پاک چین دوستی میں دراڑ نہ آنے پائے!

تحریر: کامران گورائیہ
جنوبی ایشیاء میں شامل ممالک میں پاکستان اور چین کی دوستی کو رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، پاک چین دوستی کی لازوال رشتوں کی داستان بے حد طویل ہے جس پر درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں کتابیں بھی شائع کی جائیں تو شاید وہ کم ہی رہیں گی۔ چین تقسیم ہند کے ایک سال کے بعد ہی ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا، پاکستان چین کو ایک علیحدہ اور خود مختار ریاست تسلیم کرنا والا پہلا ملک تھا اور یہیں سے چین کے ساتھ دوستی کا نا ختم ہونے والا سفر شروع ہو گیا۔ چین نے بھی ہر قدم پر پاکستان کا ساتھ دیا ، احتسابی مشکلات ہوں یا پھر عالمی قوتوں کا دباؤ ہو ، جدوجہد آزادی کے لیے کشمیریوں کے مؤقف پر پاکستان کی رائے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا امن و امان کے لیے کی جانے والی کوششیں چین نے اقوام متحدہ سمیت ہر پلیٹ فارم پر پاکستان کے مؤقف کی تائید اور حمایت کی ، حتیٰ کہ چین وہ پہلا ملک ثابت ہوا جس نے پاکستان کو ایک ایٹمی قوت کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کی ضمانت قرار دیا۔ بھارت کے ساتھ تنازعات کے معاملات پر بھی چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ 
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورہ حکومت میں چین نے حکومت پاکستان سے اپنی دوستانہ وابستگی کی بنیاد پر سی پیک جیسا عظیم الشان منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ چینی صدر کے اعلان کے مطابق سی پیک منصوبہ میں گوادر پورٹ کی تعمیر اور توانائی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنا اولین ترجیح قرار دیا گیاتھا۔ چینی صدر نے ن لیگ کے دورہ حکومت میں اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبوں سمیت توانائی کے بہت سے منصوبوں کے لیے 45 ارب ڈالر کے معاہدے کیے تھے۔ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے اعلان پر روس اور ایران سمیت بہت سے دیگر ممالک نے اپنی دلچسپی کا اظہار بھی کیا تھا لیکن ہمسایہ ملک بھارت اور امریکہ کو ان منصوبوں پر سخت تشویش لاحق ہونے لگی اور یہ دونوں ممالک آج بھی ان منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں مگر چین امریکہ اور بھارت سمیت دنیا کے ان تمام ممالک کے خلاف ڈٹ ہوا ہے جو اس عظیم الشان منصوبہ کی مخالفت کر رہے تھے یا ابھی تک وہ مخالفانہ حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ 
عمران خان کی حکومت آنے کے بعد سے سی پیک ، گوادر پورٹ اور توانائی کے بہت سے ایسے منصوبے جو چینی سرمایہ کاری سے پاکستان میں لگائے جا رہے ہیں ان کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے۔ امریکہ نے اپنا عالمی اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے گوادر پورٹ پراجیکٹ پر عرب دنیا کو اپنا ہم خیال بنا لیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت بہت سی دیگر عرب ریاستیں وزیراعظم عمران خان کے دوروں کے مواقع پر پاکستان کی مشروط امداد کر رہی ہیں۔ پیش کی جانے والی ان شرائط میں گوادر پورٹ پراجیکٹ کو ختم کرنے اور توانائی کے بعض منصوبوں کو روکنے کا پابند بھی کیا گیا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عرب ممالک کی یہ شرائط من و عن تسلیم کر لی ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے رحیم یار خان میں توانائی کے منصوبہ کو بند کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ حکومت پاکستان کی طرف سے چین کو درخواست کی گئی ہے کہ وہ رحیم یار خان توانائی منصوبہ پر سرمایہ کاری نہ کرے کیونکہ اس منصوبہ کے علاوہ بھی چین کے تعاون سے پاکستان میں توانائی کے جن منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے ان منصوبوں کی تکمیل سے بجلی کی پیداوار میں اس قدر اضافہ ہو جائے گا کہ یہ ملک نہ صرف خود کفیل ہو جائے گا بلکہ بجلی دیگر ممالک کو دینے کے قابل بھی ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے بعد سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنے دورہ چین کے موقع پر رحیم یار خان میں بھی توانائی کا منصوبہ شروع کروانے کی درخواست کی تھی جیسے منظور کر لیا گیا اور اس منصوبہ پر کام کا آغاز بھی ہو گیا تھا لیکن اب اس منصوبہ کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے ۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنی خارجہ پالیسیوں کے نتیجہ میں جہاں چین کے تعاون سے سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسے منصوبے شروع کروائے وہاں اپنے دور میں عرب ممالک کے تعاون سے ناصرف ڈالر کو اونچی اڑان بڑھنے سے روکے رکھا بلکہ مفت تیل منگوا کر بھی اس ملک کی بہتری اور مفاد کو پیش نظر رکھا۔ نوازشریف کے دور حکومت میں پاکستان کے عرب ممالک اور چین کے ساتھ تعلقات میں کبھی بھی سرد مہری نظر نہیں آئی۔ ایٹمی دھماکے ہوںیا پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کا مسئلہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی۔ اس کے برعکس موجودہ حکمران صرف اور صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہر وہ حربہ اختیار کر رہے ہیں جو ان کے کرسی کو بچانے میں کارگر ثابت ہو سکے۔ چین کو سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹس سمیت پاکستان میں شروع کیے گئے بہت سے دیگر منصوبوں پر تحفظات ہیں جبکہ اسے اس بات کا بھی بہت حد افسوس ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کروانے میں کردار ادا کرنے کے لیے اسے اعتماد میں نہیں لیا ۔ سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے چین نے اپنی اس ناراضگی کا اظہار حکومت پاکستان اور دیگر ریاستی اداروں سے بھی کیا لیکن دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ چین کو نا صرف سی پیک منصوبہ پر بلکہ افغانستان سمیت پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی پر شدید تشویش لاحق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی یہ وضاحت دینے پر مجبور ہیں کہ سفارتی محاذ پر چین کے ساتھ پاکستان کے کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ 
عرب ممالک سے دوستانہ روابط،روس کے ساتھ دن بدن بہتر ہوتے تعلقات ‘افغانستان میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششیں ‘دہشت گردی کا خاتمہ ہو یا اقتصادی اور معاشی مسائل کا سامنا پاکستان کو دیر پا خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی ۔ مہنگائی ، بیروزگاری اور معاشی مسائل سے چھٹکارا پانے کے لیے اب بالکل ہٹ کر معاملات کو مختلف انداز سے آگے بڑھانا ہوگاورنہ کبھی پاکستان کی چین سے دوستی داؤ پر لگ جائے گی تو کبھی عرب دنیا کی ناراضگی کا خدشہ برقرار رہے گا۔ منتخب ہو کر آنے والی تمام حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ دوست ممالک کے ساتھ دوستی کو مزید مضبوط بنانے کی مخلصانہ کوششیں کریں اور اپنے سے پہلے کی حکومتوں کے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں میں کمی بیشی کرنے سے گریز کرے۔ پاکستان کی سا لمیت تمام سیاسی جماعتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے پر تنقید کرنے اور ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کے الزامات لگانے کا سلسلہ ترک کرکے صرف اور صرف وطن عزیز کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کے ساتھ ساتھ وہ بہترین خارجہ پالیسیاں بنائے جس سے اس ملک کا امیج پوری دنیا میں بہتر سے بہتر ہو سکے ۔ پاکستان جنوبی ایشیاء کا ایک اہم ملک ہے اس اہمیت کو سمجھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو نواز شریف دشمنی میں اس حد تک آگے نہیں نکلنا چاہیے کہ جس سے ہمارے ملک کی بدنامی ہو اور یہاں پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے کوئی بھی ملک تیار نہ ہو۔ اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہمسایہ دوست ملک چین کر رہا ہے چین کے اشتراک سے شروع کیے گئے وہ تمام منصوبے بالکل اسی طرح سے پایہ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہیں جنہیں سابق حکمرانوں کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔ چین سے پاکستان کی دوستی دنیا بھر کے لیے ایک مثال ہے اس دوستی کو ناصرف مزید مضبوط ہونا چاہیے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان بھروسے اور اعتماد کا کا رشتہ بھی قائم رہنا چاہیے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept