Connect with us

صحت

فالج کا خطرہ 75 فیصد کم

شائع شدہ

کو

فالج کا خطرہ 75 فیصد کم

تیز رفتار زندگی، غذائی بداحتیاطی اور ذہنی تناؤ کی وجہ سے دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کا مرض تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ بلند فشارِ خون دل کے امراض اور فالج کی وجہ بن رہا ہے اور ہرسال کروڑوں لوگوں کو متاثر کررہا ہے لیکن اب ہائی بلڈ پریشر کے مریض ایک انتہائی کم خرچ دوا کے استعمال سے فالج کو خود سے بہت حد تک دور رکھ سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں انتہائی کم قیمت پر دستیاب فولِک ایسڈ کا استعمال فالج کو روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے تاہم یہ افراد روزانہ اپنی معمول کی دوا کے ساتھ فولک ایسڈ استعمال کریں تو چار سال کے اندر اندر فالج کا خطرہ 73 سے 75 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین پہلے بتاچکے ہیں کہ فولِک ایسڈ یا وٹامِن بی نائن خون میں تیرتے ہوئے ایک مضر جز امائنو ایسڈ ’ہوموسِسٹائن‘ کی مقدار کم کرتا ہے جسے فالج کی بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں چین کی یونیورسٹی سے وابستہ ماہرین نے ایک طویل سروے کیا ہے۔ پیکنگ یونیورسٹی میں قلب پر تحقیق کے مرکز کے سربراہ ڈاکٹر یونگ ہو اور ان کے ساتھیوں نے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا 10 ہزار افراد کا 4 سال تک مطالعہ کیا۔ ان میں سے 210 افراد صرف بلڈ پریشر کی دوا لے رہے تھے جو فالج کا شکار ہوگئے جبکہ فولِک ایسڈ کھانے والے 161 افراد فالج کے پہلے حملے سے محفوظ رہے۔ یہ تحقیق امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں مریضوں میں ہوموسسٹائن اور خون کے دونوں پلیٹی لیٹس کو نوٹ کیا گیا تھا تاہم اس تحقیق کا لبِ لباب یہ ہے کہ فولک ایسڈ کی صورت میں فالج سے بچاؤ کا کم خرچ اور مؤثر طریقہ موجود ہے۔
سروے میں شامل 10 ہزار سے زائد افراد کی اوسط عمر45 سے 75 برس کے درمیان تھی اور ان میں سے نصف افراد کو روزانہ 10 گرام اینا لیپرل اور بقیہ افراد کو روزانہ 0.8 ملی گرام فولک ایسڈ کھلایا گیا۔ اگلے چار برس تک یہ معمول برقرار رکھا گیا۔ ان میں سے جن افراد نے فولک ایسڈ کا استعمال کیا ان کا بلڈ پریشر بہتر ہوا اور وہ فالج سے محفوظ رہے۔ اس بنا پر ماہرین بلڈ پریشر کے مریضوں کو کم از کم چار برس تک لگاتار فولک ایسڈ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں جو بنیاد سے ہی فالج سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

صحت

باپ بننے میں اہم رکاوٹ

شائع شدہ

کو

باپ بننے میں اہم رکاوٹ

امریکا کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے کہا ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں ڈپریشن کا عمل ان کے صاحبِ اولاد بننے میں اہم رکاوٹ بن سکتا ہے نتیجے میں ان کی بیویوں کے حاملہ ہونے کے امکانات 60 فیصد تک کم ہوسکتے ہیں۔ این آئی ایچ کے مطابق ایک جانب تو مردوں کا ذہنی تناؤ ان کے باپ بننے میں رکاوٹ ہے تو دوسری جانب خواتین کا ڈپریشن ان پر کوئی خاص اثر نہیں کرتا تاہم ایک طرح کی ڈپریشن دور کرنے والی دواؤں کے بے تحاشا استعمال سے خواتین کے حمل ضائع ہونے کا امکان ساڑھے تین گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ این آئی ایچ کے سروے سے مردوں میں ڈپریشن اور اولاد سے محرومی کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت ہوا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ڈپریشن جیسی خطرناک کیفیت کے شکار افراد مردوں میں لاولد رہنے کا خدشہ 60 فیصد تک ہوتا ہے تاہم اس سے قبل اولاد سے محرومی کے لیے اکثر تحقیقات اور مطالعات میں خواتین پر ہی توجہ رکھی گئی تھی۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ڈپریشن اور ذہنی تناؤ سے مردوں کے مادہ حیات (اسپرم) پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یوں وہ باپ نہیں بن سکتے۔ اس ضمن میں این آئی ایچ نے 1650 خواتین اور 1608 مردوں کا مکمل جائزہ لیا تو مردوں کی آدھی تعداد نے کسی نہ کسی طرح کے ڈپریشن کا اعتراف کیا تاہم 6 فیصد خواتین اور 2.28 فیصد مردوں میں ڈپریشن کی شدید کیفیت نوٹ کی گئی۔ سروے میں واضح طور پر یہ بات سامنے آئی کہ جن مردوں میں ڈپریشن کے آثار دیکھے گئے ان میں باپ بننے کی صلاحیت غیرمعمولی طور پر کم نوٹ کی گئی۔ یہ تحقیق ایک بالکل نئے پہلو کو ظاہر کرتی ہے کہ مرد اگر صاحبِ اولاد نہ ہوسکے تو اس کی ایک بڑی وجہ ڈپریشن بھی ہوسکتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

سالا ایک مچھر....

شائع شدہ

کو

سالا ایک مچھر....

مچھروں کے متعلق ایک اور تشویشناک بات سامنے آئی ہے کہ مچھرصرف ایک بار کاٹ لے تو بھی اس سے مزید امراض کی راہیں کھل جاتی ہیں کیونکہ مچھر کا تھوک جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو شدید متاثر کرتا ہے۔ یعنی مچھر کا ایک مرتبہ کاٹنا بھی بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔اس مطالعے کے لیے جینیاتی انجینیئرنگ سے ایسا چوہا بنایا گیا جس میں انسانی خون کے خلیات تھے۔ ماہرین نے جائزہ لیا کہ مچھر کا تھوک اس چوہے کے امنیاتی نظام کو کسطرح متاثر کرتا ہے اور بعض بیماریاں بدن میں تیزی سے کیوں پھیلتی ہیں؟ہیوسٹن میں واقع بیلر کالج آف میڈیسن نے پہلے ٹرانس جینک چوہے کے پاؤں پر چند تبدیل شدہ مچھروں سے کٹوایا اور ایک ہفتے تک ان کا جائزہ لیا گیا۔ واضح رہے کہ اس تجربے میں چوہے میں انسانی خون کے تمام خلیات موجود تھے جن میں بیماریوں سے لڑنے والے ٹی سیلز بھی ہیں۔ہرین نے نوٹ کیا کہ مچھر کاٹنے سے چھ گھنٹے بعد چوہوں میں سائٹوٹوکسن ٹی سیلز کی ذیادہ افزائش ہونے لگی جو متاثرہ خلیات پر حملہ ذیادہ کررہے تھے جبکہ ریگولیٹری ٹی سیلز پر ان کا حملہ اتنا شدید نہ تھا۔ ٹی سیلز امنیاتی نظام کو باقاعدہ بناتے ہیں اور یوں ہم بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
ایک روز بعد خون میں ریگولیٹری ٹی سیلز بڑھے لیکن دوسرے ٹی سیلز کم ہوئے یعنی جسم سوزش کے خلاف نبرد آزما تھا۔ تاہم ایک ہفتے بعد عجیب انکشاف یہ ہوا کہ ماہرین کی ٹیم کو ڈبل پوزیٹو ٹی سیل دوبارہ دیکھنے کو ملے جو خون، جلد اورہڈیوں کے گودے تک میں موجود تھا۔ پھر ریگولیٹری ٹی سیلز بھی کم کم ہونا شروع ہوگئے۔مختصراً پورے ہفتے مچھے کاٹنے سے ہونے والے اثرات کم یا ذیادہ ہوتے رہے جو ثابت کرتے ہیں کہ مچھر کاٹنے سے جسم میں بہت عرصے تک تبدیلیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ تاہم چوہوں پر کئے گئے تجربات کے بعد اس عمل کو انسانوں پر دوہرانا بہت ضروری ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

چربی پگھلانا چاہتے ہیں تو ...

شائع شدہ

کو

چربی پگھلانا چاہتے ہیں تو ...

اگر آپ وقت کی کمی کا شکار ہونے کی وجہ سے اپنی خوراک اور صحت پر توجہ نہیں دے سکتے اور ورزش سے دوری کی وجہ سے آپ موٹے ہوچکے ہیں تو پریشان نہ ہوں بلکہ ذیل میں دیا گیا قدرتی مشروب رات کو سونے سے پہلے استعمال کرکے اپنے جسم سے اضافی چربی پگھلاسکتے ہیں۔
اجزاء
ادرک پسا ہواایک بڑا چمچ
کھیرا ایک عدد
آدھالیموں
تھوڑا ساپارسلے یا دھنیا
پانی ایک سے تین گلاس
بنانے کا طریقہ
تمام اجزاءکو کسی بلینڈر میں اچھی طرح باریک کرلیں اور رات کو سونے سے پہلے استعمال کریں۔جب تک یہ مشروب پئیں تو ورزش بھی کریں اور کھانے پینے میں تھوڑی سے احتیاط بھی کریں۔اس طرح آپ کو بہترین نتائج ملیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں