Connect with us

کالم کلوچ

9،"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

شائع شدہ

کو

9،"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

محترم حامد میراپنے کالم "قیمے والے نان پر پابندی ؟" میں لکھتے ہیں کہ
’’قیمے والے نان پر پابندی لگا دینی چاہئے‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘
’’اسلئے کہ قیمے والے نان جمہوریت کیلئے خطرہ بن گئے ہیں۔‘‘
’’وہ کیسے جناب؟‘‘
’’کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کے جلسوں میں غریب عوام ججوں کے خلاف تقریریں سننے نہیں آتے بلکہ قیمے والے نان کھانے آتے ہیں اگر قیمے والے نان بند کر دیئے جائیں تو نواز شریف کے جلسوں میں لوگ آنا کم ہو جائیں گے۔ ‘‘
’’اچھا اچھا تو آپ قیمے والے نان پر پابندی کی بات طنزیہ انداز میں کر رہے ہیں تاکہ آپ نواز شریف کو پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا مزاحمتی کردار بنا کر پیش کر سکیں اور جاوید ہاشمی اس پاکستانی چے گویرا کے سامنے بونا بن جائے۔ ‘‘
’’یہ تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ آج نواز شریف پاکستان کا سب سے زیادہ پاپولر لیڈر ہے اور پاکستان کے تمام ریاستی اداروں کی طاقت اُس کے سامنے زیرو ہو چکی ہے وہ عوام کے دلوں کی دھڑکن بن چکا ہے۔ ‘‘
’’ہاہاہا۔ مجھے آپ کی اور نواز شریف کی خود فریبی پر ترس آتا ہے۔ یاد کریں نومبر 1997ء میں نواز شریف نے لاہور سے چند سو افراد کو بسوں میں بھر کر پنجاب ہائوس اسلام آباد بلایا۔ ان کو دہی کے ساتھ قیمے والے نان کھلائے اور پھر سپریم کورٹ پر حملہ کرا دیا۔ اُس وقت کا چیف جسٹس سجاد علی شاہ سندھ سے تعلق رکھتا تھا شاید اسی لئے کچھ نہ کر سکا لیکن اپنی تذلیل کی ساری داستان ایک کتاب میں لکھ گیا۔
اس کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ 1997ء میں نواز شریف کی حکومت ججوں کو تقسیم کرنے میں کامیاب رہی لہٰذا عدلیہ کے خلاف جنگ جیت گئی لیکن بیس سال کے بعد نواز شریف عدلیہ کو تقسیم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اس لئے وہ شکست کھا چکے ہیں، شکست کو چھپانے کے لئے انہوں نے ہاہاکار مچا رکھی ہے اور اس ہاہاکار میں میڈیا کے وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا کوئی نہ کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ مفاد نواز شریف کے ساتھ وابستہ ہے۔ ‘‘
’’دیکھئے صاحب آپ نواز شریف پر تنقید ضرور کریں لیکن میڈیا کی آزادی پر حملہ نہ کریں۔ ‘‘
’’آپ تو بُرا منا گئے۔ میں اُن میڈیا والوں کا ذکر نہیں کر رہا جن کو نواز شریف نے سرکاری عہدے دیئے میں تو اُن کا ذکر کر رہا ہوں جن کے ساتھ راحیل شریف کی وجہ سے دھوکہ ہو گیا۔ ‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ جب میڈیا میں تھینک یو راحیل شریف کا نعرہ روز گونجتا تھا تو کچھ میڈیا والوں کو یقین ہو گیا کہ فیلڈ مارشل راحیل شریف پاکستانی فوج کے تاحیات سپہ سالار بن چکے ہیں لہٰذا میڈیا کے بڑے بڑے نام راحیل شریف کے ’’بول‘‘ کو بالا کرنے کے لئے ایک مشہور زمانہ چینل میں جمع ہو گئے لیکن راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ان میڈیا والوں کا بھی تھینک یو ہو گیا۔ ان سب کے کپڑوں پر داغ لگ گیا لہٰذا راحیل شریف سے لاتعلقی ثابت کرنے کے لئے ان سب کو نواز شریف کے حق میں گلا پھاڑنا پڑتا ہے تاکہ عوام کی توجہ ان کے دامن پر لگے داغوں کی طرف نہ جائے کیونکہ سب داغ اچھے نہیں ہوتے۔‘‘
’’یہ اچھے داغ کون سے ہوتے ہیں؟‘‘
’’ارے بھائی یہ جو سیالکوٹ میں ایک گمراہ مولوی نے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے چہرے پر سیاہی گرائی اس سیاہی کے داغوں سے خواجہ صاحب کو نقصان نہیں بہت فائدہ ہوا۔ انہوں نے اپنے چہرے پر پانی کے چند چھینٹے مارے اور کچھ لمحوں کے بعد اپنے داغ داغ کپڑوں کے ساتھ تقریر کے لئے واپس آ گئے۔ ایسے داغ انسان کی زندگی میں اجالا بن جاتے ہیں۔‘‘
’’تو آپ مانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں پر جوتیاں چلا کر اور سیاہی گرا کر انہیں شکست نہیں دی جاسکتی۔ ‘‘
’’بالکل یہ ماننا پڑے گا کہ سیاستدان کو جوتے اور سیاہی کے ذریعہ شکست نہیں دی جا سکتی لیکن جو سیاستدان عوام کے ساتھ جھوٹ بولتا ہے اُس کے چہرے پر تاریخ سیاہی پھینک دیتی ہے۔‘‘
’’سمجھ نہیں آئی۔ ذرا کھل کر بات کریں۔ ‘‘
’’کیا کھل کر بات کروں۔ لوگوں کو سب سمجھ آ جاتی ہے۔ اب دیکھئے ناں پچھلے جمعہ کو شاہد خاقان عباسی کی کابینہ کے ایک اہم وزیر نے اسحاق ڈار کے خلاف انتہائی اہم دستاویزات ایک ریاستی ادارے کے حوالے کر دی ہیں جب یہ دستاویزات عدالت کے سامنے آئیں گی تو عدالت کو سزا سنانا پڑے گی اور پھر یہ سزا ایک داغ بن جائے گی۔ یہ سزا کسی ملٹری ڈکٹیٹر کے دور میں کوئی ملٹری کورٹ نہیں سنائے گی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں حکومت کے ایک سینیٹر کو منی لارنڈرنگ اور حقائق چھپانے کے الزام میں سنائی جائے گی۔ ایسی سزائیں اچھے داغ نہیں بُرے داغ ہوتے ہیں اور اس قسم کے بہت بُرے بُرے داغ مزید سامنے آنے والے ہیں۔ ‘‘
’’ڈار صاحب کے علاوہ اور کس کس پر داغ لگنے والے ہیں؟‘‘
’’اللہ تعالیٰ سب کو داغوں سے محفوظ رکھے لیکن پتہ چلا ہے کہ برطانیہ کی حکومت نے نواز شریف اور اُن کے خاندان کے بارے میں کچھ ایسی دستاویزات پاکستانی اداروں کے سپرد کر دی ہیں جو عدالتوں میں پہنچ گئیں تو عمران خان کا دل باغ باغ ہو جائے گا اور وہ چلّا چلّا کر کہیں گے کہ نواز شریف جمہوریت کی نہیں منی لانڈرنگ کی علامت ہے۔ دیکھتے ہیں پھر عوام نواز شریف کے جلسوں میں قیمے والے نان کھانے آتے ہیں یا نہیں؟‘‘
’’آپ کی باتیں سن کر میرا دل ڈوبنے لگا ہے۔ ‘‘
’’دل تو میرا بھی ہچکولے کھا رہا ہے کیونکہ صرف نواز شریف کو سزائیں سنائی گئیں تو لوگ پوچھیں گے کہ کیا پاکستان کا قانون صرف سویلینز کے لئے ہے؟ سپریم کورٹ نے صرف نواز شریف کے خلاف نہیں پرویز مشرف کے خلاف بھی ایک فیصلہ دیا تھا اور اُس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے مشرف کے خلاف آئین سے بغاوت کا مقدمہ دائر ہوا لیکن یہ مقدمہ انجام کو کیوں نہیں پہنچتا؟ وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو جھٹلانا پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے وہ مشرف کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کب تک کرائیں گے؟ دیکھ لینا جیسے ہی نواز شریف کو سزا سنائی جائے گی تو پاکستان بھر میں مشرف مشرف ہونے لگے گی اور مشرف کے خلاف مقدمہ پاکستانی عدالتوں کے لئے ایک چیلنج نہیں بلکہ ایک چھیڑ بن جائے گا۔‘‘
’’آپ نے بالکل ٹھیک کہا۔ نواز شریف کے ساتھ ساتھ مشرف کو بھی سزا مل جائے تو قیمے والے نان پر پابندی کی نوبت نہیں آئے گی بلکہ ہماری عدالتیں ہمارا فخر بن جائیں گی۔ ‘‘
جناب نفیس صدیقی اپنے کالم "سیاسی الجھنیں اور آئندہ عام انتخابات" لکھتے ہیں کہ
پاکستان کی سیاست الجھنوں اور مغالطوں کا شکا ر ہے ۔ ملکی ہیئت مقتدرہ ( اسٹیبلشمنٹ ) کا بیانیہ بڑی حد تک امریکہ مخالف ہو گیا ہے ۔ دائیں بازو کی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی وہی بیانیہ اختیار کر لیا ہے ، جو کسی زمانے میں بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کا ہوا کرتا تھا ۔ پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست بہت حد تک غیر موثر ہو گئی ہے ۔ بائیں بازو کی سیاسی اور قوم پرست جماعتیں ایک طرف تو چھوٹے دائروں میں محدود ہو گئی ہیں اور دوسری طرف ان کا طویل عرصے تک دائیں بازو کی بڑی سیاسی جماعتوں خصوصاً مسلم لیگی دھڑوں کے ساتھ سیاسی اتحاد رہا ہے ۔ ایک پاکستان پیپلز پارٹی رہ گئی تھی ، جو اسٹیبلشمنٹ مخالف اپنا لیبل ہٹانے کی کوششوں میں رہی اور ہے ۔ وہ کس حد تک ان کوششوں میں کامیاب رہی ، اس کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کو کرنا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا اپنا اصل بیانیہ تبدیل ہو گیا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پیپلز پارٹی کا ماضی کا بیانیہ اختیار کر لیا ہے ۔ نظریاتی سیاست اور صف بندیاں بظاہر ختم ہو چکی ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ہماری نسل کی الجھنیں ہوں ، جس نے سرد جنگ کے زمانے میں سیاست کی اور انسانی سماج اور اس کے تضادات کا تاریخی اور جدلیاتی مادیت کے تناظر میں ادراک کیا لیکن ہمارے بعد کی آنیوالی نسلوں میں بھی اپنے عہد کے حالات اور مستقبل کے اہداف کے بارے میں کوئی واضح سوچ نہیں ہے ۔ ہم نے وہ عہد دیکھا ، جب امریکہ مخالف بیانیہ اختیار کرنا کسی بڑے خطرے یا عبرت ناک انجام کا سبب بن جاتا تھا ۔ آج وہی بیانیہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا ہے ۔ ہماری عسکری اور دائیں بازو کی سیاسی قیادت نے ماضی کا وہ بیانیہ اختیار کر لیا ہے ، جسے رائج کرنے کا بائیں بازو کا خواب پورا نہیں ہو سکا تھا ۔ ہماری نسل کے لوگ اگرچہ اس امر پر خوشی محسوس کرتے ہیں کہ کم از کم ہماری بات تو کی جا رہی ہے ۔ اس کا ایک سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ پاکستان اپنے پرانے ’’ دوست ‘‘ امریکہ سے بوجوہ دور ہو گیا ہے اور چین کے قریب ہو گیا ہے ۔ اس طرح کا ایک مرحلہ پہلے بھی آیا تھا ، جب فیلڈ مارشل ایوب خان کی کابینہ کے وزیر ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو چین کے قریب لے گئے تھے اور خود ایوب خان نے پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں ’’ فرینڈز ناٹ ماسٹرز ‘‘ نامی کتاب لکھی لیکن بعد میں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ایوب خان نے بھٹو کو اپنی کابینہ سے برطرف کر دیا تاکہ امریکہ کو یہ باور کرایا جا سکے کہ پاکستان میں کسی امریکہ مخالف کی گنجائش نہیں ۔ پھر بھٹو کے عبرتناک انجام نے بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں خصوصاًپیپلز پارٹی نے بھی بیانیہ تبدیل کر لیا ۔ اب اگرچہ حالات بہت مختلف ہیں اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی میں شفٹ کی وجہ حالات کا جبر بھی ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے اس نئے بیانیہ سے نوجوان نسل خوش بھی ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ سامراج مخالف بیانیہ آئندہ نسلوں تک منتقل ہوا ہے لیکن الجھن یہ ہے کہ جو قوتیں انتہائی پرجوش انداز میں اس بیانیہ کو آگے لے کر جا رہی ہیں ، وہ کب تک اس پر قائم رہیں گی ۔ اس الجھن کی وجہ ماضی کے تجربات ہیں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پاناما کیس میں عدالت سے نااہل ہونے کے بعد وہ باتیں کر رہے ہیں ، جن کی ماضی میں وہ خود نفی کرتے رہے ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کی عدلیہ اور حقیقی مقتدر حلقوں کے بارے میں جو سیاسی بیانیہ اختیار کر لیا ہے ، وہ بیانیہ کسی زمانے میں بائیں بازو اور ترقی پسند سیاسی قوتوں کے اسٹڈی سرکلز اور خفیہ اجلاسوں میں رائج تھا لیکن وہاں سے باہر اس بیانیہ کا اظہار نہیں کیا جاتا تھا ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی قیادت کا یہ بیانیہ مقبول ہوا ہے ۔ کچھ سیاسی تجزیہ کار اس دعوے کی تائید بھی کرتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس وقت جو سیاسی بیانیہ اختیار کر رکھا ہے ، وہ اگرچہ اس کے ماضی کے سیاسی بیانیے کے متضاد تو نہیں ہے لیکن ویسا بیانیہ بھی نہیں ہے ۔ ماضی کا بیانیہ گرجدار آواز میں اختیار کرنے والے پیپلز پارٹی کے کچھ رہنما پارٹی میں پہلے والی پوزیشن پر نہیں رہے ۔ یہ الگ بحث ہے کہ یہ رہنما ہماری طرح نظریاتی رومانویت کا شکار ہیں اور نئے عہد کے سیاسی تقاضوں اور حالات کا ادراک نہیں کر سکے ہیں یا معاملہ کچھ اور ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ فی الوقت مسلم لیگ(ن) بظاہر اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کی جماعت تصور کی جا رہی ہے ۔
الجھن یہ ہے کہ ماضی میں عالمی اور پاکستان کی حقیقی مقتدر قوتوں کے خلاف بائیں بازو کا بیانیہ ان قوتوں نے اختیار کر لیا ہے ، جو پہلے مخالف تھیں لیکن اب انہوں نے اپنی صف بندی تبدیل کر لی ہے ۔ کون کیا ہے اور اس کے سیاسی اہداف کیا ہیں ؟ بظاہر صورت حال کیا ہے اور پس پردہ حقائق کیا ہیں ؟ یہ پیچیدہ صورت حال شاید پاکستان سمیت تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں موجود ہے ۔ نہ صرف ماضی کی صف بندیاں نہیں رہیں بلکہ سیاست سمیت ہر شعبے میں زوال اور انحطاط کا عمل جاری ہے ۔ تاریخ میں اگرچہ ایسے مراحل آتے ہیں ، جب اس طرح کے حالات ہوتے ہیں ۔ پھر حالات کی پیچیدگیاں ختم ہوتی ہیں اور دوبارہ ایک ایسا عہد آتا ہے ، جب الجھنیں اور مغالطے کم ہوتے ہیں ۔ ضروری نہیں ہے کہ یہ دور ہر حال میں نظریاتی ٹکراؤ کا ہو ۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں خصوصاً پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے سرپرست اعلیٰ میاں محمد نواز شریف بہت زیادہ تجربات سے گزرے ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کی سیاست میں بہت اتار چڑھاؤ دیکھا ہے ۔ وہ معروضی حالات سے بہت زیادہ جڑے ہوئے ہیں لیکن قوم کئی الجھنوں کے ساتھ آئندہ عام انتخابات کی طرف جا رہی ہے ۔ میں یوں محسوس کرتا ہوں کہ اس کا اثر انتخابی نتائج پر بھی پڑے گا اور ہم اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ خطے اور بین الاقوامی صورتحال ہماری الجھنوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ محترم انصار عباسی اپنے کالم "جسٹس شوکت صدیقی کا فیصلہ اسلامی بھی آئینی بھی" میں لکھتے ہیں کہ
اسلام آباد ہائی کورٹ کے محترم جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ختم نبوتﷺ کے معاملہ پر اہم فیصلہ دیا جس پر ایک مخصوص سیکولر طبقہ کی طرف سے سوشل میڈیا میں ایک مہم کے ذریعے یہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی جیسے اس فیصلہ سے ایک مخصوص غیر مسلم اقلیت کے ساتھ کوئی زیادتی کر دی گئی ہو۔ بظاہر اعتراض کرنے والوں کی اکثریت نے اس فیصلہ کو پڑھے بغیر اپنا ردعمل دیا جبکہ کچھ نے اپنے اندر کا بغض کھل کر نکالتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم تک کو بُرا بھلا کہا کہ ایک مخصوص اقلیت کو کیوں آئین پاکستان کے ذریعے غیر مسلم قرار دیا گیا۔ جسٹس شوکت صدیقی نے تو اپنے فیصلہ میں وہ کہا جو مکمل طور پر اسلامی اور آئینی حقیقت ہے۔ انہوں نے تو اپنے فیصلےکی شروعات اس بات سے کی کہ دین اسلام اور آئین پاکستان مذہبی آزادی سمیت غیر مسلم اقلیتوں کے تمام بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت فراہم کرتا ہے اور ریاست پر یہ لازم ہے کہ انکی جان، مال، جائیداد اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے اور بطور شہری انکے مفادات کا تحفظ کرے۔ فیصلے میں لکھا گیا کہ ریاست پاکستان کے ہر شہری کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی شناخت درست اور صحیح کوائف کے ساتھ کرائے، کسی مسلمان کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اپنی شناخت کو غیر مسلم میں چھپائے اور اسی طرح کسی غیر مسلم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود کو مسلم ظاہر کر کے اپنی پہچان اور شناخت کو چھپائے۔ ایسا کرنے والا ہر شہری ریاست سے دھوکہ دہی کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس کے بعد فیصلے میں آئین کی شق نمبر 260 کا حوالہ دیا گیا جس میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کی گئی اور جسے اجماع ِقوم حاصل ہے لیکن بدقسمتی سے اس واضع معیار کے باوجود کچھ ضروری قانون سازی نہ کی جاسکی جس کی وجہ سے ایک مخصوص غیر مسلم اقلیت اپنی اصلی شناخت چھپا کر اور ریاست کو دھوکہ دیتے ہوئے خود کو مسلم اکثریت کا حصہ ظاہر کرتی ہے جس سے نہ صرف مسائل جنم لیتے ہیں بلکہ انتہائی اہم آئینی تقاضوں سے انحراف کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔ جسٹس صدیقی نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کے پاس اس حوالہ سے کسی بھی افسر کی شناخت موجود نہیں۔ فیصلہ میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ پاکستان میں بسنے والی بیشتر اقلیتیں اپنے ناموں اور شناخت کے حوالے سے جداگانہ پہچان رکھتی ہیں لیکن ہمارے آئین کی رو سے قرار دی گئی ایک اقلیت اپنے ناموں اور عمومی پہچان کے حوالے سے بظاہر مختلف تشخص نہیں رکھتی جس کی وجہ سے اپنے عقیدہ کو مخفی رکھ کر مسلم اکثریت میں شامل ہو کر اعلیٰ اور حساس مناصب تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ چونکہ پارلیمنٹ کی رکنیت سمیت اکثر محکموں کے لیے اقلیتوں کا خصوصی کوٹہ بھی مقرر ہے اس لیے جب کسی بھی اقلیت سے تعلق رکھنے والا شخص اپنا اصل مذہب اور عقیدہ چھپا کر خود کو فریب کاری کے ذریعے مسلم اکثریت کا جزو ظاہر کرتا ہے تو دراصل وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے الفاظ اور رو کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے جس کو روکنے کے لیے ریاست کو ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس صدیقی نے دین اسلام میں ختم نبوتﷺ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں اسلام کی اس دینی اساس پر حملوں کی لاتعداد مثالیں موجود ہیں جس کی حفاظت و نگہبانی ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر کہ معاشرہ کو انتشار سے بچایا جا سکے اور آئینی تقاضوں کے مطابق جداگانہ مذہبی شناخت رکھنے والی تمام اقلیتوں کے حقوق کا بھی تحفظ ہو عدالت نے کچھ احکامات جاری کیے جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ کوئی اپنے مذہب اور عقیدہ کے معاملہ میں جھوٹ بول کر نہ تو کوئی سرکاری عہدہ حاصل کرسکے اور نہ ہی ریاست سے دھوکہ کیا جا سکے۔اس مقصد کے حصول کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ شناختی کارڈ، پیدائشی سرٹیفیکیٹ، پاسپورٹ اور انتخابی فہرستوں میں اندراج کے لیے درخواست گزار سے آئین پاکستان کی شق 260 ذیلی شق 3 اور جز اے بی میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف پر مبنی بیان حلفی لازم قرار دیا جائے، تمام سرکاری و نیم سرکاری محکموں بشمول عدلیہ، مسلح افواج، اعلیٰ سول سروسز میں ملازمت کے حصول یا شمولیت کے لیے بھی اس بیان حلفی کی شرط رکھی جائے۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں کہ تمام شہریوں کے درست کوائف ریاست کے پاس موجود ہوں اور کسی بھی شہری کے لیے اپنی اصل پہچان یا شناخت چھپانا ممکن نہ ہو۔ فیصلے میں ریاست کو اس بات کا بھی پابند بنایا گیا ہے کہ وہ مسلم امہ کے حقوق، جذبات اور مذہبی عقائد کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس فیصلہ میں کہاں اقلیتوں کے ساتھ کسی زیادتی کی بات کی گئی یا کسی مخصوص اقلیت کے حقوق چھیننے کا ذکر ہے۔ یہ فیصلہ تو دراصل ایک ایسے دھوکے اور فریب کو روکنے کی بات کر رہا ہے جو معاشرہ میں انتشار اورتشدد کا باعث بنتا ہے۔ ہاں اگر کوئی یہ خواہش رکھتا ہو کہ دین اسلام کے بنیادی عقیدہ اور آئین پاکستان کی اسلامی شقوں کو ہی بدل دیا جائے تو ایسا ممکن نہیں۔

کالم کلوچ

اپنی پہچان کی تلاش !

شائع شدہ

کو

اپنی پہچان کی تلاش !

تحریر- صبح صادق
دوچار ہفتے قبل جب مجھے میرے آفس میں ایک خط ملا جس میں فرمائش کی گئی تھی کہ آپ یہاں قصور میں بلھے شاہ کلچرل فورم میں ہمارے ساتھ آملیں اور پاکستانی ثقافت اور فنون لطیفہ کے موضوع پر گفتگو کریں تو یقین مانیں اس موضوع کو لے کر یکدم میرے اوپر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ اول تو اس لئے کہ یہ موضوع اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ ایک نشست میں اس پر سب کچھ سمیٹ پانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔دوم یہ کہ یہ میرا موغوب ترین موضوع ہے اور جو شے انسان کو عزیز ہوتی ہے اس کے ساتھ وہ برتاؤ بھی اپنوں جیسا کرتاہے ۔میری خوش قسمتی ہے کہ میں گزشتہ دس برسوں سے براہ راست ایک ادبی و ثقافتی ادارے لاہورآرٹس کونسل میں بطور پی آر او، ثقافت کی مہم سے وابستہ ہوں(جسے دن رات کی کوششوں سے ہم ایک مقامی ادارے سے بین الاقومی سطح پر لے گئے ہیں ) البتہ بالواسطہ تو اس شعبہ کے ساتھ عمربھر کا ساتھ رہا ہے یعنی خاکسار کو بچپن سے ہی ادب و ثقافت کے شعبے خاص دل چسپی رہی ہے۔بہرحال یہاں ہم ایک ایسے شعبہ پر بحث و مباحثے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے جس کی نہ تو حدود و قیودکاآج تک تعین ہو سکا نہ ہی اس کے لوازمات ، مندرجات وغیر ہ پر کوئی ٹھوس اتفاق موجود ہے۔میری نظر میں ہمارے قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (مرحوم) کی پہلی بات تو پوری ہو چکی یعنی پاکستان کی بستی بس گئی لیکن ہمارے اہل نظر ابھی تک یہ طے نہ کر پائے کہ اپنی نگاہ کو کیاکریں۔بہرحال یہ امر مسرت کا باعث ہے کہ آج یہاں پاکستان کے چوٹی کے مفکرین ادیب اور دانشور اور زندگی کے مختلف شعبوں کے تعلق رکھنے والے سکالز اپنے ثقافتی عوامل و مظاہر کی بہتر سے بہتر تفہیم کے لئے جمع ہوئے تھے اس پر میں اس کنونشن کے منتظمین و محققین کو مبار کبار پیش کرتاہوں کہ جنہوں نے اس کنونشن کو اپنی ذاتی دلچسپی ،عملی تعاون اور محققانہ صلاحیتوں سے پروقار بنایا ہے۔
میرے مطابق عملی طورپر زندہ اور جاندار کلچر کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرتاہے جس میں وسائل ،سرپرستی یا مواقع کی کمی کے باوجود مناسب تخلیقی ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچایا جاتا ہے اور پھر وہ ٹیلنٹ اپنے معاشرے کی جمالیات اور دانش کے میدانوں میں اعلیٰ ترین ہم عصر معیاروں کے مطابق ڈھل کر قومی دھارے میں شامل ہو جاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ آرٹ قوم کی پہچان بننے کے ساتھ ساتھ قومی فکر کی تعمیر کا ایک اہم وسیلہ ثابت ہوتا ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہمارے ہاں ثقافت کی رسمی تعریف میں ہمارے رسم ورواج،رہن سہن کے طریقے ،بودوباش یعنی کل طریقہ زندگی شامل ہیں اس تناظرمیں کسی بھی قوم کا اصل چہرہ تبھی خوبصورت نظرآئے گا جب مجموعی طورپر اس ملک کے نظام میں معیشت ،عدل و انصاف،امن وامان اور چیک اینڈ بیلنس سمیت دیگر زندگی کے دورے شعبے مستحکم ہونگے۔اگرآپ کے نوجوان کو تعلیم اور روز گاہ کے موقع میرٹ پر میسر آئے، سماجی رویے اعتدال پر مبنی ہو، کوئی کسی کی ناجائز پگڈی نہ اچھال پائے اور مانیٹرنگ کا خود کار مزاحتمی نظام کام کرنا شروع کردے تو پھر آپ اس بات پر اطمینان کر سکتے ہیں کہ آپ کی قوم کا چہرہ دنیا کو خود بخود خوب صورت نظر آنے لگے گا۔اگر معاشرے کا مجموعی نظام انحطاط پذیر ہو اور اسے بہتر بنانے کی کوئی سنجیدہ کاوشیں نہ کی جائیں تو پھر دنیا میں اپنے متعلق پھر اعتماد بیانیہ کی تشکیل کرپانامشکل نظر آتاہے ،بدقسمتی سے یہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے،چند برس قبل تو ہمارے حالات بہت بگاڑ کا شکار تھے بہر حال ان حالات میں بھی ہمارے ثقافتی اداروں نے ا پنا ایڑی چوٹی کا روز لگایااور دنیا میں اپنے وجود کی بقاء کی جنگ لڑی اور الحمد اللہ ہم اس نتیجے میں دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر عزت کے ساتھ مدعو کئے جاتے رہے اور ہمارے بات بھی سنی گی۔مگر موجود ہ دور میں ہمارے چندقومی اداروں کی حوصلہ بخش کار کردگی کے نتیجے میں حالات ساز گار ہونے شروع ہوئے ہیں کیونکہ ملک کے تمام نظاموں کا محور شعبہ ثقافت ہوتاہے ان مستحکم نظاموں کی صورت میں یہ امر ثقافتی اداروں کے لئے سہل ہو جاتا ہے کہ وہ خود کو دنیا میں منوا سکیں۔بہرحال یہ حقیقت ہے کہ جہاں ہمیں قومی سطح پر اپنی بہتر ثقافتی حکمت کاری سے ملکی یک جہتی اور ہم آہنگی کے لئے مدد مل سکتی ہے وہاں ہم بین الاقومی تناظر میں اپنے خلاف ہونے والے بے بنیاد ،من گھڑت اور پروپیگنڈہ پر مبنی بیانیے کے اثرات بھی زائل کر سکتے ہیں اس سے بھی بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم نے دشمن کی ساز شوں کا نہ صرف توڑ کرناہے بلکہ اپنے جوابی بیا نیے میں دنیا کے سامنے اپنی اقتصادی کا میابیوں، متوازن سماجی رویوں،بین الاقومی امن میں اپنے کردار کو قابل قبول انداز میں پیش بھی کرناہے سو اس حوالے سے مجھے بے حد خوشی ہے ہم باہمت قوم ہیں ہم نے مشکل حالات میں اپنی بقاء کے لئے بے دریغ قربانیاں دی ہیں اب یہ بات تمام قومی و صوبائی ثقافتی اداروں پر منحصر ہے کہ ہم کس انداز میں اپنی ان کا میابیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں ،مثلا میری نظر میں ا پنے آپ کو دنیا میں متعارف کروانے کے دو طریقے ہیں یا تو ہم دنیا کے اہل قلم اور صاحب آراء مفکرین کو اپنے ہاں مدعو کریں اور ان کے سامنے اپنا خوبصورت نظام زندگی رکھیں اور انھیں اپنا گرویدہ بنانے کی پرزور کوششیں کریں مثلا اس حوالے سے ہم نے گزشتہ دو برسوں سے دنیا بھر کے 50ممالک کے سفیروں کو لاہورآرٹس کونسل کے پلیٹ فارم پر مدعو کیا اور ان کو اپنی عوامی رویے اور اقدار سے روشناس کروایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان سفیروں نے اپنے اپنے ممالک کو جو رپورٹ بجھوائیں میں نے ان جب کا پتہ کیا تو یقین مانیں وہ ہمارے لئے بے حد تسلی بخش تھی ،یعنی ہمارا تجربہ کامیاب رہا الحمداللہ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود دیس دیس جاکر دنیا تک اپنی بات پہنچائیں اس محاذ پر بھی لاہورآرٹس کونسل الحمراء کی کارکردگی میں آپ کے سامنے رکھنے پر فخر محسوس کروں گا۔ہم نے ایک پراجیکٹ(PIC Pakistan)کہ نام سے شروع کیاہے جس کے پہلے مرحلے پر تھائی لینڈ میں پاکستان کا رنر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔تھاماسٹ یونیورسٹی ،بنکاک تھائی لینڈ میں اس پاکستان کارنر کے قیام سے 50000طلبہ و طالبات جو دنیا بھر سے یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں،سے مستفید ہونگے اور اپنے اپنے وطن واپسی پروہ پاکستان کے متعلق ایک مثبت رائے لے کر جائیں گے یہی ہمارے مقصد ہے ۔اس کو اب ہم آگے لے کر چل رہے ہیں اور اس کادائرہ کار کوئی درجن بھر ممالک تک پھیلا رہے ہیں۔
یہی بات اگر میں دوسرے انداز میں بیان کرؤں تو میری نظر میں ثقافت ایک باریک،کچے دھاگے کی مانند ایک ایسی لڑی کا نام ہے جس کی مضبوطی کا انحصار اس میں پردے جانے والے طرح طرح کے رنگ بر نگے خوبصورت مو تیوں کے حسن پر ہوتاہے۔جو جس قدردلکش ہونگے یہ لڑی قدر مضبوط ہوگی البتہ اگر اس میں بے کار موتی پروے دے جائے تو یہ اس ثقافت کی لڑی کو مضبوط کرنے کی بجائے کمزرو کر دیں گے جس سے کسی بھی قوم کا شہزازہ با آسانی بکھیرا جاسکتا ہے سو یہ اس قدراحساس نوعیت کا معاملہ ہے۔بہرحال یہ شعبہ ثقافت جزوئیات کوکُل میں پروتاہے،نہایت طاقتور ،جادوئی اثر کا حامل ہونے کی بناء پر کوئی اس کی اثر پذیر ئی سے بچ نہیں سکتاہے یہ بکھیری چیزوں کو اکائی بناتاہے مثلا ہمارے ملک کے تمام صوبوں کے لوگ اگر اس شعبہ سے صحیح معنوں میں استفادہ کریں یایہ شعبہ اپنا کام ڈھنگ سے سرانجام تو اسی صورت ہم اس کے اثرات کو اپنے حق میں استعمال کرسکتے ہیں مثلا جسے ہم لاہور میں کام کرتے ہوئے یہاں کے رہنے والوں کے سامنے فنون لطیفہ کی مدد سے دوسرے تمام صوبوں کے رنگ روپ پیش کرتے ہیں اگر یہی طریقہ کار دوسرے صوبوں کے ثقافت ادارے بھی اپنائے تو کوئی مشکل نہیں کہ ہم ایک نہ ہو سکیں میری نظر میںآج ثقافتی حالات کی کار کردگی جاننے کی سب سے بڑی کسوٹی یہی ہے کہ اگر ہمارے مختلف صوبوں میں بسنے والے افراد باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا شروع کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ثقافتی اداروں کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔سو ہمارا پہلا حدف اپنا گھر خوبصورت بنانا ہونا چاہے پھر اس کے بعد دنیا کے پاس ہماری اہمیت کے انکارکا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔
جہاں تک اس شعبے کو درپیش چیلنجز کا سوال ہے کہ وہ بے شمار ہیں مثلا اس شعبہ سے متعلق ایک عام بیا نیہ (Narrative)یہ ہے کہ کلچر اور فنون امراء کی عیاشی کی کسی شے کا نام ہے جو میری نظر میں بہت خطرناک ہے ۔سو آگے چلیں ایک نقطہ نظریہ بھی ہے کہ زندگی کی تمام ضروریات اور تقاضے پورے ہونے کے بعد کلچر اور اس کے دیگراجزاء کے بارے میں غور کیاجائے گا، دوسرے لفظوں میں ملک میں کلچر کا روز مرہ کی زندگی اورہماری قومی ضروریات کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے،گویا یہ دو الگ الگ باتیں ہے۔مزید ذرا غور کیجئے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ دراصل کلچر تو طبقاتی ہوتا ہے یعنی کلاس کلچر۔ہمارے ہاں امرا ء ہیں،غرباہیں،کسان ہیں،مزدور ہیں،سرمایہ دار ہیں اور افسر لوگ ہیں ان سب کا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے اب ان سب سے ماورا پاکستانی کلچریا پاکستان کے قومی کلچر کی تلاش بے کارسی بات ہے کیونکہ کلاس یا طبقے سے الگ کوئی کلچر نہیں ہوتاہے،میری نظر میں یہ نہایت غلط تصور ہے اس سے ملتی جلتی ایک اور بات بھی سننے میںآئی ہے کہ سندھی کلچر ،بلوچی کلچر، پختون کلچر،پنجابی کلچر، ہرجگہ کے الگ الگ کلچر ہیں اور یہی ہونا بھی چاہیے ۔ان سے الگ یاان کے اوپر کسی قومی کلچر یا ثقافت کی تلاش کرنا بے کار ہے ۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بغیر لوگ تو اسے شرارت کی بات کہتے ہیں اوراس کا مقصد یہ بتاتے ہیں اس سے ملک میں لادینی پن پھیلا یا جارہا ہے۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ سندھی ،پنجابی،بلوچی اور پختون کا فساد پیدا کرکے قومی وحدت کو نقصان پہنچا ہے اس شعبے کو اب اس سے بڑے اور چیلنج کیا لاحق ہوں گے-

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

میشا شفیع کے بعد ریشم بھی....

شائع شدہ

کو

کپتان کی عزت داؤ پر

میشا شفیع، علی ظفر اسکینڈل نے جہاں شوبز حلقوں میں ہلچل مچائی ہے وہیں دیگر سماجی حلقے بھی تشویش میں مبتلا ہیں اس حوالہ سے شوبز کے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ کل تک ایک دوسرے کے قریبی دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والی یہ فنکار جوڑی اس طرح اسکینڈل منظر عام پر لائے گی تو پھر ہماری شوبز انڈسٹری میں بہت سے ایسے رشتے ناطے ہیں جومذہبی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہیں مگر ان رشتوں کو اخلاقی دائرہ کار کے تحت جائز قرار دیا جاتا ہے ۔اس سے پہلے کہ علی ظفر کے خاندانی پس منظر پر نظر ڈالی جائے پہلے دیکھنا یہ ضروری ہے کہ میشا شفیع کا خاندانی پس منظر کیا ہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ میشا شفیع کا فیملی بیک گراؤنڈ نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس ‘‘ کہلانا پسند کرتا ہے۔ میشا شفیع کی والدہ صبا پرویز اپنے فنکارانہ کیریئر کے آغاز میں صبا حمید کہلائیں بعد ازاں انہیں شادی شدہ زندگی کے آغاز میں کبھی صبا شفیع کہا گیا تو کبھی صبا پرویز اور ایک وقت صبا پر صبا وسیم عباس کہلانے کا بھی آیا ۔ یہ درست ہے کہ وسیم عباس سے صبا حمید کے تعلق کو شرعی قرار نہیں دیا جاسکتاکیونکہ وسیم عباس کے ساتھ صبا حمید کی دوستی ایک مشترکہ ’’شوق‘‘کی وجہ سے ہوئی اور کئی برسوں تک قائم رہی۔یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ صبا کے والد خود کو کامریڈ(روشن خیال)کہلوانا پسند کرتے تھے کیونکہ وہ مذہبی رجحانات کے مالک نہیں تھے بالخصوص ہمارے اسلامی معاشرے میں انہیں اپنی موجودگی ہمیشہ ناگوار گزرتی تھی۔ میشا شفیع کو یہی ’’روشن خیالی‘‘ اپنے نانا اور والدہ سے ورثہ میں ملی۔ علی ظفر کے ساتھ ان کے ناجائز تعلقات کی کہانی خود ان کی زبانی منظر عام پر لانا ایسی ہی روشن خیالی اور ترقی پسندی کی ایک بھونڈی مثال ہے۔

میشا شفیع کا یہ اعتراف کہ انہیں علی ظفر نے بارہا جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا انہیں قریب سے جاننے والے لوگوں کو قطعی طور پر حیران نہیں کرتا مگر برائے نام تعلق رکھنے والے ساتھی فنکاروں کی اکثریت اور دونوں فنکاروں کے مداحوں کیلئے یہ انکشافات ہوش اڑا دینے کیلئے کافی تھے اسی لیے گزشتہ 48 گھنٹوں کے درمیان ملک بھر میں ریگولر اور سوشل میڈیا پر صرف اور صرف علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان ناجائز تعلقات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے بلکہ اب اس کی گونج سرحد پار بھی پہنچ چکی ہے۔ہالی ووڈ میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی اداکارہ کی طرف سے کیے جانے والے انکشافات کے بعد ’’#MeToo‘‘ کے نام سے شروع ہونے والی یہ مہم اب پاکستان میں موجود نام نہاد ترقی پسندوں کیلئے ایک مشغلہ بن چکی ہے ۔ لائم لائٹ میں رہنے والی شخصیات کو ہمیشہ سے عام لوگ اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں اور ان کے رنگ ڈھنگ ، بول چال اور رہن سہن کے طریقے بھی اپنانے کی کوشش کرتے ہی۔ میشا شفیع بھی بدقسمتی سے دور حاضر کی ایک سلیبریٹی ہیں جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو اس ’’#MeToo‘‘ مہم کا حصہ بنایا اور خود کو علی ظفر کا ’’شکار‘‘قرار دے دیا۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے علی ظفر کی خود سے جنسی زیادتی کا معاملہ اپنے ضمیر کی آواز پر ظاہر کیا لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بحیثیت فنکارہ میشا شفیع کو اس قدر مقبولیت حاصل نہیں ہوئی تھی جتنی شہرت انہوں نے علی ظفر پر زیادتی کا الزام لگا کر حاصل کرلی۔ میشا شفیع کی ’’روشن خیالی‘‘ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے بیان میں علی ظفر کی ایک سے زائد بار جنسی زیادتی کا ذکر کیا تھوڑا سا بھی شعور رکھنے والے ان کی اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بار بار کی زبردستی اور وہ بھی باہمی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔یہ روشن خیالی اور ترقی پسندی صرف اور صرف میشا شفیع جیسی نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس‘‘ سے تعلق رکھنے والی خواتین ہی دکھا سکتی ہیں کہ جن کے خاندان میں ایسی کسی بات کو اور ایسے کسی واقعہ کو کبھی معیوب نہیں سمجھا جاتا اور جن کا مقصد ہی صرف اتنا ہے کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسی مہم کو تقویت دی جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر الزام کیوں داغ دیا۔ میشا شفیع کے نانا حمید اختر اور ان کی والدہ صبا حمید ہمیشہ تنازعات کو ہوا دینے کی راہ پر گامزن رہے ہیں مقصد شہرت اور دولت کا حصول ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ بلیک میلنگ سے لوگوں کو ہراساں کرنا ہوتا تھا۔میشا شفیع کے حالیہ بیان کا مقصد علی ظفر کو بلیک میل کرنا ہے یا ان کی وجہ سے حاصل ہونے والی شہرت کو دولت کمانے کا ذریعہ بنانا ہے جہاں تک علی ظفر کا تعلق ہے تو ان کا خاندانی پس منظر انتہائی وضع دار اور تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے اور انہوں نے میشا شفیع کے بیان کے بعد انتہائی سادگی اور سمجھ داری سے قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

ریشم کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کی ورسٹائل فنکاروں میں ہوتا ہے اگر ریشم،میشا شفیع جیسی ’’غلطی ‘‘کرتے ہوئے اپنی زبان کھول دیں تو شاید پورے پاکستان میں ایسا بھونچال آجائے گا جیسے کسی نے ایٹم بم گرا دیا ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

مقتول ہی تو قاتل ہے (بشکریہ ایکسپریس)

شائع شدہ

کو

6"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

جناب محترم وسعتاللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ اس دنیا میں اگر کسی شے کا سب سے زیادہ ریپ ہوا ہے تو وہ دلیل ہے اور پھر اس ریپ زدہ دلیل کے ساتھ تہذیب کا جیسا ریپ ہوا اور ہو رہا ہے اس کا کوئی توڑ کم ازکم مجھے تو ٹپائی نہیں دے رہا ۔حل تو خیر لاینحل ہے۔ بہت دور کی کوڑی لانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس المیے سے بچپن میں ہی آشنا ہو جاتے ہیں جب چشمے پر پانی پینے والے بھیڑ کے بچے اور اسے دلیل دے کر ہڑپ کر جانے والے بھیڑئیے کی کہانی سنتے ہیں۔
اگر نازی دنیا پر قبضہ کر لیتے تو پھر ہماری نسلوں کو یہی نصابی علم عطا ہوتا کہ یہودیوں کو جرمنی سے نازیوں نے نہیں بلکہ خود یہودیوں نے ختم کیا۔نہ وہ سود خوری کے ذریعے جرمنوں کا خون چوستے اور نہ آریائی خون جوش میں آتا۔اگر جرمن خون آشام ہی ہوتے تو یہودیوں سے پہلے اور بعد میں کسی اور قوم پر ایسا عذاب کیوں نہیں آیا۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جرمنوں نے اپنی افریقی نوآبادی نمیبیا کی سیاہ فام آبادی کی بھی اسی پیمانے پر نسل کشی کی۔ مگر چونکہ بہت سے یورپی مستشرقین ایک زمانے تک کھلم کھلا اور آج دل ہی دل میں غیر سفید فاموں کو تہذیب و تمدن سے عاری نیم انسان سمجھتے ہیں لہذا نمیبیا کے سیاہ فاموں کا نوحہ کسی نے نہیں لکھا۔
یہی کچھ کانگو میں بلجئیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کے زمانے میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔کانگو بادشاہ کی ذاتی املاک میں شامل تھا۔ لہذا گدھے اور سیاہ فام کا فرق مٹ گیا۔ بلکہ گدھے سے زیادہ بہتر سلوک ان معنوں میں ہوا کہ وہ نسل کشی سے بچ گیا۔
برسلز میں لگنے والے میلوں ٹھیلوں اور نمائشوں میں ایک عرصے تک ہیومن زو بھی لگایا جاتا تھا۔اس میں کانگو سے لائے گئے سیاہ فام نیم انسانوں سے عام شہریوں کا دل بہلایا جاتا تھا۔آج یہ سب تماشے نہیں ہوتے مگر ان جرائم کو نوآبادیاتی دور کی بے اعتدالیوں اور غلطیوں کا نام دے کر مہین خوشنما تہذیبی پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔اب ہر کوئی اسرائیل تو نہیں ہوتا کہ جس سے مغربی جرمنی یہودی نسل کشی پر معافی مانگتے ہوئے پانچ ارب مارک کی ازالائی رقم بھی ادا کرے۔
کون کہتا ہے کشمیر میں بھارت ظلم کر رہا ہے۔یہ تو سرحد پار سے آنے والے گھس بیٹھیے یا ان کے ہاتھوں گمراہ ہونے والے مٹھی بھر کشمیری لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو بھارتی ایکتاکے درپے ہیں۔وہ جان بوجھ کر سیکیورٹی دستوں کو اشتعال دلاتے ہیں تاکہ وہ کشمیریوں کے منہ پر چھرے مار کے انھیں اندھا کر دیں اور پھر پیشہ ور کشمیری ان چھرہ زدہ چہروں کو ظلم کا اشتہار بنا کر دنیا بھر میں سینہ کوبی کرتے پھریں۔اہلِ دلی کی اس دلیل میں اگر وزن نہ ہوتا تو بیشتر بھارت کاہے کو آمنا و صدقنا کہتا۔
نیتن یاہو کی یہ بات ماننے میں کیا عار ہے کہ اسرائیلی فوج دنیا کی مہذب ترین فوج ہے۔اس نے آج تک کسی فلسطینی کو مارنے میں پہل نہیں کی۔کسی فلسطینی کو پتھر یا غلیل سے نشانہ نہیں بنایا۔لیکن جب کوئی فلسطینی بچہ یا بچی کسی اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارتا ہے یا ٹینک پر غلیل سے نشانہ باندھتا ہے یا مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کو مٹانے کا نعرہ لگاتا ہے تو کیا ریاست کو کوئی حق نہیں کہ وہ ایسے شرپسندوں کو اوقات میں رکھنے کے لیے ذرا سے گولے، کچھ بم اور دوچار نشانچیوں کو استعمال کر لے۔
کسی نے آج تک گولڈا مائیر کے اس دعویٰ کو چیلنج کیا کہ ’’ کون سے فلسطینی ؟ جب ہم یہاں آئے تو یہ خطہ تو غیر آباد تھا۔ہم نے آ کر اسے بسایا‘‘۔اگر اسرائیل واقعی کوئی سفاک ریاست ہے تو پھر کچھ عرب ممالک اس سے دوستی کے لیے آج مرے نہ جاتے۔
مشرقی پاکستانی اگر ایکتا کو چیلنج نہ کرتے ، وہاں بسنے والے ہندو اساتذہ اور دانشوروں کے بہکاوے میں نہ آتے اور غدار مجیب کے چھ نکاتی پھندے میں آئے بغیر وسیع تر قومی مفاد میں اپنے مغربی پاکستانی بھائیوں کے تھوڑے سے اور مطالبات مان لیتے اور اگر بھارت چند گمراہ مشرقی پاکستانیوں کی آڑ میں حالات سے فائدہ اٹھا کر فوج کشی نہ کرتا تو آج بھی ہم ہنسی خوشی رہ رہے ہوتے۔یہ ہیں، سقوطِ مشرقی پاکستان کی وہ وجوہات جوآج سینتالیس برس بعد بھی پاکستانی نصاب میں اتنی ہی سچ ہیں جتنی سینتالیس برس پہلے تھیں۔
اگر ریاستوں کا اپنا اپنا سچ ہے تو افراد اپنے اپنے سچ پر کیوں نہ قائم رہیں۔مثلاً اسے ماننے میں کیا قباحت ہے کہ ملالہ نے اپنے سر پر خود گولی ماری تھی تاکہ مغرب اسے اپنی ڈارلنگ بنا کر طالبان کو بدنام کرتا پھرے۔
مشال خان نے بھلے توہینِ مذہب نہ کی ہو مگر وہ ملحدوں کے شعر تو پڑھتا تھا ، اپنے کمرے کی دیواروں پر سرخوں جیسے نعرے تو لکھتا تھا ، ایک نظریاتی ریاست میں سیکولر لبرل نظریہ مسلط کرنے کا تو حامی تھا۔اسے کس نے مارا۔وہ تو مجمع کے غیض و غضب کا شکار ہوا۔مجمع کو اس سے کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی۔مجمع کو کنٹرول تو نہیں کیا جا سکتا۔یہ تو مشال خان کو خود خیال ہونا چاہیے تھا کہ وہ آگ سے کیوں کھیل رہا ہے ؟
مختاراں مائی نے باقاعدہ سوچ سمجھ کر خود کو ریپ کرایا تاکہ اسے بیرونِ ملک سے فنڈنگ مل سکے۔یہی حرکت سوئی میں رہنے والی ڈاکٹر شازیہ نے بھی کی تھی۔خواتین بن ٹھن کے نکلیں گی تو مٹھائی پر مکھیاں تو منڈلائیں گی۔
جموں کی آٹھ سالہ بکروال بچی آصفہ اگرچہ بن ٹھن کے نہیں نکلی تھی، پھر بھی انسان کے اندر بسے جہنم کی خوراک بن گئی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی سیاستداں جب آصفہ ریپ قتل کیس کے آٹھ مجرموں کی وکالت کرتے ہیں تو ان کے پاس بھی یہ دلیل ہوتی ہی ہے کہ بکروال ہندوؤں کی چراگاہوں پر زبردستی قبضہ کر رہے ہیں۔ غصہ کہیں تو نکلنا تھا۔لہذا قصور ریپسٹ کھجوریا اور اس کے آٹھ ساتھیوں کا نہیں بلکہ بکروال برادری کا اپنا ہے۔
پنجاب کے عیسائیوں، احمدیوں اور کوئٹہ کی ہزارہ برادری کا تو دھندہ ہی یہی ہے کہ وہ خود پر مظالم کی جھوٹی سچی داستانیں گھڑتے ہیں تاکہ مغرب میں مذہبی عقایذ کی بنا پر زیادتی کا کیس دائر کر کے پناہ حاصل کر سکیں۔اگر یہ معاشرہ اتنا ہی ظالم ہوتا تو پھر اکیس کروڑ لوگ یہاں کیوں رہ رہے ہیں۔
جب انصاف فٹ بال بن جائے اور ریاست گول کیپر ہو تو پھر ہر دلیل وزنی ہے، ظالم و مظلوم ایک ہی صف میں ہیں اور پھر پہاڑی چشمے پر اوپر کی جانب کھڑا بھیڑیا نیچے کھڑے میمنے کو بھی یہ دلیل دے کر ہڑپ کرنے میں حق بجانب ہے کہ تم میرا پانی گدلا کیوں کر رہے ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں