Connect with us

صحت

میٹھے مشروب کے نقصانات

شائع شدہ

کو

میٹھے مشروب کے نقصانات

آج کل نوجوانوں سے لے کر بوڑھے افراد تک سب میں کولڈ یا سافٹ ڈرنکس کا استعمال بہت زیادہ بلکہ روزانہ کیا جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں اس عادت کے حوالے سے متعدد طبی تحقیقی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں روزانہ سافٹ ڈرنکس کے حوالے سے جسم پر مرتب اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ درحقیقت اس کا روزانہ استعمال آپ کو اندر سے اس طرح نقصان پہنچانے لگتا ہے جس کا آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوتا۔اگر یقین نہیں آتا نیچے درج ذیل نقصانات آپ کی انکھیں کھول دیں گے۔
وٹامنز کی کمی
سافٹ ڈرنکس میں پائے جانے والے فاسفورس ایسڈ، کیفین جیسے اجزاءپیشاب آور ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں اس مشروب کو پینے کے ایک گھنٹے کے اندر اہم غذائی اجزاءاور وٹامنز جسم سے خارج ہونے لگتے ہیں، تصور کریں اگر روزانہ ہو تو پھر کیا ہوگا؟ جسم میں وٹامنز کی کمی ہونے لگتی ہے۔
دانتوں کی بربادی
ان مشروبات میں موجود تیزابیت اور مٹھاس دانتوں کی سطح کو ختم کرنے کے ساتھ کیویٹیز کا امکان بڑھاتے ہیں۔ اگر اس میں وٹامنز کی کمی کے نتیجے میں کیلشیئم کی سطح میں کمی کو مدنظر رکھیں تو آسانی سے نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ دانت اندر اور باہر دونوں جگہ سے خراب ہونے لگتے ہیں اور بہت جلد ٹوٹنے کا خطرہ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔
ذہنی بے چینی
نیند کی کمی کے ساتھ ساتھ ذہنی بے چینی یا تشویش وغیرہ کیفین کے استعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اکثر سافٹ ڈرنکس میں ایک کپ اسٹرونگ کافی جتنی کیفین ہوتی ہے جو کہ لوگوں کے اندر اس کی لت پیدا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر سافٹ ڈرنکس کو چھوڑنے کا ارادہ کیا جائے تو سردرد، چڑچڑے پن، تھکاوٹ اور ڈپریشن وغیرہ کا سامنا ہوسکتا ہے۔
موٹاپا
جب موٹاپے کی بات کی جائے تو یقیناً وہ کسی کو پسند نہیں ہوگا، ویسے تو جسمانی وزن میں اضافہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں مگر یہ جسمانی دفاعی نظام اور مختلف جسمانی نظاموں پر دباﺅ بڑھا دیتا ہے جبکہ جوڑ اور ہڈیاں الگ متاثر ہوتی ہیں جو کہ کیلشیئم کی کمی سے پہلے ہی کمزور ہوچکی ہوتی ہیں۔
جلدی مسائل
روزانہ سافٹ ڈرنکس کا استعمال جلد پر تمباکو نوشی جیسے اثرات کا باعث ہی بنتا ہے۔ سوڈا کے نتیجے میں جسم میں ورم جیسا اثر پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ اس میں چینی کی بہت زیادہ مقدار ہے، یہ جلد میں پانی کی سطح کم کرتی ہے اور چہرے پر جھریاں اور لکیریں ابھر آتی ہیں۔ اس سے جلد کی عمر تیزی سے بڑھنے لگتی ہے اور وہ ڈھلکنے میں بھی لگتی ہے۔
دل اور خون کے مسائل
جسم میں صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھاتا ہے، اگر روزانہ صرف ایک سافٹ ڈرنک کا استعمال کیا جائے تو بلڈ پریشر میں اضافہ ہونے لگتا ہے جبکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ الگ پیدا ہوتا ہے۔
گردے فیل ہونے کا خطرہ
اگر ایسا لگتا ہے کہ ڈائٹ مشروبات محفوظ انتخاب ہے تو ایسا نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان مشروبات میں چینی نہ ہو مگر اس میں موجود مصنوعی مٹھاس گردوں کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے خاص طور پر اگر اسے روزانہ استعمال کیا جائے۔
معدے کے مسائل
کولڈ ڈرنکس میں شامل کاربونیٹ ایسڈ یا عام الفاظ میں گیس معدے میں جاکر ہوا بھر جانے کا باعث بنتا ہے جس سے پیٹ درد کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔لندن کے رائل فری ہاسپٹل کی ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ پہلے ہی پیٹ میں گیس بھرنے کے مریض ہیں تو ان مشروبات سے جسم کا حصہ بننے والی اضافی گیس صورتحال بدترین بنادیتی ہے، اس کے علاوہ ان مشروبات سے آنتوں کے امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے جس سے نظام ہاضمے کے مسائل ابھر آتے ہیں۔

صحت

مریضوں کے نمونے جانچنے والی مشین

شائع شدہ

کو

مریضوں کے نمونے جانچنے والی مشین

پوری دنیا میں اسمارٹ فون کے طبی استعمال کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے اور ان کے ذریعے خون اور پیشاب کے نمونوں کی تشخیص کے نظام بھی بن رہے ہیں۔ واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر لائی لی اور ان کے ساتھیوں نے ’ایم ریڈر‘ نامی ایک چھوٹی مشین بنائی ہے جو ایک وقت میں 96 مریضوں کے جسمانی مائعات کے نمونے دیکھ سکتی ہے۔ ماہرین ان میں خاص کیمیکل ملاتے ہیں اور مرض کی صورت میں نمونہ رنگ بدلتا ہے۔ اگلے مرحلے میں ایک کمپیوٹر پروگرام کیمیکل ملنے کے بعد سیمپل کی رنگت میں تبدیلی نوٹ کرکے مرض کے ہونے یا نہ ہونے کی خبر دیتا ہے۔ یہ سادہ نظام 12 اقسام کے بیکٹیریا اور وائرس انفیکشنز نوٹ کرسکتا ہے۔
اگرکسی پسماندہ یا دور افتادہ علاقے میں کسی وبائی مرض کا حملہ ہوجائے تو ایک جانب مریضوں کے خون کے نمونے بڑے شہروں میں بھیجنا مہنگا اور وقت طلب امر ہوتا ہے جب کہ دوسری جانب اسمارٹ فون سے شناخت کرنے والے نظاموں میں ایک وقت میں ایک ہی سیمپل رکھا جاسکتا ہے لیکن اب یہ مشکل حل ہوچکی ہے۔ ایم ریڈر کی قیمت بھی بہت کم ہے یعنی اس کا پہلا ماڈل صرف 5 ہزار روپے میں تیار ہوا ہے جب کہ تجارتی سطح پر اس کی قیمت مزید کم ہوجائے گی۔ 12 امراض کی خبر دینے والے ایم ریڈر پر 771 مریضوں کے خون اور پیشاب کے نمونے آزمائے گئے تو اس کے نتائج 97.59 سے 99.9 فیصد تک درست ظاہر ہوئے، اس طرح یہ چھوٹا سا نظام کسی بڑی لیبارٹری کی طرح مرض کی درست شناخت کرسکتا ہے۔
پروفیسر لائی کے مطابق ایم ریڈر غریب آبادی کے بنیادی امراض کی شناخت کرنے والا ایک کم خرچ اور تیزرفتار آلہ بھی ہے۔ توقع ہے کہ اس کے استعمال سے لاتعداد قیمتی جانیں بچائی جاسکیں گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

کینسر کا پتا چلانے والا ٹیسٹ دریافت

شائع شدہ

کو

کینسر کا پتا چلانے والا ٹیسٹ دریافت

امریکن ایسوسی ایشن برائے کینسر کے سالانہ اجلاس کے موقع پر بائیو ٹیکنالوجی کمپنی نے خوشخبری سنائی ہے کہ خون کے عام اور سادہ سے ٹیسٹ کے ذریعے کینسر کی تشخیص کے لیے نیا طریقہ دریافت کر لیا گیا ہے۔ کمپنی نے کینسر کی تشخیص کے لیے ٹیومر کے ڈی این اے کے جینوم کا ترتیب وار مطالعہ کیا جس میں 65 فیصد مریضوں میں کینسر کا پتا چلا لیا گیا۔
بائیو ٹیکنالوجی کمپنی نے اس ٹیسٹ کو ’ مائع بائیوپسی‘ (Liquid Biopsies) کا نام دیا ہے۔ امریکا میں کئی لیبارٹریز میں یہ ٹیسٹ کیا جا رہا ہے جس کے نتائج کافی حوصلہ افزا ہیں۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے جسم میں موجود معمولی سے ٹیومر کی تشخیص کی جاسکے گی اور اس موذی مرض کا ابتدائی مرحلے میں ہی علاج شروع کیا جاسکے گا جس سے شرح اموات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
بائیو ٹیکنالوجی کمپنی نے 10 ہزار افراد کی اسکریننگ کی جس میں جین کی میوٹیشن کے ذریعے تشخیص کی گئی جن میں سے 878 کینسر کے نئے مریضوں کی تشخیص ہوئی جب کے 580 مریضوں میں مرض کی کوئی علامت نہیں ملی۔ مریضوں میں کینسر کی تشخیص تین مرحلوں میں کی گئی پہلے مرحلے میں کینسر کے 500 مریضوں کے جین کا مطالعہ کیا گیا دوسرے مرحلے میں غیر معمولی جین کو علیحدہ کیا اور تیسرے مرحلے میں میتھالائزیشن کے عمل کا تجزیہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ نمایاں علامات اور معلومات کی کمی کے باعث کینسر کی تشخیص بہت تاخیر سے ہوتی ہے جس کے باعث یہ جان لیوا مرض دنیا میں ہلاکتوں کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق ہر 6 میں ایک شخص کی موت کینسر کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کینسر کے بلڈ ٹیسٹ سے تشخیص سے اس مرض پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

دماغی تناؤ کم کرنے کا طریقہ

شائع شدہ

کو

دماغی تناؤ کم کرنے کا طریقہ

امریکا: امریکی ماہرین نے ایک سروے کے بعد کہا ہے کہ ڈارک چاکلیٹ کھانے کے جہاں دیگر بہت سے فوائد ہیں وہیں یہ جسم کی اندرونی جلن اور ذہنی تناؤ کو بھی کم کرتی ہے۔ گہرے رنگت والی چاکلیٹ میں کوکوا (Cocoa) کی مقدار 70 فیصد تک ہوتی ہے جبکہ عام چاکلیٹ میں کوکوا کی مقدار کم پائی جاتی ہے۔ کوکوا، لوبیا جیسا ایک بیج ہوتا ہے جسے پیس کر اس کے سفوف سے چاکلیٹ بنائی جاتی ہے۔ اس کی کڑواہٹ دور کرتے وقت اس میں مٹھاس اور شکر شامل کی جاتی ہے۔ سان ڈیاگو میں منعقدہ تجرباتی حیاتیات کی تنظیم کے اجلاس برائے 2018 میں لوما لنڈا یونیورسٹی کے ایک ماہر پروفیسر لی ایس برک نے بتایا کہ ڈارک چاکلیٹ موڈ، یادداشت، اور جسمانی دفاعی نظام کو بہتر کرتے ہوئے جسم کے اندر جلن (سوزش) کو بھی دور کرتی ہے۔
چاکلیٹ کے انسانی دل، گردوں اور یادداشتی نظام پر کی جانے والی یہ پہلی تحقیق بھی ہے جس سے معلوم ہوا کہ چاکلیٹ میں بہت سے مفید فلیوینوئیڈز پائے جاتے ہیں جو ہمارے جسم پر بہت مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ پروفیسر لی ایس برک نے بتایا کہ گہری چاکلیٹ میں دل اور دماغ کے محافظ اینٹی آکسیڈنٹس کی وسیع مقدار موجود ہوتی ہے۔ دوسری جانب کوکوا میں انسانی دفاعی نظام کو درست رکھنے، دماغی سگنل بڑھانے اور حسیات کو بہتر کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
اس میں موجود سائٹوکائنز، ٹی خلیات کو طاقتور کرنے سمیت پیٹ، سینے یا دیگر اعضاء میں جلن کو دور کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں دماغی خلیات کے درمیان لچک بڑھانے میں بھی چاکلیٹ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس دریافت کے بعد ماہرین نے کہا ہے کہ اپنی غذا میں گہرے رنگت والی چاکلیٹ بڑھانے سے کئی اہم فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں