Connect with us

کالم کلوچ

حقوق العباد اور "خادم"

شائع شدہ

کو

کپتان کی عزت داؤ پر

لاہور شہر ’’دھرنا اسٹیٹ‘‘ میں بدل گیا۔ مولانا خادم حسین رضوی اور ان کے پیروکار اسلام آباد میں دیئے جانے والے دھرنے پر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر ہونے والی کارروائی کیخلاف گزشتہ چند روز سے حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار کے باہر دھرنا دیئے ہوئے تھے اور گزشتہ روز یہ دھرنے شہر بھر میں پھیل جانے سے پورا شہر یرغمال بن کر رہ گیا اور شہریوں کو آمدورفت میں شدید دشواری پیش آئی۔ اس حوالہ سے ہم نے اپنے ایک فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے عالم دوست قاضی عمر فاروق سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ ان دھرنوں کی شرعی حیثیت کیا ہے تو انہوں نے سنی طبقہ کے مولانا مفتی محمد قاسم کی کتاب ’’وقف کے شرعی مسائل‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مفتی قاسم صاحب نے عام شہریوں کو تکلیف دے کر عبادت کو غیر شرعی قرار دیا اور ان کے فتویٰ کے مطابق عام شہریوں کی آمدورفت میں خلل ڈالنا قابل مذمت ہے اسی طرح ہم نے علامہ ملک عزیز الرحمان جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی ضلع بہاولنگر سے بات کی ان کا تعلق فقہ اہل حدیث سے ہے انہوں نے بتایا کہ ایک حدیث موجود ہے جس میں آپؐ نے فرمایا کہ راستے کو اس کا حق دو اور حق دینے سے مراد یہ ہے کہ راستے میں پتھر، جھاڑیاں یا کسی اور طریقہ سے راستہ بند نہ کیا جائے جس سے لوگوں کو آنے جانے دشواری ہو بلکہ انہوں نے کہا کہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ راستے میں گندگی تک بھی پھینکی جائے جس سے وہاں سے گزرنے والوں کو ناگواری کا احساس ہو۔ ہمارے نبیؐ نے راستے میں کسی ایسے عمل سے منع کیا ہے جس سے ان کی طبیعت پر ناگواری گزرتی ہو وہ کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جاسکتاانہوں نے بتایا کہ ہمارے پیارے نبیؐ نے کسی ایسے مقام مسجد بنانے سے منع کیا ہے جو خالصتاً کسی کی ملکیت ہو اور وقف نہ کی گئی ہواور اسی حدیث مبارکہ میں راستے کا کچھ حصہ مسجد میں ڈالنے پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں ادا ہونے والی نماز دوبارہ پڑھی جائے چونکہ قبضہ کی گئی جگہ پر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی جہاں تک ہمیں علم ہے مولانا خادم حسین رضوی صاحب سنی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور مفتی قاسم صاحب ایک ہی امام یعنی امام ابو حنیفہ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں دونوں کے ایک ہی مکتبہ فکر سے تعلق ہونے کے بعد دونوں کے نظریات میں اس قدر تضاد سمجھ سے بالاتر ہے۔
حقوق العباد یعنی کے عام لوگوں یا عام شہریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے حوالہ سے بہت سی روایات موجود ہیں جس میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ قیامت کے دن حقوق اللہ کی معافی ہوسکتی ہے لیکن حقوق العباد کی معافی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک جن لوگوں کو تکلیف دی گئی یا نقصان پہنچایا گیا ہو وہ معاف نہ کردیں۔ ہمیں یہ سب سبق دینے والے جید علمائے کرام اپنی جھوٹی انا اور ذاتی تسکین کیلئے جو تاویلیں گھڑ کر اپنے پیروکاروں کو اس مکروہ عزائم پر آمادہ کرتے ہیں وہ آنے والی نسلوں کیلئے کیا مثالیں چھوڑ کر جائیں گے اب تک ہمارے نبیؐ، صحابہ، آئماء کرام اور اولیائے اللہ کی تعلیمات کو لوگ اپنے لیے مشعل راہ سمجھتے ہیں اور ان کے ہر عمل کو ان کے نام کی سنت قرار دیتے ہوئے اس پر عمل کرتے ہیں۔ ہمارے بعد آنے والی نسلیں مولانا خادم حسین رضوی کی تقلید کرتے ہوئے اپنے خلاف ہونے والے کسی بھی اقدام پر نہ صرف خود سڑکوں پر آجایا کریں گی یہی نہیں بلکہ ان کے پیروکار بھی ان کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوکر لوگوں کو تکلیف دے کرخادم حسین رضوی کی نقش قدم پر کریں گے۔کچھ لوگوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ یہ ختم نبوت کا مسئلہ نہیں بلکہ ختم حکومت کا مسئلہ ہے اور انہی کا یہ موقف ہے کہ یکم جون 2018ء کو جب موجودہ حکومت کی میعاد ختم ہوجائے گی اور نئی نگران حکومت کا وجود عمل میں آجائے گا تب ’’اسلام‘‘ خطرے سے باہرنکل آئے گاان کے خیال میں صرف موجودہ حکومت کے برسراقتدار رہنے تک ’’اسلام‘‘ خطرے میں ہے۔ ماضی پر نظر دوڑائیں تو 1977ء میں تحریک نظام مصطفی میں بہت سے نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ممکن ہوسکے مگر اسلام نافذ ہونے کی بجائے گیارہ سالہ مارشل لاء ضرور نافذ ہوا۔

کالم کلوچ

میشا شفیع کے بعد ریشم بھی....

شائع شدہ

کو

کپتان کی عزت داؤ پر

میشا شفیع، علی ظفر اسکینڈل نے جہاں شوبز حلقوں میں ہلچل مچائی ہے وہیں دیگر سماجی حلقے بھی تشویش میں مبتلا ہیں اس حوالہ سے شوبز کے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ کل تک ایک دوسرے کے قریبی دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والی یہ فنکار جوڑی اس طرح اسکینڈل منظر عام پر لائے گی تو پھر ہماری شوبز انڈسٹری میں بہت سے ایسے رشتے ناطے ہیں جومذہبی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہیں مگر ان رشتوں کو اخلاقی دائرہ کار کے تحت جائز قرار دیا جاتا ہے ۔اس سے پہلے کہ علی ظفر کے خاندانی پس منظر پر نظر ڈالی جائے پہلے دیکھنا یہ ضروری ہے کہ میشا شفیع کا خاندانی پس منظر کیا ہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ میشا شفیع کا فیملی بیک گراؤنڈ نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس ‘‘ کہلانا پسند کرتا ہے۔ میشا شفیع کی والدہ صبا پرویز اپنے فنکارانہ کیریئر کے آغاز میں صبا حمید کہلائیں بعد ازاں انہیں شادی شدہ زندگی کے آغاز میں کبھی صبا شفیع کہا گیا تو کبھی صبا پرویز اور ایک وقت صبا پر صبا وسیم عباس کہلانے کا بھی آیا ۔ یہ درست ہے کہ وسیم عباس سے صبا حمید کے تعلق کو شرعی قرار نہیں دیا جاسکتاکیونکہ وسیم عباس کے ساتھ صبا حمید کی دوستی ایک مشترکہ ’’شوق‘‘کی وجہ سے ہوئی اور کئی برسوں تک قائم رہی۔یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ صبا کے والد خود کو کامریڈ(روشن خیال)کہلوانا پسند کرتے تھے کیونکہ وہ مذہبی رجحانات کے مالک نہیں تھے بالخصوص ہمارے اسلامی معاشرے میں انہیں اپنی موجودگی ہمیشہ ناگوار گزرتی تھی۔ میشا شفیع کو یہی ’’روشن خیالی‘‘ اپنے نانا اور والدہ سے ورثہ میں ملی۔ علی ظفر کے ساتھ ان کے ناجائز تعلقات کی کہانی خود ان کی زبانی منظر عام پر لانا ایسی ہی روشن خیالی اور ترقی پسندی کی ایک بھونڈی مثال ہے۔

میشا شفیع کا یہ اعتراف کہ انہیں علی ظفر نے بارہا جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا انہیں قریب سے جاننے والے لوگوں کو قطعی طور پر حیران نہیں کرتا مگر برائے نام تعلق رکھنے والے ساتھی فنکاروں کی اکثریت اور دونوں فنکاروں کے مداحوں کیلئے یہ انکشافات ہوش اڑا دینے کیلئے کافی تھے اسی لیے گزشتہ 48 گھنٹوں کے درمیان ملک بھر میں ریگولر اور سوشل میڈیا پر صرف اور صرف علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان ناجائز تعلقات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے بلکہ اب اس کی گونج سرحد پار بھی پہنچ چکی ہے۔ہالی ووڈ میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی اداکارہ کی طرف سے کیے جانے والے انکشافات کے بعد ’’#MeToo‘‘ کے نام سے شروع ہونے والی یہ مہم اب پاکستان میں موجود نام نہاد ترقی پسندوں کیلئے ایک مشغلہ بن چکی ہے ۔ لائم لائٹ میں رہنے والی شخصیات کو ہمیشہ سے عام لوگ اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں اور ان کے رنگ ڈھنگ ، بول چال اور رہن سہن کے طریقے بھی اپنانے کی کوشش کرتے ہی۔ میشا شفیع بھی بدقسمتی سے دور حاضر کی ایک سلیبریٹی ہیں جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو اس ’’#MeToo‘‘ مہم کا حصہ بنایا اور خود کو علی ظفر کا ’’شکار‘‘قرار دے دیا۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے علی ظفر کی خود سے جنسی زیادتی کا معاملہ اپنے ضمیر کی آواز پر ظاہر کیا لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بحیثیت فنکارہ میشا شفیع کو اس قدر مقبولیت حاصل نہیں ہوئی تھی جتنی شہرت انہوں نے علی ظفر پر زیادتی کا الزام لگا کر حاصل کرلی۔ میشا شفیع کی ’’روشن خیالی‘‘ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے بیان میں علی ظفر کی ایک سے زائد بار جنسی زیادتی کا ذکر کیا تھوڑا سا بھی شعور رکھنے والے ان کی اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بار بار کی زبردستی اور وہ بھی باہمی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔یہ روشن خیالی اور ترقی پسندی صرف اور صرف میشا شفیع جیسی نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس‘‘ سے تعلق رکھنے والی خواتین ہی دکھا سکتی ہیں کہ جن کے خاندان میں ایسی کسی بات کو اور ایسے کسی واقعہ کو کبھی معیوب نہیں سمجھا جاتا اور جن کا مقصد ہی صرف اتنا ہے کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسی مہم کو تقویت دی جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر الزام کیوں داغ دیا۔ میشا شفیع کے نانا حمید اختر اور ان کی والدہ صبا حمید ہمیشہ تنازعات کو ہوا دینے کی راہ پر گامزن رہے ہیں مقصد شہرت اور دولت کا حصول ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ بلیک میلنگ سے لوگوں کو ہراساں کرنا ہوتا تھا۔میشا شفیع کے حالیہ بیان کا مقصد علی ظفر کو بلیک میل کرنا ہے یا ان کی وجہ سے حاصل ہونے والی شہرت کو دولت کمانے کا ذریعہ بنانا ہے جہاں تک علی ظفر کا تعلق ہے تو ان کا خاندانی پس منظر انتہائی وضع دار اور تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے اور انہوں نے میشا شفیع کے بیان کے بعد انتہائی سادگی اور سمجھ داری سے قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

ریشم کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کی ورسٹائل فنکاروں میں ہوتا ہے اگر ریشم،میشا شفیع جیسی ’’غلطی ‘‘کرتے ہوئے اپنی زبان کھول دیں تو شاید پورے پاکستان میں ایسا بھونچال آجائے گا جیسے کسی نے ایٹم بم گرا دیا ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

مقتول ہی تو قاتل ہے (بشکریہ ایکسپریس)

شائع شدہ

کو

6"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

جناب محترم وسعتاللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ اس دنیا میں اگر کسی شے کا سب سے زیادہ ریپ ہوا ہے تو وہ دلیل ہے اور پھر اس ریپ زدہ دلیل کے ساتھ تہذیب کا جیسا ریپ ہوا اور ہو رہا ہے اس کا کوئی توڑ کم ازکم مجھے تو ٹپائی نہیں دے رہا ۔حل تو خیر لاینحل ہے۔ بہت دور کی کوڑی لانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس المیے سے بچپن میں ہی آشنا ہو جاتے ہیں جب چشمے پر پانی پینے والے بھیڑ کے بچے اور اسے دلیل دے کر ہڑپ کر جانے والے بھیڑئیے کی کہانی سنتے ہیں۔
اگر نازی دنیا پر قبضہ کر لیتے تو پھر ہماری نسلوں کو یہی نصابی علم عطا ہوتا کہ یہودیوں کو جرمنی سے نازیوں نے نہیں بلکہ خود یہودیوں نے ختم کیا۔نہ وہ سود خوری کے ذریعے جرمنوں کا خون چوستے اور نہ آریائی خون جوش میں آتا۔اگر جرمن خون آشام ہی ہوتے تو یہودیوں سے پہلے اور بعد میں کسی اور قوم پر ایسا عذاب کیوں نہیں آیا۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جرمنوں نے اپنی افریقی نوآبادی نمیبیا کی سیاہ فام آبادی کی بھی اسی پیمانے پر نسل کشی کی۔ مگر چونکہ بہت سے یورپی مستشرقین ایک زمانے تک کھلم کھلا اور آج دل ہی دل میں غیر سفید فاموں کو تہذیب و تمدن سے عاری نیم انسان سمجھتے ہیں لہذا نمیبیا کے سیاہ فاموں کا نوحہ کسی نے نہیں لکھا۔
یہی کچھ کانگو میں بلجئیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کے زمانے میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔کانگو بادشاہ کی ذاتی املاک میں شامل تھا۔ لہذا گدھے اور سیاہ فام کا فرق مٹ گیا۔ بلکہ گدھے سے زیادہ بہتر سلوک ان معنوں میں ہوا کہ وہ نسل کشی سے بچ گیا۔
برسلز میں لگنے والے میلوں ٹھیلوں اور نمائشوں میں ایک عرصے تک ہیومن زو بھی لگایا جاتا تھا۔اس میں کانگو سے لائے گئے سیاہ فام نیم انسانوں سے عام شہریوں کا دل بہلایا جاتا تھا۔آج یہ سب تماشے نہیں ہوتے مگر ان جرائم کو نوآبادیاتی دور کی بے اعتدالیوں اور غلطیوں کا نام دے کر مہین خوشنما تہذیبی پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔اب ہر کوئی اسرائیل تو نہیں ہوتا کہ جس سے مغربی جرمنی یہودی نسل کشی پر معافی مانگتے ہوئے پانچ ارب مارک کی ازالائی رقم بھی ادا کرے۔
کون کہتا ہے کشمیر میں بھارت ظلم کر رہا ہے۔یہ تو سرحد پار سے آنے والے گھس بیٹھیے یا ان کے ہاتھوں گمراہ ہونے والے مٹھی بھر کشمیری لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو بھارتی ایکتاکے درپے ہیں۔وہ جان بوجھ کر سیکیورٹی دستوں کو اشتعال دلاتے ہیں تاکہ وہ کشمیریوں کے منہ پر چھرے مار کے انھیں اندھا کر دیں اور پھر پیشہ ور کشمیری ان چھرہ زدہ چہروں کو ظلم کا اشتہار بنا کر دنیا بھر میں سینہ کوبی کرتے پھریں۔اہلِ دلی کی اس دلیل میں اگر وزن نہ ہوتا تو بیشتر بھارت کاہے کو آمنا و صدقنا کہتا۔
نیتن یاہو کی یہ بات ماننے میں کیا عار ہے کہ اسرائیلی فوج دنیا کی مہذب ترین فوج ہے۔اس نے آج تک کسی فلسطینی کو مارنے میں پہل نہیں کی۔کسی فلسطینی کو پتھر یا غلیل سے نشانہ نہیں بنایا۔لیکن جب کوئی فلسطینی بچہ یا بچی کسی اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارتا ہے یا ٹینک پر غلیل سے نشانہ باندھتا ہے یا مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کو مٹانے کا نعرہ لگاتا ہے تو کیا ریاست کو کوئی حق نہیں کہ وہ ایسے شرپسندوں کو اوقات میں رکھنے کے لیے ذرا سے گولے، کچھ بم اور دوچار نشانچیوں کو استعمال کر لے۔
کسی نے آج تک گولڈا مائیر کے اس دعویٰ کو چیلنج کیا کہ ’’ کون سے فلسطینی ؟ جب ہم یہاں آئے تو یہ خطہ تو غیر آباد تھا۔ہم نے آ کر اسے بسایا‘‘۔اگر اسرائیل واقعی کوئی سفاک ریاست ہے تو پھر کچھ عرب ممالک اس سے دوستی کے لیے آج مرے نہ جاتے۔
مشرقی پاکستانی اگر ایکتا کو چیلنج نہ کرتے ، وہاں بسنے والے ہندو اساتذہ اور دانشوروں کے بہکاوے میں نہ آتے اور غدار مجیب کے چھ نکاتی پھندے میں آئے بغیر وسیع تر قومی مفاد میں اپنے مغربی پاکستانی بھائیوں کے تھوڑے سے اور مطالبات مان لیتے اور اگر بھارت چند گمراہ مشرقی پاکستانیوں کی آڑ میں حالات سے فائدہ اٹھا کر فوج کشی نہ کرتا تو آج بھی ہم ہنسی خوشی رہ رہے ہوتے۔یہ ہیں، سقوطِ مشرقی پاکستان کی وہ وجوہات جوآج سینتالیس برس بعد بھی پاکستانی نصاب میں اتنی ہی سچ ہیں جتنی سینتالیس برس پہلے تھیں۔
اگر ریاستوں کا اپنا اپنا سچ ہے تو افراد اپنے اپنے سچ پر کیوں نہ قائم رہیں۔مثلاً اسے ماننے میں کیا قباحت ہے کہ ملالہ نے اپنے سر پر خود گولی ماری تھی تاکہ مغرب اسے اپنی ڈارلنگ بنا کر طالبان کو بدنام کرتا پھرے۔
مشال خان نے بھلے توہینِ مذہب نہ کی ہو مگر وہ ملحدوں کے شعر تو پڑھتا تھا ، اپنے کمرے کی دیواروں پر سرخوں جیسے نعرے تو لکھتا تھا ، ایک نظریاتی ریاست میں سیکولر لبرل نظریہ مسلط کرنے کا تو حامی تھا۔اسے کس نے مارا۔وہ تو مجمع کے غیض و غضب کا شکار ہوا۔مجمع کو اس سے کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی۔مجمع کو کنٹرول تو نہیں کیا جا سکتا۔یہ تو مشال خان کو خود خیال ہونا چاہیے تھا کہ وہ آگ سے کیوں کھیل رہا ہے ؟
مختاراں مائی نے باقاعدہ سوچ سمجھ کر خود کو ریپ کرایا تاکہ اسے بیرونِ ملک سے فنڈنگ مل سکے۔یہی حرکت سوئی میں رہنے والی ڈاکٹر شازیہ نے بھی کی تھی۔خواتین بن ٹھن کے نکلیں گی تو مٹھائی پر مکھیاں تو منڈلائیں گی۔
جموں کی آٹھ سالہ بکروال بچی آصفہ اگرچہ بن ٹھن کے نہیں نکلی تھی، پھر بھی انسان کے اندر بسے جہنم کی خوراک بن گئی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی سیاستداں جب آصفہ ریپ قتل کیس کے آٹھ مجرموں کی وکالت کرتے ہیں تو ان کے پاس بھی یہ دلیل ہوتی ہی ہے کہ بکروال ہندوؤں کی چراگاہوں پر زبردستی قبضہ کر رہے ہیں۔ غصہ کہیں تو نکلنا تھا۔لہذا قصور ریپسٹ کھجوریا اور اس کے آٹھ ساتھیوں کا نہیں بلکہ بکروال برادری کا اپنا ہے۔
پنجاب کے عیسائیوں، احمدیوں اور کوئٹہ کی ہزارہ برادری کا تو دھندہ ہی یہی ہے کہ وہ خود پر مظالم کی جھوٹی سچی داستانیں گھڑتے ہیں تاکہ مغرب میں مذہبی عقایذ کی بنا پر زیادتی کا کیس دائر کر کے پناہ حاصل کر سکیں۔اگر یہ معاشرہ اتنا ہی ظالم ہوتا تو پھر اکیس کروڑ لوگ یہاں کیوں رہ رہے ہیں۔
جب انصاف فٹ بال بن جائے اور ریاست گول کیپر ہو تو پھر ہر دلیل وزنی ہے، ظالم و مظلوم ایک ہی صف میں ہیں اور پھر پہاڑی چشمے پر اوپر کی جانب کھڑا بھیڑیا نیچے کھڑے میمنے کو بھی یہ دلیل دے کر ہڑپ کرنے میں حق بجانب ہے کہ تم میرا پانی گدلا کیوں کر رہے ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

احتساب، جج، جرنیل

شائع شدہ

کو

کپتان کی عزت داؤ پر

چیئرمین قومی احتساب بیورو(نیب) جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے جب سے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا ہے ملک سے کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا عزم لیے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عرصہ دراز سے زیر التوا کرپشن مقدمات کو ازسر نو کھولنے کا نہ صرف حکم دیا بلکہ نیب حکام کو ہدایت کی کہ وہ کسی کے دباؤ میں آئے بغیر بلا خوف اور سیاستدانوں سمیت بیوروکریسی، ججز اور ریٹائرڈ جرنیلوں پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کریں اور جن پر الزامات ثابت ہوں ان کے خلاف احتساب عدالت میں نیب کی مدعیت میں مقدمات شروع کئے جائیں۔ ہماری اطلاع کے مطابق نیب میں اب تک سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی کے دو بھائیوں جن کا تعلق ماضی میں اسی ادارہ سے رہا ہے ، کے خلاف ڈی ایچ اے اراضی سکینڈل کے مقدمات کی کھلی تحقیقات ہونا نہ صرف باقی ہے بلکہ معروف این ایل سی کیس میں نامزد سابق 4 جرنیلوں کے خلاف بھی تحقیقات تاحال نہیں ہوسکیں۔

چیئرمین نیب سے ہم امید رکھتے ہیں کہ جس طرح ماضی میں انہوں نے عدلیہ میں ناقابل فراموش فیصلوں سے اپنی اور ادارے یعنی عدلیہ کی ساکھ کا وقار بلند کیا بلاشبہ ان کے بہت سے فیصلے کسی خوف یا دباؤ کا نتیجہ نظر نہیں آتے وہ ہمیشہ آئین و قانون کی پاسداری کیلئے نہ صرف کھڑے رہے بلکہ وقتی آزمائش کو بھی خاطرمیں نہ لاتے ہوئے اپنے نظریہ پر قائم رہے وہ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں جہاں اور بہت سے ججز نے اپنا اور ادارے کا وقار بلند کیا وہیں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا نام بھی قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی ان کی ایبٹ آباد کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے تحقیقات جو غیر سرکاری طور پر منظر عام آئی ہیں ان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ بلاشبہ نڈر منصف رہے ہیں۔ آج ہم چیئرمین نیب کی توجہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی مرحوم جنرل ریٹائرڈ حمید گل کے ایک انٹرویو کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جس میں انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ وہ ا س وقت کی حکومت طرف سے قائم کیے گئے غداری کے مقدمے کو ناپسندیدہ فعل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کے کسی سابق آرمی چیف کو غدار کہنا یہ فوج جیسے عظیم ادارے کی توہین ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ حکومت پاکستان ہوش کے ناخن لے اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ واپس لیں۔ ہاں البتہ اگر حکومت پاکستان جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف کرپشن کے مقدمات قائم کرے تو وہ نہ صرف حکومت کے ساتھ اس مقدمہ میں فریق بننے کیلئے تیار ہیں بلکہ وہ ایسے ثبوت بھی عدالت میں پیش کرسکتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کرپشن کی ہے‘‘۔ ہم یہاں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر کوئی الزام نہیں لگا رہے ہم انہیں غدار مانتے ہیں نہ ہی کرپٹ۔ ہاں البتہ جہاں بہت سارے لوگوں کی تحقیقات جاری ہیں وہیں اگر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی ملک و بیرون ملک جائیدادوں اور بینک بیلنس کی تفصیلات حاصل کی جائیں اور پتاچلایا جائے کہ کیا واقعی مرحوم جنرل حمید گل نے جو الزامات لگائے تھے ان میں کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں۔ جہاں اور بہت سے لوگوں کی آمدن سے زائد اثاثوں کی چھان بین جاری ہے وہاں ان کے اثاثوں کی چھان بین بھی ہوجائے تو اس سے پاکستان کے تمام اداروں کی عزت میں اضافہ ہی ہوگا۔

ہماری اطلاع کے مطابق جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے بہت سارے انٹرویوز سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی جائیداد کی جو تفصیل بتاتے ہیں وہ یقیناًان کے ذرائع آمدن سے کہیں زیادہ ہے۔کاش اس وقت جنرل ریٹائرڈ حمید گل موجود ہوتے تو ہم ان سے درخواست کرتے کہ وہ وہی ثبوت نیب کے حوالے کریں لیکن اب وہ اس دنیا میں موجود نہیں اگر نیب تھوڑی سی کوشش کرکے اس کی تفصیلات حاصل کرلے تو اس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے کی امید ہے اور اگر واقعی ہی تمام اداروں میں موجود کرپٹ افراد کیخلاف بلا تفریق تحقیقات ہوجائیں تو میاں محمد نواز شریف کا یہ بیانیہ اپنی موت خود مرجائے گا کہ احتساب صرف ان کی ذات اور مسلم لیگ ن کو نشانہ بنانے کیلئے کیا جارہا ہے اگر غور کیا جائے تو اس وقت پاکستان کے تمام سیاستدان جن میں میاں نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، ڈاکٹر فاروق ستار، حاصل بزنجو سمیت دیگر شامل ہیں، کا موقف ہے کہ احتساب بلاتفریق اور کسی کو نشانہ بنائے بغیر ہونا چاہیے اوروہ احتساب کے نام پر جوڈیشل ایکٹوازم کو ملک کیلئے بہت بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں