شہباز کی پرواز

تحریر: کامران گورائیہ
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے عہدہ سے ہٹانے کی بھرپور تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔ حکومتی حلقوں میں زبان زد عام ہے کہ میاں شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانا بڑی غلطی تھی اور اس غلطی کو اسی صورت میں سدھارا جا سکتا ہے کہ ان سے یہ عہدہ چھین لیا جائے۔ تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں کہ بطور چیئرمین پی اے سی شہباز شریف کی پرواز افق پر درست سمت کی طرف جا رہی ہے اور حکومت شہباز شریف سے خوفزدہ نظر آ رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو ان کے پارٹی رہنماؤں نے آگاہ کیا ہے کہ میاں شہباز شریف کو پی اے سی کی چیئرمینی سے کیسے ہٹایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مہمند اور بھاشا میر ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ ڈیسکون کمپنی کو دینے کے معاملے پر حکومت پہلے ہی سے شدید تنقید کا شکار ہے جبکہ عمران خان کو یہ اشارے بھی ملے ہیں کہ میاں شہباز شریف کے معاملات کہیں اور بھی طے ہونے جا رہے ہیں اس صورت حال کے پیش نظر جتنی جلد ممکن ہو انہیں چیئرمین پی اے سی کے عہدہ سے فارغ کرنا وقت اور حالات کا تقاضا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے میاں شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی کے عہدہ پر اس مقصد سے قبول کیا تھا کہ قانون سازی کے عمل میں اپوزیشن جماعتوں کی نمائندگی لازم ہے اور حکومت کے لیے قومی امور اور پارلیمنٹ کو چلانا مشکل ہو رہا تھا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے عمران خان کے اتحادی اور وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید نے شہباز شریف کی مخالفت کرنا شروع کی تھی انہوں نے اس معاملہ کو عدالت میں لیجانے کا بھی فیصلہ کیا تھا مگر حکومت کی بے یقینی اور ملک کو درپیش بدترین معاشی بدحالی کی وجہ سے کوئی نتیجہ فوری طور پر نکلتا ہوا نظر نہیں آ رہا ۔ عمران خان پچھلے کئی روز سے اپنے بیانات میں جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں وہ خواہش رکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کو سیاست سے بالکل آؤٹ کر دیا جائے مگر فیصلہ ساز اس فارمولے کو مسترد کر چکے ہیں ۔ عمران خان کے اپوزیشن مخالف بیانات اور لہجے کی تلخی اس بات کا اشارہ بھی دے رہی ہے کہ اب حالات ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں وہ بے بسی کی کیفیت سے دو چار ہیں ۔ عمران خان کے بیانات کی تلخی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں مل رہا۔ 
وزیراعظم عمران خان کو ترجیحی بنیادوں پر جن مسائل کو حل کرنا ہے ان میں ملک کی معاشی ابتری ، مہنگائی پر کنٹرول، ڈالر، بجلی اور گیس کی اونچی اڑان کو قابو میں رکھنا شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سعودی عرب، ترکی ، ملائیشیا، قطر اور چین کے دورے بھی کیے جو زیادہ کامیاب نہیں قرار دیئے جا سکتے۔ آئی ایم ایف سے عمران خان کے مذاکرات کامیاب تو ہو چکے ہیں مگر اس کے لیے انہیں عوام پر کھربوں روپے مالیت کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کا چیلنج درپیش ہے ۔ اپنی سیاسی جماعت کی ساکھ کو بھی بچانہ عمران خان کے لیے درد سر بن چکا ہے۔ عمران خان دو ٹوک فیصلے کرنے کے قائل رہے ہیں مگر انہیں اپنی اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ اس سلسلہ میں بلوچستان سے اختر مینگل گروپ ، سندھ سے ایم کیو ایم اور فنگشنل لیگ جبکہ پنجاب سے ق لیگ کو بھی مطمئن رکھنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت پر عمران خان کی گرفت دن بدن کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے اسی وجہ سے وہ قبل از وقت انتخابات کے خواہشمند بھی ہیں۔ عمران خان کا خیال ہے کہ پچھلے 6 ماہ کے دوران ان کی حکومت نے عوام کی امنگوں کے مطابق احتساب کے عمل کو آگے بڑھا کر پہلے سے زیادہ مقبولیت حاصل کر لی ہے مگر حقائق یہ ہیں کہ عمران خان کی حکومت اگر کسی وجہ سے ختم ہو جاتی ہے تو پھر تحریک انصاف کی حیثیت ق لیگ جیسی ہو جائے گی جو پرویز مشرف کے اقتدار کا خاتمہ ہوتے ہی بے وقعت اور غیر مقبول ہوگی تھی۔ اس حقیقت کا ادراک تمام سنجیدہ سیاسی حلقوں کو بھی ہے۔ اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اب ملک کی 2 بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی عمران خان کو سلیکٹڈوزیراعظم قرار دے چکی ہیں۔ 
اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف بھی دور اندیشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کر رہے جس سے حکومت کو کمزور کرنے کی کوششیں قرار دیا جاسکتا ہو۔ میاں شہباز شریف نے حکومت کی مخالفت میں کسی تحریک کا اعلان کیا نہ ہی ایسی کسی پیشکش کی حوصلہ افزائی کی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے اپنی جماعت کے سینئر سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ مکمل طور پر غیر جانبدار رہیں گے حکومت پر تنقید کی جائے گی مگر حکومت گرانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ شہباز شریف نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو یہ بھی بتایا ہے کہ بہت جلد انہیں ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا ئی مل جائے گی اور وہ بہت جلد عوام کے درمیان ہوں گے۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو آگاہ کیا کہ معاملات تیزی سے بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں بہت جلد اچھا وقت آنے والا ہے ۔ شہباز شریف نے ملک بھر میں مسلم لیگ ن کی تنظیم نو کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں ۔ اس بات کے بھی قوی امکانات ہیں کہ پارٹی قائد میاں نوازشریف بھی بہت جلد ضمانت پر رہا ہو کر عوام کے درمیان ہوں گے۔ اپنی گرفتاری سے قبل میاں نواز شریف نے ن لیگی رہنماؤں کو عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کی ہدایت بھی کی تھی جس پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ انداز لگانا مشکل نہیں کہ مسلم لیگ ن پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے ۔ ن لیگ کا مستقبل عوام کی خوشحالی سے وابستہ ہے۔ مسلم لیگ ن کے سابقہ دور حکومت میں ملکی معیشت بہترین ڈگر پر چل نکلی تھی جسے غیر مستحکم کرنے کے لیے پہلے میاں نواز شریف کو نا اہل کروایا گیا بعد ازاں انہیں پارٹی صدارت کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا تھا مگر میاں نواز شریف نے اپنی نا اہلی اور پارٹی صدارت کے عہدہ سے فراغت کے بعد بھی حوصلہ مندی کا ثبوت دیا وہ خندہ پیشانی سے عدالتی فیصلوں کو قبول کرتے ہوئے جیل میں قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی قربانی ملک کے شاندار مستقبل کے لیے رائیگاں نہیں جائے گی۔ بہت جلد حالات قابو میں آ جائیں گے اور مستقبل قریب میں ہی وہ پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر پہلے سے بھی کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچیں گے ۔ مسلم لیگ ن کے تمام سینئر رہنماء یہ بات زور دے کر کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف وزیراعظم ہاؤس میں رہنے سے کہیں زیادہ جیل میں خطرناک ثابت ہوں گے ۔ میاں شہباز شریف اپنی پارٹی قائد کا صدق دل سے احترام کرتے ہیں اوران کے فیصلوں پر عمل کرتے ہیں ۔ میاں شہباز شریف کی پرواز کہاں تک ہوگی اس کا فیصلہ اگلے 2 ماہ میں ہوتا نظر آ رہا ہے۔ امید کی کرنیں مسلم لیگ ن کے لیے نمودار ہوتی چلی جا رہی ہیں بہت سی دیگر سیاسی جماعتیں بھی مارچ کو ملک کی سیاست میں ہلچل کا مہینہ قرار دے رہی ہیں۔

You might also like