Connect with us

پاکستان

آرٹسٹ یا کال گرلز؟

شائع شدہ

کو

کپتان کی عزت داؤ پر

روشنیوں کی چکا چوند بھی فنکاروں کو اندھیروں سے نکالنے میں ناکام رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ فلم انڈسٹری کی اداکارہ نگو، نیناں، ماروی، نادرا اور قسمت بیگ کے قتل سے لے کر اداکارہ عندلیب پر تیزاب اور نرگس پر تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں اور ہورہے ہیں ان فنکاراؤں کی ذاتی زندگی کی طرف نگاہ دوڑائی جائے تو ان سب کے قتل اور تشدد جیسے واقعات کے پیچھے ان کی بے وفائی ہی تھی۔ زیادہ دور کی بات نہیں اداکارہ قسمت بیگ جن کا تعلق فیصل آباد سے تھا، نے شوبز میں متعارف اور کامیاب کرانے والے رانا مزمل کی کاوشوں اور کوششوں کو فراموش کرنا چاہا تو رانا مزمل نے سبق سکھانے کیلئے چند کارندوں کے ذریعے اداکارہ قسمت بیگ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں زیادہ خون بہہ جانے کے باعث ان کی موت واقع ہوگئی۔اس حوالے سے رانا مزمل کا موقف ہے کہ وہ محض قسمت بیگ کو ڈرانا چاہتے تھے ، قتل کی ہرگز نیت نہیں تھی ۔ رانا مزمل کی گرفتاری کے بعد قسمت بیگ کی بہن ستارہ بیگ نے اپنے متعدد انٹرویوز میں کہا تھا کہ انہیں جان کا خطرہ ہے اور وہ گھر سے باہر نکل رہی ہیں نہ ہی سٹیج ڈراموں میں حصہ لے رہی ہیں مگر کچھ ہی عرصہ بعدستارہ بیگ اور ان کے اہل خانہ نے ایک خطیر رقم حاصل کرکے نہ صرف رانا مزمل کو معاف کردیا بلکہ اس کی رہائی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔اتنے بڑے سانحہ کو گزرے ابھی دو برس بھی نہیں ہوئے تھے کہ ستارہ بیگ کے ساتھ لاہور کی ایک انتہائی بااثر شخصیت کے شاپنگ مال ’’امپوریم‘‘میں واقع نشاط ہوٹل میں زیادتی کا واقعہ رونما ہوجاتا ہے اس حوالہ سے ستارہ بیگ کا موقف ہے کہ انہیں دبئی کے ڈرامہ میں کام کرنے کیلئے اداکارہ انجمن اور گوری کے بھائی ناصر نے رابطہ کیا اور کہا کہ ان کا آدمی ہوٹل میں موجود ہے جہاں سے وہ اپنے ڈرامے کا ایڈوانس حاصل کرلے لہٰذاوہ(ستارہ بیگ) گوجرانوالہ سے واپسی پر رات ڈھائی بجے مذکورہ ہوٹل میں پہنچ گئیں جہاں پر انہیں جوس میں نشہ آور گولیاں ملا کر پلائی گئیں جس کے بعد انہیں تقریباً 8 سے 10 افراد نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جس کی درخواست ستارہ بیگ نے تھانہ نواب ٹاؤن کی چوکی ایل بلاک میں دی ہے اور درخواست کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ملزموں کو نہ صرف شناخت کرلیا ہے بلکہ ان سے سودے بازی کرکے معاملہ کو رفع دفع کرنے کے چکر میں ہے۔

ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ فنکارہ متعلقہ ہوٹل میں ڈیڑھ لاکھ کے عوض اپنی مرضی سے ’’کال گرل‘‘ کی حیثیت سے گئی تھیں جہاں پر کثرت مہ نوشی سے وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی اور وہاں موجود ایک شخص کو دوران گفتگو غصہ آنے پر تھپڑ رسید کردیا جس کے بعد وہاں موجود افراد نے فنکارہ کے ساتھ طے شدہ وقت گزارا مگر صبح جاتے ہوئے تھپڑ کا مزہ چکھانے کی دھمکی دی۔ستارہ بیگ نے گھر آکر جب سارے واقعہ کا ذکر اپنے کسی قریبی ساتھی سے کیا تو ساتھی نے زیادتی کی رپورٹ درج کرانے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ وہ اس سے قبل ہوٹل انتظامیہ سے بھی اس کی شکایت کرسکتی تھیں اور ہوٹل انتظامیہ کے ذریعہ بھی پولیس کارروائی کیلئے بھی درخواست کی جاتی تھی مگر ایسا نہیں ہوا اور جس ناصر کا ستارہ بیگ ذکر کررہی ہیں انہیں وفات پائے 4سے 5سال گزر چکے ہیں۔شوبز کی شاید ہی کوئی ایسی شخصیت ہوگی جسے اس بات کا علم نہ ہو کہ اداکارہ انجمن اور گوری کے بھائی ناصر انتقال کرچکے ہیں۔دوسری بات یہ بھی ہے کہ ڈرامے کا ایڈوانس کسی نامعلوم فرد سے لینے کیلئے رات ڈھائی تین بجے جاناکہاں کی عقلمندی ہے یقیناًیہ افراد ستارہ بیگ کو پہلے سے جانتے ہیں اور قسمت بیگ کی طرح ان افراد میں سے بھی کوئی ستارہ بیگ کا عاشق ہوگا اور ستارہ بیگ اس شخص کی اہمیت سے بھی واقف ہوں گی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہوٹل میں کوئی واویلا نہیں کیا۔ جس طرح قسمت بیگ کے عاشق نے سبق سکھانے کیلئے اداکارہ پر فائرنگ کرائی تھی اسی طرح اداکارہ نرگس کے دوست عابد باکسر نے اس شعبہ پر کہ نرگس نے اس کے قتل کی ’’سپاری‘‘ دی ہے، تشدد کا نشانہ بنایا تھاجبکہ اداکارہ عندلیب پر تیزاب پھینکنے والے حنیف گھمن کو بھی اس بات کا رنج تھا کہ اس نے لاکھوں خرچ کرکے اداکارہ عندلیب کو گمنامی سے نکال کر شوبز کی چکا چوند میں متعارف کرایا تھامگر عندلیب کے دوسرے لوگوں سے عشق کے چرچے زبان زد ہوئے تو حنیف گھمن نے عندلیب کو اپنے گھر سیالکوٹ بلا کراس کے چہرے پر تیزاب پھینکا تھا۔

sitara baig

Sitara Baig

پاکستان

پی ٹی آئی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث

شائع شدہ

کو

پی ٹی آئی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث

سینیٹ الیکشن کے معاملے پر تحریک انصاف کی جانب سے شوکاز نوٹس پانے والی خیبر پختونخوا اسمبلی کی خواتین ارکان وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر پھٹ پڑیں اور انہیں کینہ پرور شخص قرار دے دیا۔

پاکستان تحریک انصاف سے سینیٹ الیکشن میں پیسے لے کر ووٹ فروخت کرنے کے  الزام میں نکالے جانے والی خواتین ارکان صوبائی اسمبلی نسیم حیات، نرگس علی اور نگینہ خان نے پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس کے دوران تینوں خواتین ارکان نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ انہوں نے ووٹ نہیں بیچے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی طرف سے مجھے پیسوں کی پیش کش ہوئی تھی لیکن پارٹی سے پیسے لے کر امیدوار کو ووٹ دینے والوں کو نہیں نکالا گیا جب کہ مجھے خواتین ایم پی ایز کی مخبری پر بھی مجبور کیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ ہم پر ووٹ فروخت کرنے کا الزام ہے تو یہ بھی بتایا جائے کہ چودھری سرور کے پاس ووٹ کہاں سے آئے۔

رکن خیبر پختونخو اسمبلی نرگس علی نے کہا کہ میں نے ووٹ نہیں بیچا تاہم سینٹ انتخابات میں پارٹی ورکرز کو بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کرپشن ختم کرنا تھی تو احتساب کمیشن کیوں بند ہے؟ جب کہ ایک وزیر کا بھائی ڈی جی احتساب کمیشن ہے اور  بی آر ٹی منصوبے میں کرپشن ہوئی ہے۔رکن صوبائی اسمبلی نگینہ خان کا کہنا تھا کہ ہمارے اراکین کی تعداد 52 تھی اور پہلی ترجیح میں پارٹی امیدواروں کو 50 ووٹ ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا بتایا جائے کس کے سامنے پیش ہونا ہے اور اب تک شوکاز نوٹس ملا ہے نہ کسی نے بلایا ہے۔نگینہ خان نے کہا کہ 15 دن میں الزامات کا جواب نہ ملا تو ہرجانے کا نوٹس بھیجیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وزرا آستین کے سانپ

شائع شدہ

کو

وزرا آستین کے سانپ

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات و رکن خیبر پختونخوا اسمبلی شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ان کے اتحادی جماعت اسلامی کے وزراء آستین کے سانپ ہیں اور وہی پشاور کی ترقی میں بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔

شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے بیان پر افسوس ہوا، وہ سادہ نہ بنیں، 5 سال اقتدار کے مزے لیے ہیں تو ذمہ داری بھی لیں۔انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی پشاور کی ترقی کا منصوبہ ہے، پی ٹی آئی اس کی ذمہ داری لیتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی نگرانی میں بن رہا ہے اور یہ شفاف منصوبہ ہے، کیڑے نکالنے کی کوشش نہ کریں۔ان کا کہنا ہے کہ 5 سال جماعت اسلامی نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے ہیں، اگر کوئی خرابی تھی تو امیر جماعت اسلامی کیوں خاموش تھے؟شوکت یوسفزئی نے کہا کہ جاتے جاتے ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی عادت جماعت اسلامی سے نہیں گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور کی ترقی میں بڑی رکاوٹ جماعت اسلامی کے وزیر رہے جو کہ آستین کے سانپ نکلے ہیں جب کہ آئندہ جماعت اسلامی کو کبھی حکومت میں شامل نہیں کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

مودی کادعویٰ جھوٹ

شائع شدہ

کو

قومی مفادات نظرانداز

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کا پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کا تصوراتی دعوی کرنا عوام کی حمایت حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کا پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کا بار بار تصوراتی دعوی کرنا عوام کی حمایت حاصل کرنے کا طریقہ ہے یا پھر وہ کشمیر اور بھارت کے دیگر حصوں میں مظالم اور جنگی جرائم کی ذمہ دار اپنی فوج کی زبان بول رہے ہیں۔واضح رہے کہ دو روز قبل لندن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے 2016 میں لائن آف کنٹرول پر کیے گئے مبینہ سرجیکل سٹرائیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی برآمد کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا اور انہیں اسی زبان میں جواب دیا جائے گا جو وہ سمجھتے ہیں۔ مودی نے دعوی کیا کہ سرجیکل سٹرائیک کی خبر کو عام کرنے سے قبل پاکستانی حکومت سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ انہیں آپریشن کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔
تاہم پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارتی وزیر اعظم کے ان دعوو¿ں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بار بار دہرانے سے جھوٹ سچ نہیں ہوجاتا، بھارتی حکومت کا دعوی جھوٹا اور کھوکھلا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان کی حراست میں موجود بھارتی فورسز کے کمانڈر کلبھوشن یادیو اس بات کا ثبوت ہے کہ کون دہشت گردی میں ملوث ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں