Connect with us

انٹرنیشنل

طوفانی بارش ،65 سے زائد ہلاک

شائع شدہ

کو

طوفانی بارش ،65 سے زائد ہلاک

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں ایک بار پھر مٹی کے طوفان اور تیز بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ دہلی، اتر پردیش کے 25 اضلاع، مغربی بنگال اور اندھرا پردیش میں 70 کلومیٹر کی رفتار سے چلنے والے مٹی کے طوفان نے معمولات زندگی معطل کردی ہے۔ آسمانی بجلی گرنے اور اور مختلف واقعات میں 65 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جب کے زخمیوں کی تعداد کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں اتر پردیش میں ہوئیں جہاں کم از کم 51 افراد کی ہلاکت اور 28 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ بنگال میں 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ طوفان باد وباراں اور بارشوں کے باعث بھاری مالی نقصان بھی ہوا ہے سیکڑوں مکانات ڈھے گئے ہی، درخت اور بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہوا اور ایک لاکھ سے زائد افراد کھڑی فصلوں اور مویشیوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی اترپردیش کے شہر آگرہ اور راجستھان کے تین اضلاع الور، بھرت پور اور دھول پور میں طوفانی بارشوں اور 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے نتیجے میں 125 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

انٹرنیشنل

عوام کو تباہی سے بچائیں

شائع شدہ

کو

عوام کو تباہی سے بچائیں

اقوام متحدہ کے مقبوضہ فلسطین کے لیے قائم کردہ انسانی حقوق کے ادارے اوچا نے امداد دینے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے عوام پر مسلط معاشی ناکہ بندی کے اثرات ختم کرانے کے لیے فوری اور ہنگامی امداد فراہم کریں۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اوچا کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری اور ڈونر ممالک کے پاس اب بھی وقت ہے، وہ غزہ کے محصور عوام کے لیے دل کھول کر امداد فراہم کریں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ذمہ دار ادارے نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بنیادی انسانی ضروریات کا فقدان ہے، بنیادی ڈھانچہ تباہی سے دوچار ہے۔ شہریوں کو صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔اوچا نے مصر کی جانب سے غزہ کی پٹی کی بین الاقوامی گذرگاہ رفح کے کھولے جانے کا خیر مقدم کیا اور کہا ہے کہ اردن کی طرف سے ایریز گذرگاہ کے راستے سامان سے لدے ٹرک غزہ بھیجے گئے ہیں جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے، اس کے علاوہ غزہ کی پٹی میں ہسپتالوں میں زیرعلاج گیارہ زخمیوں کو بھی اردن لے جایا گیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

قومی پرچم لگانے کی پابندی

شائع شدہ

کو

قومی پرچم لگانے کی پابندی

چین نے تمام مساجد پر ملک کا پرچم لگانے کا لازمی قرار دے دیاہے ، یہ فیصلہ ملک کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم کی جانب سے کیا گیا ہے تاکہ تمام افراد میں جذبہ حب الوطنی کو فروغ دیا جا سکے جیسا کہ کمیونسٹ پارٹی مذہب پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق چین کی اسلامی ایسوسی ایشن کی جانب سے ویب سائٹ پر ایک خط شائع کیا گیاہے جس میں کہا گیاہے کہ تمام مساجد میں واضح مقام پر چین کا جھنڈا لگایا جائے۔خط میں کہا گیاہے کہ اس کے ذریعے قومی اور شہری معاملات کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کے جذبے کو فروغ دینے اور سمجھے میں مددملے گی ۔

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

خوبصورت کی سزا

شائع شدہ

کو

خوبصورت کی سزا

کویت کے نجی ٹی وی چینل کی براہ راست نشریات کے دوران خاتون اینکر نے مرد اینکر کو خوبصورت کہہ دیا جس کی وجہ سے پروگرام کو بند کرنا پڑگیا۔ عرب میڈیا کے مطابق کویت میں ایک خاتون نیوز کاسٹر نے براہ راست نشریات کے دوران اپنے ساتھی مرد اینکر کو خوبصورت کہہ دیا جس پر کویت کی وزارت اطلاعات نے ایکشن لیتے ہوئے خاتون نیوز کاسٹر کو معطل کردیا۔ کویت میں میونسپل الیکشن کے دوران براہ راست نیوز بلیٹن میں خاتون نیوز کاسٹر اسٹوڈیو میں موجود تھیں جب کہ ان کے ساتھی اینکر فیلڈ میں تھے کہ اچانک کیمرہ ان پر فوکس ہوا، اس دوران وہ اپنے سر پر موجود روایتی صافہ کو درست کرنے میں مصروف تھا، جس پر خاتون نے بے ساختہ کہہ ڈالا کہ ’ تمہیں یہ کرنے کی ضرورت نہیں تم خوبصورت لگ رہے ہو‘۔بعد ازاں خاتون اینکر کا اپنے دفاع میں کہنا تھا کہ انہوں نے جو کہاں وہ ایک معمولی بات تھی اور اکثر ہم ایک دوسرے کو ایسا کہتے ہیں کہ جب براہ راست نشریات کے دوران اچانک کسی اینکر پر کیمرا آجائے اور اس دوران وہ خود کو ٹھیک کرنے میں مصروف ہوں، تو ایسا کہتے ہیں کہ آپ کو خود کو درست کرنے کی ضرورت نہیں، آپ اچھے لگ رہے ہو، جلدی سے ہمیں معلومات دو۔
دوسری جانب ساتھی اینکر کا کہنا تھا کہ انہوں نے خاتون کی جانب سے ایسا کوئی لفظ نہیں سنا اس لیے کسی قسم کا جواب بھی نہیں دیا، وہ دراصل اس وقت اپنے صافے کو ٹھیک نہیں کررہے تھے بلکہ ہیڈ فون کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کررہے تھے تاہم ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے اس بات کا علم ہوا۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں