Connect with us

صحت

ذہنی دباؤ... مسائل کا پیش خیمہ

شائع شدہ

کو

ذہنی دباؤ... مسائل کا پیش خیمہ

صحت

خواتین میں فریکچر کا اضافہ

شائع شدہ

کو

خواتین میں فریکچر کا اضافہ

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عمررسیدہ خواتین میں ڈپریشن اور تناؤ کی کیفیات سے ان میں ہڈیوں کے فریکچر کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ بطورِ خاص یہ خطرہ ان خواتین میں بہت زیادہ ہوتا ہے جو سن یاس (مینوپاز) کی وجہ سے ماں بننے کے قابل نہیں رہتیں۔ عمر کے اس حصے میں ذہنی تناؤ کی کیفیت ان خواتین کی ہڈیوں میں ٹوٹ پھوٹ کا خطرہ بڑھاتی ہے جس سے زندگی کی مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ذہنی تناؤ اور ڈپریشن براہِ راست گٹھیا (اوسٹیوپوروسس) کا خطرہ بڑھاتے ہیں اور یوں ان میں فریکچر کا خطرہ بڑھتا جاتا ہے۔ اس کا انکشاف نارتھ امریکن مینوپاز سوسائٹی (این اے ایم ایس) کے ایک تحقیقی مجلے میں کیا گیا ہے۔ عمررسیدہ خواتین میں ہڈیوں کے امراض عام پائے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں بزرگ خواتین میں ہڈیوں کی بوسیدگی اور ٹوٹنے کے خدشات کا درست اندازہ لگانا بے حد ضروری ہے۔
اس سے قبل تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ ذہنی تناؤ کی شکار بزرگ خواتین میں گٹھیا (جوڑوں کے مرض) کی شرح دوگنی ہوسکتی ہے۔ لیکن اب نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ڈپریشن کے ساتھ ساتھ سن یاس (ماہواری کی بندش) کی شکار خواتین میں ہڈیاں کس طرح کمزور ہوجاتی ہیں اور ان میں معدنیات کس طرح تیزی سے گھل کر ضائع ہوتی رہتی ہیں۔ ہڈیوں کی معدنیات میں کمی سے فریکچر، کمر کی تکلیف اور کولہے کی ہڈی کے گولے کے متاثر ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ سروے میں 192 ایسی عمر رسیدہ خواتین کو شامل کیا گیا جو سن یاس سے گزر رہی تھیں اور انہیں مختلف قسم کی پریشانی یا ڈپریشن لاحق تھا۔ لیکن جن خواتین میں ڈپریشن زیادہ تھا، ان کی ہڈیوں میں فریکچر کا خدشہ بہت زیادہ دیکھا گیا تاہم ان خواتین میں گٹھیا کی کیفیت پہلے سے موجود تھی۔ مختصراً ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسی عمررسیدہ خواتین کی ہڈیوں کےلیے ڈپریشن انتہائی مضر ہے جو پہلے ہی ہڈیوں اور جوڑوں کے درد میں مبتلا ہوں کیونکہ اس صورت میں ذہنی تناؤ سے خاص کیمیکلز خارج ہوکر ہڈیوں کو مزید کمزور کرتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

مفید مشروبات

شائع شدہ

کو

مفید مشروبات

رمضان المبارک میں خصوصاً رواں برس کے رمضان میں جبکہ گرمیاں اپنے پورے جوبن پر ہیں تو ایسے میں افطار کے موقع پر مشروبات کا استعمال عام ہے۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ دن بھر روزہ رکھنے کے بعد سافٹ ڈرنکس اور کولا مشروبات کے بجائے گھر کے بنے ہوئے تازہ جوسز، لیموں پانی، اسموتھی یا دیگر مشروبات کا استعمال کرنا چاہیے۔ ذیل میں دیئے گئے چند مشروبات افطاری میں بنا کر نوش فرمائیں، اس سے نہ صرف گرمی کا زور کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ صحت بخش ہونے کی وجہ سے یہ فائدہ مند بھی ہیں۔
لیموں پانی
اجزاء:
لیموں 5 سے 6 عدد
چینی تین چوتھائی کپ یا حسب ذائقہ
برف ایک کپ
پانی 4 کپ
ترکیب:
ایک بلینڈر میں ساری چیزیں ڈال کر اچھی طرح سے بلینڈ کرلیں اور پھر گلاس میں نکال لیں۔ برف شامل کریں اور پودینے کے ٹکڑے سے سجا کر پیش کریں۔
مینگو لسی
گرمیوں میں ویسے ہی لسی پینے میں بہت بھلی معلوم ہوتی ہے اور چونکہ یہ آموں کا موسم ہے تو افطار میں پیش کی گئی مینگو لسی لطف بڑھا دیتی ہے۔
اجزاء
آم 2 عدد
دہی ڈیڑھ کپ
شہد 2 چمچ
برف حسب ضرورت
ترکیب:
آموں کو دھونے کے بعد چھیل کر ٹکڑوں میں کاٹ لیں اور بلینڈر میں ڈال کر پیوری بنا لیں۔ اب اس میں دہی، شہد اور برف شامل کریں اور مزید بلینڈ کریں۔ مزیدار مینگو لسی تیار ہے، گلاسوں میں نکال کر برف ڈال کر سرو کریں۔
کھجور کا شیک
اجزاء
کھجور آدھا کپ
کریم 1 سے 2 کپ
دودھ 1 کپ
شہد ایک چوتھائی کپ
ونیلا آئسکریم 1 کپ
ترکیب
کھجوروں کی گٹھلیاں نکال کر انہیں ٹکڑے کرلیں۔ ایک بلینڈر میں سارے اجزاء شامل کریں اور اچھی طرح سے بلینڈ کرلیں۔ گلاس میں نکالیں اور برف شامل کرکے سرو کریں، چاہیں تو گارنشنگ کے لیے پستہ بادام یا آئسکریم بھی شامل کردیں۔
روح افزا ملک شیک
اجزاء
روح افزاء شربت 4 کھانے کے چمچ
دودھ 2 کپ
چینی حسب ضرورت
برف کے کیوبز حسب ضرورت
پستہ، بادام حسب خواہش
ترکیب
ایک بلینڈر میں روح افزاء، دودھ، چینی اور برف کے کیوبز ڈال کر 2 سے 3 منٹ کے لیے بلینڈ کرلیں۔ گلاس میں نکالیں اور کٹے ہوئے پستے، بادام چھڑک کر پیش کریں۔
تربوز کا شربت
اجزاء
تربوز ایک سے 2 کپ (چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کٹے ہوئے)
پانی 2 گلاس
چینی حسب ضرورت
لال شربت 4 کھانے کے چمچ
لیموں کا رس ایک سے 2 کھانے کے چمچ
برف کے کیوبز حسب ضرورت
ترکیب
ایک بلینڈر میں پانی، چینی، لیموں کا رس، لال شربت اور برف کے کیوبز ڈال کر 2 سے 3 منٹ کے لیے بلینڈ کرلیں۔ اب اس میں تربوز کے ٹکڑے بھی شامل کردیں۔ گلاس میں نکال کر پودینے کے پتے کے ساتھ ٹھنڈا ٹھنڈا سرو کریں۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

باپ بننے میں اہم رکاوٹ

شائع شدہ

کو

باپ بننے میں اہم رکاوٹ

امریکا کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے کہا ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں ڈپریشن کا عمل ان کے صاحبِ اولاد بننے میں اہم رکاوٹ بن سکتا ہے نتیجے میں ان کی بیویوں کے حاملہ ہونے کے امکانات 60 فیصد تک کم ہوسکتے ہیں۔ این آئی ایچ کے مطابق ایک جانب تو مردوں کا ذہنی تناؤ ان کے باپ بننے میں رکاوٹ ہے تو دوسری جانب خواتین کا ڈپریشن ان پر کوئی خاص اثر نہیں کرتا تاہم ایک طرح کی ڈپریشن دور کرنے والی دواؤں کے بے تحاشا استعمال سے خواتین کے حمل ضائع ہونے کا امکان ساڑھے تین گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ این آئی ایچ کے سروے سے مردوں میں ڈپریشن اور اولاد سے محرومی کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت ہوا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ڈپریشن جیسی خطرناک کیفیت کے شکار افراد مردوں میں لاولد رہنے کا خدشہ 60 فیصد تک ہوتا ہے تاہم اس سے قبل اولاد سے محرومی کے لیے اکثر تحقیقات اور مطالعات میں خواتین پر ہی توجہ رکھی گئی تھی۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ڈپریشن اور ذہنی تناؤ سے مردوں کے مادہ حیات (اسپرم) پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یوں وہ باپ نہیں بن سکتے۔ اس ضمن میں این آئی ایچ نے 1650 خواتین اور 1608 مردوں کا مکمل جائزہ لیا تو مردوں کی آدھی تعداد نے کسی نہ کسی طرح کے ڈپریشن کا اعتراف کیا تاہم 6 فیصد خواتین اور 2.28 فیصد مردوں میں ڈپریشن کی شدید کیفیت نوٹ کی گئی۔ سروے میں واضح طور پر یہ بات سامنے آئی کہ جن مردوں میں ڈپریشن کے آثار دیکھے گئے ان میں باپ بننے کی صلاحیت غیرمعمولی طور پر کم نوٹ کی گئی۔ یہ تحقیق ایک بالکل نئے پہلو کو ظاہر کرتی ہے کہ مرد اگر صاحبِ اولاد نہ ہوسکے تو اس کی ایک بڑی وجہ ڈپریشن بھی ہوسکتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں