقسام کی چٹانوں میں رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ اسی فرق کی مدد سے زمین کی گہرائی میں موجود مختلف مادوں یا ساختوں کے بارے میں پتا لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک علاقہ ایسا تھا جہاں سے آنے والی آواز کی لہروں کا انداز غیرمتوقع طور پر بالکل مختلف تھا۔ یہ علاقہ ’’کریٹن‘‘کہلاتا ہے جو سطح زمین سے 145 تا 240 کلومیٹر گہرائی میں واقع ہے اور جسے زمین کی سب سے بالائی پرت یعنی قشرِ ارض کی ’’جڑ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں