Connect with us

انٹرنیشنل

جوہری تعلقات کی خواہش

شائع شدہ

کو

جوہری تعلقات کی خواہش

امریکا کے مختلف عہدے داروں اور اندرونی راز دانوں نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری توانائی اور دفاعی شعبے میں زیادہ بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں اعتماد کی فضا پائی جاتی ہے ،اس لیے سعودی عرب کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبے میں زیادہ تعاون کیا جانا چاہیے۔ سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات کے قیام کی خواہش کا اظہار کرنے والوں میں ایوان نمائندگان کے سابق اکثریتی لیڈر ایرک کینٹر بھی شامل ہیں۔انھوں نے اتوار کو سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ امریکا کی جانب سے سعودی عرب کی جوہری توانائی کے شعبے میں امداد کے لیے باہمی اعتماد کا عامل موجود ہے‘‘۔
انھوں نے کہا کہ ’’ میرے خیال میں امریکا اور سعودی عرب کی حکومت میں باہمی احترام کی فضا پائی جاتی ہے۔سعودی عرب امریکا کا بہت ہی اہم اور تزویری اتحادی ہے۔اگر ہم اس ملک کو عالمی معیشت میں مکمل شراکت دار بنتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کا جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں کردار چاہتے ہیں ، تو یہ سب امریکیوں کے مفاد میں ہے اور یقینی طور پر ہماری حکومت اور ہمارے تزویراتی مفادات کے حق میں ہے‘‘۔
امریکا کے ایک عسکری ماہر نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کو نان نیٹو اتحاد ی کا درجہ دے۔ امریکی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹینٹک کرنل اور سابق انٹیلی جنس افسر ٹونی شیفر نے اسی ہفتے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔اس کو سعودی عرب کو غیرنیٹو اتحادی کا درجہ دینا چاہیے تاکہ خطے میں وہ زیادہ سکیورٹی کردار ادا کرسکے۔

انٹرنیشنل

اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کھلی حقیقت

شائع شدہ

کو

اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کھلی حقیقت

پاکستان میں جب بھی عام انتخابات کا وقت آتا ہے تو مغربی میڈیا میں ایسی رپورٹس آنا شروع ہو جاتی ہیں کہ جن کے باعث انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔ اب ایک بار پھر یہی صورتحال ہے۔ ایک جانب سیاسی عمل کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور دوسری جانب اس صورتحال کے لئے ایک بار پھر ’اسٹیبلشمنٹ‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ معروف برطانوی جریدے ”دی اکانومسٹ“ کا پاکستانی انتخابات کے بارے میں تازہ ترین مضمون ایک ایسی ہی کاوش نظر آتی ہے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ ”چند دن بعد ہونے والے عام انتخابات میں عمران خان کی فتح یقینی نظر آرہی ہے، لیکن ایک بار پھر یہ روایتی میچ فکسنگ دکھائی دے رہی ہے، (جس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ) اب وقت آچکا ہے کہ پاکستانی جرنیل سیاست میں دخل اندازی بند کردیں۔“
پاکستان تحریک انصاف کے لئے فتح کی راہ ہموار کرنے کا الزام اسٹیبلشمنٹ پر لگاتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ”سروے ظاہر کررہے ہیں کہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں فتح پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ملنے والی ہے اور عمران خان اگلے وزیراعظم ہوں گے۔ اگرچہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان اس بات کی تردید کرتے ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ اس بات کو یقینی بنارہی ہے کہ پی ٹی آئی کو میڈیا پر ترجیحی کوریج ملے، طاقتور حلقے اس کی حمایت کریں، اور مخالف پارٹیوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ عمران خان کے سب سے بڑے مخالف نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز جیل جا چکے ہیں جبکہ دیگر مخالف پارٹیوں کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے۔ کچھ سیاسی رہنماﺅں پر دہشتگردی کے حملے بھی ہوچکے ہیں، جن میں درجنوں اموات ہوچکی ہیں۔“
جریدے کا مزید کہنا ہے کہ طاقتور حلقوں کی جانب سے میڈیا پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ”اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پاکستانی سیاست میں مداخلت پہلے بھی کی جاتی رہی ہے لیکن جس طرح یہ کام کھلے عام اب ہورہا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ ممتاز صحافیوں اور میڈیا ہاﺅسز کا کہنا ہے کہ ان پر پاکستان تحریک انصاف کی حمایت اور اس کے مخالفین کی کوریج محدود کرنے کیلئے دباﺅ ڈالا جارہا ہے۔“

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

8 سال مزید سزا

شائع شدہ

کو

8 سال مزید سزا

جنوبی کوریا کی سابق صدر پارک گُن ہے کو انتخابات میں مداخلت کرنے کے جرم میں 8 سال قید کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ دارالحکومت سیئول کی عدالت نے پارک گُن ہَے کو غیر ضروری فنڈ جمع کرنے کے جرم میں 6 سال اور انتخابی عمل میں بیجا مداخلت پر اضافی دو سال سزائے قید سنائی ہے۔ دوسری جانب سابق کوریائی صدر نے کہا ہے کہ یہ الزامات سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہیں جو کہ عدالت میں فیصلہ سننے کے لیے موجود نہیں تھیں۔
یاد رہے کہ بدعنوانی الزامات اور حکومتی راز افشاء کرنے پر پارک گُن ہے 24 سال کی سزا پہلے ہی بھگت رہی ہیں۔ انہیں سن 2017 میں منصبِ صدارت سے ہٹا دیا گیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

ترکی کا انکار

شائع شدہ

کو

ترکی کا انکار

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا نے ترکی میں قید اپنے مطلوب ترین دہشت گرد نیل پرکاش المعروف ابو خالد الکمبوڈی کی حوالگی کے لیے ترک حکومت سے رجوع کیا تھا تاہم ترک عدالت نے آسٹریلیا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ابو خالد الکمبوڈی کے خلاف مقدمات کی سماعت ترکی میں ہی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ آسٹریلوی حکومت نے ترکی کی عدالت کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ابو خالد ایک آسٹریلوی شہری ہے جس پر دہشت گردی سمیت متعدد مقدمات قائم ہیں جن کی تفتیش کے لیے ابو خالد الکمبوڈی کی حوالگی ضروری ہے جس کے لیے آسٹریلوی وزیراعظم نے گزشتہ برس مئی میں ترک حکومت سے استدعا کی تھی۔ واضح رہے کہ داعش کمانڈر نیئل پرکاش آسٹریلوی شہری ہے جس کے والد کا تعلق فجی اور والدہ کا کمبوڈیا سے تھا۔ 2012 میں کمبوڈیا کے دورے دوران اس نے بدھ ازم ترک کر کے اسلام قبول کیا تھا اور ابو خالد الکمبوڈی کے نام سے داعش کے لیے کام شروع کیا تاہم 2016 میں شام کی سرحد عبور کر کے ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار ہو گیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں