Connect with us

انٹرنیشنل

شہید فلسطینیوں کی تعداد 17 ہوگئی

شائع شدہ

کو

شہید فلسطینیوں کی تعداد 17 ہوگئی

غزہ: غزہ اور مغربے کنارے میں صیہونی فورسز کی براہ راست فائرنگ سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے جب کہ 1400 سے زائد زخمی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 17 ہوگئی ہے جب کہ 1400 زخمی افراد میں سے 758 افراد براہراست گولیاں لگنے کے سبب شدید زخمی ہیں تاہم دیگر افراد ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل لگنے سے زخمی ہوئے ہیں جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیو گوٹیریس نے فلسطین میں جاری بربریت کی مذمت کرتے ہوئے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جب کہ اس اہم مسئلے پر سلامتی کونسل کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کے ڈپٹی پولیٹیکل افیئرز اور سیکرٹری جنرل کے معاون تائے بروک زیریہون نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اسرائیل کو مظاہرین کے ساتھ انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سلوک رواں رکھنا چاہیے اور کسی کو بھی بچوں، خواتین اور بزرگوں کے ساتھ تشدد کا راستہ اپنانے نہیں دیں گے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینون نے سلامتی کونسل کو اپنے تحریری بیان میں حماس کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس کی قیادت نے لوگوں کو حکومت کے خلاف پُر تشدد مظاہروں پر اکسایا ہے جب کہ اسرائیل کی جانب سے مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کی جارہی ہیں تاکہ جانی نقصان نہ ہو۔

انٹرنیشنل

اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کھلی حقیقت

شائع شدہ

کو

اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کھلی حقیقت

پاکستان میں جب بھی عام انتخابات کا وقت آتا ہے تو مغربی میڈیا میں ایسی رپورٹس آنا شروع ہو جاتی ہیں کہ جن کے باعث انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔ اب ایک بار پھر یہی صورتحال ہے۔ ایک جانب سیاسی عمل کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور دوسری جانب اس صورتحال کے لئے ایک بار پھر ’اسٹیبلشمنٹ‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ معروف برطانوی جریدے ”دی اکانومسٹ“ کا پاکستانی انتخابات کے بارے میں تازہ ترین مضمون ایک ایسی ہی کاوش نظر آتی ہے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ ”چند دن بعد ہونے والے عام انتخابات میں عمران خان کی فتح یقینی نظر آرہی ہے، لیکن ایک بار پھر یہ روایتی میچ فکسنگ دکھائی دے رہی ہے، (جس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ) اب وقت آچکا ہے کہ پاکستانی جرنیل سیاست میں دخل اندازی بند کردیں۔“
پاکستان تحریک انصاف کے لئے فتح کی راہ ہموار کرنے کا الزام اسٹیبلشمنٹ پر لگاتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ”سروے ظاہر کررہے ہیں کہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں فتح پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ملنے والی ہے اور عمران خان اگلے وزیراعظم ہوں گے۔ اگرچہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان اس بات کی تردید کرتے ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ اس بات کو یقینی بنارہی ہے کہ پی ٹی آئی کو میڈیا پر ترجیحی کوریج ملے، طاقتور حلقے اس کی حمایت کریں، اور مخالف پارٹیوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ عمران خان کے سب سے بڑے مخالف نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز جیل جا چکے ہیں جبکہ دیگر مخالف پارٹیوں کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے۔ کچھ سیاسی رہنماﺅں پر دہشتگردی کے حملے بھی ہوچکے ہیں، جن میں درجنوں اموات ہوچکی ہیں۔“
جریدے کا مزید کہنا ہے کہ طاقتور حلقوں کی جانب سے میڈیا پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ”اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پاکستانی سیاست میں مداخلت پہلے بھی کی جاتی رہی ہے لیکن جس طرح یہ کام کھلے عام اب ہورہا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ ممتاز صحافیوں اور میڈیا ہاﺅسز کا کہنا ہے کہ ان پر پاکستان تحریک انصاف کی حمایت اور اس کے مخالفین کی کوریج محدود کرنے کیلئے دباﺅ ڈالا جارہا ہے۔“

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

8 سال مزید سزا

شائع شدہ

کو

8 سال مزید سزا

جنوبی کوریا کی سابق صدر پارک گُن ہے کو انتخابات میں مداخلت کرنے کے جرم میں 8 سال قید کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ دارالحکومت سیئول کی عدالت نے پارک گُن ہَے کو غیر ضروری فنڈ جمع کرنے کے جرم میں 6 سال اور انتخابی عمل میں بیجا مداخلت پر اضافی دو سال سزائے قید سنائی ہے۔ دوسری جانب سابق کوریائی صدر نے کہا ہے کہ یہ الزامات سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہیں جو کہ عدالت میں فیصلہ سننے کے لیے موجود نہیں تھیں۔
یاد رہے کہ بدعنوانی الزامات اور حکومتی راز افشاء کرنے پر پارک گُن ہے 24 سال کی سزا پہلے ہی بھگت رہی ہیں۔ انہیں سن 2017 میں منصبِ صدارت سے ہٹا دیا گیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

انٹرنیشنل

ترکی کا انکار

شائع شدہ

کو

ترکی کا انکار

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا نے ترکی میں قید اپنے مطلوب ترین دہشت گرد نیل پرکاش المعروف ابو خالد الکمبوڈی کی حوالگی کے لیے ترک حکومت سے رجوع کیا تھا تاہم ترک عدالت نے آسٹریلیا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ابو خالد الکمبوڈی کے خلاف مقدمات کی سماعت ترکی میں ہی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ آسٹریلوی حکومت نے ترکی کی عدالت کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ابو خالد ایک آسٹریلوی شہری ہے جس پر دہشت گردی سمیت متعدد مقدمات قائم ہیں جن کی تفتیش کے لیے ابو خالد الکمبوڈی کی حوالگی ضروری ہے جس کے لیے آسٹریلوی وزیراعظم نے گزشتہ برس مئی میں ترک حکومت سے استدعا کی تھی۔ واضح رہے کہ داعش کمانڈر نیئل پرکاش آسٹریلوی شہری ہے جس کے والد کا تعلق فجی اور والدہ کا کمبوڈیا سے تھا۔ 2012 میں کمبوڈیا کے دورے دوران اس نے بدھ ازم ترک کر کے اسلام قبول کیا تھا اور ابو خالد الکمبوڈی کے نام سے داعش کے لیے کام شروع کیا تاہم 2016 میں شام کی سرحد عبور کر کے ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار ہو گیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں