Connect with us

ٹیکنا لوجی

98 فیصد نتائج غلط

شائع شدہ

کو

98 فیصد نتائج غلط

حال ہی میں چہرے کی شناخت یعنی فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا خوب چرچا ہوا، لیکن یہ ٹیکنالوجی اتنی بھی درست نہیں اور لندن کی سب سے بڑی پولیس فورس کے زیر استعمال سافٹ ویئر کے نتائج مایوس کن نکلے۔ لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس سسٹم نے 104 الرٹس پروڈیوس کیے، جن میں سے بعد میں صرف 2 الرٹ درست نکلے، یعنی 98 فیصد نتائج غلط تھے۔ ان نتائج کی روشنی میں پولیس فورس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بائیو میٹرک سسٹم فی الحال استعمال کے لیے فٹ نہیں ہے، کیوں کہ ان الرٹس کو دو بار چیک کیا گیا، جس کے بعد یہ نتائج سامنے آئے ہیں۔ فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کے چہروں کو ایک ویڈیو فیڈ میں اسکین کیا جاتا ہے اور ان کا موازنہ پہلے سے ریفرنس لائبریری میں موجود یا واچ لسٹ میں شامل تصاویر سے کیا جاتا ہے۔ برطانیہ کے بائیومیٹرک کمشنر پروفیسر پال وائلز کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی فوری طور پر ضرورت تھی، تاہم انہوں نے کہا کہ مجھے یہ سن کر حیرت نہیں ہوئی کہ اس کے نتائج ابھی درستگی کے بہت قریب نہیں ہیں اور واضح طور پر یہ ٹیکنالوجی ابھی استعمال کے قابل نہیں ہے۔ واضح رہے کہ چین میں بھی اس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور کامیاب آزمائش کے بعد اب جدید کیمروں کی مدد سے چوروں کو بھی پکڑنا شروع کردیا گیا۔ گزشتہ ماہ چین کے شہر نانچنگ جیانگشی میں 'فیشل ریکگنیشن' ٹیکنالوجی سے لیس کیمروں کی مدد سے کنسرٹ میں شرکت کرنے والے ایک چور کو گرفتار کیا گیا، 60 ہزار افراد کے مجمع میں جب اسے حراست میں لیا گیا تو وہ خود ہکا بکا رہ گیا۔ فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی سے لیس کیمروں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو استعمال کیا جاتا ہے، جو چہرے کو اسکین کر کے اس کی پہچان اور ذاتی معلومات فراہم کرتا ہے۔

ٹیکنا لوجی

جنگی جہاز کی طرح اڑان

شائع شدہ

کو

جنگی جہاز کی طرح اڑان

کمرشل طیارے ایئربس 350 کی جنگی طیارے کی طرح عمودی اڑان نے سب کو حیران کردیا۔ جنگی طیاروں کی گھن گھرج کے ساتھ اڑان اور خلا میں راکٹ کی پرواز تو آپ نے عمومی طور پر دیکھی ہوگی لیکن کبھی کسی مسافر طیارے کو عمودی سمت میں اڑان بھرتے دیکھا ہے؟اگر نہیں تو دل تھام کررکھیں کیونکہ اب ایک پلائٹ نے جنگی طیارے کی طرح عمودی اڑان بھر کر سب کو ہکا بکا کردیا۔ برلن میں ہوئے ایک ایئرشو کے دوران جہاں بہت سے طیاروں نے کرتب دکھائے وہیں ایک ایئربس 350 نے بھی ایسا اسٹنٹ کیا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پائلٹ نے طیارے کو ایسے ٹیک آف کرایا جیسے ایک جنگی جہاز اڑان بھرتا ہے۔اس حیران کن ٹیک آف میں طیارہ جیسے ہی زمین سے اوپر اڑتا ہے تو وہ عمودی سمت میں پرواز کرنے لگتا ہے ،اس منظر کو دیکھنے والے دنگ رہ گئے اور کیمروں کے ذریعے اس یادگار لمحے کو عکس بند کرلیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

گلائیڈر بن کر اڑنے والی بادبانی کشتی

شائع شدہ

کو

گلائیڈر بن کر اڑنے والی بادبانی کشتی

میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہرین نے ایک ایسی بادبانی کشتی تیار کی ہے جو گلایئڈر کی طرح اڑسکتی ہے۔ اسے ماہرین نے ایلباٹروس (قادوس) کا نام دیا ہے۔ یہ دلچسپ سواری ایم آئی ٹی کے انجینئرز نے بنائی ہے جو ہوا میں اڑتی اور پانی میں تیرتی ہے۔ روبوٹ گلائیڈر کسی بھی بادبانی کشتی سے 10 گنا تیز رفتار سے آگے بڑھتا ہے۔ اس کی تیاری میں بایو انجینئرنگ سے مدد لی گئی ہے اور اسے سمندری پرندے الباٹروس کو دیکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ان پرندوں کے بازو 12 فٹ تک پھیلے ہوتے ہیں اور خاص پٹھوں کی وجہ سے وہ ایک ہی جگہ گویا جامد ہوجاتے ہیں جس سے پرندہ ہموار انداز میں پرواز کرتا رہتا ہے۔
دوسری جانب کوئی بادبانی کشتی پانی اور ہوا کی مدد سے آگے بڑھتی ہے۔ جب کپڑے کے بادبان میں ہوا بھرتی ہے تو اس کی قوت پانی تک منتقل ہوتی ہے اور کشتی کو آگے کی جانب دھکیل کی قوت ملتی ہے۔ اس گلائیڈر کے مرکزی فریم کا وزن صرف 2.75 کلوگرام ہے جس پر الباٹروس جیسے پرندے کی طرح طویل بازو لگائے گئے ہیں۔ ان کی لمبائی 3 میٹر ہے اور کشتی کے نیچے ایک خمیدہ چپو ہے جو سرفنگ بورڈ کے نیچے نصب ہوتا ہے اور وہ پانی میں ڈوبا رہتا ہے۔ روبوٹ گلائیڈر پر جی پی ایس نظام، انرشیا ناپنے والے سنسر، آٹوپائلٹ نظام اور گہرائی ناپنے کا الٹرا ساؤنڈ آلٹی میٹر بھی ہے۔
جب ہوا تیز ہوگی تو گلائیڈر پرواز کرے گا لیکن ہوا تھمنے کی صورت میں اس کا نوک دار حصہ پانی میں ڈوب جاتا ہے اور کشتی تیزرفتاری سے آگے بڑھنے لگتی ہے اور اس طرح ایک بادبانی کشتی سے 10 گنا رفتار سے آگے بڑھتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ 20 ناٹ یا 37 کلومیٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھتی ہے۔ توقع ہے کہ ایسے بہت سے روبوٹ بنا کر ان سے سمندر کے ایک وسیع علاقے کا سروے کیا جاسکتا ہے جن میں کلائمیٹ چینج، موسمیاتی تحقیق اور دیگر تحقیقات شامل ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

نئی میوزک سروس

شائع شدہ

کو

نئی میوزک سروس

گوگل نے اعلان کیا ہے کہ وہ یو ٹیوب کی نئی میوزک اسٹریمنگ سروس، یو ٹیوب میوزک، کا آغاز کر رہا ہے۔ اگلے ہفتے اس کی پریمیم سروس بھی متعارف کرائی جائے گی۔22 مئی کو متعارف کرائی جانے والی اس سروس میں چند اضافی فیچر بھی موجود ہیں مثلاً کسی بھی فرد کی یو ٹیوب ہسٹری اور چند دیگر استعمال کے پیٹرن کی بنیاد پر اپنی پلے لسٹ کو پرسنلائزڈ کر سکتے ہیں۔ویڈیو اسٹریمنگ کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ وہ یو ٹیوب پریمیم بھی لانچ کریں گے جس میں نئی تبدیلیوں کے ساتھ سبسکرپشن سروس موجود ہے۔اپنے بلاگ پوسٹ میں یو ٹیوب لکھتاہے کہ یوٹیوب میوزک پر اشتہارات کے بغیر پریمیم سروس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ماہانہ 9اعشاریہ99 ڈالر کے چارجز ادا کرنے ہوں گے تاہم اشتہارات کے ساتھ سروس سے بغیر کسی ادائیگی کے مفت میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ یو ٹیوب کے اوریجنل شوز دیکھنے کے لیے 2 ڈالر کی اضافی رقم چارج کی جائے گی۔ یعنی تمام نئے پریمیم ممبران سے99 اعشاریہ گیارہ ڈالر وصول کیے جائیں گے-
یو ٹیوب کے مطابق’’پریمیم صارفین جن اوریجنل شوز کو دیکھ سکیں گے ان میں کوبرا کائی، اسٹیپ اپ: ہائی واٹر اور یوتھ اینڈ کانسیکو ئنسس جیسے پروگرام شامل ہیں۔‘‘تاہم جو صارفین پہلے ہی یو ٹیوب ریڈ کے ممبرز ہیں، ان کے لیے وہی ماہانہ فیس رہے گی جو وہ ادا کر رہے ہیں۔ابتدائی طور پر یو ٹیوب میوزک امریکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، میکسیکو اور جنوبی کوریا میں لانچ کی جائے گی۔اس سروس کو بتدریج دوسرے ممالک میں آئندہ چند ہفتوں میں لانچ کیا جائے گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں