’’پرہیز علاج سے بہترہے‘‘

فطرت اور صحت کا چولی دامن کا ساتھ ہے،حکیم لقمان سے کسی نے پوچھا تھا کہ بیماریوں سے بچنے کا آسان اور سادہ نسخہ کیا ہے تو ان کا جواب تھا کہ فطرت پر چلو کبھی بیمار نہیں پڑو گے۔ آج صورتحال دیکھ لیں ہمارے ہسپتال نہ صرف مریضوں سے بھرے پڑے ہیں بلکہ گنجائش سے زیادہ مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ اس کی بنیادی اور اصل وجہ صرف فطرت اور سادگی سے دوری ہے۔ ہر جگہ اور ہر چیز میں بناوٹ آگئی ہے۔ ہمارے مزاج میں بناوٹ ، رہن سہن میں بناوٹ ، ہماری خوراک لباس، غرض ہر چیز میں بناوٹ ہے اور نتیجہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ چھوٹی چھوٹی عمروں میں بچوں کی بنیائی کمزور، صحت کمزور، مزاج بیمار، ذہنی اور جسمانی امراض کی بھرمار، مسائل اور پریشانیوں کے انبار، جواب کنبے چھوٹے ہونے کے باوجود بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ پرانے وقتوں میں کنبے بڑے ہونے کے باوجود صحت مند اور پر سکون ہوا کرتے تھے لیکن اب صورتحال بالکل الٹ ہے۔ پہلے بزرگوں کے چہرے بھی پررونق نظر آتے تھے لیکن اب بچوں اور نوجوانوں کے چہروں پر بھی وہ رونق اور تازگی نظر نہیں آتی جو اس عمل کا خاصہ ہے۔
رات گئے تک جاگنا، دن بھر سوئے رہنا، ہر قسم کے مسائل کو دعوت دینے کے برابر ہے۔ حضور نے فرمایا تھا کہ ”یااللہ میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت دے“ ہم اس فرمان کے بالکل اُلٹ چل رہے ہیں۔ تاجر حضرات دن چڑھے اپنا کاروبار شروع کرتے ہیں اور رات گئے بند کرتے ہیں ۔ عام لوگوں کی بھی کم و بیش یہی روٹین ہے جبکہ دن کی نیند رات کی نیند کا نعم البدل نہیں۔ ہوٹل پے ہوٹل کھلتے چلے جا رہے ہیں جہاں ملاوٹ اور بناوٹ اپنے عروج پر ہے اور جن کا سادگی اور صفائی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ پوری قومی چٹخارے کی عادی ہو چکی ہے اور پھر شکایت کرتی نظر آتی ہے کہ ہر چیز میں ملاوٹ ہے ہر چیز مہنگی ہے، غریب کیا کھائے یا ایسے میں ہماری صحت صحیح کیسے رہے ۔ آپ فطرت کے مطابق زندگی بسر کریں ،رات کو جلد سوئیں صبح جلد اٹھیں، اپنے مزاج اور غذا کو سادہ رکھیں ، آپ کا خرچ بھی کم آئے گا اور صحت بھی صحیح رہے گی۔
ہماری غذا کا ہمارے مزاج اور جسم پرڈ ائریکٹ اثر ہوتا ہے جس قسم کی ہم غذا کھاتے ہیں ویسے ہی ہمارے مزاج ہوتے ہیں جب سے ہم نے سادہ غذائیں اور فطری اصول چھوڑے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں رحم، صبر، درگزر اور قوت برداشت میں کمی ہی آئی ہے اور اس کی جگہ جسمانی، روحانی اور ذہنی امراض نے لے لی ہے۔
آج ہوٹلنگ سٹیٹس سمبل بن چکی ہے جس سے ایک طرف صحت کے مسائل بڑھے ہیں۔ مرد حضرات کی جیب پر اضافی بوجھ پڑا ہے وہیں ماں باپ کی مصروفیت بھی بڑھ گئی ہے وہ وقت جو بچوں کی تربیت پر صرف ہونا چاہیے تھا ۔ مردوں کا زیادہ وقت کمانے کی فکر میں اور ماﺅں کا کچن میں گزرتا ہے۔ آج کل کے ماں باپ کے پاس اولاد کے لیے ٹائم نہیں۔ رمضان ہی لے لیں جس میں سادگی کی بجائے کئی پکوانوں کا فیشن بن چکا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ زیادہ اور طرح طرح کے پر تکلف کھانوں کی وجہ سے اکثریت عید کے بعد بیمار ہو جاتی ہے۔
ہوٹلنگ کی وجہ سے مرد حضرات گھروں میں بھی توقع رکھتے ہیں خاتون خانہ سادگی کی بجائے پُر تکلف کھانے بنا کر کھلائے اور کہا جاتا ہے کہ مرد کے دل تک پہنچنے کا راستہ معدے سے ہو کر گزرتا ہے جبکہ پچھلے وقتوں کی عورتیں جن کے اکثر اپنے خاوندوں سے مثالی تعلقات ہوتے تھے جس کی جھلک آج کے معاشرے میں کم نظر آتی ہے اپنے مردوں کا دل جیتنے کے لیے یہ راستہ اختیار نہیں کرتی تھیں۔
قرآن پاک میں بھی اللہ تعالیٰ نے کھجور، انگور، زیتون، انار اور انجیر فطری غذاﺅں کا ذکر کیا ہے جبکہ مرغن غذاﺅں کا نہیں جس کا آجکل فیشن ہے۔ عید الاضحی کے موقع پر گوشت کو طرح طرح کے مسالوں کے ساتھ بھون بھون کر کھلانے کا رواج ہے اور نتیجہ کے طور پر اکثریت ہسپتالوں کا رخ کرتی ہے اور جو خاتون خانہ پکوان پکانے کا ہنر نہیں اپناتیں اسے اپنے ہی گھر میں پھوہڑ اور بے سلیقہ کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ایک طرف ہمیں مرغن غذاﺅں اور طرح طرح کے پکوانوں کی عادت ہے تو دوسری طرف ہمیں ورزش اور پیدل چلنے کی عادت نہیں کیونکہ ہم سب محنت سے جی چراتے ہیں۔ان حالات میں ہماری صحت کیسے ٹھیک رہ سکتی ہے۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ نے اپنی صحت کو دیکھنا ہے یا زبان کے چٹخارے کو جبکہ صحت ہزار نعمت ہے اور حضور کا بھی ارشاد ہے کہ ”پرہیز علاج سے بہتر ہے“ جیسے آج کی جدید سائنس بھی مانتی ہے۔ایک طرف ہمیں مرغن غذاﺅں اور طرح طرح کے پکوانوں کی عادت ہے تو دوسری طرف ہمیں ورزش اور پیدل چلنے کی عادت نہیں بلکہ محنت سے جی چراتے ہیں ایسے ہی ہماری صحت کیسے صحیح رہ سکتی ہے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept