Connect with us

ٹیکنا لوجی

ڈریں مت...BFF صرف ایک جھوٹ ہے

شائع شدہ

کو

ڈریں مت...BFF صرف ایک جھوٹ ہے

یہ ایک حقیقت ہے فیس بک نے ہماری زندگیوں پر غلبہ پالیا ہے اور اس سے دور رہنا کروڑوں بلکہ اربوں افراد کے لیے لگ بھگ ناممکن ہوچکا ہے۔ اس سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے حوالے سے ترجیحات جو بھی ہوں، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فیس بک بی ایف ایف (بیسٹ فرینڈز فار ایور کا مخفف) سے جڑے رہنے میں مدد دیتی ہے۔تاہم فیس بک کو اس وقت کیمبرج اینالیٹیکا ڈیٹا اسکینڈل کے باعث مشکل دور کا سامنا ہے اور لگتا ہے کہ اس موقع پر ایک لفظ 'BFF' نے صورتحال پر لوگوں میں موجود خدشات کا فائدہ اٹھانا شروع کردیا ہے۔گزشتہ چند ہفتوں سے فیس بک پر ایک افواہ بہت تیزی سے دنیا بھر میں اور مختلف زبانوں میں پھیلی ہے۔
اس افواہ کے مطابق ' فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ نے ایک لفظ BFF یا بی ایف ایف ایجاد کیا ہے، اپنے فیس بک اکاﺅنٹ کے محفوظ ہونے کا یقین کرنا چاہتے ہیں تو کمنٹ میں بی ایف ایف ٹائپ کریں، اگر وہ سبز رنگ میں نظر آئے تو اس کا مطلب ہے کہ اکاﺅنٹ محفوظ ہے، اگر وہ سبز نہ ہو تو اپنا پاس ورڈ فوری طور پر بدل لیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی اور نے ہیک کرلیا ہو، اس پیغام کو ہر ایک کے ساتھ شیئر کریں'۔لوگوں کی بہت زیادہ توجہ اور کمنٹس حاصل کرنے میں کامیاب یہ پوسٹ درحقیقت افواہ ہے۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ مارک زکربرگ نے بی ایف ایف نامی مخفف تشکیل نہیں دیا کیونکہ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کے مطابق اس لفظ کا آغاز 1996 میں ہوا۔اور اس سے بھی بڑھ کر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس افواہ میں فیس بک کے ایک نئے فیچر 'ٹیکسٹ ڈیلائٹ' کو بہت خوبصورتی سے استعمال کیا گیا ہے جو کہ گزشتہ سال متعارف کرایا گیا تھا۔اس فیچر کے تحت چند مخصوص الفاظ کمنٹ میں لکھنے پر ان کی رنگت بدل جاتی ہے اور کسی قسم کی اینیمیشن سامنے آتی ہے۔
مثال کے طور پر 'بیسٹ وشز'، 'xoxo' اور 'Congratulations وغیرہ مختلف رنگوں کے ساتھ نظر آتے ہیں اور لکھنے پر ایک اینیمیشن شو کرتے ہیں۔بی ایف ایف کو اس فہرست میں رواں سال جنوری میں شامل کیا گیا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی کوئی صارف کمنٹ میں اسے لکھے گا تو وہ سبز رنگ میں تبدیل ہوجائے گا اور اسی کا فائدہ افواہ پھیلانے والوں نے اٹھایا ہے۔ویسے اگر بی ایف ایف لکھنے پر اس کا رنگ تبدیل نہ ہو تو اس کا اکاﺅنٹ سے کچھ لینا دینا نہیں بلکہ یہ ممکنہ طور پر براﺅزر سیٹنگز کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔یعنی اگر یہ لفظ سبز رنگ میں نظر آتا بھی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا اکاﺅنٹ دیگر کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے، کیونکہ اگر پاس ورڈ کمزور ہوگا تو وہ کبھی بھی ہیک ہوسکتا ہے-

ٹیکنا لوجی

بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں

شائع شدہ

کو

بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں

مونٹریال: کینیڈا میں بچوں کے امراض کے ماہرین نے بٹن جیسی گول چھوٹی بیٹریوں کو بچوں کی صحت کیلئے زہر قرار دیدیا۔

چلڈرنز ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے کہا کہ بچے اگر چہ کھلونوں سے کھیل کر بہت خوش ہوتے ہیں لیکن جن کھلونوں میں ایسی بیٹریاں ہوتی ہیں وہ بچوں کی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہیں اس قسم کی بیٹریاں اب مبارکباد کے کارڈز میں بھی استعمال ہو رہی ہیں اور جب ان کارڈرز کو کھولا جاتا ہے اس بیٹری کی مدد سے ان میں سے موسیقی سنائی دیتی ہے طبی ماہرین کے مطابق یہ چمکدار بیٹریاں بچوں کیلئے پرکشش ہو سکتی ہے اور وہ انہیں نکال کر منہ میں رکھ سکتے ہیں اگر غلطی سے یہ بیٹری حلق سے اتر جائے تو صورتحال خراب ہو سکتی ہے ماہرین کے مطابق یہ بیٹری تین گھنٹے معدے میں موجود رہے تو صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ڈاکٹر سام ڈینٹل کے مطابق بیٹری نگلنے کے باعث بعض بچوں کو بولنے کی صلاحیت ختم ہو گئی جبکہ کچھ سماعت سے محروم ہو گئے۔ ان بیٹریوں میں مختلف اقسام کی دھاتیں مثلاً مینگانیز ڈال آکسائیڈ، کیلکولیٹرز، کیمروں اور دیگر آلات میں بھی استعمال ہوتی ہیں ڈاکٹر ڈینٹل نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ تمام اشیا جن میں بٹن بیٹری استعمال ہوتی ہے کوبچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

فون ری سائیکل کرنے والا روبوٹ تیار

شائع شدہ

کو

فون ری سائیکل کرنے والا روبوٹ تیار

امریکا اور یورپ کے صارفین ہر سال نیا فون خریدتے ہیں اور پرانا فون اونے پونے داموں فروخت کردیتے ہیں۔ ان میں سے ایپل کے پرانے اسٹاک میں موجود فون ایپل کے گوداموں میں پڑے رہتے ہیں یا کسی وجہ سے واپس آجاتے ہیں۔ اب ایپل نے ان فونز کو ری سائیکل کرنے کےلیے ایک جدید ترین روبوٹ تیار کیا ہے۔ اس روبوٹ کا نام ڈیزی ہے جو 200 کے لگ بھگ فون ری سائیکل کرتا ہے لیکن اسے روبوٹ کے بجائے پورا ری سائیکلنگ پلانٹ کہنا زیادہ بہتر ہوگا جو 9 مختلف آئی فونز کو ماحول دوست انداز میں کھول کر انہیں تلف کرنے یا ری سائیکلنگ کا کام کرتا ہے۔
ایپل نے دو سال قبل اپنا ایک ری سائیکلنگ روبوٹ لائیام بھی تیار کیا تھا جسے اب جدید ڈیزی کی صورت میں ڈھالا گیا ہے اور اس میں لائیام کے کئی اہم پرزے لگائے گئے ہیں۔ اس روبوٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بہت مہارت سے پرانے آئی فون کے ایک ایک کارآمد پرزے کو الگ کرتا ہے تاکہ کوئی شے ضائع نہ ہو۔ مثلاً اگر کوئی چپ یا پرزہ دوبارہ استعمال ہوسکے تو وہ اسے نکال کر ایک الگ خانے میں بھیج دیتا ہے۔ اس طرح ری سائیکل ہونے والے حصوں کو دوسری جگہ جمع کرتا ہے۔
ایپل کے مطابق یہ روبوٹ آئی فون کے قیمتی حصے بھی الگ کرتا ہے اور ایک گھنٹے میں 200 سے زائد آئی فون ری سائیکل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ یہ خوبی کسی بھی غیر روایتی ری سائیکلنگ مرکز میں موجود نہیں۔
تاہم ایپل نے ان روبوٹس کی تعداد نہیں بتائی اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ یہ روبوٹس کس جگہ موجود ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

کھوج لگانے والا روانہ

شائع شدہ

کو

کھوج لگانے والا روانہ

امریکی خلائی ادارے نے ریاست فلوریڈا کے کیپ کنیورل سے ٹیس نامی ایک مصنوعی سیارہ خلا میں روانہ کیا ہے جس کا مقصد نظامِ شمسی سے باہر ہزاروں نئے سیاروں کا کھوج لگانا ہے۔ یہ مشن ستاروں کے بڑے جھرمٹوں کے اندر جھانک کر وہاں ممکنہ طور پر موجود ستاروں کی چمک میں کمی کا سراغ لگانے کی کوشش کرے گا۔ دور دراز واقع سیارے براہِ راست تو نہیں دیکھے جا سکتے، البتہ جب وہ اپنے ستارے کے گرد مدار میں چکر لگاتے لگاتے ستارے کے سامنے آ جاتے ہیں تو ستارے کی چمک تھوڑی دیر کے لیے ایک مخصوص انداز میں مانند پڑ جاتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں