Connect with us

انٹرنیشنل

تمام بچوں کو نکال لیا گیا

شائع شدہ

کو

تمام بچوں کو نکال لیا گیا

تھائی لینڈ کے زیر آب غار میں پھنسے اسکول فٹبال ٹیم کے 12 کم عمر کھلاڑیوں اور کوچ کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق آج صبح زیر آب غار میں پھنسے بقیہ 4 بچوں اور ایک کوچ کو نکالنے کے لیے امدادی کام کا آغاز کیا گیا تھا جس کے دوران دو مرحلوں میں بقیہ 4 بچوں اور کوچ کو بحفاظت نکال لیا گیا اس طرح تین دن کے کامیاب آپریشن کے بعد اسکول فٹبال ٹیم کے 12 بچوں اور کوچ کو غار سے نکالا گیا۔ غار سے نکالے گئے تمام بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے تاہم ان کا طبی معائنہ بھی کیا گیا۔ آپریشن کے انچارج نے کہا کہ ریسکیو آپریشن کا آخری مرحلہ مشکلات اور رکاوٹوں سے بھرپور تھا تاہم امدادی ٹیم کا ایک ایک اہلکار کامیاب آپریشن کے لیے پُر عزم اور پر جوش تھا اور سب کا مقصد کسی بھی طرح غار میں پھنسے بے یارو مددگار بچوں کی جان بچانا تھا۔ امدادی کارروائی کا پہلا روز سب سے مشکل تھا تاہم ہم نے اس دن بہت سیکھا جو آج حتمی کارروائی میں مدد گار ثابت ہوا۔
انچارج آپریشن کا کہنا تھا کہ تین دنوں پر مشتمل ریسکیو آپریشن کا آغاز 8 جولائی کو کیا گیا اور طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت ہر روز 4 بچوں کو ریسکیو کرنا تھا جس کے لیے تھائی لینڈ نیوی اور امریکی اہلکاروں کا تعاون بھی شامل تھا۔ سب کی مشترکہ کاوش نے انہونی کو ہونی کردیا جس پر پوری ٹیم مسرور ہے۔ یہ تاریخی لمحہ ہے اور خوشی ہے کہ اس لمحے کے فاتح کھلاڑی ہم ہیں۔ واضح رہے کہ تھائی لینڈ کے مقامی فٹبال کلب کے 12 کم عمر کھلاڑی 23 جون کو اپنے کوچ کے ہمراہ شمالی صوبے یانگ رائی کے معروف غار تھیم لوانگ میں پکنک منانے گئے تھے۔ غار کی سیر کے دوران بارش ہونے کے باعث سیلاب کا پانی غار میں بھرنا شروع ہو گیا جس کی وجہ سے یہ لوگ غار کے اختتامی حصے میں پھنس گئے تھے اور 2 جولائی کو پہلی مرتبہ ریسکیو ٹیم کو ان پھنسے ہوئے بچوں کا سراغ ملا تھا۔

انٹرنیشنل

شام کا قبضہ

شائع شدہ

کو

شام کا قبضہ

شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہےصدر بشار الاسد کی وفادار فورسز نے ملک کے جنوب مغرب میں باغیوں کے ٹھکانوں کے خلاف اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے فوجی اہمیت کی ایک چوٹی تل الحارہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جہاں سے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ سرکاری فورسز کی اس پیش قدمی کے بعد ملک میں سات سال سے جاری خانہ جنگی اب اسرائیل کی دہلیز کے قریب پہنچ گئی ہے جس سے علاقائی کشیدگی میں اضافے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ شام کے سرکاری ٹیلی وژن نے اپنی فوٹیج میں سرکاری فورسز کو اس علاقے میں سب سے اونچی چوٹی پر قومی جھنڈا لہراتے ہوئے دکھایا ہے جہاں سے 1974 کی حدبندی لائن اور اسرائیل کے زیر قبضہ گولان ہائٹس نظر آتی ہیں۔ تل الحارہ کی چوٹی، جو سطح سمندر سے 1100 میٹر بلند ہے، 2014 سے جبہتہ النصر گروپ کے کنٹرول میں چلی آ رہی تھی۔ اس چوٹی پر سے اردن اور اسرائیل کے الجلیل کے علاقے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹی وی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ سرکاری فوجی جبہتہ النصر کے استعمال میں رہنے والے زیر زمین بینکرز کے سامنے کھڑے ہیں۔ کنکریٹ کے تختوں اور سیمنٹ کے ٹوٹے ہوئے حصوں سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ میزائلوں نے کس مقام پر ان بینکروں کو نشانہ بنایا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

مقابلے کیلئے تیار

شائع شدہ

کو

مقابلے کیلئے تیار

ایرانی فوج کے سینیئر کمانڈر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا زمینی، سمندری اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ہر اقدام کا منہ توڑ جواب دینے کی توانائی رکھتے ہیں، مسلح افواج اپنی توانائیوں اور استعداد کی بدولت کہیں بھی اور کسی بھی طرح کے خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

نئے طیاروں کا آرڈر

شائع شدہ

کو

2020 الیکشن لڑنے کا فیصلہ

امریکا کی حکومت نے معروف طیارہ ساز کمپنی 'بوئنگ' کو دو نئے 'ایئر فورس ون' طیاروں کا آرڈر دے دیا ہے جنہیں امریکی صدر کے زیرِ استعمال طیاروں کے بیڑے میں شامل کیا جائے گا۔ امریکی محکمۂ دفاع 'پینٹاگون' نے 'بوئنگ' کو یہ ٹھیکہ دینے کا اعلان منگل کو کیا ہے جس کی مالیت تین ارب 90 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ حکام کے مطابق 'ایئر فورس ون' کے لیے بوئنگ کے 8-747 ساختہ طیاروں کا انتخاب کیا گیا ہے جن پر سرخ، سفید اور نیلا رنگ کیا جائے گا۔ ٹھیکے کی تفصیلات کے مطابق یہ طیارے امریکی حکومت کو دسمبر 2024ء تک ملیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ 2020ء میں دوسری مدت کے لیے بھی صدر منتخب ہونے میں کامیاب رہے تو بھی وہ اپنے دورِ صدارت کے آخری چند ماہ ہی ان نئے طیاروں میں سفر کرسکیں گے۔ اس سے قبل یہ اطلاعات آتی رہی ہیں کہ امریکی ایئر فورس بوئنگ کمپنی پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ جلد سے جلد یہ طیارے تیار کرے کیوں کہ امریکی صدر کے زیرِ استعمال موجودہ 'ایئر فورس ون' طیاروں کے پرانے ہونے کے باعث ان کی مرمت اور انہیں پرواز کے قابل رکھنے پر خاصی رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں