Connect with us

صحت

"جلیبیاں"من پسند سوغات

شائع شدہ

کو

"جلیبیاں"من پسند سوغات

مختلف تقریبات میں پیش کی جانے والی گرم اور خستہ جلیبیاں کس نے نہیں کھائی ہونگی اور اس وقت تو اسکا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے جب گرما گرم جلیبی کو ٹھنڈی ربڑی کے ساتھ کھائی جائے۔ لیکن کیا آپکو معلوم ہے کہ جلیبی کا اصل وطن پاک وہند نہیں بلکہ مغربی ایشیا کا خطہ ہے۔ جی ہاں آپکو حیرت ہوئی ہوگی مگر حقیقت یہی ہے۔ بچپن سے جوانی تک پاک وہند میں جلیبی کھانے والے اسے مقامی مٹھائی ہی تصور کرتے رہے ہیں قدیم تاریخ کا جائزہ لینے سے یہ معلوم ہوا کہ یہ قرون وسطیٰ کے عہد میں برصغیر میں کھائی جانے لگی۔ 13ویں صدی عیسوی میں ایک معروف تاریخ داں نے مقامی پکوانوں کا ذکر اپنی تصنیف کتاب الاطبیخ میں کیا ہے، اور اس میں جلیبی کو "زلابیا "تحریر کیا ہے اور اسکااصل وطن مغربی ایشیا یعنی موجودہ ترکی، مغربی ایران، شام ،لبنان وغیرہ کے کسی علاقے کو قرار دیا ہے قرون وسطیٰ کے دور میں اسےپاک و ہند میں متعارف کرایا گیاجس کے بعد یہ مقامی تقریبات کا ایک لازمی حصہ بن گئی۔ تاہم زلابیا سے جلیبی تک کاسفر پندرہویں صدی عیسوی میں اس وقت مکمل ہوا، جب جین مصنف جینا سورا نے جین مذہب کی معروف کتاب میں اس حوالے سے کافی کچھ لکھااور اگر ویلیم شیکسپئر کے مشہور جملے ناموں میں کیا رکھا ہے کو بغور پڑھا جائے تو سمجھ لیجئے کہ یہ ہماری پسندیدہ جلیبی کے بارے میں ہی کہا گیا ہے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ کن اجزا سے تیار کی جاتی ہے مگر اسکا ایک عالمگیر ذائقہ اپنے اندر ایک جادوئی کشش رکھتا ہے۔عام طور پر بھارت اور پاکستان میں اسے گندم کے آٹے یا میدے سے تیار کیا جاتا ہے جبکہ دنیا کے دیگر خطوں میں اسے چاول کے آٹے، سوجی اور بیسن سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔

صحت

پہلی پروڈکٹ 2019 میں متوقع

شائع شدہ

کو

پہلی پروڈکٹ 2019 میں متوقع

آپ نے ڈی این اے میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی غیرمعمولی مقدار رکھنے کی خبریں تو سنی ہوں گی اور اب ایک کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اگلے سال ڈی این اے میں ڈیٹا والی پہلی تجارتی پروڈکٹ پیش کررہی ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی لائف لیب میں قائم ہونے والی اس کمپنی کا نام کیٹلاگ ہے جو اگلے سال ڈی این اے گولی (پیلٹ) بنائے گی اور ایک ایک پیلٹ میں بہ آسانی 40 بلیو رے ڈی وی ڈیز کے برابر ڈیٹا رکھا جاسکے گا۔ اس سے قبل ماہرین ثابت کرچکے ہیں کہ ڈی این اے میں ڈیٹا کو سیکڑوں سال تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل ماہرین ڈی این اے میں تصاویر اور معلومات رکھنے کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ اب کیٹلاگ کمپنی نے ڈی این اے پیلٹ میں معلومات رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے اگلے سال پہلی کمرشل پروڈکٹ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک سال قبل وہ ایک کلوبائٹ کے اشعار ڈی این اے پر لکھ چکے ہیں۔ اب وہ ایسی مشین پر کام کررہے ہیں جو فوری طور پر ڈی این اے کے اربوں مالیکیولز پر ڈیٹا منتقل کرسکے گی۔ اگلے مرحلے میں آئی ٹی کمپنیوں اور دیگر اداروں کو ڈی این اے ڈیٹا اسٹوریج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اب تک کئی بڑی کمپنیوں نے اس نظام میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

خطرہ کی گھنٹی

شائع شدہ

کو

خطرہ کی گھنٹی

دل کے امراض اور بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے والے دوا Valsartan میں شامل ایک کیمیکل میں آلودگی کی نشاندہی کے بعد پاکستان سمیت دیگر 22 ممالک کے مریضوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔دوا کو تجویزکرنے والے امراض قلب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں Valsartan دواکا نعم البدل موجود ہے اور اس حوالے سے مریضوںکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، Valsartan دوامیں شامل ایک (خام مال ) جوچائنا کی Zhejiang Tianyu Pharma Co,Ltd سے درآمدکیا گیا ہے صرف مذکورہ کمپنی کے اس ایک اجزا میں آلودگی ، نجاست کا انکشاف ہوا ہے۔جسے طبی زبان میں NDMAکہا جاتا ہے۔
ماہرین علم الادویہ کا کہنا ہے کہ NDMA آلودہ کیمیکل ہے جوکینسر پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اوریہ بات ادویہ کے کیمیائی تجربے گاہوں سے ثابت شدہ ہے، ان ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودہ کیمیکل سے Carcinogenic کینسر ہوتا ہے، اس انکشاف کے بعد پاکستان سمیت دنیاکے22ممالک سے چائناکی مذکورہ کمپنی کے اس خام مال (کیمیکل) سے تیارکی جانے ادویہ کو ری کال کرنے کی ہدایت دی گئی، یہ ہدایت یورپی میڈیسن ایجنسی نے دی ہے اس حوالے سے یورپی میڈیسن ایجنسی نے 5جولائی کو باقاعدہ مکتوب بھی جاری کیا تھا جس کے بعد پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈی آر اے)نے 8 جولائی کو پاکستان کے تمام فیڈرل ڈرگ انسپکٹروں اورپاکستان میں چائنا کی مذکورہ کمپنی کی مذکورہ خام مال سے تیارکی جانے والی دواکو مارکیٹ سے واپس لینے کے احکام جاری کردیے۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

دمے کیلئے مفید

شائع شدہ

کو

دمے کیلئے مفید

اگر کوئی شخص پھل اور سبزیوں کا زیادہ استعمال کرتا ہے تو اول اس میں دمے سے متاثر ہونے کا خطرہ بہت کم رہ جاتا ہے اور دوم متاثر ہونے کے بعد بھی اس کی شدت میں اضافہ نہیں ہوتا۔ایک سائنسی مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سبزیاں اور پھل کھانے والے افراد میں دمے کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ دمے کے مریض پھل اور سبزیاں کھا کر مرض کی شدت کم کرسکتے ہیں۔پھل اور سبزیاں ایسے اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم کے اندر جلن کو کم کرتے ہیں اور ان میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس سانس لینے کے عمل کو بہتر بناتے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں دمے کے مریض سبزیوں پر توجہ دے کر نظامِ تنفس کو بہتر بناسکتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں