Connect with us

پاکستان

پنجاب سے پہلی بغاوت

شائع شدہ

کو

فیصلہ بدلنا ہوگا

سابق وزیراعظم نواز شریف پنجاب سے تعلق رکھنے والے پہلے سیاستدان ہوگئے جنہوں نے بعض ریاستی اداروں کیخلاف اعلان بغاوت کیا ہے۔

واضح ہو کہ گزشتہ دنوں میاں نوازشریف نے اپنے ایک انٹرویو میں متنازع بیانات دیئے تھے جن کا نشانہ ریاستی ادارے تھے۔

پاکستان

عدالت میں پیش

شائع شدہ

کو

عدالت میں پیش

میرشکیل الرحمن اور میر ابراہیم الرحمان کے خلاف جھوٹی خبرشائع کرنے سے متعلق نجی استغاثہ کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی اس موقع پرمیر شکیل الرحمن میر ابراہیم عدالت میں پیش ہوئے میر ابراہیم نے50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے جبکہ میر شکیل الرحمن کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ عدالت نے درخواست گزارکونوٹس جاری کیے،9جون کو دلائل طلب کیے ہیں ملزمان نے سینئر تحقیقاتی صحافی اسد کھرل کے خلاف جھوٹی خبر شائع کی تھی اسدکھرل نے ایک ٹی وی پروگرام میں میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیرصدیقی کی کرپشن سے متعلق خبرنشر کی تھی۔ ملزمان میرشکیل الرحمن اور میرابراہیم الرحمن نے جنگ، دی نیوز اور جیونیوز میں عدالت کا نام استعمال کرتے ہوئے جھوٹی خبرنشراور شائع کی تھی جس پر اسد کھرل نے ملزمان کے خلاف سیشن عدالت سے رجوع کیا تھا،کیس کی سماعت 9جون تک ملتوی کردی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

100وکٹیں اڑادیں

شائع شدہ

کو

شہر قائد پہنچ گئے

کپتان عمران خان کی تباہ کن باؤلنگ سے کوئی سیاسی جماعت نہ بچ سکی، انہوں نے مختصر عرصے میں دوسری جماعتوں کی 100سے زائد بڑی وکٹیں اڑا کر ان کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ عمران خان نے مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ق کی سب سے زیادہ وکٹیں اڑائیں جب کہ جے یو آئی (ف)، اے این پی اور متحدہ بھی نہ بچ سکیں۔ کپتان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کی ہوا بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس سے سب سے زیادہ مسلم لیگ ن متاثر ہوئی، پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر رہی۔ کپتان نے پنجاب سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ق کے بڑے الیکٹبلز چھین لیے، مسلم لیگ ن کے60 سے زائد، پیپلزپارٹی کے 25 اور مسلم لیگ ق کے 15 الیکٹیبلز تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

علیحدگی کا فیصلہ

شائع شدہ

کو

علیحدگی کا فیصلہ

فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے سے متعلق 23 ویں آئینی ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرتے ہوئے اس کی منظوری لینے کے حکومتی فیصلے کے باعث جے یوآئی اور مسلم لیگ ن میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اس صورت حال کے باعث قومی اسمبلی اور مرکزی حکومت کے 31 مئی کو پورے ہونے والے دورانیے سے پہلے ہی حکومت سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس بارے میں جے یو آئی کے ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے مشاورت اور سنجیدگی سے غور جاری ہے اور امکان ہے کہ آئندہ ہفتے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کر دیں۔ واضح رہے کہ جے یوآئی (ف)جو گزشتہ دور میں پیپلزپارٹی کی بھی اتحادی رہی وہ موجودہ دور میں مسلم لیگ (ن)کے ساتھ مرکز میں قدرے تاخیر کے ساتھ حکومت کا حصہ بنی اور اکرم خان درانی کو جے یوآئی کی جانب سے وفاقی کابینہ میں شامل کیاگیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں