Connect with us

ٹیکنا لوجی

دنیا کی پہلی برقی سڑک تیار

شائع شدہ

کو

دنیا کی پہلی برقی سڑک تیار

سویڈن میں ماہرین نے دنیا کی پہلی ’الیکٹرک سڑک‘ تیار کر لی ہے جس میں صرف ایک کیبل کی مدد سے عام گاڑی کو الیکٹرک کار میں تبدیل کیا جا سکے گا جب کہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی بیٹریوں کو بھی چارج کیا جاسکے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں دو کلو میٹر طویل الیکٹرک سڑک کو آزمائشی بنیادوں پر کھول دیا گیا ہے۔ الیکٹرک سڑک ائیرپورٹ کے قریب بنائی گئی ہے۔ سڑک پر گاڑی چلانے کے لیے اسے الیکٹرک کیبل سے منسلک کیا جاتا ہے جب کہ کیبل کا دوسرا سرا سڑک پر لگے الیکٹرک سسٹم سے جوڑ دیا جاتا ہے جس کے بعد ایک عام گاڑی مکمل طور پر الیکٹرک کار میں تبدیل ہوجاتی ہے۔سویڈن میں 2030ء تک فیول سے نجات حاصل کرنے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں تیل کے استعمال میں 70 فیصد تک کمی لانے کے لیے توانائی کے دیگر ذرائع پر کام کیا جا رہا ہے ۔ منصوبے کے تحت الیکٹرک سڑک کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا جو سڑک پر گزرنے والی گاڑیوں کی بیٹریوں کو چارج بھی کر سکے گی اور گاڑیوں کی روانی کے لیے تیل کے بجائے برقی توانائی کو استعمال کیا جائے گا۔

 

ٹیکنا لوجی

اڑنے والی کار

شائع شدہ

کو

اڑنے والی کار

امریکا میں اُڑنے والی پہلی کار نے کامیاب تجرباتی پرواز کرکے سب کو حیران کردیا۔
امریکا میں گوگل کے شریک بانی لیری پیج کی مالی معاونت سے ٹیکنالوجی کمپنی نے ہوا میں اُڑنے والی کار تیار کی ہے جسے سیاہ مکھی یعنی Black Fly کا نام دیا گیا ہے۔ اس گاڑی کی شکل بھی مکھی کی طرح ہے یہ بجلی سے چلنے والی کار ہے جس کی قیمت ایک اسپورٹس کار کے برابر ہوگی۔ بلیک فلائی نامی یہ کار فضا میں 62 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 40 کلومیٹر تک پرواز کرسکتی ہے جس میں صرف ایک نشست ہے جسے اُڑانے کے لیے ڈرائیور کو معمولی تربیت بھی لینا ہوتی ہے اور اس کار کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ کار کی پرواز کے لیے پائلٹ کو لائسنس لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔یک نشست اور دو پروں والی کار ’بلیک فلائی‘ گھاس والی سطح سے بھی پرواز اور لینڈنگ کرسکتی ہے تاہم ابتدائی طور پر اسے سڑکوں پر اُڑان بھرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ انسانی پائلٹ والے ڈرون طیارے کا کام انجام دے سکے گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

پانی فراہم کرنے والا سورج مکھی روبوٹ

شائع شدہ

کو

پانی فراہم کرنے والا سورج مکھی روبوٹ

سائنس دان ایسا سورج مکھی روبوٹ بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو سورج کی حرکت پر نظر رکھتے ہوئے پودوں کو روشنی کی جانب منتقل کردیتا ہے اور ساتھ ہی انہیں پانی و ہوا کی فراہمی کو بھی یقینی بناتا ہے۔اگر آپ کسی بھی مصروفیت کی وجہ سے گھر کے لان میں لگے پودوں کو پانی دینا بھول گئے ہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہیں کیوں کہ اب ایک روبوٹ اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کرے گا۔ یہ روبوٹ پودوں کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے پانی فراہم کرے گا جب کہ دھوپ اور ہوا کی کمی کی صورت میں پودوں کو درست جگہ بھی منتقل کرسکے گا۔
روبوٹ بنانے والی معروف کمپنی ون کراسن ’Vincrossn‘ نے گھر کے پودوں کی دیکھ بحال اور اسے بروقت پانی دینے کے لیے کیکڑے کی شکل کا ایک روبوٹ تیار کیا ہے۔ چھ ٹانگوں والے اس روبوٹ پر سورج مکھی کی طرح کا پھول بنا ہوا ہے جب کہ زیریں حصے میں پانی رکھنے کی گنجائش بھی ہے۔ یہ پودوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھی منتقل کرسکتا ہے۔اس روبوٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ گھر میں موجود پودوں کی ضروریات جیسے پانی ، دھوپ اور ہوا کا مکمل خیال رکھتا ہے اگر کسی پودے کو درکار دھوپ نہیں مل رہی تو یہ پودے کو دھوپ والی جگہ منتقل کردیتا ہے اسی طرح ہوادار جگہ اور پانی کی کمی و بیشی پر نظر رکھتا ہے۔ اسے سورج مکھی سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا ہے-اپنے فرائض کی انجام دہی کے بعد یہ روبوٹ خوشی میں رقص بھی کرتا ہے۔ امریکا میں اس کی قیمت 949 ڈالر ہے اور اسے پہلی مرتبہ ایک سال قبل آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا لیکن اب اس میں ترمیم و تبدیلی کے بعد جدید خصوصیات سے لیس کرکے دوبارہ لانچ کیا گیا ہے-

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنا لوجی

جھوٹی خبروں کا خاتمہ

شائع شدہ

کو

جھوٹی خبروں کا خاتمہ

دنیا کی مقبول ترین میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے افواہوں اور جھوٹی خبروں کے سدِ باب کے لیے نیا فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی آزمائش شروع کردی گئی ہے۔واٹس ایپ بیٹا انفو کی ایک رپورٹ کے مطابق 'Suspicious Link Detection' نامی یہ فیچر صارفین کو گروپ میں فارورڈ کی گئی کسی بھی جعلی خبر سے خبردار کرے گا۔رپورٹ کے مطابق جب بھی کسی صارف کو واٹس ایپ پر کسی ویب سائٹ کا لنک بھیجا جائے گا تو ایپلی کیشن خود کار طور پر اس لنک کے بیک گراؤنڈ کو چیک کرے گی اور کچھ مشتبہ محسوس ہونے پر صارف کو الرٹ کرے گی۔جس کے بعد ایسے میسج پر ایک سرخ لیبل کا اضافہ کیا جائے گا جو اس کے مشتبہ ہونے کا اشارہ ہوگا۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ فیچر مستقبل قریب میں بہت جلد دنیا بھر میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے-

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں