Connect with us

پاکستان

اندرونی کہانی سامنے آگئی

شائع شدہ

کو

اندرونی کہانی سامنے آگئی

معروف صحافی حامد میرکا کہنا ہے  کہ آج قومی سلامتی اجلاس کا اعلامیہ جاری ہونے کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی جو پریس کانفرنس کی میں اس وقت وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی اس پریس کانفرنس میں موجو دتھا،سرکاری ٹی وی نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس کو براہ راست نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور میرا خیال کہ اسے ہو بہو نشر کیا جا سکتا تھا کیونکہ اس پریس کانفرنس میں صحافیوں نے شاہد خاقان عباسی سے جو بھی سوالات کیے ہیں وہ ان کا صحیح طور پر جواب نہیں دے سکے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آج قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی اوراجلاس کی جو پریس ریلیز جاری ہوئی ہے اس میں ڈان اخبار میں نواز شریف کے حوالے سے جو بات شائع ہوئی اس کی مذمت کی گئی تھی۔  پریس کانفرنس میں وزیراعظم  نے کہا کہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد میری نواز شریف سےملاقات ہوئی ہے اورنواز شریف نے کہا کہ ڈان کے انٹرویو میں عسکریت پسند تنظیموں سے متعلق ان کے جو بیانات شائع ہوئے ہیں اور جو باقی ساری باتیں ہیں ان کو مس رپورٹ کیاگیا ہے۔

اس بات پر میں فوری طور پر ان سے سوال کیا کہ آپ نے پہلے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں آپ نے ان کے بیان کی مذمت کی ہے اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف اپنے بیان کی تردید کر رہے ہیں جبکہ آج صبح احتساب عدالت میں نواز شریف نے میڈیا سے بات کی ہے اور ڈان کا انٹرویو صحافیوں کو خود پڑھ کر سنایا ہے اور کہاکہ بتائیں میں نے کون سی بات غلط کی ہے۔وہ اپنے انٹرویو پر قائم ہیں۔ نواز شریف نے خود اس کی تردید کیوں نہیں کی؟ اس بات کاشاہد خاقان عباسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

پھر ان سے سوال کیاگیا کہ اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے بیان کو مس کوٹ کیا گیا تو جس اخبار نے یہ بیان شائع کیا ، کیا آپ اس کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے؟ تو اس کا بھی ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

پھر ان سے کافی واضح الفاظ میں پوچھا گیا کہ نواز شریف کے بیان کے بعد ملک میں اب جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ نواز شریف اپنے بیان پر قائم ہیں، شہباز شریف نے ان کے بیان کو کہا کہ مس رپورٹ ہوا ہے، آپ نے بھی یہی کہا، نواز شریف نے اپنے بیان پر ڈٹے رہ کر آپ کو اورشہباز شریف کو غلط ثابت کردیا ہے، اب آپ یہ بتائیں کہ آپ میں سے کون استعفیٰ دے گا ۔اس سوال پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی دفاعی پوزیشن میں آگئے اور کہا کہ میں استعفیٰ نہیں دوں گا۔

ان سے ایک ہی سوال بار بار کیا جا رہا تھا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے بعد آپ جو وضاحت کر رہے ہیں ،نواز شریف خود کیوں اپنے بیان کی وضاحت نہیں کررہے۔اس پر ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ، پھر انہوں نے ایک اور یو ٹرن لیا ، اور کہاکہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے بعد جو پریس ریلیز جاری ہوئی ،اس میں نواز شریف کے بیان کی نہیں بلکہ اخبار کی رپورٹنگ کی مذت ہوئی ہے ،جس پر تمام صحافیوں نے ان سے کہا کہ وزیر اعظم صاحب اب آپ یہ غلط کر رہے ہیں اورخود اس معاملے کو مس رپورٹ کر رہے ہیں،آپ نے ایک اجلاس کی صدارت کی ، آپ کی مرضی سے آپ کی اپنی تائید سے اجلاس کا اعلامیہ جاری ہوا اور اب آپ اس اعلامیے کو اپنی مرضی کے مطابق ٹوئسٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

آخر میں ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا ابھی بھی آپ یہ کہیں گے کہ آپ کا اصل وزیر اعظم نواز شریف ہے؟ تو پہلے تو انہوں نے بات کو گھمانے کی کوشش کی، لیکن جب ان سے دوبارہ یہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں نواز شریف کے ساتھ ہوں، شاید یہی صورتحال تھی اور ان کو علم تھا کہ آج سوالات ایسے ہوں گے جن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا، اسی لیے پاکستان ٹیلی ویژن نے ان کی پریس کانفرنس کو براہ راست نشر نہیں کیا اور میراخیال ہے کہ اس پریس کانفرنس کو ہو بہو دوبارہ نشر کیا جائے گا۔

پاکستان

آزاد امیدوار

شائع شدہ

کو

آزاد امیدوار

سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں اپنے حلقے سے آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیں گی ، انہیں دیگر سیاسی جماعتوں میں شمولیت کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں ، تا ہم انہوں نے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے کے فیصلے سے ان سیاسی جماعتوں کے قائدین کو آگاہ کر دیا۔ اپنے بیٹے بیر سٹر حسنین مرزا کی جانب سے دیے گئے اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ وہ الیکشن سے متعلق شرائط و ضوابط ٹی او آرز (ترتیب دے رہی ہیں ، جنہیں دیگر سیاسی جماعتوں کو ارسال کر دیا گیا ہے ۔ بیر سٹر حسنین مرزا کی جانب سے بتایا گیا کہ ان شرائط و ضوابط میں بدین سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں پینے کے پانی اور سکولوں کی ابتر صورتحال اور کرپش شامل ہیں ، جنہیں میڈیا کے سامنے بھی لایا جائے گا ۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا یہ ٹی او آرز پاکستان پیپلز پارٹی ) پی پی پی (کی قیادت کو بھی ارسال کی جائیں گی ؟

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عدالت میں پیش

شائع شدہ

کو

عدالت میں پیش

میرشکیل الرحمن اور میر ابراہیم الرحمان کے خلاف جھوٹی خبرشائع کرنے سے متعلق نجی استغاثہ کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی اس موقع پرمیر شکیل الرحمن میر ابراہیم عدالت میں پیش ہوئے میر ابراہیم نے50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے جبکہ میر شکیل الرحمن کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ عدالت نے درخواست گزارکونوٹس جاری کیے،9جون کو دلائل طلب کیے ہیں ملزمان نے سینئر تحقیقاتی صحافی اسد کھرل کے خلاف جھوٹی خبر شائع کی تھی اسدکھرل نے ایک ٹی وی پروگرام میں میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیرصدیقی کی کرپشن سے متعلق خبرنشر کی تھی۔ ملزمان میرشکیل الرحمن اور میرابراہیم الرحمن نے جنگ، دی نیوز اور جیونیوز میں عدالت کا نام استعمال کرتے ہوئے جھوٹی خبرنشراور شائع کی تھی جس پر اسد کھرل نے ملزمان کے خلاف سیشن عدالت سے رجوع کیا تھا،کیس کی سماعت 9جون تک ملتوی کردی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

100وکٹیں اڑادیں

شائع شدہ

کو

شہر قائد پہنچ گئے

کپتان عمران خان کی تباہ کن باؤلنگ سے کوئی سیاسی جماعت نہ بچ سکی، انہوں نے مختصر عرصے میں دوسری جماعتوں کی 100سے زائد بڑی وکٹیں اڑا کر ان کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ عمران خان نے مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ق کی سب سے زیادہ وکٹیں اڑائیں جب کہ جے یو آئی (ف)، اے این پی اور متحدہ بھی نہ بچ سکیں۔ کپتان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کی ہوا بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس سے سب سے زیادہ مسلم لیگ ن متاثر ہوئی، پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر رہی۔ کپتان نے پنجاب سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ق کے بڑے الیکٹبلز چھین لیے، مسلم لیگ ن کے60 سے زائد، پیپلزپارٹی کے 25 اور مسلم لیگ ق کے 15 الیکٹیبلز تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں