Connect with us

ٹیکنا لوجی

روبوٹ چمگادڑتیار

شائع شدہ

کو

روبوٹ چمگادڑتیار

جرمن ماہرین نے ایک خاص قسم کی چمگادڑ ’فلائنگ فوکس‘ کا جدید روبوٹ ماڈل بنایا ہے جو ہوبہو اسی انداز میں پرواز کرتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں پائی جانے والی اس چمگادڑ کے ماڈل کو ماہرین نے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے۔ اس کے پروں کی چھلی بہت نفیس ہوتی ہے اور دورانِ پرواز یہ اپنی انگلیوں کی مدد سے اس جھلی کے خم کو قابو کرتی ہے اور بہت پھرتی سے چکر کاٹتی ہے۔ یہاں تک کہ بہت سست پرواز کے دوران بھی فلائنگ فوکس اوپر کی جانب اٹھتی رہتی ہے۔ اسی بنا پر ماہرین نے اس پر تحقیق کرکے اس کا اڑن روبوٹ تیار کیا ہے۔ جرمن کمپنی فیسٹو نے اسے تیار کیا ہے جبکہ اس روبوٹ چمگادڑ کا وزن صرف 580 گرام ہے اور لمبائی 87 سینٹی میٹر ہے۔ اس کے پروں کی لمبائی 228 میٹر ہے۔ اس میں دو طرح کی حرکات کو مدِنظر رکھا گیا ہے جو پرائمری اور سیکنڈری کائنامیٹکس ہیں۔ انہیں سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن ماہرین نے اس کی طبیعیات کو سمجھتے ہوئے یہ روبوٹ تیار کیا ہے۔ ماہرین نے خاص مٹیریل سے چمگادڑ کے پر بنائے ہیں جو ایک جانب بہت ہلکے لیکن مضبوط اور لچکدار بھی ہیں۔ لچکدار مٹیریل کو 45000 مقامات پر باہم جوڑا گیا ہے، اس طرح مٹیریل کو نقصان پہنچنے کے باوجود بھی چمگادڑ پرواز کرتی رہتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ روبوٹ چمگادڑ کو کئی اہم کاموں میں استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے پرندوں اور دیگر جانداروں کی پیچیدہ اڑان سمجھنے میں بھی مدد مل سکے گی۔

ٹیکنا لوجی

بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں

شائع شدہ

کو

بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں

مونٹریال: کینیڈا میں بچوں کے امراض کے ماہرین نے بٹن جیسی گول چھوٹی بیٹریوں کو بچوں کی صحت کیلئے زہر قرار دیدیا۔

چلڈرنز ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے کہا کہ بچے اگر چہ کھلونوں سے کھیل کر بہت خوش ہوتے ہیں لیکن جن کھلونوں میں ایسی بیٹریاں ہوتی ہیں وہ بچوں کی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہیں اس قسم کی بیٹریاں اب مبارکباد کے کارڈز میں بھی استعمال ہو رہی ہیں اور جب ان کارڈرز کو کھولا جاتا ہے اس بیٹری کی مدد سے ان میں سے موسیقی سنائی دیتی ہے طبی ماہرین کے مطابق یہ چمکدار بیٹریاں بچوں کیلئے پرکشش ہو سکتی ہے اور وہ انہیں نکال کر منہ میں رکھ سکتے ہیں اگر غلطی سے یہ بیٹری حلق سے اتر جائے تو صورتحال خراب ہو سکتی ہے ماہرین کے مطابق یہ بیٹری تین گھنٹے معدے میں موجود رہے تو صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ڈاکٹر سام ڈینٹل کے مطابق بیٹری نگلنے کے باعث بعض بچوں کو بولنے کی صلاحیت ختم ہو گئی جبکہ کچھ سماعت سے محروم ہو گئے۔ ان بیٹریوں میں مختلف اقسام کی دھاتیں مثلاً مینگانیز ڈال آکسائیڈ، کیلکولیٹرز، کیمروں اور دیگر آلات میں بھی استعمال ہوتی ہیں ڈاکٹر ڈینٹل نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ تمام اشیا جن میں بٹن بیٹری استعمال ہوتی ہے کوبچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

فون ری سائیکل کرنے والا روبوٹ تیار

شائع شدہ

کو

فون ری سائیکل کرنے والا روبوٹ تیار

امریکا اور یورپ کے صارفین ہر سال نیا فون خریدتے ہیں اور پرانا فون اونے پونے داموں فروخت کردیتے ہیں۔ ان میں سے ایپل کے پرانے اسٹاک میں موجود فون ایپل کے گوداموں میں پڑے رہتے ہیں یا کسی وجہ سے واپس آجاتے ہیں۔ اب ایپل نے ان فونز کو ری سائیکل کرنے کےلیے ایک جدید ترین روبوٹ تیار کیا ہے۔ اس روبوٹ کا نام ڈیزی ہے جو 200 کے لگ بھگ فون ری سائیکل کرتا ہے لیکن اسے روبوٹ کے بجائے پورا ری سائیکلنگ پلانٹ کہنا زیادہ بہتر ہوگا جو 9 مختلف آئی فونز کو ماحول دوست انداز میں کھول کر انہیں تلف کرنے یا ری سائیکلنگ کا کام کرتا ہے۔
ایپل نے دو سال قبل اپنا ایک ری سائیکلنگ روبوٹ لائیام بھی تیار کیا تھا جسے اب جدید ڈیزی کی صورت میں ڈھالا گیا ہے اور اس میں لائیام کے کئی اہم پرزے لگائے گئے ہیں۔ اس روبوٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بہت مہارت سے پرانے آئی فون کے ایک ایک کارآمد پرزے کو الگ کرتا ہے تاکہ کوئی شے ضائع نہ ہو۔ مثلاً اگر کوئی چپ یا پرزہ دوبارہ استعمال ہوسکے تو وہ اسے نکال کر ایک الگ خانے میں بھیج دیتا ہے۔ اس طرح ری سائیکل ہونے والے حصوں کو دوسری جگہ جمع کرتا ہے۔
ایپل کے مطابق یہ روبوٹ آئی فون کے قیمتی حصے بھی الگ کرتا ہے اور ایک گھنٹے میں 200 سے زائد آئی فون ری سائیکل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ یہ خوبی کسی بھی غیر روایتی ری سائیکلنگ مرکز میں موجود نہیں۔
تاہم ایپل نے ان روبوٹس کی تعداد نہیں بتائی اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ یہ روبوٹس کس جگہ موجود ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

کھوج لگانے والا روانہ

شائع شدہ

کو

کھوج لگانے والا روانہ

امریکی خلائی ادارے نے ریاست فلوریڈا کے کیپ کنیورل سے ٹیس نامی ایک مصنوعی سیارہ خلا میں روانہ کیا ہے جس کا مقصد نظامِ شمسی سے باہر ہزاروں نئے سیاروں کا کھوج لگانا ہے۔ یہ مشن ستاروں کے بڑے جھرمٹوں کے اندر جھانک کر وہاں ممکنہ طور پر موجود ستاروں کی چمک میں کمی کا سراغ لگانے کی کوشش کرے گا۔ دور دراز واقع سیارے براہِ راست تو نہیں دیکھے جا سکتے، البتہ جب وہ اپنے ستارے کے گرد مدار میں چکر لگاتے لگاتے ستارے کے سامنے آ جاتے ہیں تو ستارے کی چمک تھوڑی دیر کے لیے ایک مخصوص انداز میں مانند پڑ جاتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں