سابق وزیراعظم سے ملاقات

تحریر: کامران گورائیہ 

میں اپنے بڑے بھائی سیکرٹری اطلاعات لاہور عمران گورائیہ اور ایڈیشنل سیکرٹری لاہور توصیف احمد شاہ کے ہمراہ جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچا تو انہیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے کمرے میں ایک عام سی پرانی کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ان سے ملاقات کے لیے آنے والے 20 سے 25 افراد بھی اس وقت کمرے میں موجود تھے جن سے وہ گفتگو کر رہے تھے ۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ملاقات کے لیے آنے والوں سے کھڑے ہو کر ملتے اور مصافحہ کرتے، ملاقات کے لیے آنے والے ان لوگوں سے جن سے ان کی پرانی آشنائی تھی ان سے ان کے اہلخانہ کی خیریت دریافت کرتے اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے دنوں کی یادیں تازہ کرتے رہے۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ ان کے صحت بہتر نہیں تھی ان کا چہرہ ہشاش بشاش نہیں تھا ان کے ہاتھ بھی کپکپا رہے تھے ، چہرے پر روایتی تازگی بھی موجود نہیں تھی لیکن گفتگو کرنے میں ہمیشہ کی طرح ٹھہراؤ موجود تھا۔ وہ مکمل طور پر صحت مند نہیں ہیں اس کا ادراک انہیں خود بھی تھا۔ ملاقات کے لیے آنے والوں سے سیاست اور ملکی امور پر بھی گفتگو کر رہے تھے ۔ 

ہم جب ان سے ملے تو انہوں نے مصافحہ کرنے کے ساتھ ساتھ عمران گورائیہ اور توصیف احمد شاہ کو لاہور میں پارٹی کی از سر نو تنظیم سازی کرنے کی ہدایت بھی کی۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو جیل میں ہونے کے باوجود عمران خان حکومت کی کارکردگی اور کارگزاری سے مکمل طور پر آگاہی حاصل تھی اسی لیے انہوں نے کہا کہ ہمارے دورے حکومت میں شروع کیے گئے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں یا مکمل ہو نے والے ہیں ۔ لاہور سے خانیوال اور خانیوال سے رحیم یار خان موٹر وے منصوبے بھی مکمل ہو چکے ہیں مگر موجودہ حکومت ان کا افتتاح نہیں کر رہی۔ ایسا نہ کرنے سے عوام کی سہولت کے لیے بنائی گئی موٹروے کو استعمال نہیں کیا جا رہا۔ میاں نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ایل این جی اور سی این جی کے جن منصوبوں کو ملک کے نقصان کا سودا قرار دیا تھا آج وہ خود اس کی پہرے داری کر رہے ہیں۔ سی پیک پر تنقید کرنے والے اور اس منصوبہ کو بیکار کہنے والوں کی زبان کے یہ الفاظ ہیں کہ سی پیک ایک عظیم الشان منصوبہ ہے اور ملک کی ترقی کے لیے اس منصوبہ کی تکمیل انتہائی ضروری ہے ۔ میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے آنے والے ایک سابق کونسلر جنرل نے انہیں بتایا کہ عمران خان خود قبل از وقت الیکشن کروانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جس پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان الیکشن کروانے والے کون ہوتے ہیں ان کے پاس تو ایسا کوئی اختیار ہی نہیں ہے وہ ایک کٹھ پتلی وزیراعظم کی طرح ہیں جو صرف اشاروں اور ڈوروں پر ناچتے اور حرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خدا کا کام ہے کہ جب اسے منظور ہوگا الیکشن ہو جائیں گے ۔ ان کی گفتگو سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ وقت اور حالات میں موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر پائے گی اور ملک میں جلد انتخابات ہوں گے۔ 

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقاتیں کرنے والوں کے لیے 20سے 25 منٹ تک کا وقت مقرر تھا جس کے بعد اگلے ملاقاتی کمرے میں بھیج دیئے جاتے ۔ اراکین اسمبلی اور ن لیگی کارکنان بڑی تعداد میں میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے کھڑے تھے ۔ ان سے ملاقات کے لیے آنے والے تمام لوگوں نے اس عزم کا ارادہ ظاہر کیا کہ وہ ہمیشہ کی طرح اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہیں انہوں نے ہر طرح کے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ میں نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف سے سوال کیا کہ میاں صاحب ! آپ کی جیل میں موجودگی کی وجہ سی پیک منصوبہ ہے جس پر وہ خاموش رہے۔ میں نے دوسرا سوال کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ چائینہ کے پاکستان میں موجود سفیر حکومتی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور چین کی حکومت پاکستان سے بری طرح ناراض ہے اس پر آپ کا کیا مؤقف ہے، وہ پھر خاموش رہے ۔میں نے پھر پوچھا کہ آپ کی حکومت ایک عالمی سازش کے تحت ختم کروائی گئی اور آپ کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹایا جانا بھی اسی سازش کا حصہ تھا جس پر انہوں نے کہا کہ اللہ اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈال کر آزماتا ہے اور وہی ان مشکلات اور پریشانیوں کو ٹالنے والا ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ میرا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے اور اس ملک کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ملاقات کے آخری لمحات میں میاں نواز شریف سے اپنے کارکنوں اور اراکین پارلیمنٹ سے کہا کہ میری فکر بالکل نہ کیا کریں بلکہ ملک کے بارے میں سوچیں اور ملک کی بہتری کے لیے اقدامات اور فکر کریں۔ 

ان سے ملاقات کی خاص بات یہ تھی جس کا مجھے تاثر ملا اور اس کی میں نشاندہی کرنا چاہوں گا کہ میاں نواز شریف بخوبی آگاہ ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اپنے بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں، وہ یہ بھی جانتے تھے کہ عمران خان کی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر پائے گی اور الیکشن وقت سے بہت پہلے ہو جائیں گے۔ ایک اور خاص بات جو میں نے میاں نواز شریف کے رویہ اور گفتگو سے محسوس کی کہ وہ بھرپور طور پر حوصلہ مندی سے جیل کی سزا کاٹ رہے تھے انہیں اپنے مستقبل کی فکر نہیں تھی بلکہ وہ ملکی حالات اور سیاسی امور پر دلائل اور مکمل فہم و فراست کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے۔ 

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد مجھے اس بات کا بھی پختہ یقین ہو گیا کہ انہیں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں پہلے سے علم تھا اور وہ جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور وہ آنے والے حالات کے لیے تیار بھی تھے مگر وہ اپنی اسیری کی قربانی کو پاکستان اور عوام کے لیے ایک نئی امید بنتے دیکھنے کے خواہشمندبھی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار کسی صورت ممکن نہیں کہ پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسا منصوبہ جس دن سے شروع کیا یہ منصوبہ امریکہ اور بھارت کو روز اوّل سے ہی کھٹکنے لگا اور ان ممالک نے اس منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کے لیے سازشیں گھڑنا شروع کر دیں۔ میاں نواز شریف نے جب سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے اربوں روپے کی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے ایٹمی دھماکے کیے تھے تب بھی ان کی حکومت چھین لی گئی تھی اور ملک میں مارشل لاء نافذ ہو گیا تھا اس بار بھی وہ جیل میں صرف اور صرف سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کی وجہ سے سزا بھگت رہے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے سیاستدان ملکی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے باشعور ہونے کا ثبوت دیں اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا اپنا کردار دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں کیونکہ یہ ملک ہے تو وہ ہیں عوام ہیں اور سیاست کی دنیا ہے جس میں رہتے ہوئے آگے بڑھتے رہنا اور ترقی کے عمل میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرنا وقت اور حالات کی ضرورت ہے۔

You might also like