Connect with us

کھیل

پنجاب بھرمیں پابندی

شائع شدہ

کو

پنجاب بھرمیں پابندی

صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال کے اسکول میں کھیل کے دوران طالب علم کی ہلاکت کے بعد صوبائی حکومت نے پنجاب بھر کے تمام اسکولوں میں کبڈی پر پابندی عائد کردی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے پابندی کے نوٹیفکیشن میں گورنمنٹ ہائی اسکول میں ’تھپڑوں والی کبڈی‘ سے جاں بحق طالب علم بلال کا حوالہ بھی دیا گیا۔ خیال رہے کہ خانیوال کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں بریک کے دوران تھپڑوں والی کبڈی کھیلنے کے باعث چھٹی جماعت کا طالب علم بلال جاں بحق ہوگیا تھا۔ مذکورہ واقعے پر اسکول کے ہیڈ ماسٹر کو پہلے ہی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر معطل کیا جاچکا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کبڈی کے کھیل کو علاقائی کھیل تصور کیا جاتا ہے اور یہ کھیل پاکستان، بھارت اور کینیڈا سمیت دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی مقبول ہے۔
تاہم تھپڑوں والی کبڈی، جو انتہائی برداشت کا کھیل ہے، پاکستان کے بالائی پنجاب میں بہت مقبول ہے جس میں فریقین کو سخت مقابلے کا سامنا ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ 12 مارچ 2018 کو پنجاب کے محکمہ تعلیم نے صوبے کے تمام نجی و سرکاری اسکولوں میں بچوں کی ڈانس پرفارمنس پر پابندی عائد کی تھی۔

کھیل

چیمپئنز ٹرافی کاسفر ختم

شائع شدہ

کو

چیمپئنز ٹرافی کاسفر ختم

کولکتہ میں ہونے والی آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں اتفاق رائے سے مختلف فیصلے کیے گئے۔ نئے فیوچر ٹور پروگرام کے تحت 2021 میں چیمپئنز ٹرافی کی بجائے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ بھارت میں ہو گا جبکہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2020 پہلے سے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق آسٹریلیا میں ہی ہو گا۔ علاوہ ازیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اپنے تمام ممبر ممالک کو ٹی ٹوئنٹی اسٹیٹس دے دیا، اب تمام ممبر ملکوں کی ٹیمیں انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کے اہل ہوں گی۔ یکم جولائی 2018 سے تمام ممبر ممالک کی ویمنز ٹیموں کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل جائے گی جبکہ یکم جنوری 2019 سے تمام ممبر ممالک کی مینز ٹیمیں بھی مختصر فارمیٹ میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی اہل ہو جائیں گی۔
واضح رہے کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا آخری ایونٹ 2017 میں ہوا تھا جس میں پاکستان نے روایتی حریف بھارت کو شکست دیتے ہوئے پہلی مرتبہ ٹرافی اپنے نام کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

کھیل

ماہرہ خان کی طرح دماغ خراب نہیں

شائع شدہ

کو

ماہرہ خان کی طرح دماغ خراب نہیں

پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر نے اداکارہ ماہرہ خان کو خوبصورت نظرآنے کیلئے گوری رنگت اور چمکدار جلد کےاشتہار میں کام کرنے کیلئے کھری کھری سنادیں۔ ثنا میر نےاپنی فیس بک پوسٹ میں کہاکہ اسپورٹس کی فیلڈ میں قدم رکھنے والی نئی اور نوجوان لڑکیوں کا دماغ کیسے ان کمپنیوں کے کنٹرول میں ہوتا ہے، ان کمپنیوں کی وجہ سے ان لڑکیوں کی زندگی کا صرف ایک مقصد رہ جاتا ہے ’خوبصورت جلد کا حصول‘۔ ثنا میر نے مشہور شخصیات اور ان پروڈکٹس کو اسپانسرکرنے والی کمپنیوں کو ذمہ دار ٹہراتے ہوئے کہاکہ یہ خواتین کو ہمیشہ ایک ’چیز‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان لڑکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا غلطی مت کریں، آپ کو اسپورٹس کی فیلڈ میں مقام بنانے کیلئے نرم و نازک ہاتھوں کی نہیں بلکہ مضبوط بازوؤں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا ہمیں یہ سب برابھی لگتا ہے اور ہم سوشل میڈیا پر اپنا غصہ ظاہر کرنے کیلئے مختلف پوسٹ اور اسٹیٹس لگاتے ہیں لیکن اب اس پر بات کرنے کا وقت آگیا ہے۔ میں نے بہت کم اسپانسرز اور مشہور شخصیات کو دیکھا ہے جو خواتین کی اصل رنگت کی حمایت میں کھڑے رہتے ہیں۔آج کل میڈیا میں جلد کونرم اور چمکدار بنانے والی ایک اشتہاری مہم چل رہی ہے جس نے مجھے اس موضوع پر بولنے اور اس حوالے سےاپنے تحفظات بیان کرنے کیلئےاکسایا۔ مجھے پتہ چلا کہ یہ اشتہاری مہم بھارت اور پاکستان دونوں میں جاری ہے جس میں لڑکیوں کو باسکٹ بال کورٹ میں اپنی رنگت کے حوالے سے تشویش میں مبتلا دکھایا جارہا ہے۔ بدترین بات یہ ہے کہ جہاں ہم نوجوان لڑکیوں کویہ پیغامات دے رہے ہیں کہ آپ کی جلد کی رنگت کوئی معنی نہیں رکھتی وہیں ہم اس بات کی بھی ترویج کررہے ہیں کہ جسم کی خوبصورتی کتنی ضروری ہے۔ کیا لڑکیوں کی صلاحیت، ان کا جنون اور مہارت اسپورٹس کھیلنے کیلئے کافی نہیں ہے؟۔ ہمارے آس پاس اسپورٹس میں نمایاں مقام حاصل کرنے والی خواتین ہیں جنہوں نے خود کو اس مقام تک کڑی محنت اوراپنی صلاحیتوں کے بل بوطے پر پہنچایا۔ ثنامیر نے نوجوان لڑکیوں سے کہا میں نے پاکستان میں اسپورٹس کی فیلڈ میں12 برس گزارے ہیں اور اس دوران میں نے خوبصورتی بڑھانے والی اشتہاری کمپنیوں کی متعدد پیشکش ٹھکرائی ہیں۔ میں چاہتی ہوں اسپورٹس کی فیلڈ میں جانے والی لڑکیوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہئیے کہ انہیں اس فیلڈ میں کامیابی حاصل کرنےکیلئے مسلسل پریکٹس، آرام دہ جوتے، آرام دہ کپڑے پانی کی بوتل اور دھوپ سے بچاؤ کیلئے کیپ کی ضرورت ہے۔ثنا میر نے تمام اسپانسرز اور مشہور شخصیات سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ آپ نوجوان لڑکیوں کو یقین دہانی کرائیں کہ وہ اپنے خوابوں کو ضرور پوراکریں گی، ہمیں انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کیلئے خود اعتمادی کی ضرورت ہے نہ کہ انہیں ان کی جلد کے حوالے سے کمزوری کے احساس میں مبتلا کرنا۔

پڑھنا جاری رکھیں

کھیل

’میں نہ مانوں‘ کی بھارتی تکرار

شائع شدہ

کو

ہوم سیریز ملائیشیا میں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے بھارتی بورڈ کی جانب سے حکومتی اجازت نہ ملنے کے اصرار پر کہا تھا کہ اگر یہ مسئلہ تھا تواس کو باہمی معاہدے میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ جب یہی بات بی سی سی آئی کے سیکریٹری امیتابھ چوہدری سے پوچھی گئی تو انھوں نے پینترا بدلتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی قانونی دستاویز یا تفصیلی معاہدہ نہیں ہے، پی سی بی نے کیوں اس بات پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ ابتدائی ڈرافٹ کے بعد تفصیلی معاہدہ ہوگا۔ حکومتی اجازت کی شق تو تفصیلی معاہدے میں ڈالنی تھی جوکبھی وجود میں ہی نہیں آیا، 1952 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر سیریز سے قبل ایک تفصیلی معاہدہ ہوتا آیا ہے۔
امیتابھ چوہدری نے کہا کہ ہم بھی پاکستان سے کھیلنا پسند کرتے ہیں مگر درمیان میں کچھ چیزیں حائل اور وہ ہمارے اختیار میں نہیں ہیں، ہم کیا کرسکتے ہیں، ہم نے حکومت کو تو ایشیا کپ کی میزبانی کے حوالے سے بھی لکھا اور بتایا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے مقابلے کے بغیر یہ ایونٹ بے کار ہوگا۔ ہم نے حکومت کو یہ بھی لکھا کہ اگر بھارت میں میزبانی ممکن نہیں تو کسی دوسرے ملک میں ایونٹ منعقد کرلیتے ہیں جس پر حکومت نے کہا کہ ٹھیک ہے ایسا کرو۔
ایک سوال پر امیتابھ نے کہاکہ میں پہلے ہی پی سی بی کے آئی سی سی تنازعات کمیٹی میں جانے کی وجہ بتا چکا کہ ان پر اپنے ملک میں کافی دباؤ تھا اس میں ہماری کوئی سفارتی ناکامی نہیں ہے۔ دوسری جانب نجم سیٹھی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ ایک باضابطہ معاہدہ ہے، انھیں اس بات کا فیصلہ کرنے دیں یہ کنٹریکٹ ہے یا کوئی اور چیز ہے، ہم تو اس کی بنیاد پر چیلنج کرچکے ہیں، اس سوال کا فیصلہ اب آئی سی سی کی تنازعات حل کرنے والی کمیٹی کو کرنا ہے اور ہم اس مسئلے کے حل ہونے کا انتظار کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں