Connect with us

پاکستان

چیئرمین سینیٹ سے حلفیہ بیان طلب

شائع شدہ

کو

سول و ملٹری تعلقات میں بہتری

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ اور سینیٹر حلفیہ بیان دیں کہ کسی کو نہیں خریدا جب کہ میں آخری دم تک سینیٹ انتخابات کے معاملے میں دخل دیتا رہوں گا۔

وزیراعظم نے ایک بار پھر سینیٹ انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کا معاملہ آج کل اخباروں کی زینت بنا ہے، عوام سے پوچھتا ہوں کیا ہمارے سینیٹر وہ لوگ ہونے چاہئیں جو پیسے دے کر سینیٹ میں آئیں، ہمارا وہ ایوان جو ایوان بالا ہے کیا اس کا چیئرمین وہ ہو جو ووٹ خرید کر وہاں پہنچا ہو، یہ سیاست کا معیار ہے، یہ وہ برائی ہے جسے ہم نے دور کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ دعوے سے کہتا ہوں (ن) لیگ نے سینیٹ الیکشن پر ایک پیسہ خرچ نہیں کیا، ایم پی اے کے ضمیر کو نہیں خریدا، جس ایوان کی بنیاد کرپشن پر ہو، کیا وہ ایوان پاکستان کے مفاد کے لیے کام کرسکتا ہے، یہ لوگ عوام کے سامنے حلفیہ بیان دیں کہ کسی کے ضمیر کا سودا نہیں کیا، سینیٹر بنانے کے لیے پیسہ خرچ نہیں کیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بڑے لوگوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اس معاملے میں دخل انداز نہیں ہونا چاہیے لیکن میں آخری دم تک دخل دیتا رہوں گا، اس برائی کا خاتمہ جہاد سمجھتا ہوں، چیئرمین سینیٹ اور سینیٹر حلفیہ بیان دیں کہ کسی کو نہیں خریدا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جس ملک میں دو نمبر لوگ اعلیٰ عہدوں پر ہوں ملک ترقی نہیں کرسکتا، اس برائی کو آج ختم کرنا ہے، اگر اس برائی کو ختم نہیں کیا تو ضمیر خریدنے والے اور جیبیں بھرنے والے ہی ہمارے نمائندے ہوں گے، ہم کسی سے جنگ نہیں کرنا چاہتے۔

پاکستان

پی ٹی آئی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث

شائع شدہ

کو

پی ٹی آئی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث

سینیٹ الیکشن کے معاملے پر تحریک انصاف کی جانب سے شوکاز نوٹس پانے والی خیبر پختونخوا اسمبلی کی خواتین ارکان وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر پھٹ پڑیں اور انہیں کینہ پرور شخص قرار دے دیا۔

پاکستان تحریک انصاف سے سینیٹ الیکشن میں پیسے لے کر ووٹ فروخت کرنے کے  الزام میں نکالے جانے والی خواتین ارکان صوبائی اسمبلی نسیم حیات، نرگس علی اور نگینہ خان نے پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس کے دوران تینوں خواتین ارکان نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ انہوں نے ووٹ نہیں بیچے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی طرف سے مجھے پیسوں کی پیش کش ہوئی تھی لیکن پارٹی سے پیسے لے کر امیدوار کو ووٹ دینے والوں کو نہیں نکالا گیا جب کہ مجھے خواتین ایم پی ایز کی مخبری پر بھی مجبور کیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ ہم پر ووٹ فروخت کرنے کا الزام ہے تو یہ بھی بتایا جائے کہ چودھری سرور کے پاس ووٹ کہاں سے آئے۔

رکن خیبر پختونخو اسمبلی نرگس علی نے کہا کہ میں نے ووٹ نہیں بیچا تاہم سینٹ انتخابات میں پارٹی ورکرز کو بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کرپشن ختم کرنا تھی تو احتساب کمیشن کیوں بند ہے؟ جب کہ ایک وزیر کا بھائی ڈی جی احتساب کمیشن ہے اور  بی آر ٹی منصوبے میں کرپشن ہوئی ہے۔رکن صوبائی اسمبلی نگینہ خان کا کہنا تھا کہ ہمارے اراکین کی تعداد 52 تھی اور پہلی ترجیح میں پارٹی امیدواروں کو 50 ووٹ ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا بتایا جائے کس کے سامنے پیش ہونا ہے اور اب تک شوکاز نوٹس ملا ہے نہ کسی نے بلایا ہے۔نگینہ خان نے کہا کہ 15 دن میں الزامات کا جواب نہ ملا تو ہرجانے کا نوٹس بھیجیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وزرا آستین کے سانپ

شائع شدہ

کو

وزرا آستین کے سانپ

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات و رکن خیبر پختونخوا اسمبلی شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ان کے اتحادی جماعت اسلامی کے وزراء آستین کے سانپ ہیں اور وہی پشاور کی ترقی میں بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔

شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے بیان پر افسوس ہوا، وہ سادہ نہ بنیں، 5 سال اقتدار کے مزے لیے ہیں تو ذمہ داری بھی لیں۔انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی پشاور کی ترقی کا منصوبہ ہے، پی ٹی آئی اس کی ذمہ داری لیتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی نگرانی میں بن رہا ہے اور یہ شفاف منصوبہ ہے، کیڑے نکالنے کی کوشش نہ کریں۔ان کا کہنا ہے کہ 5 سال جماعت اسلامی نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے ہیں، اگر کوئی خرابی تھی تو امیر جماعت اسلامی کیوں خاموش تھے؟شوکت یوسفزئی نے کہا کہ جاتے جاتے ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی عادت جماعت اسلامی سے نہیں گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور کی ترقی میں بڑی رکاوٹ جماعت اسلامی کے وزیر رہے جو کہ آستین کے سانپ نکلے ہیں جب کہ آئندہ جماعت اسلامی کو کبھی حکومت میں شامل نہیں کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

مودی کادعویٰ جھوٹ

شائع شدہ

کو

قومی مفادات نظرانداز

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کا پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کا تصوراتی دعوی کرنا عوام کی حمایت حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کا پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کا بار بار تصوراتی دعوی کرنا عوام کی حمایت حاصل کرنے کا طریقہ ہے یا پھر وہ کشمیر اور بھارت کے دیگر حصوں میں مظالم اور جنگی جرائم کی ذمہ دار اپنی فوج کی زبان بول رہے ہیں۔واضح رہے کہ دو روز قبل لندن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے 2016 میں لائن آف کنٹرول پر کیے گئے مبینہ سرجیکل سٹرائیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی برآمد کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا اور انہیں اسی زبان میں جواب دیا جائے گا جو وہ سمجھتے ہیں۔ مودی نے دعوی کیا کہ سرجیکل سٹرائیک کی خبر کو عام کرنے سے قبل پاکستانی حکومت سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ انہیں آپریشن کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔
تاہم پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارتی وزیر اعظم کے ان دعوو¿ں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بار بار دہرانے سے جھوٹ سچ نہیں ہوجاتا، بھارتی حکومت کا دعوی جھوٹا اور کھوکھلا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان کی حراست میں موجود بھارتی فورسز کے کمانڈر کلبھوشن یادیو اس بات کا ثبوت ہے کہ کون دہشت گردی میں ملوث ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مقبول خبریں