"سود کے خلاف جنگ”

تحریر: راشد ہدایت اللہ
قرآن مجید نے یہودیوں کے ان بڑے بڑے جرائم اور مظالم کی نشاندہی کی ہے جن کی وجہ سے ان پر نہ صرف عذاب آیا بلکہ ان سے سلطنت بھی چھین لی گئی۔اللہ کریم نے حلال رزق ان کے لئے ختم کردیا یہودیوں کے مظالم میں سے سودی نظام کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے یہودی سود کھاتے تھے اور سود کا کاروبار کرتے تھے اس لئے انہیں تباہ و برباد کردیا گیا۔

قارئین کرام جیسا کہ اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے۔قرآن کریم میں اللہ فرماتے ہیں کہ سود کو نہ چھوڑنے والا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کررہا ہے۔سودی نظام لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں معاشرے کے بے بس افراد کی صف میں لاکھڑا کرتا ہے بلکہ اس سے غریب افراد کی غربت میں اضافہ ہوتا ہے سود وہ لعنت ہے جو ہنستے مسکراتے کروڑ پتی افراد کو بھیکاری اور غلام بنادیتی ہے۔چند دن پہلے ہیوی مشینری کے کاروبار سے وابستہ چکوال کے رہائشی راجہ غلام مصطفی جو اب کاروبار کی غرض سے لاہور شفٹ ہوچکے تھے سے ملاقات ہوئی۔کاروبار کے متعلق دریافت کیا ہی تھا کہ راجہ غلام مصطفی فرط جذبات پہ قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے انہیں تسلی دی اور آنسوؤں کی وجہ پوچھی تو بتانے لگے کہ راشد ہدایت اللہ صاحب میرا ہیوی مشینری کا کاروبار تھا کروڑوں روپے کاروبار میں لگائے اچھا خاصا کاروبار چل رہا تھا کہ ضلع سرگودہا کے رہائشی یوسف صابر سے ملاقات ہوئی جس نے کاروبار میں شراکت کی خواہش ظاہر کی جس پر میں نے سوچا کہ کاروبار مزید وسیع ہوجائے گا لیکن یہی شراکت میری تباہی اور بربادی کا باعث بن جائے گی میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔یوسف صابر کاروبار میں کی گئی انویسٹمنٹ سے بھرپور نفع لیتا رہا مجھے کیا پتہ تھا کہ میں یوسف صابر کے سودی کاروبار کے چنگل میں پھنسا جارہا ہوں یوسف صابر کئی سرمایہ داروں کے فرنٹ مین کا کردار بھی ادا کرتا ہے اور انہیں سود کی رقم کا نفع ادا کرتا ہے۔یوسف صابر کے چنگل میں اس طرح پھنسا کہ اس سے کاروبار کے لئے وصول کردہ رقم دینے کے باوجود آج بھی اس کی رقم وہیں موجود ہے سود کی رقم اتار اتار کر میرا کاروبار تباہ ہوچکا ہے کمپنی کا دیوالیہ نکل گیا گھر گاڑیاں بیچ کر بھی پیسے سود کی مد میں ادا کرچکا ہوں آج صورت حال یہ ہے کہ دو وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہوگیا ہے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پہ مجبور ہوں۔دعا تو بہت کرتا ہوں لیکن موت بھی نہیں آتی کہ ان اذیتوں پریشانیوں اور مشکلات سے چھٹکارا مل جائے پر نہ جانے میرے پروردگار کو کیا منظور ہے۔اب یوسف صابر قتل اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا ہے کیا کروں کسے کہوں کہ مجھے اس مشکل سے نکالو۔قارئین راجہ غلام مصطفی کی تکالیف اور پریشانیوں کا احاطہ اس تحریر میں ناممکن ہے۔نہ جانے ایسے ہزاروں لاکھوں راجہ غلام مصطفی سودی نظام کے شکنجے میں پھنس کر بے بسی اور لاچاری کی تصویر بنے ہوئے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال ہی نہیں۔ریاست یا ریاست کے اہم ذمہ دار سود میں جکڑے ہوئے بے بس لاکھوں افراد کی فریاد سننے کو تیار نہیں۔29 دسمبر 1991 میں وفاقی شرعی عدالت نے متفقہ فیصلہ دیا کہ سود کو قرآن نے حرام قرار دیا ہے۔سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے بھی 23 دسمبر 1999 کو اسی فیصلے کی توثیق کرکے حکم دیا کہ جون 2001 تک سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے۔اب5 مارچ 2019 کو سینیٹ آف پاکستان میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا سودی کاروبار کے خلاف پیش کردہ مسودہ منظور کرلیا گیا جس کے تحت اسلام آباد کی حدود میں سودی کاروبار کو ممنوع قرار دیا گیا اور خلاف ورزی کرنے والے کو 10 لاکھ روپے جرمانہ یا 10 سال قید کی سزا ہوگی۔میری ذاتی رائے ہے کہ ہر ضلع کے ڈی پی او صاحبان کو سود کا مکروہ دھندہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاون کرکے اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کرنے چاہیئں۔میری وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان۔چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب آصف سعید کھوسہ اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے درخواست ہے کہ ہمیں سود خوروں اور سودی نظام جیسی نحوست سے نجات دلانے کے لئے اپنا کردار لازمی ادا کریں تاکہ سودی قرض میں جکڑے لاکھوں پاکستانی سکھ کا سانس لے سکیں۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept