Connect with us

کالم کلوچ

سعد رفیق کو آئینہ دکھانے کی ضرورت

شائع شدہ

کو

کپتان کی عزت داؤ پر

بلا شک و شبہ پاکستان ریلوے کی کارکردگی اور سروس پر ہمیشہ سے سوالیہ نشان رہا ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ دور حاضر میں ریلوے کا سفر ملک گیر اور شہری علاقوں میں مقبولیت حاصل کرچکا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں ریلوے پر ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنا ایک فیشن تصور کیا جاتا ہے اس کے برعکس پاکستان میں ریلوے کی بنیاد آج تک درست سمت میں نہیں ڈالی جاسکی ۔اپر کلاس سے لے کر لوکل کلاس تک کا سفر پاکستانیوں کیلئے بے حد تکلیف دہ اور ایک مشکل امتحان کی طرح سے ہے موجودہ حکومت نے گزشتہ برسوں کے دوران چند ریلوے انجن فعال کرکے اور اپنی کچھ اراضی واگزار کراکے اسے اپنا تاریخی کارنامہ قرار دینے کی بہت کوشش کی مگر ریلوے پر سفر کرنے والے آج بھی بہت سی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں۔

گزشتہ دنوں مجھے لاہور سے ملتان تک کا سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ ایک طویل عرصہ کے بعد ریلوے پر سفر کررہا تھا اور میں نے اے سی پارلر کا ٹکٹ لیا ہوا تھا مگر اس نام کے لگژری کلاس سفر میں مجھے بہت سی اذیت برداشت کرنے کو ملیں۔دیکھنے میں آیا کہ اس نام کی لگژری کلاس میں صفائی کا ناقص انتظام اور مچھروں کی بہتات تھی جبکہ بدبودار ماحول بھی مزاج پر گراں گزر رہا تھا اور یہ سب کچھ برداشت کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ اگر لگژری کلاس کے مسافروں کو اس تعفن زدہ اور مچھروں سے بھرے ماحول میں سفر کرنا پڑتا ہے تو لوکل کلاس کے مسافروں پر کیا بیتتی ہوگی۔ ایک المیہ یہ بھی رہا کہ جب بدبودار ماحول اور مچھروں کی موجودگی کے بارے میں ریلوے انتظامیہ سے بات کی گئی تو انہوں نے بدلتے ہوئے سرد موسم میں پھنکا چلا کر لاہوری مچھروں کو بھگانے کا مشورہ دے ڈالااور میں اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ مجھے پاکستان ریلوے کے وفاقی وزیر اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں پر شدید غصہ آرہا تھا جو ریلوے کو ترقی اور جدت دینے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور ان کا موقف ہمیشہ یہ رہتا ہے کہ ریلوے کو بہتری کی سمت رواں دواں کردیا گیا پھر مجھے لاہور میں گزشتہ دوبرسوں سے جاری اورنج لائن ٹرین منصوبہ کی یاد بھی آگئی جسے نیم سرکاری اداروں چلانا ہے میں سمجھتا ہوں کہ جس ملک میں سرکاری خزانہ سے چلنے والی قومی ریلوے سروس میں بے پناہ خرابیاں اور قباحتیں موجود ہیں اور آج بھی پاکستانیوں کیلئے ریلوے کا سفر تکلیف دہ ہے وہاں پر اورنج لائن ٹرین چلانے کا منصوبہ کیونکر اور کیسے کامیاب ہوگا۔

اب میں حکومت پنجاب کی کارناموں کا ذکر کروں تو میں بخوبی آگاہ ہوں کہ پرائیویٹ سیکٹر کے تحت چلنے والی لگژری گاڑیوں پر اور ان میں صفائی ستھرائی پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے جس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ملک بالخصوص پنجاب میں ڈینگی کے خطرات ہر سال لاحق ہوتے ہیں اس لیے نجی سیکٹر کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سختی تاکید کی جاتی ہے اور انہیں اس بات کا پابند بھی کیا جاتا ہے کہ وہ بسوں کے اندر اور اڈوں پر روزانہ کی بنیاد پر ڈینگی سے بچاؤ سپرے کروائیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں حکومت کی ان ہدایات کو قانونی بھی قرار دے دیا گیا ہے جبکہ اس قانون سے سرکاری اداروں کے ماتحت ریلوے اور ٹرانسپورٹ سروس مبرا سمجھا جاتا ہے بحیثیت ایک عام شہری میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ یہ قانون اور ہدایات سرکاری ٹرانسپورٹ سروس اور ریلوے پر لاگو کیوں نہیں کی جاسکتیں۔ تھوڑی سی غلطی بھی نجی سیکٹر میں چلنے والی بسوں پر جرمانہ کی صورت میں عذاب بن کر نازل کردی جاتی ہے جبکہ مجھ سمیت ان تمام نجی بسوں میں سفر کرنے والوں کو معلوم ہے کہ وہ بے حد احتیاط برتتے ہیں، صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اگر کوئی مسافر شکایت کردے تو فوری ازالہ بھی ہوتا ہے مگر اس کے باوجود ان پر بھاری جرمانوں کی تلوار لٹکی رہتی ہے ہماری سرکار جس طرح بیساکھیوں کے سہارے چل رہی ہے اسی طرح پاکستان ریلوے بھی لولے لنگڑے نظام کی طرح فراٹے بھر رہاہے کہا جاتا ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان ریلوے نے انقلابی انداز میں ترقی اور بہتری کا سفر طے کیا مگر بہت لوگ جانتے ہیں کہ ریلوے آج بھی سالانہ 20ارب کے خسارے میں ہے جو وزارت ریلوے کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ پاکستان ریلوے اور اس سے متعلقہ وزارت جو سرکاری خزانے پر ایک بھاری بھرکم بوجھ ہے وہ بلاتاخیر اپنا قبلہ درست کرے۔

کالم کلوچ

میشا شفیع کے بعد ریشم بھی....

شائع شدہ

کو

کپتان کی عزت داؤ پر

میشا شفیع، علی ظفر اسکینڈل نے جہاں شوبز حلقوں میں ہلچل مچائی ہے وہیں دیگر سماجی حلقے بھی تشویش میں مبتلا ہیں اس حوالہ سے شوبز کے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ کل تک ایک دوسرے کے قریبی دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والی یہ فنکار جوڑی اس طرح اسکینڈل منظر عام پر لائے گی تو پھر ہماری شوبز انڈسٹری میں بہت سے ایسے رشتے ناطے ہیں جومذہبی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہیں مگر ان رشتوں کو اخلاقی دائرہ کار کے تحت جائز قرار دیا جاتا ہے ۔اس سے پہلے کہ علی ظفر کے خاندانی پس منظر پر نظر ڈالی جائے پہلے دیکھنا یہ ضروری ہے کہ میشا شفیع کا خاندانی پس منظر کیا ہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ میشا شفیع کا فیملی بیک گراؤنڈ نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس ‘‘ کہلانا پسند کرتا ہے۔ میشا شفیع کی والدہ صبا پرویز اپنے فنکارانہ کیریئر کے آغاز میں صبا حمید کہلائیں بعد ازاں انہیں شادی شدہ زندگی کے آغاز میں کبھی صبا شفیع کہا گیا تو کبھی صبا پرویز اور ایک وقت صبا پر صبا وسیم عباس کہلانے کا بھی آیا ۔ یہ درست ہے کہ وسیم عباس سے صبا حمید کے تعلق کو شرعی قرار نہیں دیا جاسکتاکیونکہ وسیم عباس کے ساتھ صبا حمید کی دوستی ایک مشترکہ ’’شوق‘‘کی وجہ سے ہوئی اور کئی برسوں تک قائم رہی۔یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ صبا کے والد خود کو کامریڈ(روشن خیال)کہلوانا پسند کرتے تھے کیونکہ وہ مذہبی رجحانات کے مالک نہیں تھے بالخصوص ہمارے اسلامی معاشرے میں انہیں اپنی موجودگی ہمیشہ ناگوار گزرتی تھی۔ میشا شفیع کو یہی ’’روشن خیالی‘‘ اپنے نانا اور والدہ سے ورثہ میں ملی۔ علی ظفر کے ساتھ ان کے ناجائز تعلقات کی کہانی خود ان کی زبانی منظر عام پر لانا ایسی ہی روشن خیالی اور ترقی پسندی کی ایک بھونڈی مثال ہے۔

میشا شفیع کا یہ اعتراف کہ انہیں علی ظفر نے بارہا جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا انہیں قریب سے جاننے والے لوگوں کو قطعی طور پر حیران نہیں کرتا مگر برائے نام تعلق رکھنے والے ساتھی فنکاروں کی اکثریت اور دونوں فنکاروں کے مداحوں کیلئے یہ انکشافات ہوش اڑا دینے کیلئے کافی تھے اسی لیے گزشتہ 48 گھنٹوں کے درمیان ملک بھر میں ریگولر اور سوشل میڈیا پر صرف اور صرف علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان ناجائز تعلقات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے بلکہ اب اس کی گونج سرحد پار بھی پہنچ چکی ہے۔ہالی ووڈ میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی اداکارہ کی طرف سے کیے جانے والے انکشافات کے بعد ’’#MeToo‘‘ کے نام سے شروع ہونے والی یہ مہم اب پاکستان میں موجود نام نہاد ترقی پسندوں کیلئے ایک مشغلہ بن چکی ہے ۔ لائم لائٹ میں رہنے والی شخصیات کو ہمیشہ سے عام لوگ اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں اور ان کے رنگ ڈھنگ ، بول چال اور رہن سہن کے طریقے بھی اپنانے کی کوشش کرتے ہی۔ میشا شفیع بھی بدقسمتی سے دور حاضر کی ایک سلیبریٹی ہیں جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو اس ’’#MeToo‘‘ مہم کا حصہ بنایا اور خود کو علی ظفر کا ’’شکار‘‘قرار دے دیا۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے علی ظفر کی خود سے جنسی زیادتی کا معاملہ اپنے ضمیر کی آواز پر ظاہر کیا لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بحیثیت فنکارہ میشا شفیع کو اس قدر مقبولیت حاصل نہیں ہوئی تھی جتنی شہرت انہوں نے علی ظفر پر زیادتی کا الزام لگا کر حاصل کرلی۔ میشا شفیع کی ’’روشن خیالی‘‘ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے بیان میں علی ظفر کی ایک سے زائد بار جنسی زیادتی کا ذکر کیا تھوڑا سا بھی شعور رکھنے والے ان کی اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بار بار کی زبردستی اور وہ بھی باہمی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔یہ روشن خیالی اور ترقی پسندی صرف اور صرف میشا شفیع جیسی نام نہاد ’’ایلیٹ کلاس‘‘ سے تعلق رکھنے والی خواتین ہی دکھا سکتی ہیں کہ جن کے خاندان میں ایسی کسی بات کو اور ایسے کسی واقعہ کو کبھی معیوب نہیں سمجھا جاتا اور جن کا مقصد ہی صرف اتنا ہے کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسی مہم کو تقویت دی جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر الزام کیوں داغ دیا۔ میشا شفیع کے نانا حمید اختر اور ان کی والدہ صبا حمید ہمیشہ تنازعات کو ہوا دینے کی راہ پر گامزن رہے ہیں مقصد شہرت اور دولت کا حصول ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ بلیک میلنگ سے لوگوں کو ہراساں کرنا ہوتا تھا۔میشا شفیع کے حالیہ بیان کا مقصد علی ظفر کو بلیک میل کرنا ہے یا ان کی وجہ سے حاصل ہونے والی شہرت کو دولت کمانے کا ذریعہ بنانا ہے جہاں تک علی ظفر کا تعلق ہے تو ان کا خاندانی پس منظر انتہائی وضع دار اور تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے اور انہوں نے میشا شفیع کے بیان کے بعد انتہائی سادگی اور سمجھ داری سے قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

ریشم کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کی ورسٹائل فنکاروں میں ہوتا ہے اگر ریشم،میشا شفیع جیسی ’’غلطی ‘‘کرتے ہوئے اپنی زبان کھول دیں تو شاید پورے پاکستان میں ایسا بھونچال آجائے گا جیسے کسی نے ایٹم بم گرا دیا ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

مقتول ہی تو قاتل ہے (بشکریہ ایکسپریس)

شائع شدہ

کو

6"کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

جناب محترم وسعتاللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ اس دنیا میں اگر کسی شے کا سب سے زیادہ ریپ ہوا ہے تو وہ دلیل ہے اور پھر اس ریپ زدہ دلیل کے ساتھ تہذیب کا جیسا ریپ ہوا اور ہو رہا ہے اس کا کوئی توڑ کم ازکم مجھے تو ٹپائی نہیں دے رہا ۔حل تو خیر لاینحل ہے۔ بہت دور کی کوڑی لانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس المیے سے بچپن میں ہی آشنا ہو جاتے ہیں جب چشمے پر پانی پینے والے بھیڑ کے بچے اور اسے دلیل دے کر ہڑپ کر جانے والے بھیڑئیے کی کہانی سنتے ہیں۔
اگر نازی دنیا پر قبضہ کر لیتے تو پھر ہماری نسلوں کو یہی نصابی علم عطا ہوتا کہ یہودیوں کو جرمنی سے نازیوں نے نہیں بلکہ خود یہودیوں نے ختم کیا۔نہ وہ سود خوری کے ذریعے جرمنوں کا خون چوستے اور نہ آریائی خون جوش میں آتا۔اگر جرمن خون آشام ہی ہوتے تو یہودیوں سے پہلے اور بعد میں کسی اور قوم پر ایسا عذاب کیوں نہیں آیا۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جرمنوں نے اپنی افریقی نوآبادی نمیبیا کی سیاہ فام آبادی کی بھی اسی پیمانے پر نسل کشی کی۔ مگر چونکہ بہت سے یورپی مستشرقین ایک زمانے تک کھلم کھلا اور آج دل ہی دل میں غیر سفید فاموں کو تہذیب و تمدن سے عاری نیم انسان سمجھتے ہیں لہذا نمیبیا کے سیاہ فاموں کا نوحہ کسی نے نہیں لکھا۔
یہی کچھ کانگو میں بلجئیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کے زمانے میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔کانگو بادشاہ کی ذاتی املاک میں شامل تھا۔ لہذا گدھے اور سیاہ فام کا فرق مٹ گیا۔ بلکہ گدھے سے زیادہ بہتر سلوک ان معنوں میں ہوا کہ وہ نسل کشی سے بچ گیا۔
برسلز میں لگنے والے میلوں ٹھیلوں اور نمائشوں میں ایک عرصے تک ہیومن زو بھی لگایا جاتا تھا۔اس میں کانگو سے لائے گئے سیاہ فام نیم انسانوں سے عام شہریوں کا دل بہلایا جاتا تھا۔آج یہ سب تماشے نہیں ہوتے مگر ان جرائم کو نوآبادیاتی دور کی بے اعتدالیوں اور غلطیوں کا نام دے کر مہین خوشنما تہذیبی پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔اب ہر کوئی اسرائیل تو نہیں ہوتا کہ جس سے مغربی جرمنی یہودی نسل کشی پر معافی مانگتے ہوئے پانچ ارب مارک کی ازالائی رقم بھی ادا کرے۔
کون کہتا ہے کشمیر میں بھارت ظلم کر رہا ہے۔یہ تو سرحد پار سے آنے والے گھس بیٹھیے یا ان کے ہاتھوں گمراہ ہونے والے مٹھی بھر کشمیری لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو بھارتی ایکتاکے درپے ہیں۔وہ جان بوجھ کر سیکیورٹی دستوں کو اشتعال دلاتے ہیں تاکہ وہ کشمیریوں کے منہ پر چھرے مار کے انھیں اندھا کر دیں اور پھر پیشہ ور کشمیری ان چھرہ زدہ چہروں کو ظلم کا اشتہار بنا کر دنیا بھر میں سینہ کوبی کرتے پھریں۔اہلِ دلی کی اس دلیل میں اگر وزن نہ ہوتا تو بیشتر بھارت کاہے کو آمنا و صدقنا کہتا۔
نیتن یاہو کی یہ بات ماننے میں کیا عار ہے کہ اسرائیلی فوج دنیا کی مہذب ترین فوج ہے۔اس نے آج تک کسی فلسطینی کو مارنے میں پہل نہیں کی۔کسی فلسطینی کو پتھر یا غلیل سے نشانہ نہیں بنایا۔لیکن جب کوئی فلسطینی بچہ یا بچی کسی اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارتا ہے یا ٹینک پر غلیل سے نشانہ باندھتا ہے یا مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کو مٹانے کا نعرہ لگاتا ہے تو کیا ریاست کو کوئی حق نہیں کہ وہ ایسے شرپسندوں کو اوقات میں رکھنے کے لیے ذرا سے گولے، کچھ بم اور دوچار نشانچیوں کو استعمال کر لے۔
کسی نے آج تک گولڈا مائیر کے اس دعویٰ کو چیلنج کیا کہ ’’ کون سے فلسطینی ؟ جب ہم یہاں آئے تو یہ خطہ تو غیر آباد تھا۔ہم نے آ کر اسے بسایا‘‘۔اگر اسرائیل واقعی کوئی سفاک ریاست ہے تو پھر کچھ عرب ممالک اس سے دوستی کے لیے آج مرے نہ جاتے۔
مشرقی پاکستانی اگر ایکتا کو چیلنج نہ کرتے ، وہاں بسنے والے ہندو اساتذہ اور دانشوروں کے بہکاوے میں نہ آتے اور غدار مجیب کے چھ نکاتی پھندے میں آئے بغیر وسیع تر قومی مفاد میں اپنے مغربی پاکستانی بھائیوں کے تھوڑے سے اور مطالبات مان لیتے اور اگر بھارت چند گمراہ مشرقی پاکستانیوں کی آڑ میں حالات سے فائدہ اٹھا کر فوج کشی نہ کرتا تو آج بھی ہم ہنسی خوشی رہ رہے ہوتے۔یہ ہیں، سقوطِ مشرقی پاکستان کی وہ وجوہات جوآج سینتالیس برس بعد بھی پاکستانی نصاب میں اتنی ہی سچ ہیں جتنی سینتالیس برس پہلے تھیں۔
اگر ریاستوں کا اپنا اپنا سچ ہے تو افراد اپنے اپنے سچ پر کیوں نہ قائم رہیں۔مثلاً اسے ماننے میں کیا قباحت ہے کہ ملالہ نے اپنے سر پر خود گولی ماری تھی تاکہ مغرب اسے اپنی ڈارلنگ بنا کر طالبان کو بدنام کرتا پھرے۔
مشال خان نے بھلے توہینِ مذہب نہ کی ہو مگر وہ ملحدوں کے شعر تو پڑھتا تھا ، اپنے کمرے کی دیواروں پر سرخوں جیسے نعرے تو لکھتا تھا ، ایک نظریاتی ریاست میں سیکولر لبرل نظریہ مسلط کرنے کا تو حامی تھا۔اسے کس نے مارا۔وہ تو مجمع کے غیض و غضب کا شکار ہوا۔مجمع کو اس سے کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی۔مجمع کو کنٹرول تو نہیں کیا جا سکتا۔یہ تو مشال خان کو خود خیال ہونا چاہیے تھا کہ وہ آگ سے کیوں کھیل رہا ہے ؟
مختاراں مائی نے باقاعدہ سوچ سمجھ کر خود کو ریپ کرایا تاکہ اسے بیرونِ ملک سے فنڈنگ مل سکے۔یہی حرکت سوئی میں رہنے والی ڈاکٹر شازیہ نے بھی کی تھی۔خواتین بن ٹھن کے نکلیں گی تو مٹھائی پر مکھیاں تو منڈلائیں گی۔
جموں کی آٹھ سالہ بکروال بچی آصفہ اگرچہ بن ٹھن کے نہیں نکلی تھی، پھر بھی انسان کے اندر بسے جہنم کی خوراک بن گئی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی سیاستداں جب آصفہ ریپ قتل کیس کے آٹھ مجرموں کی وکالت کرتے ہیں تو ان کے پاس بھی یہ دلیل ہوتی ہی ہے کہ بکروال ہندوؤں کی چراگاہوں پر زبردستی قبضہ کر رہے ہیں۔ غصہ کہیں تو نکلنا تھا۔لہذا قصور ریپسٹ کھجوریا اور اس کے آٹھ ساتھیوں کا نہیں بلکہ بکروال برادری کا اپنا ہے۔
پنجاب کے عیسائیوں، احمدیوں اور کوئٹہ کی ہزارہ برادری کا تو دھندہ ہی یہی ہے کہ وہ خود پر مظالم کی جھوٹی سچی داستانیں گھڑتے ہیں تاکہ مغرب میں مذہبی عقایذ کی بنا پر زیادتی کا کیس دائر کر کے پناہ حاصل کر سکیں۔اگر یہ معاشرہ اتنا ہی ظالم ہوتا تو پھر اکیس کروڑ لوگ یہاں کیوں رہ رہے ہیں۔
جب انصاف فٹ بال بن جائے اور ریاست گول کیپر ہو تو پھر ہر دلیل وزنی ہے، ظالم و مظلوم ایک ہی صف میں ہیں اور پھر پہاڑی چشمے پر اوپر کی جانب کھڑا بھیڑیا نیچے کھڑے میمنے کو بھی یہ دلیل دے کر ہڑپ کرنے میں حق بجانب ہے کہ تم میرا پانی گدلا کیوں کر رہے ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

کالم کلوچ

حقوق العباد اور "خادم"

شائع شدہ

کو

کپتان کی عزت داؤ پر

لاہور شہر ’’دھرنا اسٹیٹ‘‘ میں بدل گیا۔ مولانا خادم حسین رضوی اور ان کے پیروکار اسلام آباد میں دیئے جانے والے دھرنے پر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر ہونے والی کارروائی کیخلاف گزشتہ چند روز سے حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار کے باہر دھرنا دیئے ہوئے تھے اور گزشتہ روز یہ دھرنے شہر بھر میں پھیل جانے سے پورا شہر یرغمال بن کر رہ گیا اور شہریوں کو آمدورفت میں شدید دشواری پیش آئی۔ اس حوالہ سے ہم نے اپنے ایک فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے عالم دوست قاضی عمر فاروق سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ ان دھرنوں کی شرعی حیثیت کیا ہے تو انہوں نے سنی طبقہ کے مولانا مفتی محمد قاسم کی کتاب ’’وقف کے شرعی مسائل‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مفتی قاسم صاحب نے عام شہریوں کو تکلیف دے کر عبادت کو غیر شرعی قرار دیا اور ان کے فتویٰ کے مطابق عام شہریوں کی آمدورفت میں خلل ڈالنا قابل مذمت ہے اسی طرح ہم نے علامہ ملک عزیز الرحمان جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی ضلع بہاولنگر سے بات کی ان کا تعلق فقہ اہل حدیث سے ہے انہوں نے بتایا کہ ایک حدیث موجود ہے جس میں آپؐ نے فرمایا کہ راستے کو اس کا حق دو اور حق دینے سے مراد یہ ہے کہ راستے میں پتھر، جھاڑیاں یا کسی اور طریقہ سے راستہ بند نہ کیا جائے جس سے لوگوں کو آنے جانے دشواری ہو بلکہ انہوں نے کہا کہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ راستے میں گندگی تک بھی پھینکی جائے جس سے وہاں سے گزرنے والوں کو ناگواری کا احساس ہو۔ ہمارے نبیؐ نے راستے میں کسی ایسے عمل سے منع کیا ہے جس سے ان کی طبیعت پر ناگواری گزرتی ہو وہ کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جاسکتاانہوں نے بتایا کہ ہمارے پیارے نبیؐ نے کسی ایسے مقام مسجد بنانے سے منع کیا ہے جو خالصتاً کسی کی ملکیت ہو اور وقف نہ کی گئی ہواور اسی حدیث مبارکہ میں راستے کا کچھ حصہ مسجد میں ڈالنے پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں ادا ہونے والی نماز دوبارہ پڑھی جائے چونکہ قبضہ کی گئی جگہ پر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی جہاں تک ہمیں علم ہے مولانا خادم حسین رضوی صاحب سنی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور مفتی قاسم صاحب ایک ہی امام یعنی امام ابو حنیفہ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں دونوں کے ایک ہی مکتبہ فکر سے تعلق ہونے کے بعد دونوں کے نظریات میں اس قدر تضاد سمجھ سے بالاتر ہے۔
حقوق العباد یعنی کے عام لوگوں یا عام شہریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے حوالہ سے بہت سی روایات موجود ہیں جس میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ قیامت کے دن حقوق اللہ کی معافی ہوسکتی ہے لیکن حقوق العباد کی معافی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک جن لوگوں کو تکلیف دی گئی یا نقصان پہنچایا گیا ہو وہ معاف نہ کردیں۔ ہمیں یہ سب سبق دینے والے جید علمائے کرام اپنی جھوٹی انا اور ذاتی تسکین کیلئے جو تاویلیں گھڑ کر اپنے پیروکاروں کو اس مکروہ عزائم پر آمادہ کرتے ہیں وہ آنے والی نسلوں کیلئے کیا مثالیں چھوڑ کر جائیں گے اب تک ہمارے نبیؐ، صحابہ، آئماء کرام اور اولیائے اللہ کی تعلیمات کو لوگ اپنے لیے مشعل راہ سمجھتے ہیں اور ان کے ہر عمل کو ان کے نام کی سنت قرار دیتے ہوئے اس پر عمل کرتے ہیں۔ ہمارے بعد آنے والی نسلیں مولانا خادم حسین رضوی کی تقلید کرتے ہوئے اپنے خلاف ہونے والے کسی بھی اقدام پر نہ صرف خود سڑکوں پر آجایا کریں گی یہی نہیں بلکہ ان کے پیروکار بھی ان کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوکر لوگوں کو تکلیف دے کرخادم حسین رضوی کی نقش قدم پر کریں گے۔کچھ لوگوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ یہ ختم نبوت کا مسئلہ نہیں بلکہ ختم حکومت کا مسئلہ ہے اور انہی کا یہ موقف ہے کہ یکم جون 2018ء کو جب موجودہ حکومت کی میعاد ختم ہوجائے گی اور نئی نگران حکومت کا وجود عمل میں آجائے گا تب ’’اسلام‘‘ خطرے سے باہرنکل آئے گاان کے خیال میں صرف موجودہ حکومت کے برسراقتدار رہنے تک ’’اسلام‘‘ خطرے میں ہے۔ ماضی پر نظر دوڑائیں تو 1977ء میں تحریک نظام مصطفی میں بہت سے نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ممکن ہوسکے مگر اسلام نافذ ہونے کی بجائے گیارہ سالہ مارشل لاء ضرور نافذ ہوا۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں