Connect with us

پاکستان

شاعری حقیقت بن گئی

شائع شدہ

کو

شاعری حقیقت بن گئی

میری وفا کا تقاضا کہ جاں نثار کروں
اے وطن تری مٹی سے ایسا پیار کروں
میرے لہو سے جو تیری بہار باقی ہو
میرا نصیب کہ میں ایسا بار بار کروں
خون دل سے جو چمن کو بہار سونپ گیا
اے کاش ان میں خود کو شمار کروں
مری دعا ہے سہیل میں بھی شہید کہلاؤں
میں کوئی کام کبھی ایسا یادگار کروں۔
ایک کرنل ہونے کے ناطے، کرنل سہیل عابد مشن کی بالواسطہ نگرانی بھی کر سکتے تھے مگر پاک فوج کی اعلٰی روایات اور اس دھرتی کی محبت میں وہ مشن کی خود قیادت کر رہے تھے۔ انکی اپنی لکھی ہوئی نظم ان کے بے لوث جذبے کی گواہ ہے۔ شہید کرنل سہیل عابد نے مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ شہید کرنل کو کلی الماس میں خود کش بمباروں کی اطلاع ملی تو ساتھیوں سمیت انہیں جا لیا۔ گولیوں کی بوچھاڑ کرنل سہیل عابد اور ساتھیوں کی پیش قدمی نہ روک سکی۔ کرنل سہیل عابد نے ساتھیوں کے ہمراہ بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ آپریشن میں اے ٹی ایف کے شدید زخمی حوالدار ثناء اللہ بھی شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ دورانِ آپریشن 2 افغانی خود کش بمبار، 4 دہشتگردوں سمیت مارے گئے-ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں کالعدم لشکر جھنگوی بلوچستان کا سرغنہ سلمان بادینی بھی شامل ہے۔ بادینی 100سے زائد ہزارہ کمیونٹی کے افراد اور پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھا، جس کے سر کی قیمت 20 لاکھ مقرر تھی۔ آپریشن کے دوران ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ دہشت گرد گرفتار بھی کیا گیا۔ کرنل سہیل عابد شہید کے پسماندگان میں بیوہ، 3 بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے-

پاکستان

ٹیکس چوروں کا سراغ

شائع شدہ

کو

ٹیکس چوروں کا سراغ

ایف بی آر نے ملک میں ان 50ہزار چکمے باز ٹیکس چوروں کا سراغ لگایا ہے جو ہیرا پھیری کے زریعے کھربوں روپے کا سالانہ ٹیکس ہڑپ کرتے رہے ہیں اور انہیں وارننگ دی ہے کہ حکومت کی متعارف کنندہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت اگر انہوں نے یکم جولائی تک چھپائے ہوئے اپنے اثاثےظاہر نہ کئے تو وہ سنگین نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ ایف بی آر نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پورے ملک میں جائیداد کی رجسٹریشن ادارے بشمول کراچی سے 25 ہزار کے قریب ٹیکس چور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کے بی سی اے، آباد، ڈی ایچ اے، بحریہ ٹاؤن کراچی سے اپنے مقصد کا مواد جمع کرکے جس میں بڑے پیمانے پر اراضی ، بلند عمارتیں اور دیگر عمارتوں کے اعداد و شمار جمع کرکے یہ کارنامہ انجام دیا ہے اور اگر سپریم کورٹ اس معاملے میں ایف بی آر کا ساتھ دے تو مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اور اگر ملک کی تاریخ میں اٹھائے گےاس اقدام پر عمل درآمد نہ ہو سکا تو پورے ملک کا ٹیکس نظام خطرے میں پڑ سکتا ہے جو ملک دشمنی کے مترادف ہوگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

کپتان کا نکات شوفلاپ

شائع شدہ

کو

کپتان کا نکات شوفلاپ

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کا 100روزہ پلان خلائی مخلوق کا بنایاہوالگتاہے ‘ کپتان کا نکات شوفلاپ ہوچکا ‘گزشتہ الیکشن میں 90روزمیں جس تبدیلی کا اعلان کیاگیااس کی زد میں صرف خیبرپختونخوآیاجبکہ باقی ملک محفوظ رہا‘سوروزہ پلان صدی کا بڑاجھوٹ جبکہ فاٹاانضمام کا اعلان سمجھ سے بالاتر ہے ۔ مستقبل کیلئے کپتان کے سو روزہ تبدیلی پلان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے اخبار نویسیوں اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں شدید ناکامی کے باوجود بھی سینہ زوری کا یہ عالم ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کو خفت کا احساس تک نہیں ہے

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

تعداد 4 ہزارسے زائد

شائع شدہ

کو

تعداد 4 ہزارسے زائد

چنکارہ ہرنوں کے شکارپرپابندی اوراسمگلنگ کی روک تھام کے باعث چولستان میں جنگلی چنکارہ ہرنوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوزکرگئی ہے،سب سے زیادہ چنکارہ ہرنوں کی تعداد رحیم یارخان میں پائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رحیم یارخان کے ہزار698 کلومیٹرایریا میں 30 مختلف مقامات پرسروے کیاگیا، جس کےمطابق ان ایریازمیں چنکارہ ہرنوں کی تعداد 148 سامنے آئی ہے۔ اسی تخمینے کے حساب سے بہاولپورکے دیگراضلاع بہاولپوراوربہاولنگرمیں چنکارہ ہرنوں کی تعدادکااندازہ 4 ہزارسے زائدلگایاگیا ہے، وائڈلائف ڈویژن بہاولپورکے انچارج انورمان نے ایکسپریس نیوزکوبتایا کہ گزشتہ ایک سال میں چنکارہ ہرنوں کی تعدادمیں خاطرخواہ اضافہ ہواہے ، انہوں نے بتایا کہ چنکارہ ہرنوں کے شکارکے حوالے سے تمام ہاٹ سپاٹس پرانہوں نے سخت نگرانی رکھی ، اسی طرح چنکارہ ہرنوں کی افزائش کے سیزن میں ان کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جنہوں نے چنکارہ ہرنوں کے بچوں کواسمگل کیے جانے کی کئی کوششیں ناکام بنائیں ۔ انورمان نے بتایا کہ چنکارہ ہرن چولستان کا حسن سمجھے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت کی طرف سے ہرسال چولستان میں کالاہرن اورچنکارہ ہرن کے شکارکے لئے ہنٹنگ ٹرافی کا اعلان کیاجاتا ہے ، کالااورچنکارہ ہرن کے شکارکی اجازت عام طورپرہرسال مارچ میں دی جاتی ہے جوپورامہینہ جاری رہتی ہے ، رواں سال کالے ہرن کے شکارکے لیے فیس 2 لاکھ روپے جبکہ چنکارہ ہرن کے شکارکی فیس 75 ہزار روپے مقررکی گئی تھی۔ انورمان نے بتایا کہ پاکستان، بھارت اور ایران میں پائے جانے والی چنکارا ہرن کی اس نسل کو غزال بھی کہتے ہیں ، چنکارا ہرن ایک چھوٹا ہرن ہے جو 65 سینٹی میٹر تک لمبا ہوسکتا ہے جبکہ اس کا وزن 25 کلو گرام کے لگ بھگ ہوتا ہے،یہ سرخی مائل رنگ کا ہرن ہے جس کا نچلا دھڑ سفید ،پیٹ اور ٹانگوں کا اندرونی حصه زردی مائل سفید جبکہ پیٹ کے دائیں بائیں دونوں طرف ڈارک براؤن رنگ کی پٹیاں ہوتی ہیں، ماحولیاتی ماہر کہتے ہیں کہ موسم کی تبدیلی سے چنکارا کی رنگت میں بھی تبدیلی دکھائی دیتی ہے،گرمیوں میں چنکارا کی رنگت سرخی مائل براؤن اور سردیوں میں زردی مائل گرے براؤن ہوتی ہے،اس کے سینگ 15 انچ تک بڑے ہو سکتے ہیں ۔سینگ کے اندر ہڈی روایتی ادوایات میں بھی استعمال کی جاتی ہے جبکہ اس کی کھال سے بہت چیزیں بنتی ہیں
وائلڈلائف ماہرین کے مطابق پاکستان میں انکی آبادی تھرپارکر، عمرکوٹ، اچھڑو تھر، چولستان میں پائی جاتی ہے لیکن مسلسل شکار کی وجہ سے ان کی نسل بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے، چنکارا تین، چار کا گروپ بنا کر رہتے ہیں, چنکارا نر اور مادہ اکٹھے ہوتے ہیں،ماده ایک سال میں جبکه نر ایک سے ڈیڑھ سال میں جوان ہوتا ہے،صحرائی بکریوں کی طرح چنکارا کی سال میں دو بریڈنگ سیزن ہوتی ہیں، ماہرین کے مطابق انکی اوسطأ طبعی عمر 12 سال ہوتی ہے،جنگلی ہرن بہت کم پانی پیتا ہے، صحرائی لوگوں کے پاس روایت ہے کہ صحرا میں چنکارا بارش کا پانی پیتا ہے،قدرتی تالابوں (ٹوبوں) میں بارش کا پانی جہاں ہرن پیتے ہیں ان کو ہرن واٹڑی بھی کہتے ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چنکارا ہرن کے پیٹ پر بھی مشکی ہرن کی طرح مشک کی تھیلی ہوتی ہےجس میں زائد خون جمع ہوتا رہتا ہے جو جم کر نہایت خوشبودار ہوجاتاہے،اسے کستوری کہتے ہیں جس کی مالیت 20 ہزار روپے فی تولہ تک ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں