Connect with us

کالم کلوچ

6″کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

Published

on

محترم جاوید چوہدری اپنے کالم "بحر مُردار کے کنارے” میں لکھتے ہیں کہ بحرمُرداریعنی ڈیڈ سی ہماری پہلی منزل تھی‘ میں نے یہ سفر سعودی عرب کے تین نوجوان پاکستانی بزنس مینوں کے ساتھ کیا‘ نعیم ارشد بورے والا سے تعلق رکھتے ہیں‘ انجم فیاض کلر سیداں اور علی رضا راولپنڈی کے رہنے والے ہیں‘ یہ تینوں سعودی عرب گئے‘ کمپنی بنائی‘ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور یہ عملی زندگی میں کامیاب ہو گئے‘ یہ اس وقت کامیاب بزنس مین ہیں‘ یہ لوگ جدہ سے اردن پہنچے اور میں پاکستان سے پہنچ گیا‘ ہم ائیر پورٹ سے سیدھے ڈیڈ سی نکل گئے۔
یہ عمان سے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ درمیان میں مودابا (Modaba) کا شہر ہے‘ یہ شہر موزیک انڈسٹری کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘مودابا کے کاریگر مختلف رنگوں کے پتھروں کے باریک ٹکڑے جوڑ کر تصویریں‘ نقشے اور پینٹنگز بناتے ہیں‘یہ شہر ہزاروں سال پرانے اس فن کا دارالحکومت ہے‘ آپ کوموزیک ویٹی کن سٹی سمیت دنیا کے تمام قدیم کلیساؤں میں ملتے ہیں۔
مصور دو ہزار سال سے پتھروں کے باریک ٹکڑے جوڑ کر چرچ کی دیواروں اور چھتوں پر انجیل مقدس کے مختلف واقعات پینٹ کرتے چلے آ رہے ہیں‘ یہ پینٹنگز ’’موزیک‘‘ کہلاتی ہیں‘ یہ فن مودابا سے فلسطین اور فلسطین سے پوری دنیا تک پہنچا‘ ہم مودابا سے گزرتے ہوئے ڈیڈ سی پہنچ گئے‘ عرب اسے بحرمیت کہتے ہیں‘ یہ قدیم زمانے میں بحر لوط بھی کہلاتا تھا‘ یہ دنیا کا پست ترین مقام ہے‘ سطح سمندر سے 1300 فٹ نیچے ہے۔ ڈیڈ سی دنیا کا واحد سمندر ہے جس میں کسی قسم کی حیات نہیں پائی جاتی ‘ اس میں مچھلی ہے اور نہ ہی کوئی پودا حتیٰ کہ اس میں کائی تک نہیں اگتی‘ آپ کو اس میں موج بھی دکھائی نہیں دیتی‘ اس پر کشتی‘ موٹر بوٹ اور بحری جہاز بھی نہیں چل سکتے‘ کیوں؟ کیونکہ ڈیڈ سی میں نمکیات کی مقدار 23 سے 25 فیصد ہے‘ عام سمندر میں یہ مقدار چار سے چھ فیصد ہوتی ہے چنانچہ بھاری نمکیات کی وجہ سے ڈیڈ سی میں زندگی ممکن ہے اور نہ ہی کشتی رانی‘ آپ جوں ہی سمندر میں کشتی ڈالتے ہیں یہ فوراً الٹ جاتی ہے۔
یہ دنیا کا واحد سمندر ہے جس میں کوئی زندہ شخص اور جانور ڈوب نہیں سکتا‘ سمندر کا بھاری پانی ہر جسم کو فوراً سطح پر لے آتا ہے‘ لوگ اس میں چھلانگ بھی نہیں لگاتے‘ یہ بس پانی میں بیٹھ جاتے ہیں اور پانی انھیں سطح پر لے آتا ہے جس کے بعد لوگ دیر تک سطح آب پر بیٹھے رہتے ہیں‘ بحرمیت کا کسی دوسرے سمندر سے کوئی رابطہ نہیں۔
قریب ترین سمندر بحیرہ روم ہے‘ خلیج عقبہ اردن کو ٹچ کرتی ہے لیکن عقبہ اور ڈیڈ سی کے درمیان ساڑھے تین سو کلو میٹر کا فاصلہ اور 1300فٹ کی اونچائی ہے، یوں یہ سمندر‘ سمندر کم اور 351 مربع میل لمبی جھیل زیادہ محسوس ہوتا ہے‘ گہرائی 1300فٹ‘ لمبائی 50 میل اور چوڑائی گیارہ میل ہے‘ اسرائیل نے 1967ء میں اس کے مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا تھا، یوں اس کا جنوب مشرقی علاقہ اردن اور مغربی علاقہ اسرائیل کے پاس ہے‘ بیت المقدس اس سے صرف 15 میل کے فاصلے پر ہے۔
آپ ڈیڈسی پر کھڑے ہو کر بڑی آسانی سے فلسطینی علاقے دیکھ سکتے ہیں‘ رات کے وقت بیت المقدس کی روشنیاں بھی دکھائی دیتی ہیں‘ سمندر کا پانی بخارات بن کر اڑتا رہتا ہے چنانچہ فضا میں ایک خواب ناک سی دھند چھائی رہتی ہے‘ ہوا میں نمکیات بھی ہیں اور گرمی بھی‘ آپ جوں ہی ڈیڈ سی کے قریب پہنچتے ہیں درجہ حرارت بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آپ کنارے پر پہنچ کر کوٹ اور جیکٹس اتارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ پوری دنیا سے لوگ قدرت کے اس عجوبے کو دیکھنے آتے ہیں۔ جناب عبد القادرحسن اپنے کالم "اشرافیہ کے الیکشن” میں لکھتے ہیں کہ ہفتہ اتوار بچوں کو اسکول سے چھٹی ہوتی ہے اور یہ دونوں دن ان کی عیاشی کے دن ہوتے ہیں، اسکول کا کام جیسے تیسے مکمل کر کے وہ ٹی وی کے سامنے آبیٹھتے ہیں اور اپنے پسندیدہ پروگرام لگا لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ٹی وی کا ریموٹ بھی اپنے قبضے میں کر لیتے ہیں تا کہ میں ان کے پسندیدہ پروگرواموں میں مداخلت نہ کر سکوں۔ صبح سے شام اسی کھینچا تانی میں گزرجاتی ہے، میری خواہش یقیناًخبریں سننا جب کہ بچے اس کے لیے قطعاً تیار نہیں ہوتے اور کہتے ہیں کہ بابا آپ ہر وقت خبریں ہی سنتے رہتے ہیں، میں ان کے معصوم سوالوںکے جواب میں مسکرا دیتا ہوں کہ ابھی ان کی عمر اتنی نہیں ہوئی کہ یہ ملک کی سیاست کے بارے میں جان سکیں، ان بچوں کو اپنی اس عمر میں اپنی دنیا میں ہی مست رہنا چاہیے اور ہمیں اپنی دنیا میں کہ دونوں کے لیے اس دنیا میں الگ الگ جہاں آباد ہیں ۔
ہر انسان اپنی خواہشات کے تابع زندگی زندگی گزارتا ہے اور اپنی چھوٹی بڑی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے ہر جتن کرتا ہے، میری بھی اس عمر ایک ہی خواہش ہے کہ میرے چھوٹے بچے یعنی میرے بچوں کے بچے میر ے ارد گرد رہیں، وہ مجھے تنگ بھی کرتے ہیں لیکن میں اس کے باجود خوش رہتا ہوں کہ ان کے معصوم سوال اور حرکتیں میرے لیے زندگی ہیں، اس لیے اس ہفتہ کو جب میں نے اپنا ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے ٹی وی پر اپنی مرضی کا چینل لگا لیا توان بچوں نے منہ بسورنے شروع کر دیے کیونکہ ان کے پسندیدہ پروگرام مس ہو رہے تھے جب کہ میں اس دن ملک میں ہونے والی سینیٹ الیکشن کی بڑی کارروائی سے آگاہ رہنا چاہتا تھا۔ سینیٹ الیکشن میں ایک بار پھر اشرافیہ طبقے کو ہی سینیٹ کے ٹکٹ دیے گئے جنہوں نے اپنی تعلقات اور مال و دولت سے ایوان بالا کا رکن منتخب ہونے کے لیے اپنی راہ ہموار کی۔ سینیٹ الیکشن میں ماضی کی طرح اشرافیہ کے ووٹ خریدنے کی باز گشت سنی گئی جن کے ثبوت الیکشن کے نتائج کے ساتھ ہی سامنے آگئے کہ ہر صوبے میں توقع کے برعکس نتائج غیر متوقع رہے اور ایسے ممبران بھی منتخب ہو گئے جن کی پارٹیوں کے پاس مطلوبہ تعداد میں ووٹ موجود نہیں تھے، اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہمیشہ کی طرح مال و دولت کی چمک اپنا رنگ دکھا گئی اور اس کے بارے میں اکثریتی پارٹیوں کے لیڈروں نے بھی کہہ دیا کہ سینیٹ الیکشن میں بد ترین ہارس ٹریڈنگ ہوئی۔
ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاح کا استعمال کب شروع ہو ا،اس کے بارے کچھ واضح نہیں لیکن گھوڑا جو کہ ایک عالیشان جانور ہے اور ان کا کاروبار اور سواری بھی باعث فخر سمجھی جاتی ہے، اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کا تعلق بھی اشرافی طبقے سے ہی ہے دنیا بھر میں امیر ترین افراد ہی اس کاروبار سے منسلک ہیں اور اس کا کاروبار اونچے طبقے کا کاروبار سمجھا جاتا ہے اس لیے شائد یہ سمجھا گیا ہے کہ اگر اشرافیہ طبقے میں ووٹ کی لین دین کے معاملات ہوں تو اس کے بارے میںاصطلاح بھی ان کے شایان شان ہونی چاہیے اور یوں لگتا ہے کہ اس طرح ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاح وجود میں آئی اور اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کے علاوہ اعلیٰ نسل اور خاندان اشرافیہ سے تعلق رکھنے والوں کواپنے ووٹ کی خریدو فروخت کے لیے یہی اصطلاح پسند آئی اور رائج کر دی گئی۔
سینیٹ الیکشن میں سیاسی پارٹیوں نے جہاں پر اشرافیہ طبقے کو ہی ٹکٹ کے لیے ترجیح دی وہیں پر پیپلز پارٹی نے اپنے کارکنوں کو بھی سینیٹ میں بھجوا کر ایک اعلیٰ مثال قائم کی ۔ پیپلز پارٹی کی سندھ سے سینیٹ کی نومنتخب رکن کرشنا کماری کا کہنا ہے کہ ان کے والدین کو پتا ہی نہیں کہ سینیٹر کیا ہوتا ہے، وہ کہتی ہیں کہ مجھے خود بھی یقین نہیں آرہا کہ میں سینیٹر منتخب ہو گئی ہوں۔ یہ سب ایک خواب سا لگ رہا ہے، خاندان کے لوگ جو مبارکباد دینے آرہے ہیں ان کو میرے والدین یہ بتا رہے ہیں کہ ان کی بیٹی کو اسلام آباد میں اعلیٰ ملازمت مل گئی ہے اور وہ اب اسلام آباد چلی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کا وجود ہی اس کے غریب کارکنوں کے مرہون منت ہے، یہ بات الگ ہے کہ اس کے کارکنا ن اس سے ناراض ہیں لیکن آصف زرداری سیاسی جوڑ توڑ کر ماہر ہیں، وہ عام انتخابات سے پہلے ناراض کارکنوںکو منانے کے علاوہ پارٹی میں جیتنے والے امیدواروں کو شامل کرنے کے لیے جوڑ توڑ کر رہے ہیں جس کا آغاز انھوں نے سینیٹ الیکشن میں بلوچستان سے کر دیا اور اب ان کے برخوردار بلاول بھٹوکا دعویٰ ہے کہ چیئر مین سینیٹ ان کا ہوگا۔
اس دعویٰ کو حقیقت میں بدلنے کے لیے آصف زرداری خود میدان میں ہیں اور وہ یہ بھر پور کوشش کریں گے کہ نواز لیگ کو سینیٹ میں شکست دے کر اپنا چیئر مین منتخب کرا لیں جو ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن ناممکنات میں سے نہیں کیونکہ نواز لیگ کے پاس بھی مطلوبہ اکثریت نہیں، اس کو بھی چیئر مینی کے لیے اتحادیوں کی ضرورت ہے۔ سینیٹ کی تیسری بڑی پارٹی تحریک انصاف ہے جو اگر سیاسی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرے تو نواز لیگ کو سینیٹ سے باآسانی دور رکھا جاسکتا ہے لیکن عمران خان شائد یہ نہیں چاہئیں گے کہ عام انتخابات سے قبل وہ پیپلز پارٹی سے سینیٹ میں اتحاد کر لیں،اس سے ان کی عوامی ساکھ اور کرپشن مخالف مہم متاثر ہو نے کا خدشہ ہے ۔ بہر حال آنے والے چند دن میں سینیٹ کی صورتحال کسی حد تک واضح ہو جائے گی اور یہ معلوم ہو جائے گا کہ اشرافیہ کے یہ نمایندے اپنا چیئر مین منتخب کرنے کے لیے کس بھاؤ اپنے ضمیر کا سودا کرتے ہیں۔ محترم وسعت اللہ خان اپنے کالم "کیا قانون اور انصاف ایک ہی شے ہے؟” میں لکھتے ہیں کہ یہ قصہ تقریباً ہر قانون دان سناتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جب لندن پر جرمن فضائیہ غول در غول بمباری کر رہی تھی اور ہر جانب آگ اور ملبہ نظر آرہا تھا، وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کو روزانہ نقصانات کی تفصیل پیش کی جاتی۔ ایک روز چرچل نے پوچھا مادی نقصانات کی تو بھر پائی ہو جائے گی، یہ بتائیے کہ عدالتیں کام کر رہی ہیں ؟ بتایا گیا کہ جی ہاں عدالتیں کام کر رہی ہیں۔چرچل نے کہا زبردست۔جب تک عدالت فعال ہے کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا۔
وہ چرچل تھا اور وہ برطانوی نظامِ انصاف تھا کہ جس پر چرچل سمیت ہر ہما شما کو اعتماد تھا اور بہت حد تک آج بھی ہے۔مگر یہ اعتماد اوپر سے نیچے تک کیوں تھا اور آج تک کیوں ہے ؟ شائد اس لیے کہ جس ملک میں عام آدمی کو ایسا لگے کہ عدالتیں بنیادی حقوق کی مسلسل غیر مشروط ضامن ہیں، وہاں اندھے انصاف پر اندھا اعتماد ہی ہو سکتا ہے۔اگر ایسی عدالتوں کا دائرہ کار چیلنج کرنا بھی ایک چیلنج ہے اور اکثر ملزم بھی ایسا چیلنج قبول کرنے سے کتراتے ہیں۔
مستحکم معاشروں میں عدلیہ پر اندھے اعتماد کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عدلیہ محض کاغذ پر نہیں حقیقت میں بھی خودمختار ہوتی ہے۔کسی مستحکم معاشرے میں بھی اسقاطِ انصاف ( مس کیرج آف جسٹس ) ہو سکتا ہے مگر اس کا زیادہ تر سبب تحقیق و پراسکیوشن کا معیار ہوتا ہے۔اگر دونوں شعبے رپورٹنگ، شواہد اور گواہی کے معاملے میں صادق اور امین نہ ہوں تو پھر دستیاب ریکارڈ اور شواہد کی بنا پر اسقاطِ انصاف ممکن ہے۔ یعنی فیصلہ غلط، ناقص یا نامکمل ہو سکتا ہے فیصلہ دینے والا غلط نہیں ہو سکتا یا نہیں ہونا چاہیے۔ کئی ممالک میں آئینی عدالت الگ سے ہوتی ہے تاکہ آئینی حقوق و فرائص اور نفاذ سے متعلق امور کو زیادہ صراحت اور تیزی سے نمٹایا جا سکے۔کئی ممالک میں کوئی بھی مقدمہ سیدھا سپریم کورٹ میں نہیں آ سکتا۔توقع کی جاتی ہے کہ فریقین ہائی کورٹ کی سطح تک مطمئن کر دیے جائیں گے اور ہر فیصلے کو مزید اوپر چیلنج کرنے کے عادی نہ ہوں گے۔اگر نظام اس قدر ناقص ہو کہ ہر مسئلے کا ازخود نوٹس لینے کی ضرورت پیش آ رہی ہو تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ زیریں عدالتوں سے کام ، فیصلہ اور نفاذ نہیں ہو پا رہا۔لہذا اعلی عدلیہ کی سب سے بڑی ترجیح یہ بنتی ہے کہ وہ اوپر سے نیچے تک عدالتی مشینری کو موثر اور فعال بنائے اور جو کام مقننہ یا انتظامیہ کر سکتی ہے وہ انھی سے کروائے۔
کوئی چوکیدار پہرے کے اوقات میں غائب ہو رہا ہے یا چاق و چوبند رہنے کے بجائے پتھر کی طرح کرسی پر دھرا رہتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں خود پہرے پر کھڑا ہو جاؤں۔ بات تو تب ہے کہ میں اسی چوکیدار کو اپنے فرائص کی ادائی پر مجبور کر دوں۔خود کھڑا ہونے سے پہرہ تو ہو جائے گا مگر چوکیدار اور شیر ہو جائے گا کہ میں اپنا کام کروں نہ کروں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔صاحب خود آ کے پہرہ دے لیں گے۔دوسرے کا کام اپنے ذمے لے لینا حکمت نہیں۔ حکمت یہ ہے کہ جس کا کام ہے اسی سے خوش اسلوبی یا تادیب کے ساتھ بوجھ اٹھوایا جائے۔آگے آپ خود سیانے ہیں۔

Advertisement

کالم کلوچ

قادری عمران کھانا اورملکی سیاست

Rashid Saeed

Published

on

پاکستانی سیاست میں ہر دن نیا دن ہوتا ہے سیاسی بسات کے مہرے اپنی چالیں چلتے رہتے ہیں اور یہی سیاست کا حسن ہے۔ پاکستان کے سینئر سیاستدان شیخ رشید جو ہر روز سونے سے پہلے یہ دعا کرکے سوتے ہیں کہ جب وہ صبح اٹھائیں تو نواز حکومت ختم ہو چکی ہو لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ بہر حال وہ پاکستان کے ایک سیزن سیاستدان ہیں اور وہ بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ تمام اپوزیشن جماعتیں یکجا ہو کر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلائیں۔ ابھی تک تو ان کو اس حوالے سے مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی مگر ان کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کی کوششوں کی بدولت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہر القادری کھانے پر ملاقات کریں گے۔یہ خبر بھی انہوں نے طاہر القادری کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔اگر مولانا طاہرالقادری کو عمران خان کے گھر جا کر کھاناکھاناپڑاتو میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ کھاناکیسا ہوگا اور کیا طاہر القادری کی مرضی کا ہوگا کہ نہیں؟ مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ طاہر القادری شوق سے کیا کھاتے ہیں۔جو میں نے سناہے کہ وہ شاید سبزی اورآلو قیمہ پسند کرتے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بارے میں میں بتا سکتا ہوں کہ وہ کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں اور اگر ان کومولانا طاہر القادری نے کھانے کی دعوت دی تو مینو کیا ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کے سربراہ کو دیسی مرغ ، شکار کا گوشت جس میں بیٹر، تتر ، مرغابی سمیت کوئی بھی شکار ہو بہت پسند کرتے ہیں ساتھ ہی بکرے کی ران روسٹ بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ ان تمام پکوان کو دیسی گھی میں پکوایاجائے تو بہت اچھا ہوگا ۔ ان تمام اشیاءکو بتانا اتنا ضروری نہ تھا لیکن ان کے بارے میں تفصیلات اس لیے بتا رہا ہوں کہ طاہر القادری صاحب کو کسی سے پوچھنا نہ پڑے۔ اب بات کر لیتے ہیں ملکی سیاست کی ۔ پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک کو ایک مرتبہ پھر قریب لانے میں شیخ رشید نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ چونکہ شیخ رشید صاحب کا خیال ہے کہ اگر 30 روز کے اندر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک نہ چلائی گئی تو حکومت کا جانا نہ ممکن ہوگا اور الیکشن2018ءمیں ہی ہوں گے اور شیخ صاحب یہ مطلع بار کہہ چکے ہیں کہ اگر میاں نوازشریف کی حکومت 2018ءتک رہی تو اس کے بعد بھی اگلی حکومت مسلم لیگ ن کی ہی ہوگی اور ان کو ہرانا تقریباً نہ ممکن ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ صاحب اپوزیشن کو متحرک کرنے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف جو کہ عوامی دباﺅ حکومت پر بنا رہی رہے اس سلسلے میں تحریک انصاف ملک بھر میں جلسے اور ریلیاں کر رہے ہیں۔ میری ناقص عقل کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ عوامی دباﺅ اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے حکومت کو دباﺅ میں رکھا جائے تاکہ حکومت کوئی بڑی غلطی کر سکے۔ اگر حکومت کوئی بڑی غلطی کرتی ہے تو قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اور اگر حکومت کوئی بڑی غلطی نہیں کرتی اور قبل از وقت انتخابات نہیں ہوپاتے تو کم از کم حکومت کو 2018ءکے الیکشن تک مسلسل دباﺅ میں رکھا جائے گا اور عوام میں حکومت کی بدعنوانی اور حکمرانوں کی کرپشن کا ایشو زندہ رکھا جائے ۔ تحریک انصاف موجودہ صورتحال کے پیش نظر بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ عوامی رابطہ مہم جس کا نام انہوں نے احتساب موومن رکھا ہے۔ اس میں ملک کے تمام اپوزیشن حماعتیں ان کے ساتھ دیں گی۔ اسی ضمن میں انہوں نے اپنی پارٹی رہنماﺅں کی دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کی ڈیوٹی بھی لگائی اور تحریک انصاف کو دوسرے درجے کی قیادت جس کی سربراہی پارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی ، سنی تحریک اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سمیت عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سے ملاقاتیں کیں۔ اطلاعات ہیں کہ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور دیگر چند سیاسی جماعتوں نے عمران خان کی احتساب ریلی میں علامتی طور پر شرکت کی یقین دہانی کروائی جبکہ پاکستان عوامی تحریک ، سنی تحریک سمیت دیگر مذہبی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کا وعدہ کیا۔ یہ عمل باعث تعجب ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے جہانگیر ترین کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے وفد اور عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید کے ساتھ مشترکہ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ لاہور میں ہونے والی پی ٹی آئی کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ ان کی جماعت پاکستان عوامی تحریک اسی روز یعنی کے 3ستمبر کو پنڈی میں حکومت کے خلاف عوامی اجتماع کر رہی ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک طرف پاکستان عوامی تحریک عمران خان کے ساتھ لاہورکی ریلی میں شامل ہونے کے لئے اپنے کارکنوں کو شرکت کی اپیل کر رہے ہیں جبکہ خود پنڈی میں بھرپور دھرنا دے رہے ہیں ۔پاکستان عوامی تحریک کے کارکن کی روایت رہی ہے کہ وہ جہاں بھی ان کااجتماع ، دھرنا یا سیاسی پروگرام ہو تو تمام کارکن وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا طاہر القادری کی جماعت کے کارکن پنڈی میں ہونے والے اپنے اجتماع میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ لاہور میں ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی عوامی ریلی میں مولاناکی جماعت کی علامتی شرکت ہوگی۔ پاکستان تحریک انصاف عروج کا آغاز لاہور کے تحریکی مینار پاکستان کے جلسے سے ہوا ۔مجھے ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں مل رہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی لاہور میں ہونے والی ریلی میں تمام سیاسی جماعتوں کوشرکت کی دعوت کیوں دی ہے اور اگر دی ہے تو یہ کیوں کہا ہے کہ سب اپنے اپنے کینٹینر پر آئیں۔ اگر کپتان حکومت کے خلاف تمام اپوزیشن کو ملا کر بھرپور عوامی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو پھر اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے سربراہوں کو ایک کنٹینر پر ہونا چاہیے تا کہ حکومت کو یہ تاثر دیا جائے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف یکجا ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے آج کل سیاسی مشیر کون ہیں میں وثوخ سے نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ کپتان کے ساتھ مخلص نہیں۔ عمران خان کے مشیروں سے عمران خان کو وقتی طور پر سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کو نقصان ہو رہاہے اور روز بہ روز پارٹی اختلافات میں شدت آ رہی ہے۔ خان صاحب نے جہلم سے فواد چوہدری جبکہ بورے والا سے عائشہ نذیر جٹ کو حالیہ ہونے والے ضمنی الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دی ہے۔فواد چوہدری نے جہلم NA67 سے پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیا ۔ اگرچہ انہوں نے 2013ءکے الیکشن کے مقابلے میں 30 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے لیکن جہلم سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن انکوٹکٹ دیئے جانے پر خوش نہ تھے ان کا مو¿قف ہے کہ فواد چوہدری متعدد بار سیاسی جماعتیںتبدیل کر چکے ہیں وہ پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن صرف اس لیے لڑے کہ ان کے پاس کوئی اوراچھا (0pption)آپشن نہ تھا اسی طرح بورے والا سے پی پی 232کی ٹکٹ عائشہ نذیر جٹ جو کہ سابقہ ایم این اے نذیر جٹ کی بیٹی ہے ان کو دی گئی۔ نذیر جٹ پہلے ق لیگ اور پھر پیپلز پارٹی میں رہ چکے ہیں ۔ اب ان کے لئے بہتر آپشن پی ٹی آئی تھا اور پاکستان تحریک انصاف نے بہتر امیدوار ہونے کے ناطے ان کو ٹکٹ جاری کر دیا۔ اس فیصلے کو بھی بورے والا کی تحریک انصاف کی قیادت نے نہیں سراہا بلکہ ان کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف بھی ایک روایتی سیاسی جماعت بن چکی ہے جو نظریات کی بجائے دھرہ بندی اور برداری کی سیاست کواہمیت دے رہی ہے۔ عائشہ نذیر جٹ کے بارے میں انتخابی مہم شروع ہوتے وقت یہ تاثر عام تھا کہ وہ با آسانی ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوجائیں گی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز جو کہ جہلم اور بورے والا دونوں الیکشنوں کی براہ راست نگرانی کر رہے تھے ان کو بھی یہی اطلاعات مل رہی تھیں کہ عائشہ نذیر جٹ انتہائی مضبوط امیدوار ہیں اوران کو ہرانا آسان نہ ہے کیونکہ ان کے والدنذیر جٹ برادری اور دھروں کی سیاست کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور یہی سے 2008ءمیں وہ آزاد حیثیت سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں ۔ نذیر جٹ جوکہ اپنی بیٹی کی خود کمپیئن بھرپور انداز سے چلا رہے تھے ان کو بھی یقین تھا کہ وہ یہ سیٹ با آسانی جیت جائیں گے مگر ایسا نہ ہوا حمزہ شہباز شریف کی ٹیم نے اس حلقہ میں بھرپور عوامی رابطہ مہم چلائی اور میری اطلاعات ہیں کہ یہاں سے پی ٹی آئی کے سابقہ ٹکٹ ہولڈر سمیت پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے اہم رہنماﺅں پس پردہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اپنے زیر اثر لوگ اور دھروں کے ووٹ بھی مسلم لیگ ن کو دلوائے ہیں۔ مجھ یقین ہے کہ کپتان کو ان کے رفقاءنے دونوں ضمنی انتخابات کے حوالے سے یہ بریفنگ دی ہوگی کہ پارٹی نے بھرپور طریقے سے پرفارم کیاہے جس سے پارٹی کی مقبولیت کااندازہ لگایا جاسکتاہے اور ان سے اصل حقائق پوشیدہ رکھے ہوں گے۔ کپتان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اورکان چند قریبی مشیروں کی جانب مرکوز کروانے کی بجائے اپنے عام ورکر کی آواز اور رائے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

Continue Reading

کالم کلوچ

جنت کا دروازہ

Published

on

میں سڑک کنارے پیدل چل رہی تھی کہ اچانک میرے کانوں میں ایک صدا گونجی اوئے پترا۔۔۔۔۔ ان الفاظ سے دل میں عجب سا درد محسوس ہوا اور میرے قدم وہیں رک گئے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک بوڑھا جس کی جھکی کمر موٹے شیشوں والی عینک کانپتے ہاتھ، صاف ستھرے کپڑے سفید پگڑی سر پر اور وہ زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ جب میں نے دیکھا تو وہ کچھ بول نہیں پا رہا تھا وہ اپنے کانپتے ہاتھ آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پھر بھی اس کے ہاتھ اٹھ نہیں رہے تھے۔ دیکھنے سے صاف ظاہر تھا کہ بھیک مانگنے میں کتنی شرمندگی ہو رہی ہے اسے۔ مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے اس ضعیف مانس سے پوچھا کہ آپ اچھی نسب کے لگتے ہو تو یہ فقیری کیوں؟ تو اس کی آنکھوں میں اشک بھر آئے۔ عینک کے نیچے سے ہی دونوں ہاتھوں سے وہ اپنے اشک سمیٹنے لگا۔ میں نے بات کو دہراتے ہوئے کہا بتائیں ناں بابا۔ تو اس نے ڈگمگاتی ہوئی آواز سے بتایا۔ آج صبح میں کمرے میں سویا ہوا تھا اچانک میری آنکھ کھلی تو میرے کانوں میں کچھ آوازیں آئی جب میں نے غور کیا تو میرے بچے بحث کر رہے تھے میرا چھوٹا بیٹا جس کے ساتھ میں پچھلے تین سالوں سے رہ رہا تھا وہ اب مجھ سے مخلصی چاہتا ہے جب تک جائیداد میرے نام تھی بہت تابعداری کی میری۔ لیکن اب جب اپنی ساری جمع پونجی میں نے تینوں بیٹوں کو برابر حصوں میں تقسیم کر دی تو میرے چھوٹے صاحبزادے کو اس بات پر اعتراض تھا کہ جب حصہ سب کو برابر ملا تو پھر باپ کی کفالت مجھ اکیلے کے حصے میں کیوں؟ مجھے کس بات کی سزا ہے؟ اور میرے دونوں بڑے بیٹے یہ کہہ رہے تھے کہ ماں باپ چھوٹے کے حصے میں ہی آتے ہیں ہم نے پہلے بہت کیا باپ کیلئے اب تمھاری باری ہے تب میرا چھوٹا بیٹا میری ضروریات زندگی کا حساب کرنے لگا یہاں تک کہ تین وقت کے کھانے کی ضرب تقیسم کرنے لگا۔ اس وقت مجھے ان کا بچپن یاد آ گیا جب میں خود بھوکا رہ کر ان کو تین وقت کا کھانا کھلاتا تھا اپنی خواہشات کو دفن کر کے ان کو اس لائق بنایا کہ وہ اپنی خواہشات پوری کر سکیں۔۔۔ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بوڑھا باپ بولا ان ہاتھوں نے ہمیشہ اپنی اولاد کو دیا ہے آج یہی ہاتھ اسی اولاد کے منہ در منہ پھیلاتے ہوئے مجھے لاج آتی ہے۔ میری کل کائنات میری اولاد ہے انھیں لگا کہ ہمارا باپ اونچا سنتا ہے مگر ان کا ایک ایک لفظ میرے کانوں میں گونج رہا تھا اور میں بنا کچھ بولے وہاں سے نکل آیا۔ بھیک مانگتے ہوئے لوگوں کی گالیاں برداشت کر لوں گا مگر اپنے بچوں کی طنزیہ باتیں سننے کی ہمت نہیں مجھ میں ۔
والدین کے دلوں میں اللہ تعالی نے محبت کے ایسے خزانے رکھ دئیے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے اولاد فرمابردار ہو یا گستاخ والدین شفقت کی برسات کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اولاد تو والدین کا حساب آسانی سے کر لیتی ہے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ والدین کی محبت اگر دولت کی ہی محتاج ہو تو پھر وہ اپنی جوانی کے بہترین دن رات اپنی اولاد پر خرچ کرنے کی بجائے دنیا کا مال جمع کرنے میں گزارتے۔ بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس کا تن بھی اس کے والدین ڈھانپتے ہیں تب کتنے پیسے دے کر وہ والدین کی محبت خدمت اور پیار خریدتا ہے۔ ماں کے پیروں تلے جنت ہے تو باپ جنت کا دروازہ ۔ باپ کے چہرے کی طرف ایک بار دیکھنا ایک حج جتنا ثواب ہے۔ بدبخت ہیں وہ اولادیں جو جنت کا دروازہ خود اپنے لیے بند کر لیتی ہی

Continue Reading

کالم کلوچ

ناشکری

Published

on

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے“ – قرآن پاک کی آفاقی سچائیوں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ جب ہم اپنے فرائض ادا کرتے چلے جاتے ہیں تو ہمیں ہمارے حقوق بھی ملتے چلے جاتے ہیں یہ حقوق و فرائض کا ایک تعلق ہے جب یہ تعلق ٹوٹتا ہے تو مسائل ، شکوے، شکایات، ناشکرا پن، احتجاج اور بغاوت جنم لیتے ہیں۔ ہم اپنے حقوق کی بات تو بہت کرتے ہیں لیکن اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت اور سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اپنے ہر مسئلے کا ذمہ دار ہم دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ قرآن پاک نے بھی فیصلہ کر دیا ہے کہ ”تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے سو تمہارے فعلوں سے ہے“۔ بہت سارے مسئلے ہم اپنے لیے خود پیدا کرتے ہیں اور پھر بیٹھ کر روتے ہیں۔ بحیثیت قوم کے ہمارا وطیرہ بن چکا ہے کہ ہم اپنے جائز و ناجائز مطالبات منوانے کے لیے احتجاج ، توڑ پھوڑ، جلاﺅ گھیراﺅ کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور احتجاج کے دوران ہم اپنی جہالت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں قومی املاک جو ہمارے ہی خون پسینے کی کمائی سے بنتی ہے ان کو جلاتے ہیں توڑ پھوڑ کرتے ہیں ، ٹائر جلا کر ماحول کو آلودہ کرکے بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں، سڑکوں کو بلاک کر کے ایمبولینس میں مریضوں کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ مسافروں کو مشکل میں ڈالتے ہیں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، اُبلتے گٹر ، دن کے اوقات میں بھی چلتی سٹریٹ لائٹس ، سرکاری نلکوں سے ضائع ہوتا پانی، ملاوٹ پبلک اور سرکاری اداروں خصوصاً سرکاری ہسپتالوں کے گندے ٹوائلٹ، سرکاری منصوبوں کے پیسے ہڑپ کرنا یہ سب کس کی غیر ذمہ داری ہے؟ حکومت کی؟ نہیں بلکہ بحیثیت قوم ہماری اپنی، جب ہم اپن گھروں کو صاف رکھتے ہیں تو گلی محلوں، سڑکوں اور ہسپتالوں وغیرہ میں کیوں گند مچاتے ہیں کیااس میں بھی حکومت کا قصور ہے۔ ایک مفکر نے ٹھیک کہا تھا کہ ”جو قوم اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا نہیں کرتی ، ہروقت اپنے حقوق کا مطالبہ، احتجاج اور بھوک ہڑتال ، قرضہ اور آپسی لڑائی اس کا مقدر بن جاتی ہے“ بحیثیت قوم اگر ہم اپنی ذمہ داریاں ایمان داری سے ادا کرنا شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ ہم پر حکمران بھی ہر لحاظ سے اچھے ہی” نازل” کرے گا۔

Continue Reading
driving
انٹرنیشنل4 گھنٹے ago

خواتین کو ڈرائیونگ سکھانے والے نئے سکول قائم کرنے کا عندیہ

D R C
کھیل5 گھنٹے ago

سیزن کے افتتاحی میچ میں ویسٹرن آسٹریلیا کی نمائندگی سے محروم

flood
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

نائیجیریا: سیلاب کی زد میں آکر 100 سے زائد افراد ہلاک

Refugees
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

نیوزی لینڈ کا ڈیڑھ ہزار مہاجرین کو پناہ دینے کا اعلان

arrested
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

منشیات سمگلنگ میں 21 مشتبہ افراد کو 15سال کی سزا

knife attack
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

جاپان میں چاقو کے وار سے پولیس اہلکار ہلاک

niteen
انٹرنیشنل6 گھنٹے ago

شام میں ایران کے خلاف کارروائی نہیں رکے گی: بینجمن نیتن یاہو

Ranbir Kapoor
شوبز6 گھنٹے ago

کامیابی سنبھالنا ناکامی سے آسان ہے: رنیبر کپور

Hans Georg Maassen
انٹرنیشنل6 گھنٹے ago

جرمن انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ہانس گیورگ ماسن عہدے سے برطرف

police crack down
پاکستان7 گھنٹے ago

پولیس کی کارروائی، شراب کا کنٹینر برآمد، ٹرک ڈرائیور گرفتار

shahid kapoor
شوبز7 گھنٹے ago

بھارتی فلم انڈسٹری میں اقربا پروری کیخلاف ہوگئے

British police
انٹرنیشنل7 گھنٹے ago

حادثہ یا دہشتگردی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پولیس کی کارروائی جاری

Shilpa
شوبز9 گھنٹے ago

11 سال بعد بالی ووڈ میں واپسی کیلئے تیار

sardar atiq
کشمیر9 گھنٹے ago

شریف خاندان کی رہائی کے پیچھے این آر او ہے:عتیق احمد خان

man marziyan
شوبز9 گھنٹے ago

’من مرضیاں‘ ریلیز کے بعد ہی قانونی شکنجے میں پھنس گئی

mariyam nawaz
پاکستان12 گھنٹے ago

مریم نواز نے رہائی کے بعد بڑا فیصلہ کر لیا

shahbaz shrif
پاکستان15 گھنٹے ago

شہباز شریف کی والدہ کو خوشخبری

nawaz shrif
پاکستان11 گھنٹے ago

رہائی کے بعد نواز شریف ،مریم نواز کی تازہ ترین تصاویر سامنے آ گئیں

mariyam orang zaib
پاکستان13 گھنٹے ago

مریم اورنگزیب جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں …….. رو پڑیں

faisal javed
پاکستان17 گھنٹے ago

نواز ، مریم اور صفدر کا اصل ٹھکانہ اڈیالہ جیل

nawaz shrif
پاکستان14 گھنٹے ago

مجھے یقین تھا اللہ تعالیٰ مجھے انصاف دے گا:نواز شریف

bilawal
پاکستان9 گھنٹے ago

بیگم کلثوم نواز کا انتقال شریف خاندان کیلئے ریلیف ہے: بلاول بھٹو

sardar atiq
کشمیر9 گھنٹے ago

شریف خاندان کی رہائی کے پیچھے این آر او ہے:عتیق احمد خان

nawaz maryiam and safdar
پاکستان14 گھنٹے ago

مشکل گھڑیاں ختم …….. اڈیالہ جیل سے رہا

Islamabad Accountability court
پاکستان22 گھنٹے ago

خواجہ حارث اور سردار مظفر عباسی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

maria wasti
شوبز21 گھنٹے ago

عشق میں ناکامی

ahsan, shahbaz and khwaja asif
پاکستان16 گھنٹے ago

نواز شریف کو سزاء دینا عمران کےلئے جیت کی راہ ہموار کرنا تھا :احسن اقبال

national accountability beauru
پاکستان15 گھنٹے ago

نیب کا نواز شریف کی سزا معطلی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

Prime Minister imran khan interview
پاکستان10 گھنٹے ago

پاکستان سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے گا: عمران خان

k-Electric company
پاکستان13 گھنٹے ago

کے الیکٹرک اورکرنٹ لگنے سے معذوربچے کے اہل خانہ میں سمجھوتہ

مقبول خبریں