Connect with us

پاکستان

جائیداد والوں کی فہرست تیار

شائع شدہ

کو

جائیداد والوں کی فہرست تیار

متحدہ عرب امارات میں غیرقانونی طور پر جائیداد بنانے والے ہزاروں پاکستانی کاروباری شخصیات پر ایک مرتبہ پھر تحقیقات کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔ ایف آئی اے کراچی کی جانب سے سال 2015 میں قیمتی زرمبادلہ کی تیزی سے بیرون ملک منتقلی کو روکنے کے سلسلے میں بیرون ملک خاص طور پر متحدہ عرب امارات میں جائیداد کی خریداری کیلیے کھربوں روپے بیرون ملک منتقل کرنے والے پاکستانی شہریوں کے خلاف پاکستان اور دبئی میں سرگرم پراپرٹی ڈیلرز اور ڈیولپرز سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پرتحقیقات کا آغازکیاگیا تھا۔
اس سلسلے میں ایف آئی اے کرائم سرکل کراچی میں انکوائری نمبر 15/28 درج کی گئی تھی تاہم ابتدا میں 50 اور بعدازاں مجموعی طورپر100 پاکستانی کاروباری(کراچی اور لاہور سے تعلق رکھنے والی) شخصیات کی متحدہ عرب امارات میں جائیداد ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا۔ ایف آئی اے کی تحقیقات کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ فارن ایسٹس ڈیکلیریشن ایکٹ 1972 کے تحت کسی بھی پاکستانی شہری کو بیرون ملک پراپرٹی خریدتے وقت اسٹیٹ بینک کو آگاہ کرنا لازمی ہے۔ ایف آئی اے نے اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک سے رابطہ کیا توانکشاف ہوا کہ اس قانون کے تحت تاحال ایک بھی پاکستانی نے بیرون ملک جائیداد خریدنے سے آگاہ نہیں کیا ہے۔
ایف آئی اے حکام نے وزارت خارجہ کے ذریعے اپنے پاس موجود فہرست کے مطابق پاکستانی شہریوں کی جائیداد کی تحقیق کیلیے دبئی حکام سے رابطہ کیا تاہم تاحال3 سال گزرجانے کے باوجود دبئی حکومت نے اس سلسلے میں خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ یہ وہ مقام تھا جہاں ایف آئی اے کی تحقیقات کا سلسلہ رک گیا، تحقیقات تقریباً 3 سال تک تعطل کا شکار رہی اور سینئر پولیس افسر بشیر میمن کی جانب سے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انکوائری کو دوبارہ فعال کرنے کا عندیہ دیا گیا تاہم اس سلسلے میں حائل قانونی رکاوٹوں، متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایف آئی اے کو تاحال معلومات فراہم نہ کرنے اور کرپشن کا ایک نیا دروازہ کھولنے کے خدشات کے پیش نظراس سلسلے میں غوروخوص جاری تھا کہ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی اے کو جامع تحقیقات کرنے کی ہدایت کی۔ اس دوران متحدہ عرب امارات میں اثاثے رکھنے والی کاروباری شخصیات کی تعداد تقریباً 4 ہزار سے تجاوز کرچکی تھی تاہم جب مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں شامل ناموں کی فہرست تیار کی گئی تو اب تک مجموعی طور پر1200 سے1500 کے قریب پاکستانی کاروباری شخصیات کے نام حاصل ہوئے۔
ایف آئی اے نے اس سلسلے میں لاہور میں 31 اور کراچی میں 22 نئی انکوائریاں رجسٹرڈ کیں اور اینٹی کرپشن سرکل کے ہر آئی او کو3 انکوائریاں دی گئیں ۔ ہر انکوائری میں 13 کاروباری شخصیات کے نام رکھے گئے۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے کاروباری شخصیات کو 2 مرتبہ نوٹسز جاری کرچکی ہے تاہم کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ تحقیقات کو دوبارہ فعال کرکے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے تاجروں اور صنعتکاروں کو ہراساں کیا جارہا ہے اور کرپشن کا ایک نیا دروازہ کھولا گیا ہے۔ بیرون ملک جائیداد رکھنے والوں میں بیوروکریٹس اور سیاستدان سرفہرست ہیں۔
سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور لیڈنگ امپورٹرہارون اگر نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں کی یو اے ای، برطانیہ اورامریکا میں جائیداد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، ہرسیاسی جماعت کے چیدہ چیدہ رہنماؤں نے بڑے پیمانے پر بیرون ملک پراپرٹی میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے تاہم تاجر اور صنعتکاروں کی گردن پتلی ہے اس لیے کسی بھی قسم کے احتساب کا آغازان سے کیا جاتا ہے اور بعد ازاں مک مکا کرکے معاملے ہی دبادیا جاتا ہے۔
ہارون اگر نے کہا کہ سیاستدان اور بیوروکریٹس تو ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک منتقل کرتے ہیں، ان کی جائیداد چوری، ڈکیتی اور کرپشن کے پیسے سے خریدی جاتی ہیں تاہم ان کے خلاف کبھی بھی کارروائی نہیں کی جاتی۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایف آئی اے نے حوالہ اورہنڈی کے نام پر کاروباری افراد کو بڑے پیمانے پر ہراساں کیا اور اب ایف آئی اے کیلیے کرپشن کا ایک نیا در کھول دیا گیا ہے۔

پاکستان

پی ٹی آئی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث

شائع شدہ

کو

پی ٹی آئی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث

سینیٹ الیکشن کے معاملے پر تحریک انصاف کی جانب سے شوکاز نوٹس پانے والی خیبر پختونخوا اسمبلی کی خواتین ارکان وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر پھٹ پڑیں اور انہیں کینہ پرور شخص قرار دے دیا۔

پاکستان تحریک انصاف سے سینیٹ الیکشن میں پیسے لے کر ووٹ فروخت کرنے کے  الزام میں نکالے جانے والی خواتین ارکان صوبائی اسمبلی نسیم حیات، نرگس علی اور نگینہ خان نے پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس کے دوران تینوں خواتین ارکان نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ انہوں نے ووٹ نہیں بیچے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی طرف سے مجھے پیسوں کی پیش کش ہوئی تھی لیکن پارٹی سے پیسے لے کر امیدوار کو ووٹ دینے والوں کو نہیں نکالا گیا جب کہ مجھے خواتین ایم پی ایز کی مخبری پر بھی مجبور کیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ ہم پر ووٹ فروخت کرنے کا الزام ہے تو یہ بھی بتایا جائے کہ چودھری سرور کے پاس ووٹ کہاں سے آئے۔

رکن خیبر پختونخو اسمبلی نرگس علی نے کہا کہ میں نے ووٹ نہیں بیچا تاہم سینٹ انتخابات میں پارٹی ورکرز کو بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کرپشن ختم کرنا تھی تو احتساب کمیشن کیوں بند ہے؟ جب کہ ایک وزیر کا بھائی ڈی جی احتساب کمیشن ہے اور  بی آر ٹی منصوبے میں کرپشن ہوئی ہے۔رکن صوبائی اسمبلی نگینہ خان کا کہنا تھا کہ ہمارے اراکین کی تعداد 52 تھی اور پہلی ترجیح میں پارٹی امیدواروں کو 50 ووٹ ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا بتایا جائے کس کے سامنے پیش ہونا ہے اور اب تک شوکاز نوٹس ملا ہے نہ کسی نے بلایا ہے۔نگینہ خان نے کہا کہ 15 دن میں الزامات کا جواب نہ ملا تو ہرجانے کا نوٹس بھیجیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وزرا آستین کے سانپ

شائع شدہ

کو

وزرا آستین کے سانپ

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات و رکن خیبر پختونخوا اسمبلی شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ان کے اتحادی جماعت اسلامی کے وزراء آستین کے سانپ ہیں اور وہی پشاور کی ترقی میں بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔

شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے بیان پر افسوس ہوا، وہ سادہ نہ بنیں، 5 سال اقتدار کے مزے لیے ہیں تو ذمہ داری بھی لیں۔انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی پشاور کی ترقی کا منصوبہ ہے، پی ٹی آئی اس کی ذمہ داری لیتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی نگرانی میں بن رہا ہے اور یہ شفاف منصوبہ ہے، کیڑے نکالنے کی کوشش نہ کریں۔ان کا کہنا ہے کہ 5 سال جماعت اسلامی نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے ہیں، اگر کوئی خرابی تھی تو امیر جماعت اسلامی کیوں خاموش تھے؟شوکت یوسفزئی نے کہا کہ جاتے جاتے ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی عادت جماعت اسلامی سے نہیں گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور کی ترقی میں بڑی رکاوٹ جماعت اسلامی کے وزیر رہے جو کہ آستین کے سانپ نکلے ہیں جب کہ آئندہ جماعت اسلامی کو کبھی حکومت میں شامل نہیں کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

مودی کادعویٰ جھوٹ

شائع شدہ

کو

قومی مفادات نظرانداز

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کا پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کا تصوراتی دعوی کرنا عوام کی حمایت حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کا پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کا بار بار تصوراتی دعوی کرنا عوام کی حمایت حاصل کرنے کا طریقہ ہے یا پھر وہ کشمیر اور بھارت کے دیگر حصوں میں مظالم اور جنگی جرائم کی ذمہ دار اپنی فوج کی زبان بول رہے ہیں۔واضح رہے کہ دو روز قبل لندن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے 2016 میں لائن آف کنٹرول پر کیے گئے مبینہ سرجیکل سٹرائیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی برآمد کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا اور انہیں اسی زبان میں جواب دیا جائے گا جو وہ سمجھتے ہیں۔ مودی نے دعوی کیا کہ سرجیکل سٹرائیک کی خبر کو عام کرنے سے قبل پاکستانی حکومت سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ انہیں آپریشن کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔
تاہم پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارتی وزیر اعظم کے ان دعوو¿ں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بار بار دہرانے سے جھوٹ سچ نہیں ہوجاتا، بھارتی حکومت کا دعوی جھوٹا اور کھوکھلا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان کی حراست میں موجود بھارتی فورسز کے کمانڈر کلبھوشن یادیو اس بات کا ثبوت ہے کہ کون دہشت گردی میں ملوث ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں