Connect with us

پاکستان

25 سے زائد سیاح ڈوب گئے

شائع شدہ

کو

25 سے زائد سیاح ڈوب گئے

ادی نیلم میں کنڈل شاہی پل ٹوٹنے سے پل پر کھڑے 25 سے زائد سیاح ’نالہ جاگراں‘ میں جاگرے جن میں سے اب تک چار افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جب کہ باقی کی تلاش جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق مظفر آباد میں وادی نیلم میں خستہ حال کنڈل شاہی پل ٹوٹ گیا جس کے باعث پل پر کھڑے سیاح نالہ جاگراں میں گرگئے۔ ڈوبنے والے چار افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ دریا میں گرے سیاحوں کی تلاش کے لیے امدادی اداروں نے کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ دریا کا بہاؤ انتہائی تیز ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پل پر خواتین اور بچوں سمیت 25 سے زائد سیاح کھڑے تھےکہ اچانک پل ٹوٹ گیا اور پل پر موجود تمام لوگ نالے میں بہہ گئے۔ نالہ جاگراں بلندی سے نیچے اترنے والا انتہائی تیز رفتار نالہ ہے جس میں پانی بہت تیز رفتاری سے بہتا ہے لہٰذا گرنے والے سیاحوں کےبچنے کی امید بہت کم ہے۔ نالے میں ڈوبنے والے چار سیاحوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جب کہ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
ڈپٹی کمشنر نیلم راجہ شاہد محمود کا کہنا ہے کہ پل پر 40 سے زائد سیاح موجود تھے، خستہ حال پل گنجائش سےزیادہ افراد کا وزن برداشت نہ کرسکا اور ٹوٹ گیا جس کے باعث پل پر موجود تمام افراد نالے میں گرگئے۔ نالے سے اب تک چار نعشیں نکالی جاچکی ہیں جب کہ 6 افراد کو زندہ بچالیا گیا ہے۔

پاکستان

ٹیکس چوروں کا سراغ

شائع شدہ

کو

ٹیکس چوروں کا سراغ

ایف بی آر نے ملک میں ان 50ہزار چکمے باز ٹیکس چوروں کا سراغ لگایا ہے جو ہیرا پھیری کے زریعے کھربوں روپے کا سالانہ ٹیکس ہڑپ کرتے رہے ہیں اور انہیں وارننگ دی ہے کہ حکومت کی متعارف کنندہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت اگر انہوں نے یکم جولائی تک چھپائے ہوئے اپنے اثاثےظاہر نہ کئے تو وہ سنگین نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ ایف بی آر نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پورے ملک میں جائیداد کی رجسٹریشن ادارے بشمول کراچی سے 25 ہزار کے قریب ٹیکس چور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کے بی سی اے، آباد، ڈی ایچ اے، بحریہ ٹاؤن کراچی سے اپنے مقصد کا مواد جمع کرکے جس میں بڑے پیمانے پر اراضی ، بلند عمارتیں اور دیگر عمارتوں کے اعداد و شمار جمع کرکے یہ کارنامہ انجام دیا ہے اور اگر سپریم کورٹ اس معاملے میں ایف بی آر کا ساتھ دے تو مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اور اگر ملک کی تاریخ میں اٹھائے گےاس اقدام پر عمل درآمد نہ ہو سکا تو پورے ملک کا ٹیکس نظام خطرے میں پڑ سکتا ہے جو ملک دشمنی کے مترادف ہوگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

کپتان کا نکات شوفلاپ

شائع شدہ

کو

کپتان کا نکات شوفلاپ

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کا 100روزہ پلان خلائی مخلوق کا بنایاہوالگتاہے ‘ کپتان کا نکات شوفلاپ ہوچکا ‘گزشتہ الیکشن میں 90روزمیں جس تبدیلی کا اعلان کیاگیااس کی زد میں صرف خیبرپختونخوآیاجبکہ باقی ملک محفوظ رہا‘سوروزہ پلان صدی کا بڑاجھوٹ جبکہ فاٹاانضمام کا اعلان سمجھ سے بالاتر ہے ۔ مستقبل کیلئے کپتان کے سو روزہ تبدیلی پلان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے اخبار نویسیوں اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں شدید ناکامی کے باوجود بھی سینہ زوری کا یہ عالم ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کو خفت کا احساس تک نہیں ہے

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

تعداد 4 ہزارسے زائد

شائع شدہ

کو

تعداد 4 ہزارسے زائد

چنکارہ ہرنوں کے شکارپرپابندی اوراسمگلنگ کی روک تھام کے باعث چولستان میں جنگلی چنکارہ ہرنوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوزکرگئی ہے،سب سے زیادہ چنکارہ ہرنوں کی تعداد رحیم یارخان میں پائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رحیم یارخان کے ہزار698 کلومیٹرایریا میں 30 مختلف مقامات پرسروے کیاگیا، جس کےمطابق ان ایریازمیں چنکارہ ہرنوں کی تعداد 148 سامنے آئی ہے۔ اسی تخمینے کے حساب سے بہاولپورکے دیگراضلاع بہاولپوراوربہاولنگرمیں چنکارہ ہرنوں کی تعدادکااندازہ 4 ہزارسے زائدلگایاگیا ہے، وائڈلائف ڈویژن بہاولپورکے انچارج انورمان نے ایکسپریس نیوزکوبتایا کہ گزشتہ ایک سال میں چنکارہ ہرنوں کی تعدادمیں خاطرخواہ اضافہ ہواہے ، انہوں نے بتایا کہ چنکارہ ہرنوں کے شکارکے حوالے سے تمام ہاٹ سپاٹس پرانہوں نے سخت نگرانی رکھی ، اسی طرح چنکارہ ہرنوں کی افزائش کے سیزن میں ان کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جنہوں نے چنکارہ ہرنوں کے بچوں کواسمگل کیے جانے کی کئی کوششیں ناکام بنائیں ۔ انورمان نے بتایا کہ چنکارہ ہرن چولستان کا حسن سمجھے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت کی طرف سے ہرسال چولستان میں کالاہرن اورچنکارہ ہرن کے شکارکے لئے ہنٹنگ ٹرافی کا اعلان کیاجاتا ہے ، کالااورچنکارہ ہرن کے شکارکی اجازت عام طورپرہرسال مارچ میں دی جاتی ہے جوپورامہینہ جاری رہتی ہے ، رواں سال کالے ہرن کے شکارکے لیے فیس 2 لاکھ روپے جبکہ چنکارہ ہرن کے شکارکی فیس 75 ہزار روپے مقررکی گئی تھی۔ انورمان نے بتایا کہ پاکستان، بھارت اور ایران میں پائے جانے والی چنکارا ہرن کی اس نسل کو غزال بھی کہتے ہیں ، چنکارا ہرن ایک چھوٹا ہرن ہے جو 65 سینٹی میٹر تک لمبا ہوسکتا ہے جبکہ اس کا وزن 25 کلو گرام کے لگ بھگ ہوتا ہے،یہ سرخی مائل رنگ کا ہرن ہے جس کا نچلا دھڑ سفید ،پیٹ اور ٹانگوں کا اندرونی حصه زردی مائل سفید جبکہ پیٹ کے دائیں بائیں دونوں طرف ڈارک براؤن رنگ کی پٹیاں ہوتی ہیں، ماحولیاتی ماہر کہتے ہیں کہ موسم کی تبدیلی سے چنکارا کی رنگت میں بھی تبدیلی دکھائی دیتی ہے،گرمیوں میں چنکارا کی رنگت سرخی مائل براؤن اور سردیوں میں زردی مائل گرے براؤن ہوتی ہے،اس کے سینگ 15 انچ تک بڑے ہو سکتے ہیں ۔سینگ کے اندر ہڈی روایتی ادوایات میں بھی استعمال کی جاتی ہے جبکہ اس کی کھال سے بہت چیزیں بنتی ہیں
وائلڈلائف ماہرین کے مطابق پاکستان میں انکی آبادی تھرپارکر، عمرکوٹ، اچھڑو تھر، چولستان میں پائی جاتی ہے لیکن مسلسل شکار کی وجہ سے ان کی نسل بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے، چنکارا تین، چار کا گروپ بنا کر رہتے ہیں, چنکارا نر اور مادہ اکٹھے ہوتے ہیں،ماده ایک سال میں جبکه نر ایک سے ڈیڑھ سال میں جوان ہوتا ہے،صحرائی بکریوں کی طرح چنکارا کی سال میں دو بریڈنگ سیزن ہوتی ہیں، ماہرین کے مطابق انکی اوسطأ طبعی عمر 12 سال ہوتی ہے،جنگلی ہرن بہت کم پانی پیتا ہے، صحرائی لوگوں کے پاس روایت ہے کہ صحرا میں چنکارا بارش کا پانی پیتا ہے،قدرتی تالابوں (ٹوبوں) میں بارش کا پانی جہاں ہرن پیتے ہیں ان کو ہرن واٹڑی بھی کہتے ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چنکارا ہرن کے پیٹ پر بھی مشکی ہرن کی طرح مشک کی تھیلی ہوتی ہےجس میں زائد خون جمع ہوتا رہتا ہے جو جم کر نہایت خوشبودار ہوجاتاہے،اسے کستوری کہتے ہیں جس کی مالیت 20 ہزار روپے فی تولہ تک ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں