Connect with us

ٹیکنا لوجی

سپر کمپیوٹر منظر عام پر

شائع شدہ

کو

سپر کمپیوٹر منظر عام پر

 امریکا نے دنیا کا اب تک کا طاقت ور ترین سپر کمپیوٹر منظر عام پر پیش کردیا ہے جو ایک سیکنڈ میں دو لاکھ ٹریلین حسابی سوالات حل کرسکتا ہے۔

امریکی محکمہ توانائی کے زیر انتظام اوک رِج نیشنل لیبارٹری (او آر این ایل) نے دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے جو اسی ادارے کے 2012 کے 27 پی ٹا فلاپس کمپیوٹر سے بھی 8 گنا زائد تیز رفتار اور طاقت ور ہے۔حیرت انگیز طور پر سائنس دان اس کمپیوٹر کے حریص ہیں کیونکہ سائنسی تحقیق کے لیے درکار بلند کمپیوٹنگ قوت صرف ایسے سپرکمپیوٹر ہی فراہم کرسکتے ہیں۔  اس وقت موسمیات، کائناتی علوم، بایو کیمسٹری، مصنوعی ذہانت اور دیگر علوم میں بہت زیادہ ڈیٹا پیدا ہورہا ہے جسے سمجھنا اور اس سے نتیجہ نکالنا عام کمپیوٹروں کے بس کی بات نہیں۔اسی بنا پر سائنس داں ایک جانب تو کسی بیماری کو سمجھنے کے لیے اس کا پورا ڈیٹا پروسیس کرتے ہیں تو دوسری جانب فلکیات داں کائنات کی گتھیوں کو سلجھانے کے لیے سپرکمپیوٹر استعمال کرتے ہیں۔

ٹیکنا لوجی

فیس بک کا انوکھا فیچر

شائع شدہ

کو

فیس بک کا انوکھا فیچر

کسی یادگارتصویر میں کسی ایک کی بھی آنکھ بند ہوجائے تو پوری تصویر کا اثر زائل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح صرف چہرے کی تصاویر میں بھی بسا اوقات آنکھیں بند ہوجانے سے پوری تصویر خراب ہوجاتی ہے۔ اگرچہ ایڈوبی فوٹوشاپ ایلیمنٹس جیسے پروگرام اس نقص کو درست کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن فیس بک نے ایک بالکل نئے طریقے سے اس مسئلے کے حل کی جانب کوشش شروع کردی ہے۔فیس بک ریسرچ کے ایک ریسرچ پیپرمیں کہا گیا ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشل انٹیلی جنس) کے تحت نیورل نیٹ ورک سافٹ ویئر بنایا ہے جو تصویرمیں بند آنکھوں کوکھول سکتا ہے۔ یہ پروگرام کھلی آنکھوں والی پوری تصویرسے ڈیٹا حاصل کرتا ہے۔ اس تکینک کو ’جنرل ایڈورسریئل نیٹ ورک‘ (جی اے این) کا نام دیا گیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

انسانوں سے باتیں

شائع شدہ

کو

انسانوں سے باتیں

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سان فرانسسکو میں معروف کمپیوٹر ٹیکنالوجی فرم آئی بی ایم نے انسان اور مصنوعی ذہانت والی مشین کے درمیان مباحثہ کرایا۔ انسان اور کمپیوٹر (جسے پروجیکٹ ڈبیٹر) کا نام دیا گیا ان کے درمیان دلائل کا تبادلہ ہوا جس میں کمپیوٹر نے بغیر انٹرنیٹ سے منسلک ہوئے حیران کن طور پر اخبارات اور تحقیقی مقالوں پر مشتمل دستاویزات کی مدد سےاپنا موقف شرکاء تک پہنچایا اور دیے گئے موضوع پر اپنے دلائل پیش کیے۔
مباحثے کا پہلا موضوع تھا کہ کیا خلائی تحقیقات کے لیے مزید سرکاری رقم درکار ہونی چاہیے؟ اور دوسرا موضوع تھا کہ کیا ٹیلی میڈیسن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مزید سرمایہ کاری ہونی چاہیے؟ دلائل کا آغاز کرنے کے لیے انسان اور کمپیوٹر کو چار چار منٹ دیئے گئے تھے آخر میں دو دو منٹ اپنے اپنے دلائل کو سمیٹنے کے لیے فراہم کیے گئے۔
مکالمے کے دوران انسان اپنی چرب زبانی کے باعث قدرے بہتر انداز میں گفتگو کر رہے تھے لیکن لہجے کے اتار چڑھاو سے ناواقف ہونے کے باوجود کمپیوٹر نے دلائل اور صاف گوئی کی وجہ سے حاضرین کو قائل کرہی لیا۔ سائنس دانوں نے اس پروجیکٹ کو نہایت اہمیت کا حامل بتایا ہے جس سے سوچ، فکر اور تحقیق کے نئے دروازے کھلیں ہوں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

کمپیوٹر سے میسجز بھیجنے کی سہولت

شائع شدہ

کو

کمپیوٹر سے میسجز بھیجنے کی سہولت

گوگل نے کمپیوٹراورلیپ ٹاپ کے ذریعے اینڈرائڈ اسمارٹ فون پر میسیجز بھیجنے اور وصول کرنے کی سہولت متعارف کرادی۔

اینڈرائڈ اسمارٹ فون استعمال کرنے والے اب موبائل ڈیوائس کے بغیر کام کے دوران کمپیوٹر کے ذریعے پیغامات بمعہ تصاویراوراسٹیکربھیج یا وصول کرسکیں گے۔ یہ بالکل ایسا ہی فیچرہے جیسا اینڈرائڈ میں واٹس ایپ ویب اور ایپل میں آئی میسیجرزکے لیے ہے۔گوگل نے یہ فیچر دنیا بھر کے اینڈرائڈ صارفین کے لیے متعارف کرایا ہے جسے استعمال کرنے کے لیے اینڈرائڈ کا  میسیج ورژن اپ ڈیٹ ہونا ضروری ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں