Connect with us

کالم کلوچ

10،"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

شائع شدہ

کو

10،"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

جناب وجاہت مسعود اپنے کالم "بارہ مارچ: قرارداد مقاصد سے سینیٹ الیکشن تک" میں تحریرکرتے ہیں کہ بہار کے دن ہیں۔ نئے سبز پتے ٹہنیوں پر جابجا نکل رہے ہیں۔ کونپلیں پھوٹ رہی ہیں۔ درودیوار سے سبزہ اگ رہا ہے۔ آج مارچ کی بارہ تاریخ ہے۔ ایوان بالا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب آج شام ہو گا۔ گویا آج ایوان بالا آئینی تقاضوں کے مطابق اپنی تشکیل نو مکمل کر لے گا۔ درویش کے دل ناصبور کا خمیر مگر عجیب مٹی سے اٹھا ہے۔ وہ جو استاد ذوق نے کہا تھا،
لو مجھے لے چلا وہیں، دیکھو
دل خانہ خراب کی باتیں
بارہ مارچ سے عجیب عجیب خیال امڈے چلے آتے ہیں۔ 1949کا برس تھا۔ مارچ کی بارہ تاریخ تھی۔ دستور ساز اسمبلی نے اس روز قراردادمقاصد منظور کی تھی۔ ایوان میں اس روز کل 31ارکان موجود تھے۔ اکیس مسلم اور دس غیر مسلم۔ میاں افتخار الدین، بیگم شاہنواز اور سر ظفر اللہ خان سمیت تمام مسلم ارکان نے قرارداد مقاصد کی تائید کی۔ دوسری طرف کسی ایک غیر مسلم رکن اسمبلی نے قرار داد مقاصد کی حمایت نہیں کی۔ پاکستان کی مملکت میں حاکمیت اعلیٰ کے سوال پر یہ دوٹوک تفریق بارہ مارچ 1949 کو سامنے آئی۔ یہ وہی دستاویز تھی جس میں قائد اعظم کے 11اگست 1947کے اس فرمان کی صریح تردید کی گئی تھی کہ ’پاکستان کی مملکت میں عقیدے کی بنیاد پر امتیاز نہیں کیا جائے گا‘۔ پاکستان کے آئین کی شق بیس میں ہر شہری کو عقیدے کی غیر مشروط آزادی دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی ایک تاریخی فیصلے میں یہ واضح کر چکے ہیں۔ عقیدے کی آزادی کے جملہ زاویے اور مفہوم ان بین الاقوامی دستاویزات میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں، جن پر پاکستان نے دستخط کر رکھے ہیں اور جن کی ریاستی سطح پر توثیق کی جا چکی ہے۔ بارہ مارچ 1949 کو ہم نے وہ سفر شروع کیا جس کے بطن سے اس اشتعال انگیز سوچ نے جنم لیا ہے جس نے گزشتہ روز تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہنے والے قائد پر سر مجلس جوتا اچھالا ہے۔ خواجہ آصف کے چہرے پہ سیاہی پھینکی ہے۔ خواجہ آصف کے طرز سیاست سے اختلاف کے پہلو نکلتے رہتے ہیں لیکن یہ خواجہ محمد آصف کو ہدیہ تبریک دینے کی گھڑی ہے۔ ٹھیک پینسٹھ برس پہلے مارچ 1953میں خواجہ آصف کے والد محترم خواجہ محمد صفدر مرحوم کے ساتھ سیالکوٹ میں ایک مشتعل ہجوم نے یہی سلوک کیا تھا۔ تفصیل اس واقعے کی منیر انکوائری کمیشن رپورٹ میں موجود ہے۔ خواجہ آصف کو فیض کا یہ شعر دہرانے کا استحقاق مل گیا ہے:
یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزمِ یار چلے گئے
بارہ مارچ 1949ء کی قرارداد 1973کے آئین میں دیباچے کے طور پہ شامل کی گئی تھی۔ ضیا آمریت نے مذہبی رہنمائوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اسے دستور کا قابل نفاذ حصہ بنا ڈالا۔ مجھ پہ آئی کہاں ٹلی ہے ابھی / ذکر میرا گلی گلی ہے ابھی۔ اسلام آباد کے ایک حکم نامہ نے یہ طرفہ تجویز دی ہے کہ فوج سمیت تمام سرکاری محکموں میں ملازمت کے امیدواروں کے لئے عقیدے کا بیان حلفی لازم قرار دیا جائے۔ اس پر صحافت کے ایک گنجفہ کبیر نے بڑے زوروں سے داد دی ہے۔ وزیرے چنیں، شہر یارے چناں… ہماری تاریخ میں تہذیب کی پسپائی کے یہ سب اشارے بارہ مارچ سے منسوب ہیں۔ 1951 میں پنجاب کے صوبائی انتخابات بھی دس مارچ کو ہوئے تھے جن میں جھرلو کی اصطلاح متعارف کروائی گئی۔ اور لطف یہ ہے کہ ان انتخابات میں اصل دھاندلی ٹھیک دو روز قبل آٹھ مارچ 1951 کو راولپنڈی سازش کیس کے انکشاف کی صورت میں ہوئی تھی۔ جنہیں انتخاب لڑنا تھا، وہ عقوبت خانوں کی زینت بن چکے گئے۔ فیض نے اسی لئے کہا تھا، وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا… 1977میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک کا اعلان بھی بارہ مارچ کو کیا گیا تھا۔ انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کو تحریک نظام مصطفیٰ کا نام دیا گیا۔ یہ سیاست میں مذہب کا کارڈ کھیلنے کی ایک نئی مثال تھی۔ ٹھیک گیارہ برس پہلے عدلیہ بحالی کی تحریک بھی بارہ مارچ سے شروع ہوئی تھی۔ تب جوش سے بھرے گرم خون نوجوان سڑکوں پہ نکل آئے تھے اور کہتے تھے، عدلیہ بحال کرانے نکلے ہیں۔ آج کل ان میں سے بہت سے مانتے ہیں کہ عدلیہ تو بحال ہو گئی، عدل آزاد نہیں ہوا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے مارچ 1977ء کی تحریک نے بھٹو حکومت ختم کر دی مگر نظام مصطفیٰ کی بجائے ہمیں گیارہ سالہ آمریت پر اکتفا کرنا پڑا۔
یہ کالم چھپ کر آپ کے ہاتھوں میں پہنچے گا تو سینیٹ کے معرکے کا نتیجہ واضح ہو چکا ہو گا۔ ووٹوں کی گنتی میں کون سرخرو ہوتا ہے اور کسے شکست نصیب ہوتی ہے، یہ تو کاغذ کے ٹکڑوں کی گنتی سے معلوم ہو گا لیکن درویش کہے دیتا ہے کہ’’آگ دوڑی رگ احساس میں گھر سے پہلے‘‘۔ ربیع کی اس فصل کی رونمائی تو دو روز قبل اسلام آباد میں ہو چکی۔ تئیس سے کچھ زیادہ صحافی ایک اعلیٰ مجلس میں بلائے گئے تھے، جو کچھ کہا اور سنا گیا، وہ صیغہ راز میں ہے۔ ادھر ادھر سے ہواؤں نے جو افسانے کہے ہیں، ان میں بلبل آشفتہ سر کے لیے کوئی اچھا پیغام نہیں۔ قوم ان گنت داخلی اور خارجی خطرات میں گھری ہے اور حضور شاہ سے خبر ملتی ہے کہ ’’قد و گیسو میں، قیس و کوہ کن کی آزمائش ہے‘‘… سینیٹ کے انتخاب میں مہرے اس ہنرمندی سے سجائے گئے ہیں کہ ہاتھ کی صفائی کی داد دینا پڑتی ہے۔ کراچی کے اہل زبان اسے سیاسی چائنا کٹنگ کہتے ہیں۔ ایسی انجینئرنگ کہ راوی کا دھارا جمنا کے گھاٹ پر بہہ رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو شہید اگر آج حیات ہوتیں تو انہوں نے چمک کی بجائے کڑک کا استعارہ استعمال کیا ہوتا۔ ہمارے لئے مگر دو سو برس پہلے استاد غلام مصطفی مصحفی نے کہا تھا…
ہاتھ سے گوروں کے جانبر ہوویں کیونکر اہل ہند
کام کرتے ہی نہیں ہرگز یہ بن کونسل کئے
آپ کو کرنا صرف یہ ہے کہ ’کونسل‘ کے لفظ کی جگہ سازش رکھ دیجیے۔ شعر وزن سے خارج نہیں ہو گا اور معنی تو صدیوں سے یہی چلا آ رہا ہے۔ جب اس ملک کی تاریخ لکھی جائے گی تو محض بارہ مارچ سنہ 2018بروز سوموار نہیں لکھا جائےگا۔ اس ورق پر ہماری تاریخ کی تلچھٹ مع تلخی پڑھی جا سکے گی۔ خدا خیر کرے، آج استاد غلام مصطفیٰ مصحفی بے طرح یاد آ رہے ہیں۔ کچھ شعر ان کے پڑھ لیجیے، بارہ مارچ کی قرارداد مقاصد 1949اور بارہ مارچ 2018کے بانکے مغل بچوں سے کوئی مشابہت محض اتفاقیہ ہو گی۔
حکم سلطاں ہے کہ اس محکمہ عدل کے بیچ
دست فریاد کو اونچا نہ کرے فریادی
٭٭٭
ہندوستاں نمونہ دشت بلا ہے کیا
جو اس زمیں پہ تیغ ہی چلتی ہے اب تلک
٭٭٭
گر ہو طپنچہ بند وہ رشک فرنگیاں
بانکے مغل بچے نہ کریں خانہ جنگیاں
ہندوستاں میں دولت و حشمت جو کچھ بھی تھی
کافر فرنگیوں نے بہ تدبیر کھینچ لی جناب محترم امرجلیل اپنے کالم "پیر سائیوں کی کرامات" میں لکھتے ہیں کہ آپ پاکستان میں پیر سائیوں کے کرشموں، کرامات اور اثرو رسوخ سے واقف ہوں گے بلکہ متاثر ہوں گے۔ بینظیر جیسی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون پیر سائیوں کے پیروں میں جاکر بیٹھتی تھیں۔ راولپنڈی، اسلام آباد کے قریب تنکا بابا نام کے ایک پیر سائیں ہوا کرتے تھے۔ بڑے بڑے سیاستدان ، اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران بیوپاری ، کاروباری حضرات ان کے قدموں میں پڑے رہتے تھے۔ پیر سائیں اگر کسی کو تنکا ماردیں تو یہ باور کرلیا جاتا تھا کہ اس شخص کی من کی مرادیں پوری ہوں گی۔ بینظیر کا تنکا بابا کے ہاں آنا جانا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ تنکا بابا زندہ ہیں یا کہ رحلت فرماگئے ہیں۔ بینظیر قمبر شہر کے ایک پیر سائیں کے پیروں میں جاکر بیٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ کسی نے ان کی تصویر کھینچ لی اوروائرل کردی۔ تصویر کے بڑے بڑے پوسٹر بنا کر دیواروں اور ٹرکوں پر چپکادیئے تھے۔ بیرون ملک بینظیر کو لبرل اور روشن خیال سمجھنے والے سکتے میں آگئے تھے۔ پیر سائیں شاہ محمود قریشی کی دعائیں تحریک انصاف کے لئے مخصوص ہیں۔ پیرسائیں یوسف رضا گیلانی کی دعائیں زرداری کی پیپلز پارٹی کے لئے وقف ہیں۔ پیرسائیں پگارا کی دعائیں فنکشنل مسلم لیگ کے ساتھ ہیں۔ کرامات اور کرشمات کے علاوہ پیر سائیوں کا سیاسی اثر بھی ہوش ربا ہے۔ جس کے سر پر ہاتھ رکھ دیں وہ فاسٹ بالر سے سیاستدان بن جاتا ہے۔ حالانکہ عمران خان کو کھیل کے میدانوں سے اٹھا کر سیاست کے مکروہ میدان میں لانے والے مرحوم و مغفور جنرل حمید گل تھے۔ وہ دھوکہ کھا گئے تھے کہ ایک میدان میں جوہر دکھانے والے لوگ ہر میدان میں جوہر دکھا سکتے ہیں۔ ایک میدان میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے ہر میدان میں اپنی قابلیت کے بل بوتے پر شہرت کی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔ جوکہ زمینی حقائق کے مطابق امکان سے باہر ہے۔ موجودہ دور میں فٹبال کے سپر ہیروز میسی اور رونالڈو کرکٹ کے سپر ہیروز ویرات کوہلی اور آسٹریلیا کے کپتان اسمتھ نہیں بن سکتے۔ شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے اپنے اپنے دائرہ عمل کے ماہر ہوتے ہیں۔ اسی میں نام اور شہرت کماتے ہیں۔ یہیں پر جنرل حمید گل مار کھاگئے تھے۔ انہوں نے کھیل کے میدان میں عمران خان کی بین الاقوامی شہرت کو پاکستانی سیاست میں کیش کرانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ جنرل حمید گل نے اپنے قطعی غلط فیصلے سے پاکستان کو غیرمعمولی صلاحیتیں رکھنے والے Sportsman سے محروم کردیا۔ میں اگر مگر کے جھنجھٹ میں پڑنا نہیں چاہتا۔ میرا یقین ہے کہ اگر عمران خان کو اپنے لئے مناسب دائرہ عمل کی آزادی دی جاتی اور جنرل حمیدگل انہیں گھسیٹ کر سیاست کے میدان میں نہ لے آتے تو عمران خان اکیلے کھیلوں کے بل بوتے پر پاکستان کو شہرت کی بلندیوں پر لے جاتے ۔ وہ فلاحی کاموں میں سوشل ریفارمر بن کر سامنے آتے۔ مرحوم حمید گل نے ملک کا بہت بڑا نقصان کردیا ہے۔ عمران خان سیاست کرنے کے لئے پیدا نہیں ہوئےتھے۔ وہ پیدائشی اسپورٹس مین ہیں۔ اسپورٹس مین فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کے پچیس تیس برس سیاست کی بھینٹ چڑھانے کے باوجود سیاستدان بن نہیں پائے۔ وہ اپنی باڈی لینگویج اور بول چال میں آج بھی مکمل طور پر فاسٹ بالر دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا مرحوم جنرل حمید گل کا سماجی جرم تھا جس کے لئے پاکستان کے آئین اور پینل کوڈ میں کوئی سزا مختص نہیں ہے۔ کرکٹ کے فلسفے میں کہا جاتا ہے کہ ایک فاسٹ بالر زندگی بھر فاسٹ بالر رہتا ہے ۔ اس کا رویہ دیگر لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ عمران خان کی سیاسی پارٹی میں ایک پیر سائیں شاہ محمود قریشی ملتان والے پہلے سے موجود ہیں۔ اب ان کے ازدواج میں ایک پیرنی صاحبہ شامل ہو چکی ہیں۔ اب ان کی دعائوں اور تعویذ وں کا اثر عمران کی زندگی پر دیکھنا ہے۔ فی الحال ان کی صوبائی اسمبلی کے دو ارکان عمران خان کو چھوڑ کر زرداری سے جاملے ہیں۔ میں سینیٹ کے انتخابات کی بات کررہا ہوں۔
حوالہ تھا روہڑی کے مدفون پیر سائیوں کے کرامات اور کرشموںکا۔ روہڑی کے پیرسائیوں کے قصے آپ کو سناتے ہوئے میں نے محسوس کیا ہے کہ روہڑی کے پیرسائیوں کے پاس ہر درد کی دوا ہے۔ ہر مرض کا علاج ہے۔ مگر سیاستدانوں کیلئے ان کے پاس نہ دعا ہے اور نہ دوا ہے۔ ایک پیر سائیں کا نام ہے پیر مولیٰ محب شاہ۔ وہ ماہر نفسیات ہیں۔ یعنی Psychiatric ہیں۔ نفسیاتی امراض میں مبتلا مریضوں کو ان کے مزار پر لایا جاتا ہے۔ پاگلوں کو بھی ورثا پیر محب شاہ کے مزار پر لے آتے ہیں۔ سب مریض شفایاب ہوکر گھر لوٹنے سے پہلے جو ان کے جی میںآتا ہےہدیہ کے طور پر مجاوروں کو دے جاتے ہیں۔
ایک پیر سائیں Ophthalmologistہیں۔ آنکھوں کے امراض میں مبتلا مریض ان کے مزار پر آتے ہیں۔ وہاں رہتے ہیں۔ اور ٹھیک ہوجانے کے بعد مجاوروں کو روٹی اور سالن دیتےہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زمین زرخیز ہو، فصل اچھی ہو تو پھر آپ شاہ شکر گنج کے مزار پر حاضری دیں۔ اچھی فصل حاصل کرنے کے بعد آپ مجاوروں کو دال روٹی کھلادیں۔
روہڑی اور سکھر کے درمیان دریائے سندھ کے بیچوں بیچ ایک پہاڑی ہے جس پر ایک پراسرار ٹوٹی پھوٹی رہائش گاہ ہے۔ ان کھنڈروں کو خواجہ خضر کا آستان یا آستانو کہتے ہیں۔ اگر آپ علم اور دانائی کے شیدائی ہیںاور آبی حیات اور دریائوں کے بارے میں سوجھ بوجھ رکھنا چاہتے ہیں تو پھر خواجہ خضر کے آستان پر حاضری دیا کریں۔ وہاں دیا جلایا کریں۔ آپ کے لئے آگاہی کے دروازے کھل جائیں گے۔ عوض میں آپ ناریل اور دودھ بطورہدیہ دے سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ روہڑی میں سوا لاکھ پیر دفن ہیں۔ جناب جاوید چوہدری اپنے کالم "بدلتا ہوا پاکستان" لکھتے ہیں کہ آئیے ہم ایک دن کے لیے واقعات کو ذرا سا مختلف انداز میں دیکھتے ہیں‘ ہم سب سے پہلے پانامہ سکینڈل کو لیتے ہیں‘ پانامہ کا ایشواپریل 2016ء میں سامنے آیا‘ اس ایشو میں 50ممالک کے140 سیاستدان ملوث تھے‘ ان میں 14 (سابق اور موجودہ) سربراہان مملکت تھے مگر پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں برسر اقتدار وزیراعظم کے خلاف مقدمہ چلا اور یہ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کے باوجود باقاعدہ عدالتی حکم پر اقتدار سے فارغ بھی ہوئے اور یہ وفاق اورپنجاب میں اپنی حکومت کے باوجود چھ ماہ سے مقدمات بھی بھگت رہے ہیں‘ یہ ہر پیشی پر عدالت میں بھی پیش ہوتے ہیں اور میرا ذاتی خیال ہے نیب کورٹ انھیں سزا بھی دے دے گی۔
یہ 2018 ء کا الیکشن جیل سے لڑیں گے‘ کیا یہ تبدیلی نہیں؟ کیا تیسری دنیا کا کوئی ملک یہ سوچ سکتا تھا‘ ہم اگر اس تبدیلی کو ذرا سا پھیلا کر دیکھیں تو ہمیں تبدیلی کے اس درخت کے نیچے تبدیلیوں کے بے شمار نئے درخت بھی اگتے نظر آئیں گے‘ کیا ہمارے ملک میں کبھی کسی نے سوچا تھا ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب ملک کی تمام طاقتور سیاسی جماعتوں کے قائدین اقتدار میں ہونے کے باوجود عدالتوں اور انکوائریوں کا سامنا کریں گے۔
ڈاکٹر عاصم آصف علی زرداری کے قریبی دوست ہیں‘ یہ 462ارب روپے کی کرپشن کی انکوائری بھگت رہے ہیں‘ شرجیل میمن بھی عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں‘ الطاف حسین 23 اگست 2016ء تک ایک ہَوا تھا‘ کراچی میں ان کی مرضی کے بغیر پتہ بھی دائیں بائیں نہیں ہوتا تھا‘ آج کراچی کو اس ہَوا سے آزاد ہوئے 18ماہ ہو چکے ہیں۔ دنیا کے غیر محفوظ ترین شہر میں 2017ء میں ٹارگٹ کلنگ کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا‘ وہ شہر جو دو سال پہلے تک ایک گولی چلنے کے بعد ہفتہ ہفتہ بند رہتا تھا وہ اب عید اور دس محرم کے دن بھی کھلا رہتا ہے اور الطاف حسین کی وہ جماعت جس کے سینیٹرز اور ایم این اے تو رہے ایک طرف اس کے سیکٹر کمانڈرز بھی گورنر کو فون کر کے حکم دے دیتے تھے وہ جماعت اب چار ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر لوگوں سے اپنا پتہ پوچھتی پھر رہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن ملک کی سب سے بڑی‘ طاقتور اور برسر اقتدار پارٹی ہے لیکن پارٹی کی ساری قیادت عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہے‘ میاں نواز شریف کے دو صاحبزادے اپنی حکومت میں اشتہاری ہو چکے ہیں‘ سمدھی اسحاق ڈار کے لیے واپسی کے سارے دروازے بند ہو چکے ہیں‘ اسٹیبلشمنٹ مفتاح اسماعیل کو اپنے اعتماد کا ووٹ دے چکی ہے۔
مقتدر ادارے ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 8 مارچ کو جے ایس بینک اور جے ایس گلوبل کے سی ای او علی جہانگیر صدیقی کو امریکا میں پاکستان کا سفیر نامزد کر دیا‘ یہ اس ائیر بلیو کے میجر شیئر ہولڈر ہیں جس میں شاہد خاقان عباسی صرف سات فیصد کے حصے دار ہیں‘ عدلیہ اور فوج کو اس تقرری پر شدید تحفظات ہیں‘ یہ دونوں ادارے سمجھتے ہیں امریکا سفارت کاری کا مرکز ہے۔واشنگٹن میں دنیا بھر کے منجھے ہوئے سفیر موجود ہیں‘ علی جہانگیر ان سفیروں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے چنانچہ علی جہانگیر کی تقرری صرف تقرری رہ جائے گی‘ یہ سفیر نہیں بن سکیں گے‘ عمران خان ملک کی نئی سیاسی طاقت ہیں لیکن یہ طاقت بھی دہشت گردی کے الزامات سمیت آدھے درجن مقدمات بھگت رہی ہے‘ ان کے ساتھی جہانگیر ترین کی وکٹ اڑ چکی ہے‘ بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ ن ‘پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کا اتحاد تھا‘ یہ تینوں اکٹھے اور طاقتور تھے۔
نواب ثناء اللہ زہری سیاسی اور قبائلی دونوں لحاظ سے تگڑے تھے لیکن یہ مہینے کے 28 دن کراچی اور اسلام آباد میں گزارتے تھے اور صرف دو دن کے لیے کوئٹہ آتے تھے‘ صوبے کی اہم ترین وزارتیں بھی وزیراعلیٰ کے پاس تھیں‘ کرپشن کی بے شمار کہانیاں بھی گردش کر رہی تھیں مثلاً حکومت گوادر میں پینے کے پانی کے لیے روزانہ ایک کروڑ روپے ریلیز کرتی تھی‘ یہ کروڑ روپے سیدھے وزیراعلیٰ کے ساتھیوں کی جیب میں چلے جاتے تھے اور یہ غضب کرپشن کی صرف ایک عجب کہانی تھی‘ بلوچستان کے لوگ ایسی درجنوں کہانیوں کے عینی شاہد ہیں لیکن پھر انقلاب آیا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے اپنے اراکین منحرف ہوئے اور یہ انقلاب بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو بہا لے گیا‘ بلوچستان میں آزاد حکومت کا قیام عمل میں آیا‘ بلوچستان میں آزاد سینیٹرز منتخب ہوئے اور ان سینیٹرز نے پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر چیئرمین سینیٹ کے لیے امیدوار کھڑا کر دیا‘ کیا ماضی میں ایسی تبدیلیاں ممکن تھیں‘ کیا ہماری تاریخ میں کبھی ایسا ہوتا تھا اور کیا یہ تبدیلیاں نہیں ہیں؟۔
آپ طاقتور بیورو کریٹس کو بھی دیکھ لیں‘ احد چیمہ جیسے طاقتور لوگ اس وقت حوالات میں ہیں‘ ڈان لیکس کے بعد پرویز رشید اور طارق فاطمی دونوں فارغ ہو ئے‘ میڈیا جیسا طاقتور ستون بھی اس وقت لرز رہا ہے‘ شاہد مسعود اپنی صحافتی حماقت کا خمیازہ بھگت رہے ہیں‘ جنگ اور جیو گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمن پیشیاں بھگت رہے ہیں‘ میڈیا مالکان اور اینکرز عدالتوں میں معافیاں مانگ رہے ہیں۔
فوج دس سال سے عوامی دباؤ کی وجہ سے ریڈ لائین کی دوسری طرف کھڑی ہے‘ پاکستان ستر سال کی تاریخ میں پہلی بار امریکا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر ’’نو مور‘‘ کا اعلان کر رہا ہے‘ پاکستان مسلم لیگ ن راجہ ظفر الحق‘ سینیٹر پرویز رشید اور مشاہد حسین سید میں سے کسی ایک کو چیئرمین سینیٹ بنانا چاہتی تھی لیکن یہ اکثریت کے باوجود کامیاب نہ ہو سکی‘ کیوں؟ وجوہات بہت دلچسپ ہیں۔راجہ ظفر الحق پارٹی میں سینئر ترین ہیں‘ یہ پارٹی کے چیئرمین ہیں لیکن میاں نواز شریف کو ان پر مکمل اعتماد نہیں‘ یہ انھیں اسٹیبلشمنٹ کا بندہ سمجھتے ہیں‘ میاں نواز شریف جس وقت جدہ میں جلا وطن تھے اس وقت جنرل پرویز مشرف نے انھیں مجید نظامی صاحب مرحوم کے ذریعے راجہ ظفر الحق کو پارٹی کا صدر بنانے کا پیغام بھجوایا تھا‘ جنرل پرویز مشرف راجہ صاحب کو وزیراعظم بھی بنوانا چاہتے تھے لہٰذا میاں نواز شریف کا خیال ہے یہ چیئرمین بننے کے بعد قیادت کے ہاتھ سے نکل جائیں گے چنانچہ میاں صاحب کو جب تک اپنی ناکامی کا یقین نہ ہو گیا انھوں نے اس وقت تک راجہ صاحب کو اپنا امیدوار نامزد نہیں کیا۔
پرویز رشید کو چوہدری نثار کے خوف نے چیئرمین شپ کا امیدوار نہیں بننے دیا‘ پارٹی کا خیال تھا میاں نواز شریف نے جس دن پرویز رشید کو نامزد کیا چوہدری نثار اس دن ڈان لیکس کی رپورٹ ریلیز کر دیں گے اور یوں پرویز رشید اڑنے سے پہلے ہی مارے جائیں گے اور پیچھے رہ گئے مشاہد حسین سید تو پارٹی کا خیال تھا اگر یہ کھڑے ہوئے تو کم از کم دس سینیٹرز انھیں ووٹ نہیں دیں گے اور یوں یہ ہار جائیں گے۔
چنانچہ میاں نواز شریف اس سارے سیاسی فساد سے بچنے کے لیے راجہ ظفرالحق کو نامزد کرنے پر مجبور ہو گئے‘ کیا ملک میں پہلے کبھی ایسا ہوتا تھا؟ ہماری تاریخ ہے پاکستان کی سیاسی قیادت جس کھمبے پر اپنا جھنڈا لہرا دیتی تھی وہ ملک کے ہر ایوان میں کامیاب ہو جاتا تھا لیکن اس بار ملک کی اکثریتی جماعت اکثریت کے باوجود سینیٹ میں اپنا اصلی امیدوار کھڑا نہیں کر سکی‘ ملک کی تاریخ میں پہلی بار آزاد امیدوار چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گیا۔ملک میں عدالتیں اور جج سب کچھ ہوا کرتے تھے‘ جج فیصلوں کے ذریعے بولتے تھے لیکن ہم اب ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جس میں جج فیصلوں کے بعد وضاحت پر مجبور ہیں‘ یہ عوام کے سامنے اپنی نیک نیتی کی قسمیں کھاتے ہیں‘ کیا یہ بھی اس سے پہلے ہوتا تھا‘ ملکی تاریخ میں پہلی بار چیف جسٹس اسپتالوں کے دورے کر رہے ہیں اور عوام ان کو روک کر احتجاج بھی کر رہے ہیں۔ 10مارچ کوسیالکوٹ میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے منہ پر سیاہی پھینک دی گئی‘ اس سے قبل24فروری کونارووال میں وزیر داخلہ احسن اقبال کو جوتا مارا گیا اور 11 مارچ کو جامعہ نعیمیہ میں میاں نواز شریف پر بھی جوتا پھینک دیا گیا لیکن ملک میں پہلی بار مخالف سیاسی جماعتوں‘ میڈیا اور عوام نے اس اقدام کی بھرپور مخالفت کی‘ لوگوں نے کھل کر ذمے داروں کی مذمت کی۔
ملک کے دو آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ کھل کر اعلان کرتے رہے ’’ہم جمہوری جنرل ہیں اور ہم آخری سانس تک جمہوریت کو سپورٹ کریں گے‘‘ دنیا 17 سال میں دہشت گردی کی جنگ نہیں جیت سکی لیکن پاکستان نے تین برسوں میں نہ صرف دہشت گردوں کو پسپا کر دیا بلکہ ملک میں امن قائم کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا‘ آج دہشت گردی کے شکار ملک پاکستان کی مثال بھی دیتے ہیں اور یہ ہماری مہارت سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان 2015ء تک لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں میں گم تھا لیکن ہم نے 2018ء میں لوڈ شیڈنگ کو شکست دے دی‘ ملک میں اب کسی جگہ بجلی نہیں جاتی‘ کیا یہ تبدیلیاں نہیں ہیں اور کیا ہمیں ان تبدیلیوں پر فخر نہیں کرنا چاہیے!۔
ہم جس دن ٹھنڈے دل سے سوچیں گے ہمیں پاکستان اس دن تبدیل ہوتا ہوا نظر آئے گا‘ ہم اس دن ملک میں آنے والی تبدیلیوں پر فخر کریں گے‘ ملک میں سب کچھ برا نہیں‘ ہم واقعی کمال کر رہے ہیں‘ ایک ایسا کمال جس کی مثال تاریخ میں ملتی ہے اور نہ ہی تیسری دنیا کے دوسرے ملکوں میں‘ ہمارا نظام حقیقتاً بہتر ہو رہا ہے بس چند اصلاحات کی دیر ہے۔ ہمیں چند بڑی اور قطعی تبدیلیاں کرنا ہوں گی اور پھر کوئی طاقت اس ملک کو ترقی سے نہیں روک سکے گی‘ بس جمہوری لیڈر جمہوری ہو جائیں‘ ادارے اپنی حدود متعین کر لیں‘ لوگ سوچ سمجھ کر ووٹ دیں اور عوام اللہ تعالی کے بجائے اللہ تعالیٰ کے بندے بن جائیں اور پھر آپ دیکھیں یہ ملک کس طرح تیسری دنیا سے پہلی دنیا میں آتا ہے‘ پاکستان واقعی پاکستان بن جاتا ہے‘ میں آج کے پاکستان کو ایک تبدیل شدہ ملک سمجھ رہا ہوں۔

کالم کلوچ

اپنی پہچان کی تلاش !

شائع شدہ

کو

اپنی پہچان کی تلاش !

تحریر- صبح صادق
دوچار ہفتے قبل جب مجھے میرے آفس میں ایک خط ملا جس میں فرمائش کی گئی تھی کہ آپ یہاں قصور میں بلھے شاہ کلچرل فورم میں ہمارے ساتھ آملیں اور پاکستانی ثقافت اور فنون لطیفہ کے موضوع پر گفتگو کریں تو یقین مانیں اس موضوع کو لے کر یکدم میرے اوپر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ اول تو اس لئے کہ یہ موضوع اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ ایک نشست میں اس پر سب کچھ سمیٹ پانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔دوم یہ کہ یہ میرا موغوب ترین موضوع ہے اور جو شے انسان کو عزیز ہوتی ہے اس کے ساتھ وہ برتاؤ بھی اپنوں جیسا کرتاہے ۔میری خوش قسمتی ہے کہ میں گزشتہ دس برسوں سے براہ راست ایک ادبی و ثقافتی ادارے لاہورآرٹس کونسل میں بطور پی آر او، ثقافت کی مہم سے وابستہ ہوں(جسے دن رات کی کوششوں سے ہم ایک مقامی ادارے سے بین الاقومی سطح پر لے گئے ہیں ) البتہ بالواسطہ تو اس شعبہ کے ساتھ عمربھر کا ساتھ رہا ہے یعنی خاکسار کو بچپن سے ہی ادب و ثقافت کے شعبے خاص دل چسپی رہی ہے۔بہرحال یہاں ہم ایک ایسے شعبہ پر بحث و مباحثے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے جس کی نہ تو حدود و قیودکاآج تک تعین ہو سکا نہ ہی اس کے لوازمات ، مندرجات وغیر ہ پر کوئی ٹھوس اتفاق موجود ہے۔میری نظر میں ہمارے قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (مرحوم) کی پہلی بات تو پوری ہو چکی یعنی پاکستان کی بستی بس گئی لیکن ہمارے اہل نظر ابھی تک یہ طے نہ کر پائے کہ اپنی نگاہ کو کیاکریں۔بہرحال یہ امر مسرت کا باعث ہے کہ آج یہاں پاکستان کے چوٹی کے مفکرین ادیب اور دانشور اور زندگی کے مختلف شعبوں کے تعلق رکھنے والے سکالز اپنے ثقافتی عوامل و مظاہر کی بہتر سے بہتر تفہیم کے لئے جمع ہوئے تھے اس پر میں اس کنونشن کے منتظمین و محققین کو مبار کبار پیش کرتاہوں کہ جنہوں نے اس کنونشن کو اپنی ذاتی دلچسپی ،عملی تعاون اور محققانہ صلاحیتوں سے پروقار بنایا ہے۔
میرے مطابق عملی طورپر زندہ اور جاندار کلچر کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرتاہے جس میں وسائل ،سرپرستی یا مواقع کی کمی کے باوجود مناسب تخلیقی ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچایا جاتا ہے اور پھر وہ ٹیلنٹ اپنے معاشرے کی جمالیات اور دانش کے میدانوں میں اعلیٰ ترین ہم عصر معیاروں کے مطابق ڈھل کر قومی دھارے میں شامل ہو جاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ آرٹ قوم کی پہچان بننے کے ساتھ ساتھ قومی فکر کی تعمیر کا ایک اہم وسیلہ ثابت ہوتا ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہمارے ہاں ثقافت کی رسمی تعریف میں ہمارے رسم ورواج،رہن سہن کے طریقے ،بودوباش یعنی کل طریقہ زندگی شامل ہیں اس تناظرمیں کسی بھی قوم کا اصل چہرہ تبھی خوبصورت نظرآئے گا جب مجموعی طورپر اس ملک کے نظام میں معیشت ،عدل و انصاف،امن وامان اور چیک اینڈ بیلنس سمیت دیگر زندگی کے دورے شعبے مستحکم ہونگے۔اگرآپ کے نوجوان کو تعلیم اور روز گاہ کے موقع میرٹ پر میسر آئے، سماجی رویے اعتدال پر مبنی ہو، کوئی کسی کی ناجائز پگڈی نہ اچھال پائے اور مانیٹرنگ کا خود کار مزاحتمی نظام کام کرنا شروع کردے تو پھر آپ اس بات پر اطمینان کر سکتے ہیں کہ آپ کی قوم کا چہرہ دنیا کو خود بخود خوب صورت نظر آنے لگے گا۔اگر معاشرے کا مجموعی نظام انحطاط پذیر ہو اور اسے بہتر بنانے کی کوئی سنجیدہ کاوشیں نہ کی جائیں تو پھر دنیا میں اپنے متعلق پھر اعتماد بیانیہ کی تشکیل کرپانامشکل نظر آتاہے ،بدقسمتی سے یہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے،چند برس قبل تو ہمارے حالات بہت بگاڑ کا شکار تھے بہر حال ان حالات میں بھی ہمارے ثقافتی اداروں نے ا پنا ایڑی چوٹی کا روز لگایااور دنیا میں اپنے وجود کی بقاء کی جنگ لڑی اور الحمد اللہ ہم اس نتیجے میں دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر عزت کے ساتھ مدعو کئے جاتے رہے اور ہمارے بات بھی سنی گی۔مگر موجود ہ دور میں ہمارے چندقومی اداروں کی حوصلہ بخش کار کردگی کے نتیجے میں حالات ساز گار ہونے شروع ہوئے ہیں کیونکہ ملک کے تمام نظاموں کا محور شعبہ ثقافت ہوتاہے ان مستحکم نظاموں کی صورت میں یہ امر ثقافتی اداروں کے لئے سہل ہو جاتا ہے کہ وہ خود کو دنیا میں منوا سکیں۔بہرحال یہ حقیقت ہے کہ جہاں ہمیں قومی سطح پر اپنی بہتر ثقافتی حکمت کاری سے ملکی یک جہتی اور ہم آہنگی کے لئے مدد مل سکتی ہے وہاں ہم بین الاقومی تناظر میں اپنے خلاف ہونے والے بے بنیاد ،من گھڑت اور پروپیگنڈہ پر مبنی بیانیے کے اثرات بھی زائل کر سکتے ہیں اس سے بھی بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم نے دشمن کی ساز شوں کا نہ صرف توڑ کرناہے بلکہ اپنے جوابی بیا نیے میں دنیا کے سامنے اپنی اقتصادی کا میابیوں، متوازن سماجی رویوں،بین الاقومی امن میں اپنے کردار کو قابل قبول انداز میں پیش بھی کرناہے سو اس حوالے سے مجھے بے حد خوشی ہے ہم باہمت قوم ہیں ہم نے مشکل حالات میں اپنی بقاء کے لئے بے دریغ قربانیاں دی ہیں اب یہ بات تمام قومی و صوبائی ثقافتی اداروں پر منحصر ہے کہ ہم کس انداز میں اپنی ان کا میابیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں ،مثلا میری نظر میں ا پنے آپ کو دنیا میں متعارف کروانے کے دو طریقے ہیں یا تو ہم دنیا کے اہل قلم اور صاحب آراء مفکرین کو اپنے ہاں مدعو کریں اور ان کے سامنے اپنا خوبصورت نظام زندگی رکھیں اور انھیں اپنا گرویدہ بنانے کی پرزور کوششیں کریں مثلا اس حوالے سے ہم نے گزشتہ دو برسوں سے دنیا بھر کے 50ممالک کے سفیروں کو لاہورآرٹس کونسل کے پلیٹ فارم پر مدعو کیا اور ان کو اپنی عوامی رویے اور اقدار سے روشناس کروایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان سفیروں نے اپنے اپنے ممالک کو جو رپورٹ بجھوائیں میں نے ان جب کا پتہ کیا تو یقین مانیں وہ ہمارے لئے بے حد تسلی بخش تھی ،یعنی ہمارا تجربہ کامیاب رہا الحمداللہ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود دیس دیس جاکر دنیا تک اپنی بات پہنچائیں اس محاذ پر بھی لاہورآرٹس کونسل الحمراء کی کارکردگی میں آپ کے سامنے رکھنے پر فخر محسوس کروں گا۔ہم نے ایک پراجیکٹ(PIC Pakistan)کہ نام سے شروع کیاہے جس کے پہلے مرحلے پر تھائی لینڈ میں پاکستان کا رنر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔تھاماسٹ یونیورسٹی ،بنکاک تھائی لینڈ میں اس پاکستان کارنر کے قیام سے 50000طلبہ و طالبات جو دنیا بھر سے یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں،سے مستفید ہونگے اور اپنے اپنے وطن واپسی پروہ پاکستان کے متعلق ایک مثبت رائے لے کر جائیں گے یہی ہمارے مقصد ہے ۔اس کو اب ہم آگے لے کر چل رہے ہیں اور اس کادائرہ کار کوئی درجن بھر ممالک تک پھیلا رہے ہیں۔
یہی بات اگر میں دوسرے انداز میں بیان کرؤں تو میری نظر میں ثقافت ایک باریک،کچے دھاگے کی مانند ایک ایسی لڑی کا نام ہے جس کی مضبوطی کا انحصار اس میں پردے جانے والے طرح طرح کے رنگ بر نگے خوبصورت مو تیوں کے حسن پر ہوتاہے۔جو جس قدردلکش ہونگے یہ لڑی قدر مضبوط ہوگی البتہ اگر اس میں بے کار موتی پروے دے جائے تو یہ اس ثقافت کی لڑی کو مضبوط کرنے کی بجائے کمزرو کر دیں گے جس سے کسی بھی قوم کا شہزازہ با آسانی بکھیرا جاسکتا ہے سو یہ اس قدراحساس نوعیت کا معاملہ ہے۔بہرحال یہ شعبہ ثقافت جزوئیات کوکُل میں پروتاہے،نہایت طاقتور ،جادوئی اثر کا حامل ہونے کی بناء پر کوئی اس کی اثر پذیر ئی سے بچ نہیں سکتاہے یہ بکھیری چیزوں کو اکائی بناتاہے مثلا ہمارے ملک کے تمام صوبوں کے لوگ اگر اس شعبہ سے صحیح معنوں میں استفادہ کریں یایہ شعبہ اپنا کام ڈھنگ سے سرانجام تو اسی صورت ہم اس کے اثرات کو اپنے حق میں استعمال کرسکتے ہیں مثلا جسے ہم لاہور میں کام کرتے ہوئے یہاں کے رہنے والوں کے سامنے فنون لطیفہ کی مدد سے دوسرے تمام صوبوں کے رنگ روپ پیش کرتے ہیں اگر یہی طریقہ کار دوسرے صوبوں کے ثقافت ادارے بھی اپنائے تو کوئی مشکل نہیں کہ ہم ایک نہ ہو سکیں میری نظر میںآج ثقافتی حالات کی کار کردگی جاننے کی سب سے بڑی کسوٹی یہی ہے کہ اگر ہمارے مختلف صوبوں میں بسنے والے افراد باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا شروع کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ثقافتی اداروں کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔سو ہمارا پہلا حدف اپنا گھر خوبصورت بنانا ہونا چاہے پھر اس کے بعد دنیا کے پاس ہماری اہمیت کے انکارکا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔
جہاں تک اس شعبے کو درپیش چیلنجز کا سوال ہے کہ وہ بے شمار ہیں مثلا اس شعبہ سے متعلق ایک عام بیا نیہ (Narrative)یہ ہے کہ کلچر اور فنون امراء کی عیاشی کی کسی شے کا نام ہے جو میری نظر میں بہت خطرناک ہے ۔سو آگے چلیں ایک نقطہ نظریہ بھی ہے کہ زندگی کی تمام ضروریات اور تقاضے پورے ہونے کے بعد کلچر اور اس کے دیگراجزاء کے بارے میں غور کیاجائے گا، دوسرے لفظوں میں ملک میں کلچر کا روز مرہ کی زندگی اورہماری قومی ضروریات کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے،گویا یہ دو الگ الگ باتیں ہے۔مزید ذرا غور کیجئے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ دراصل کلچر تو طبقاتی ہوتا ہے یعنی کلاس کلچر۔ہمارے ہاں امرا ء ہیں،غرباہیں،کسان ہیں،مزدور ہیں،سرمایہ دار ہیں اور افسر لوگ ہیں ان سب کا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے اب ان سب سے ماورا پاکستانی کلچریا پاکستان کے قومی کلچر کی تلاش بے کارسی بات ہے کیونکہ کلاس یا طبقے سے الگ کوئی کلچر نہیں ہوتاہے،میری نظر میں یہ نہایت غلط تصور ہے اس سے ملتی جلتی ایک اور بات بھی سننے میںآئی ہے کہ سندھی کلچر ،بلوچی کلچر، پختون کلچر،پنجابی کلچر، ہرجگہ کے الگ الگ کلچر ہیں اور یہی ہونا بھی چاہیے ۔ان سے الگ یاان کے اوپر کسی قومی کلچر یا ثقافت کی تلاش کرنا بے کار ہے ۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بغیر لوگ تو اسے شرارت کی بات کہتے ہیں اوراس کا مقصد یہ بتاتے ہیں اس سے ملک میں لادینی پن پھیلا یا جارہا ہے۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ سندھی ،پنجابی،بلوچی اور پختون کا فساد پیدا کرکے قومی وحدت کو نقصان پہنچا ہے اس شعبے کو اب اس سے بڑے اور چیلنج کیا لاحق ہوں گے-

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

میشا شفیع کے بعد ریشم بھی....

شائع شدہ

کو

کپتان کی عزت داؤ پر

میشا شفیع، علی ظفر اسکینڈل نے جہاں شوبز حلقوں میں ہلچل مچائی ہے وہیں دیگر سماجی حلقے بھی تشویش میں مبتلا ہیں اس حوالہ سے شوبز کے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ کل تک ایک دوسرے کے قریبی دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والی یہ فنکار جوڑی اس طرح اسکینڈل منظر عام پر لائے گی تو پھر ہماری شوبز انڈسٹری میں بہت سے ایسے رشتے ناطے ہیں جومذہبی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہیں مگر ان رشتوں کو اخلاقی دائرہ کار کے تحت جائز قرار دیا جاتا ہے ۔اس سے پہلے کہ علی ظفر کے خاندانی پس منظر پر نظر ڈالی جائے پہلے دیکھنا یہ ضروری ہے کہ میشا شفیع کا خاندانی پس منظر کیا ہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ میشا شفیع کا فیملی بیک گراؤنڈ نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس ‘‘ کہلانا پسند کرتا ہے۔ میشا شفیع کی والدہ صبا پرویز اپنے فنکارانہ کیریئر کے آغاز میں صبا حمید کہلائیں بعد ازاں انہیں شادی شدہ زندگی کے آغاز میں کبھی صبا شفیع کہا گیا تو کبھی صبا پرویز اور ایک وقت صبا پر صبا وسیم عباس کہلانے کا بھی آیا ۔ یہ درست ہے کہ وسیم عباس سے صبا حمید کے تعلق کو شرعی قرار نہیں دیا جاسکتاکیونکہ وسیم عباس کے ساتھ صبا حمید کی دوستی ایک مشترکہ ’’شوق‘‘کی وجہ سے ہوئی اور کئی برسوں تک قائم رہی۔یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ صبا کے والد خود کو کامریڈ(روشن خیال)کہلوانا پسند کرتے تھے کیونکہ وہ مذہبی رجحانات کے مالک نہیں تھے بالخصوص ہمارے اسلامی معاشرے میں انہیں اپنی موجودگی ہمیشہ ناگوار گزرتی تھی۔ میشا شفیع کو یہی ’’روشن خیالی‘‘ اپنے نانا اور والدہ سے ورثہ میں ملی۔ علی ظفر کے ساتھ ان کے ناجائز تعلقات کی کہانی خود ان کی زبانی منظر عام پر لانا ایسی ہی روشن خیالی اور ترقی پسندی کی ایک بھونڈی مثال ہے۔

میشا شفیع کا یہ اعتراف کہ انہیں علی ظفر نے بارہا جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا انہیں قریب سے جاننے والے لوگوں کو قطعی طور پر حیران نہیں کرتا مگر برائے نام تعلق رکھنے والے ساتھی فنکاروں کی اکثریت اور دونوں فنکاروں کے مداحوں کیلئے یہ انکشافات ہوش اڑا دینے کیلئے کافی تھے اسی لیے گزشتہ 48 گھنٹوں کے درمیان ملک بھر میں ریگولر اور سوشل میڈیا پر صرف اور صرف علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان ناجائز تعلقات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے بلکہ اب اس کی گونج سرحد پار بھی پہنچ چکی ہے۔ہالی ووڈ میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی اداکارہ کی طرف سے کیے جانے والے انکشافات کے بعد ’’#MeToo‘‘ کے نام سے شروع ہونے والی یہ مہم اب پاکستان میں موجود نام نہاد ترقی پسندوں کیلئے ایک مشغلہ بن چکی ہے ۔ لائم لائٹ میں رہنے والی شخصیات کو ہمیشہ سے عام لوگ اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں اور ان کے رنگ ڈھنگ ، بول چال اور رہن سہن کے طریقے بھی اپنانے کی کوشش کرتے ہی۔ میشا شفیع بھی بدقسمتی سے دور حاضر کی ایک سلیبریٹی ہیں جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو اس ’’#MeToo‘‘ مہم کا حصہ بنایا اور خود کو علی ظفر کا ’’شکار‘‘قرار دے دیا۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے علی ظفر کی خود سے جنسی زیادتی کا معاملہ اپنے ضمیر کی آواز پر ظاہر کیا لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بحیثیت فنکارہ میشا شفیع کو اس قدر مقبولیت حاصل نہیں ہوئی تھی جتنی شہرت انہوں نے علی ظفر پر زیادتی کا الزام لگا کر حاصل کرلی۔ میشا شفیع کی ’’روشن خیالی‘‘ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے بیان میں علی ظفر کی ایک سے زائد بار جنسی زیادتی کا ذکر کیا تھوڑا سا بھی شعور رکھنے والے ان کی اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بار بار کی زبردستی اور وہ بھی باہمی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔یہ روشن خیالی اور ترقی پسندی صرف اور صرف میشا شفیع جیسی نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس‘‘ سے تعلق رکھنے والی خواتین ہی دکھا سکتی ہیں کہ جن کے خاندان میں ایسی کسی بات کو اور ایسے کسی واقعہ کو کبھی معیوب نہیں سمجھا جاتا اور جن کا مقصد ہی صرف اتنا ہے کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسی مہم کو تقویت دی جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر الزام کیوں داغ دیا۔ میشا شفیع کے نانا حمید اختر اور ان کی والدہ صبا حمید ہمیشہ تنازعات کو ہوا دینے کی راہ پر گامزن رہے ہیں مقصد شہرت اور دولت کا حصول ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ بلیک میلنگ سے لوگوں کو ہراساں کرنا ہوتا تھا۔میشا شفیع کے حالیہ بیان کا مقصد علی ظفر کو بلیک میل کرنا ہے یا ان کی وجہ سے حاصل ہونے والی شہرت کو دولت کمانے کا ذریعہ بنانا ہے جہاں تک علی ظفر کا تعلق ہے تو ان کا خاندانی پس منظر انتہائی وضع دار اور تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے اور انہوں نے میشا شفیع کے بیان کے بعد انتہائی سادگی اور سمجھ داری سے قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

ریشم کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کی ورسٹائل فنکاروں میں ہوتا ہے اگر ریشم،میشا شفیع جیسی ’’غلطی ‘‘کرتے ہوئے اپنی زبان کھول دیں تو شاید پورے پاکستان میں ایسا بھونچال آجائے گا جیسے کسی نے ایٹم بم گرا دیا ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

مقتول ہی تو قاتل ہے (بشکریہ ایکسپریس)

شائع شدہ

کو

6"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

جناب محترم وسعتاللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ اس دنیا میں اگر کسی شے کا سب سے زیادہ ریپ ہوا ہے تو وہ دلیل ہے اور پھر اس ریپ زدہ دلیل کے ساتھ تہذیب کا جیسا ریپ ہوا اور ہو رہا ہے اس کا کوئی توڑ کم ازکم مجھے تو ٹپائی نہیں دے رہا ۔حل تو خیر لاینحل ہے۔ بہت دور کی کوڑی لانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس المیے سے بچپن میں ہی آشنا ہو جاتے ہیں جب چشمے پر پانی پینے والے بھیڑ کے بچے اور اسے دلیل دے کر ہڑپ کر جانے والے بھیڑئیے کی کہانی سنتے ہیں۔
اگر نازی دنیا پر قبضہ کر لیتے تو پھر ہماری نسلوں کو یہی نصابی علم عطا ہوتا کہ یہودیوں کو جرمنی سے نازیوں نے نہیں بلکہ خود یہودیوں نے ختم کیا۔نہ وہ سود خوری کے ذریعے جرمنوں کا خون چوستے اور نہ آریائی خون جوش میں آتا۔اگر جرمن خون آشام ہی ہوتے تو یہودیوں سے پہلے اور بعد میں کسی اور قوم پر ایسا عذاب کیوں نہیں آیا۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جرمنوں نے اپنی افریقی نوآبادی نمیبیا کی سیاہ فام آبادی کی بھی اسی پیمانے پر نسل کشی کی۔ مگر چونکہ بہت سے یورپی مستشرقین ایک زمانے تک کھلم کھلا اور آج دل ہی دل میں غیر سفید فاموں کو تہذیب و تمدن سے عاری نیم انسان سمجھتے ہیں لہذا نمیبیا کے سیاہ فاموں کا نوحہ کسی نے نہیں لکھا۔
یہی کچھ کانگو میں بلجئیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کے زمانے میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔کانگو بادشاہ کی ذاتی املاک میں شامل تھا۔ لہذا گدھے اور سیاہ فام کا فرق مٹ گیا۔ بلکہ گدھے سے زیادہ بہتر سلوک ان معنوں میں ہوا کہ وہ نسل کشی سے بچ گیا۔
برسلز میں لگنے والے میلوں ٹھیلوں اور نمائشوں میں ایک عرصے تک ہیومن زو بھی لگایا جاتا تھا۔اس میں کانگو سے لائے گئے سیاہ فام نیم انسانوں سے عام شہریوں کا دل بہلایا جاتا تھا۔آج یہ سب تماشے نہیں ہوتے مگر ان جرائم کو نوآبادیاتی دور کی بے اعتدالیوں اور غلطیوں کا نام دے کر مہین خوشنما تہذیبی پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔اب ہر کوئی اسرائیل تو نہیں ہوتا کہ جس سے مغربی جرمنی یہودی نسل کشی پر معافی مانگتے ہوئے پانچ ارب مارک کی ازالائی رقم بھی ادا کرے۔
کون کہتا ہے کشمیر میں بھارت ظلم کر رہا ہے۔یہ تو سرحد پار سے آنے والے گھس بیٹھیے یا ان کے ہاتھوں گمراہ ہونے والے مٹھی بھر کشمیری لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو بھارتی ایکتاکے درپے ہیں۔وہ جان بوجھ کر سیکیورٹی دستوں کو اشتعال دلاتے ہیں تاکہ وہ کشمیریوں کے منہ پر چھرے مار کے انھیں اندھا کر دیں اور پھر پیشہ ور کشمیری ان چھرہ زدہ چہروں کو ظلم کا اشتہار بنا کر دنیا بھر میں سینہ کوبی کرتے پھریں۔اہلِ دلی کی اس دلیل میں اگر وزن نہ ہوتا تو بیشتر بھارت کاہے کو آمنا و صدقنا کہتا۔
نیتن یاہو کی یہ بات ماننے میں کیا عار ہے کہ اسرائیلی فوج دنیا کی مہذب ترین فوج ہے۔اس نے آج تک کسی فلسطینی کو مارنے میں پہل نہیں کی۔کسی فلسطینی کو پتھر یا غلیل سے نشانہ نہیں بنایا۔لیکن جب کوئی فلسطینی بچہ یا بچی کسی اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارتا ہے یا ٹینک پر غلیل سے نشانہ باندھتا ہے یا مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کو مٹانے کا نعرہ لگاتا ہے تو کیا ریاست کو کوئی حق نہیں کہ وہ ایسے شرپسندوں کو اوقات میں رکھنے کے لیے ذرا سے گولے، کچھ بم اور دوچار نشانچیوں کو استعمال کر لے۔
کسی نے آج تک گولڈا مائیر کے اس دعویٰ کو چیلنج کیا کہ ’’ کون سے فلسطینی ؟ جب ہم یہاں آئے تو یہ خطہ تو غیر آباد تھا۔ہم نے آ کر اسے بسایا‘‘۔اگر اسرائیل واقعی کوئی سفاک ریاست ہے تو پھر کچھ عرب ممالک اس سے دوستی کے لیے آج مرے نہ جاتے۔
مشرقی پاکستانی اگر ایکتا کو چیلنج نہ کرتے ، وہاں بسنے والے ہندو اساتذہ اور دانشوروں کے بہکاوے میں نہ آتے اور غدار مجیب کے چھ نکاتی پھندے میں آئے بغیر وسیع تر قومی مفاد میں اپنے مغربی پاکستانی بھائیوں کے تھوڑے سے اور مطالبات مان لیتے اور اگر بھارت چند گمراہ مشرقی پاکستانیوں کی آڑ میں حالات سے فائدہ اٹھا کر فوج کشی نہ کرتا تو آج بھی ہم ہنسی خوشی رہ رہے ہوتے۔یہ ہیں، سقوطِ مشرقی پاکستان کی وہ وجوہات جوآج سینتالیس برس بعد بھی پاکستانی نصاب میں اتنی ہی سچ ہیں جتنی سینتالیس برس پہلے تھیں۔
اگر ریاستوں کا اپنا اپنا سچ ہے تو افراد اپنے اپنے سچ پر کیوں نہ قائم رہیں۔مثلاً اسے ماننے میں کیا قباحت ہے کہ ملالہ نے اپنے سر پر خود گولی ماری تھی تاکہ مغرب اسے اپنی ڈارلنگ بنا کر طالبان کو بدنام کرتا پھرے۔
مشال خان نے بھلے توہینِ مذہب نہ کی ہو مگر وہ ملحدوں کے شعر تو پڑھتا تھا ، اپنے کمرے کی دیواروں پر سرخوں جیسے نعرے تو لکھتا تھا ، ایک نظریاتی ریاست میں سیکولر لبرل نظریہ مسلط کرنے کا تو حامی تھا۔اسے کس نے مارا۔وہ تو مجمع کے غیض و غضب کا شکار ہوا۔مجمع کو اس سے کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی۔مجمع کو کنٹرول تو نہیں کیا جا سکتا۔یہ تو مشال خان کو خود خیال ہونا چاہیے تھا کہ وہ آگ سے کیوں کھیل رہا ہے ؟
مختاراں مائی نے باقاعدہ سوچ سمجھ کر خود کو ریپ کرایا تاکہ اسے بیرونِ ملک سے فنڈنگ مل سکے۔یہی حرکت سوئی میں رہنے والی ڈاکٹر شازیہ نے بھی کی تھی۔خواتین بن ٹھن کے نکلیں گی تو مٹھائی پر مکھیاں تو منڈلائیں گی۔
جموں کی آٹھ سالہ بکروال بچی آصفہ اگرچہ بن ٹھن کے نہیں نکلی تھی، پھر بھی انسان کے اندر بسے جہنم کی خوراک بن گئی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی سیاستداں جب آصفہ ریپ قتل کیس کے آٹھ مجرموں کی وکالت کرتے ہیں تو ان کے پاس بھی یہ دلیل ہوتی ہی ہے کہ بکروال ہندوؤں کی چراگاہوں پر زبردستی قبضہ کر رہے ہیں۔ غصہ کہیں تو نکلنا تھا۔لہذا قصور ریپسٹ کھجوریا اور اس کے آٹھ ساتھیوں کا نہیں بلکہ بکروال برادری کا اپنا ہے۔
پنجاب کے عیسائیوں، احمدیوں اور کوئٹہ کی ہزارہ برادری کا تو دھندہ ہی یہی ہے کہ وہ خود پر مظالم کی جھوٹی سچی داستانیں گھڑتے ہیں تاکہ مغرب میں مذہبی عقایذ کی بنا پر زیادتی کا کیس دائر کر کے پناہ حاصل کر سکیں۔اگر یہ معاشرہ اتنا ہی ظالم ہوتا تو پھر اکیس کروڑ لوگ یہاں کیوں رہ رہے ہیں۔
جب انصاف فٹ بال بن جائے اور ریاست گول کیپر ہو تو پھر ہر دلیل وزنی ہے، ظالم و مظلوم ایک ہی صف میں ہیں اور پھر پہاڑی چشمے پر اوپر کی جانب کھڑا بھیڑیا نیچے کھڑے میمنے کو بھی یہ دلیل دے کر ہڑپ کرنے میں حق بجانب ہے کہ تم میرا پانی گدلا کیوں کر رہے ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں