Connect with us

پاکستان

تبدیلی یا الیکشن؟

شائع شدہ

کو

غداری اور حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ (کامران گورایہ)

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے چند روز قبل لاہورکا دورہ کیا جو میڈیا کی زینت نہ بن سکا۔پی ٹی آئی ورکرز اور عہدیداران کیلئے کپتان کا یہ دورہ انتہائی حیران کن تھا کپتان نے اپنے دورے سے قبل لاہور اور پنجاب کے اہم رہنما علیم خان، چوہدری سرور اور اعجاز چوہدری کو خصوصی پیغام دیا تھا کہ لاہور کے پرانے ورکرز سے ملاقات کرائی جائے۔ مجھے یاد ہے کہ جب عمران خان تحریک انصاف کے نام سے سیاسی جماعت بنا رہے تھے تو اس وقت ہر شعبہ اور طبقہ کے لوگ جوق در جوق پارٹی میں شمولیت اختیار کررہے تھے اورپارٹی میں شامل ہونے والے افراد سمجھتے تھے کہ حقیقی معنوں میں ایک نئی قیادت آرہی ہے جو پاکستان کی سیاست کیلئے ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہوگی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول جماعت بنتی گئی لیکن پارٹی کے مخلص اور نظریاتی ورکرز اپنے چیئرمین سے دور ہوتے چلے گئے اور انکی جگہ پارٹی میں شامل ہونیوالے نئے ورکروںنے لے لی۔لاہور سے تحریک انصاف کے سابق صدر شبیر سیال نے مجھے بتایا کہ ہمیں پیغام ملا کہ کپتان اپنے پرانے جانثار ورکروں سے ملنا چاہتا ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ بات حیران کن اور خوشی کی تھی لیکن آپ بتائیں اس حوالے سے کیا خبر ہے تو اس پر میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’میں پارٹی کا ورکر ہوں نہ ہی حصہ، اس بارے میں کیا بتا سکتا ہوں کہ کپتان کو آپ کی یاد کیوں آئی‘‘۔

بہرحال تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور کے چیئرمین سیکریٹریٹ میں اپنے تمام گمنام سپاہیوں اور دیرینہ کارکنوں کو مدعو کیا اور کئی گھنٹوں پر محیط نشست کی۔شبیر سیال جو لاہور سے تحریک انصاف کے سابق صدر ہیں ،لاہور سے ہی ایم پی اے کے ٹکٹ پر الیکشن لڑےاور آئندہ بھی امیدوار ہیں، کو ملاقات کے دوران کپتان نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم میرے اصل ہیرو ہو اور تم نے تب پارٹی کی لاہور سے صدارت کی جب ہمارے ساتھ چند درجن لوگ ہوا کرتے تھے اور مجھے آج بھی یاد ہے کہ تم نے مینار پاکستان میں جلسہ کیا تھا جس میں لوگوں کی تعداد کم تھی لیکن یہ اچھی کاوش تھی۔ اسی طرح چکوال سے تعلق رکھنے والے ایک اور ورکر اشتیاق جو پی ٹی آئی کا اثاثہ ہیں،نےپارٹی کی خدمت کیلئے اپنے علاقہ سے تعلق توڑا اور لاہورآکرکئی سال پارٹی کے آفس میں ہی رہے اور بغیر کسی فائدے کے پارٹی کی خدمت کی۔ ایک اور ساتھی رانا اختر بھی پارٹی کے پرانے ورکر ہیں اور پہلے دن سے ہی پی ٹی آئی سے وابستہ ہیں اسی طرح ڈاکٹر شاہد نے 1997ء اور 2002ء میں لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑا اور 20ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے جوپارٹی کیلئے حیران کن تھا ان کے بھی پارٹی سے گلے شکوے رہے ہیں۔ڈاکٹر شاہد کا بھی پارٹی میں وہ مقام نہیں جس کی وہ توقع کرتے ہیں لیکن حال ہی میں ہونے والی ملاقات کے بعد ڈاکٹر شاہد کے دل میں بھی حوصلہ اور ولولہ پیدا ہوا ہے ایسے ہی سینکڑوں کارکن عمرچیمہ جو عمران خان کے ترجمان بھی رہے کافی عرصہ سے نظرانداز تھے ۔ عمران خان نے تعریفی کلمات کہتے ہوئے عمرچیمہ کو اپنا جانثار ساتھی قرار دیا۔یہ نشست اس حوالہ سے خوش آئند ہے کہ کپتان کو اپنے پرانے ورکروں کی یاد آئی اس نشست کے بعد عمران خان نے اپنے ورکروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کبھی یہ نہ سوچیں کہ میں آپ سب کو بھول گیا ہوں یا آپ کا پارٹی میں کوئی مقام نہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ آپ سب پارٹی کا اثاثہ تھے ، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ حالیہ ہونیوالی نشست سے پارٹی ورکرز بہت خوش تو ہیں لیکن ساتھ ہی حیران بھی ہیں کہ اچانک کپتان کو انکی یاد کیوں آئی۔ اس حوالےسے دلچسپ تبصرے بھی کیے جارہے ہیں کچھ لوگوں کا خیال ہے عمران خان کو اندازہ ہوگیا ہے کہ پرانے ورکرز ہی پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کو فعال کیے بغیر پارٹی آگے نہیں بڑھ سکتی جبکہ کچھ ورکرز کا کہنا ہے کہ ہمارے کپتان کو آئندہ عام انتخابات سے قبل ہماری ضرورت ہے اس لئے ہمیں بلا کر کوشش کی گئی کہ ہم پارٹی کو فعال کرکے بہتر نتائج حاصل کریں۔ کپتان کی اس ملاقات کے بارے میں قیاس آرائی قبل از وقت ہوگی لیکن اگرکپتان کو واقعی اپنے ورکرز یاد ہیں تو آنیوالے دنوں میں پتا چل جائے گا کہ کپتان کیساتھ صرف’’اسٹیٹس کو‘‘ کے حامی صف اول میں کھڑے ہوں گے یا پھر دیرینہ ورکرز کو بھی کوئی جگہ ملے گی۔ یہاں یہ امر بھی ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کے چند مخلص ورکرز کے مطابق پنجاب کا ٹھیکہ علیم خان کے پاس ہے اور علیم خان کے منظور نظر لوگ ہی اہم تنظیمی عہدوں پر ہیں جس کے کندھے پر علیم خان ہاتھ رکھے گا اسے کم از کم وسطی پنجاب کی حد تک ٹکٹ ضرور ملے گا۔ کپتان کو چاہیے کہ دیرینہ ورکرز سے ملاقات کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر ونی معاملات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لے اگر حالات یہی رہے تو جن نتائج کی توقع عمران خان کررہے ہیں وہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

پاکستان

سری لنکن کمانڈر سے ملاقات

شائع شدہ

کو

سری لنکن کمانڈر سے ملاقات

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سری لنکن آرمی کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مہیش سینا نائیکے کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ دفاعی تعلقات اور باہمی تعاون سے متعلق امور پرگفتگوہوئی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سری لنکن آرمی کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مہیش سینا نائیکے کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیکورٹی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ ملاقات میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ علاقائی امن دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد ہے جو دفاع کے میدان میں وسیع تر تعاون اور مہارت کے تبادلے کا متقاضی ہے۔اس ملاقات کے دوران دوطرفہ دفاعی تعلقات اور باہمی تعاون سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

امریکہ عالمی طاقت ہے مگر...

شائع شدہ

کو

امریکہ عالمی طاقت ہے مگر...

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو خوشگوار قرار دینا ممکن نہیں، امریکا عالمی طاقت ضرور ہے مگر ہمارے نکتہ نظر کو سمجھنا ہوگا۔

یہ بات عمران خان نے برطانوی اراکین پارلیمان سے خطاب کے دوران کہی۔اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ امریکا کو اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان کے سر ڈالنے کا کوئی حق نہیں، امریکا کے ساتھ تعلقات باہمی احترام اور معاملات کی مناسب تفہیم پر استوار ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ مسئلہ کشمیر کے حل میں اہم کردار کی استعداد رکھتا ہے۔ان کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں مسئلہ کشمیر کے حل میں کامیابی کی قابل ذکر توقع نہیں۔تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہے، تاریخ میں پہلی مرتبہ سپہ سالار جمہوریت کی پشت پناہی کررہے ہیں، تاریخ کا اہم موڑ ہے کہ عدلیہ آزادی سے اپنا آئینی کردار نبھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانوں کی ترقی پر وسائل خرچ کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تعلیم پر خصوصی توجہ اور محنت کی ضرورت ہے۔

عمران خان کے مطابق مدارس میں زیرِ تعلیم بچے ہمارے ہیں جنہیں اپنانے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فراہمی روزگار کا انتظام میری نگاہ میں اہم ترین ذمہ داری ہے، اپنے 100 روزہ منصوبے میں فراہمی روزگار کو کلیدی حیثیت دیں گے۔عمران خان نے کہا کہ 29 اپریل کو مینار پاکستان سے ملک گیر انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ دنیا بھر میں بسنے والے 70 لاکھ پاکستانی حقیقی اثاثہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کا سازگار ملا تو سی پیک سے بڑی سرمایہ کاری آئے گی، برطانیہ اور پاکستان فطری طور پر کاروباری شراکت دار ہیں۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ قرضے ملکی معیشت پر سب سے بڑا بوجھ ہیں، ان کی ادائیگی کے لئے ہم نے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ایف سی ٹرک کو حادثہ، 4اہلکار شہید

شائع شدہ

کو

ایف سی ٹرک کو حادثہ، 4اہلکار شہید

صوبہ بلوچستان کے ضلع کوہلو میں تمبو کراس کے قریب فرنٹیئر کور (ایف سی) کا ٹرک حادثے کا شکار ہوگیا جس کے نتیجے میں 4 اہلکار شہید اور 51 زخمی ہوگئے۔

لیویز حکام کے مطابق کوہلو میں تمبو کراس کے قریب ایف سی کے ٹرک کوحادثہ پیش آیا، حادثے میں 4 ایف سی اہلکار شہید اور 51 زخمی ہوگئے۔لیویز حکام کے مطابق زخمیوں کو ایمبولینس اور ہیلی کاپٹر کی مدد سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال اور ایف سی ہیڈ کوارٹراسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں