Connect with us

پاکستان

گھر منتقل

شائع شدہ

کو

گھر منتقل

وزیر داخلہ احسن اقبال سروسز اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد گھر منتقل ہو گئے۔

سروسز اسپتال کے میڈیکل بورڈ نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو صحت یاب ہونے کے بعد ڈسچارچ کر دیا تاہم ڈاکٹرز نے انہیں ابھی گھر پر آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ احسن اقبال نے ڈسچارج ہونے سے قبل اسپتال کی بالکونی میں آ کر قومی پرچم لہرایا۔ احسن اقبال اسپتال سے سیدھے جوہر ٹاؤن قبرستان گئے اور اپنی والدہ کی قبر پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ احسن اقبال نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ سیکیورٹی عملے نے اپنی جان پر کھیل کر حملہ آور کو حراست میں لیا اور کسی بڑے حادثے کا سدباب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک سے نفرت کے کانٹے ہٹانے کے لیے ابھی کتنی جدوجہد کرنی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ انہیں لگنے والی گولی عمر بھر ان کے جسم میں رہے گی جو انہیں یاد دلاتی رہے گی کہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے مزید کتنا کام کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہدا اور ان کے اہل خانہ کے لیے بھی دعا گو ہیں۔

پاکستان

اقتصادی ترقی ٹیسٹ میچ

شائع شدہ

کو

اقتصادی ترقی ٹیسٹ میچ

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ انیسویں صدی سیاست کی صدی تھی،اب اقتصادی ترقی کی صدی ہے ،اقتصادی ترقی ٹیسٹ میچ ہے،چوکوں چھکوں کامیچ نہیں،اس کےلئے امن اورترقی ضروری ہے،ہم اپنے تمام چیلنجزپرقابوپالیں گے۔ ایئریونیورسٹی میں نیشنل سینٹرفارسائبرسیکیورٹی کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کے دوران احسن اقبال کاکہنا تھا کہ ہم سے پیچھے رہ جانےوالے ممالک آگے نکل گئے،ہمیں اب یہ مانناہوگا کہ اب دنیا بدل گئی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ 1980 میں چین میں فی کس آمدنی200ڈالراورپاکستان میں300ڈالرتھی لیکن آج چین کی فی کس آمدن8000ڈالرسے اوپر اور ہماری1600ڈالرہے۔
احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ ہم ہروقت بیڑاغرق اورستیاناس جیسی کہانیاں سنتے رہے ہیں،پاکستان ایسا ملک نہیں،دہشتگردی کےخلاف جنگ اب بھی جاری ہے اور اس کے مکمل خاتمے تک جاری رہےگی۔احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ لوگ روزلاشیں اٹھارہے تھے،ہرطرف دہشتگردی کاراج تھا،کچھ عرصہ پہلے ہماری مساجد،چرچ،اسکول،مارکیٹوں سب کوخطرہ تھا لیکن اب ایسا نہیں،ہم نے دہشگردوں کی کمرتوڑدی ہے۔ وفاقی وزیر کا مزیدکہنا تھا کہ اب ایک گولی میری پوری زندگی جسم کے اندررہے گی،گولی مجھے یاد دلاتی رہے گی کہ اللہ سب سے بڑاہے،6 مئی کوایک دہشتگرد نے مجھے مارنے کی کوشش کی لیکن مارنےوالے سے بچانے والا بڑا ہے،خداکاشکراداکرتاہوں جس منصوبے کاخواب دیکھا تھاآج وہاں موجودہوں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

100 دن کاپروگرام لفظی مجموعہ

شائع شدہ

کو

100 دن کاپروگرام لفظی مجموعہ

وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے تحریک انصاف کا پہلے 100 دن کا پروگرام جھوٹے دعوو¿ں اور لفاظی کا مجموعہ قرار دے دیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے حکومت ملنے کی صورت میں 100 دن کے پلان کا اعلان کیا گیا جس پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی شدید تنقید کی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریوں، 50 لاکھ گھروں کا دعویٰ، ایک ارب درخت اور 350 ڈیموں کی مانند سراب ہے، تحریک انصاف کا پہلے 100 دن کا پروگرام جھوٹے دعووں اور لفاظی کا مجموعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتساب کانعرہ لگانے والوں نے کے پی میں اپنا بنایا احتساب کمیشن بھی نہ چلنے دیا، خیبر بینک کی تباہی عمران کے دور میں ہی ہوئی۔سعد رفیق کا کہناتھاکہ عمران کی حکومت میں خیبرپختونخوا پولیو کا گھر بن گیا، صوبائی حکومت نے ڈینگی کا مقابلہ کیے بغیر شکست مان لی جب کہ پشاور کے آدم خور چوہے بھی عمران کی حکمرانی کو کاٹ رہے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بیانات ریکارڈ

شائع شدہ

کو

بیانات ریکارڈ

ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے احسان صادق کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم اصغر خان کیس میں سابق وزیراعظم نوازشریف ،جاوید ہاشمی ،یونس حبیب اور دیگر کے بیانات رواں ہفتے قلمبند کرے گی ،یہ ٹیم سابق آرمی چیف اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کے بیانات ریکارڈ کر چکی ہے ،90کی دہائی میں آئی ایس آئی کی طرف سے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کے الزام میں سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو اصفر خان کیس کی تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کرانےکی ہدایت کر رکھی ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے کیس کی تحقیقات کے لئے ایف آئی اے افسروں پر مشتمل 5 رکنی کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے احسان صادق ہیں جبکہ کمیٹی ارکان میں ڈائریکٹر ایف آئی اے پنجاب ڈاکٹر عثمان انور،ڈائریکٹر انٹرپول طارق نواز ملک۔ڈائریکٹر امیگریشن ڈاکٹر رضوان اور ڈائریکٹر لاء علی شیر جاکھرانی شامل ہیں۔ ڈائریکٹر پنجاب عثمان انور کمیٹی کے سیکرٹری کا کام کر رہے ہیں۔ کمیٹی اصغر خان کیس کے تمام کرداروں کو طلب کر کے ان کے بیانات ریکارڈ کرے گی جبکہ کیس سے متعلقہ ریکارڈ کی چھان بین کرے گی۔ کمیٹی اپنے کام سے متعلق ڈی جی ایف آئی اے کو باقاعدگی سے آگاہ کر رہی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں