Connect with us

کالم کلوچ

7″کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

Published

on

محترم جناب محمد سعید اظہراپنے کالم "نواز شریف VSآصف علی زرداری” میں لکھتے ہیں کہ ’’مولا بخش چانڈیو بنام نواز شریف‘‘ کا گزشتہ عنوان ایک حوالے پر ختم کیا گیا تھا یعنی ’’احد چیمہ کی گرفتاری ٹائمنگ کے ساتھ ترپ کی بہت بڑی چال ہے، اس نے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ والے بیانئے کو بھلا دیا ہے، جوابی وار کے لئے شریف برادران کو اب کوئی نئی چال سوچنا ہو گی۔
کیا نواز شریف کی ذہنی اپروچ اور عملی رویے پر بیا ن کردہ اندیشے کے اثرات دکھائی دے رہے ہیں، ان کے گزرے صرف دس پندرہ دنوں کے تازہ ترین بیانات کو بطور مثال ایک بار اپنی نظروں سے گزاریں، آپ بے ساختہ کہہ اٹھیں گے ’’عزیز! ہم وطنو‘‘ کے متوقع اندیشوں کا نواز شریف پر کوئی اثر تو درکنار اس کا تصور تک دکھائی نہیں دے رہا، ’’اندر خانے مذاکرات‘‘ کی مقدس سنسنی خیزی کو مسترد کر دیں، جلسوں میں موجود عوام اور اخبارات کے لاکھوں قارئین تک ’’اندر خانے مذاکرات‘‘ کی ’’مقدس سنسنی خیزی‘‘ کی رسائی ہی نہیں، ان تک نواز شریف کا وہ بیانیہ ہی پہنچ رہا ہے جس کے نتیجے میں ’’عزیز! ہم وطنو‘‘ کے خطرات کی سرخ بتیوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان دس پندرہ دنوں کا بیانیہ دو تین ماہ کے نواز بیانئے سے کہیں آگے بڑھا ہے، نواز بیانئے کا تازہ ترین منظر نامہ بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔ -oآمروں نے آئین کو زخم کچھ ججوں کے ذریعے لگائے، پارلیمنٹ کا بنایا نیا قانون ختم کرنا خطرناک ہو گا، پارلیمنٹ کے قانون بھی عدالتی توثیق کے محتاج ہو جائیں تو یہ کون سا آئین ہے، پارلیمنٹ کو دنیا بھر میں اداروں کی ماں سمجھا جاتا ہے، عدلیہ اگر آئین کو بالاتر دستاویز سمجھتی تو جمہوریت 70سال سے یوں رسوا نہ ہوتی۔ -oکمزور فیصلہ ہے، عمران خان نے بھی کہہ دیا تو میں کیوں نہ پوچھوں، اٹل فیصلہ کر لیا، جو ووٹ کی عزت نہیں کرے گا ہم بھی اس کی عزت نہیں کریں گے۔
-oپاکستان مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے غیر رسمی اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک خوبصورت شعر پڑھا؎
دل بغض و حسد سے رنجور نہ کر
یہ نورِ خدا ہے اسے بے نور نہ کر
نااہل و کمینہ کی خوشامد سے اگر
جنت بھی ملے تجھ کو تو منظور نہ کر
-oمیرا بیانیہ عوام کے دلوں میں اتر چکا، اب ووٹ کی عزت کے لئے فیصلہ کن جنگ لڑیں گے۔ ملک کو 70سال سے لگی بیماری کو ختم کرنے کا وقت آ گیا۔ نواز شریف کی مہر اور دستخط ایٹمی پروگراموں، ہوائی اڈوں، بجلی کے کارخانوں اور اعلیٰ عدالتوں میں بیٹھے ججوں کی تعیناتی پر بھی ہیں پھر انہیں بھی ختم کر دو۔ ووٹ کا تقدس پیروں تلے روندنے والی سکھا شاہی قبول نہیں، فیصلے کرنے والوں کا ابھی دل نہیں بھرا، مجھے الیکشن سے مستقل باہر کرنے والا ایک اور فیصلہ آنے والا ہے۔ عام انتخابات میں صرف ووٹ نہیں ڈالنا انقلاب لانا ہے، ہم نے اس نظام کو ختم کرنا ہے جس نے آپ کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ یہ فیصلے غصے اور انتقام میں آ رہے ہیں، سارا انتقام مجھ پر نکالا جا رہا ہے، جب فیصلے انتقام اور غصے میں ہوں تو ایسے فیصلوں کا یہی حشر ہوتا ہے جو عوام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کو فارغ کر دیا اور کہا، چلو گھر جائیں کروڑوں ووٹروں کی کوئی پروا نہیں، 5بندوں نے منتخب وزیراعظم کو فارغ کر دیا، یہ آپ کی اوقات ہے، ان کے دل میں آپ کے ووٹ کی کوئی عزت نہیں، کیا سکھا شاہی آپ کو منظور ہے؟ اگر یہ کہتے نواز شریف نے فلاں ٹھیکے میں پیسے کھائے، خورد برد کی، قومی خزانہ لوٹا تو میں مجرم ہوتا لیکن بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر گھر بھیج دیا گیا، یہ وزیراعظم کے ساتھ سلوک ہوا ہے، یہ بے عزتی منظور ہے؟ یہ فیصلے پہلے بھی آئے اور اب بھی آ رہے ہیں، 70سال میں کچھ نہیں بدلا، اگلے 70سال پہلے 70سال سے بہتر ہونے چاہئیں، مسلم لیگ ن کے امیدواروں سے پارٹی کا ٹکٹ چھین کر کیا ملا؟ فیصلہ آج دے رہے ہو، امیدوار ایک ہفتہ پہلے میدان میں آ چکے تھے، اس نظام نے پاکستان کے عوام کا خون چوس لیا، ان کی قسمت کے ساتھ کھیلا گیا، آپ شوق سے ووٹ ڈالتے ہیں، وہ کہتے ہیں لے جائو اپنا ووٹ، بڑا ووٹ لے کر آتے ہیں‘‘ کیا اس بیانیے کی شدت گزرے نہیں چار مہینوں کے بیانیوں کی شدت سے کہیں آگے نہیں اور کیا نواز شریف کسی اور ’’مقام‘‘ پر ’’اندرونی مذاکرات‘‘ کی ’’مقدس سنسنی خیزی‘‘ کی THRILLSکا کوئی بھی پریشر یا تاثر قبول کر رہے ہیں؟
چنانچہ ایک صاحب دانش نظر کا دکھانا یہ ہے:’’اب اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ٹکر لے سکتا ہے تو وہ نواز شریف ہی ہے، اس سے پہلے جس نے ٹکر لی وہ بھٹو سمیت عبرت ناک انجام سے دوچار ہوا، پہلے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ امریکہ کی اتحادی تھی، اب اس کے ساتھ لڑائی ہے، نواز شریف کے ذریعے ہی پنجاب میں انتہاء پسند لابی کو غیر موثر کیا جا سکتا ہے، پاکستان کے لبرل اور سیکولر طبقے اس معاملے میں امریکہ اور نواز شریف کے ہمنوا ہیں، یہ ان کے لئے سنہری موقع ہے کہ 70سالہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میںطاقت کو توڑ کر رکھ دیا جائے، یہ اب نہیں تو کبھی نہیں کا معاملہ ہے، امریکی ایجنڈے کے مطابق اب برصغیر کی تقسیم سے پہلے کا کلچر پروان چڑھے گا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ملکوں کی سرحدیں ختم ہو جائیں گی لیکن جنگ اور دشمنی کی فضا ختم ہو جائے گی، پاکستانی اور بھارتی پنجاب، سندھ، کراچی اور ممبئی انتہاء پسندوں کو بے معانی بنا دیں گے۔ (یہاں پر صاحب دانش یہ کہنا بھول گئے، یہ کہ مستقبل قریب میں’’ہمسایوں سے نارمل تعلقات‘‘ کا علمبردار کوئی آصف زرداری کردار کشی کا نشانہ بھی نہیں بنایا جا سکے گا) لیکن اس راستے پر چلتے چلتے بیچ میں گہری کھائی بھی آ سکتی ہے، ’’اکانومسٹ ہو یا نیو یارک ٹائمز‘‘وہ امریکی برطانوی مفادات کو خوب سمجھتے ہیں، بلاوجہ ان کا کالم نواز شریف کے حق میں نہیں چلتا‘‘۔
اتفاق سے ’’اکانومسٹ‘‘ کی اس پس منظر میں ایک ’’اکانومسٹ‘‘ کی ایک تازہ ترین تحریر کے چند جملے بھی پڑھتے جائیں، جریدے کا کہنا ہے:۔
’’اکانومسٹ‘‘ اور ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے جملے مذکورہ پس منظر کی تصدیق کرتے ہیں، مثلاً ’’اکانومسٹ‘‘ کا کہنا ہے ’’سینیٹ انتخابات میں ’’ن‘‘ لیگ کو نقصان پہنچانے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ ن لیگ کے امیدواروں کو الیکشن کمیشن نے ’’آزاد امیدوار‘‘ کے طور پر انتخابات لڑنے پر مجبور کیا۔ ایسا کون ہو سکتا ہے جو حکمران جماعت مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے انتخابی نشان ’’شیر‘‘ کو ’’ٹرک‘‘ میں تبدیل کر دے؟ تبدیل شدہ ’’لوگو‘‘ سینیٹ انتخابات میں حکمران جماعت کے امیدواروں پر زبردستی تھوپے گئے‘‘۔ اور ’’نیو یار ک ٹائمز‘‘ کی نظر میں، ’’مسلم لیگ نواز کی صدارت سے ہٹائے جانے کے حالیہ عدالتی فیصلے پر نواز شریف کے تنقیدی ردعمل میں کوئی تعجب نہیں، جج صاحبان نجات دہندہ کا جو کھیل کھیلتے ہیں وہ ملک کے لئے خطرناک ہے، مشرف نے دو ٹوک کہا تھا کہ ان کے خلاف متعدد کیسز میں فوج نے مداخلت کر کے انہیں عدالت سے ضمانت دلائی، مشرف پر آئین سے غداری کا الزام ہے، انہیں آرام دہ اور پُر سکون جلا وطنی میں رہنے کی اجازت دی گئی۔ عدلیہ نواز شریف کی طرح کبھی بھی مشرف کو اپنی پارٹی کی سربراہی سے نہیں روک پائی، پاکستانی جج صاحبان اپنے کام کو ’’جاب‘‘ سمجھ کر کریں، گاڈ فادر کا حوالہ دینے کے بجائے قانون کی کتابوں کا حوالہ دیں، جج صاحب صرف انصاف ہی نہیں کرنا چاہتے، وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا اور سنا جانا چاہئے، جج صاحبان اپنی آوازوں سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں کہ وہ اعلیٰ عدالتوں کو ایک ’’ٹاک شوز‘‘ کی طرح چلانا چاہتے ہیں، جج کو خود نہیں بلکہ ان کے عدالت میں کئے گئے فیصلوں کو بولنا چاہئے، عدلیہ نے بھی فوجی آمروں کے سامنے دوسرے الفاظ میں ’’ملازم‘‘ کا کردار ادا کیا، مشکوک الزامات پر منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی، ایک اور منتخب وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو سزا دینے میں ناکام رہی‘‘
یہ وہ لمحہ ہے جب ’’اکانومسٹ‘‘ اور نیو یارک ٹائمز کی تجزیاتی آرا میں اپنے وطن کے ایک صد واجب الاحترام سپریم کورٹ کے جج جسٹس دوست محمد کے اس نظریے کو قومی تاریخ کے تسلسل کی دستاویز کا حصہ بنانا ہمارے قومی فرائض سے جڑا ہوا ہے، وہ نظریہ یہ ہے:۔ ’’سیاسی معاملات عدالتوں میں لے جانے سے مارشل لاء کی راہ ہموار ہوتی ہے‘‘
یہی وہ لمحہ ہی ہے جب ہم پاکستان کے وژنری قومی رہنما آصف علی زرداری کے ’’نواز اور پاکستان اسٹیبلشمنٹ‘‘ کے مابین جاری محاذ آرائی کے فریم میں اس دعوے کا جائزہ لئے بغیر نہیں گزر سکتے جس میں انہوں نے کہا:۔ ’’وہ دن دور نہیں جب صدر، وزیراعظم اور چاروں صوبوں کا وزیر اعلیٰ جیالا ہو گا‘‘، یہ جائزہ عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی اس قسم کے احترای تذکرے کی ایک منطقی تصویر بھی اجاگر کر سکتا ہے جب انہوں نے فرمایا تھا ’’خدا کی قسم کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، خواہش ہے عوام کو روٹی اور صاف پانی مل جائے‘‘ گفتگو ابھی جاری رہے گی! انشاء اللہ!
جناب سہیل وڑائچ اپنے کالم "بچہ جمورا بمقابلہ بچہ جمہورا” میں لکھتے ہیں کہ یہ تحریر بالغوں کے لئے نہیں بلکہ سیاسی اور غیر سیاسی نابالغوں کے لئے ہے۔ دراصل تو یہ بچوں کی دنیا کی کہانی ہے جس میں دو بچے، بچہ جمورا اور بچہ جمہورا آپس میں محو گفتگو ہیں، بچہ جمورا گملے میں پلا بڑھا ہے تلواروں اور تیروں کے سائے میں پرورش پائی ہے جبکہ بچہ جمہورا گلی محلے میں پروان چڑھا ہے، عوام کے درمیان دھکے کھائے ہیںاور اس میں عوامی رنگ زیادہ ہے۔ آیئے طفلستان کے ان دو بچوں کا سیاسی مکالمہ سنیں، ہو سکتا ہے کہ اس میں کئی اشارے ایسے ہوں جن سے آئندہ کی صورتحال کا اندازہ ہوسکے۔
بچہ جمورا:ملک بہتر ہو رہا ہے۔ رونے پیٹنے سے کچھ نہیں ہو گا احتساب ہو کر رہے گا، کرپٹ اور نااہل قیادت کا ناطقہ بند ہو گا۔
بچہ جمہورا:عدالتی فیصلوں سے سیاست کی سمت کا تعین نہیں ہوتا۔ سیاست کے فیصلے سیاسی میدان میں ہوتے ہیں۔ انصاف کے ایوانوں میں تو اکثر ناانصافیاں ہوتی رہی ہیں۔
بچہ جمورا:اب نئی قیادت، نیا زمانہ ہو گا۔ اب ماضی کے حکمرانوں کو کون پھر سے موقع دے گا یہ جیلوں کی سیر کریں گے، مقدمات بھگتیں گے، جائیدادوں کا حساب کتاب پیش کریں گے یہ سیاست کو بھول جائیں شریفوں کے بعد زرداریوں کی باری ہے۔
بچہ جمہورا:عوامی طاقت کو جیلیں، مقدمے اور احتساب روک نہیں سکتے۔ عوامی طاقت بروئے کار آئے گی تو یہ قانون ضابطے نااہلیاں سب بدل جائیں گی۔ پارلیمان سب کچھ بدل سکتی ہے۔
بچہ جمورا:ایسی ایک کوشش اکتوبر 2017ء میں کی گئی ایک سابق وزیر قانون کے لیپ ٹاپ میں اس قانون کا مسودہ موجود ہے جس میں پارلیمان کے ذریعے آرمی چیف کی جگہ سی ڈی ایس کا عہدہ تخلیق کیا جانا تھا، چیف آف ڈیفنس سروسز کو کورکمانڈرز کی تعیناتی اور تقرری کا اختیار نہیں ہونا تھا یہ اختیار وزیر دفاع کے پاس جانا تھا، اسی طرح ججوں کی عمر میں تبدیلی کا قانون بھی تیار تھا تاکہ ’’ایماندار اور غیر جانبدار‘‘ ججوں کو فارغ کر دیا جائے۔ محب وطن حلقوں کو پتہ چلا تو پھر سرخ لکیر لگا دی گئی کہ یہ سب کچھ کرنے نہیں دیا جائے گا۔
بچہ جمہورا:ایسی خبر تو سنی تک نہیں۔ وزیراعظم عباسی کو بھی ایسی خبر نہیں لیکن ظاہر ہے اگر ن لیگ کو مینڈیٹ ملا تو نواز شریف کی نااہلی کی سزا کے خاتمے کے لئے قانون سازی تو ہو گی اور اس سے کونسا آسمان گر پڑے گا۔ اگر آمروں کے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ دیا جا سکتا ہے تو کیا پارلیمان کو اپنے حقوق کے تحفظ کی قانون سازی کے لئے فوج اور سپریم کورٹ سے اجازت لینے کی ضرورت ہے؟
بچہ جمورا:پارلیمان مادر پدر آزاد نہیں ہر ادارے کے اپنے اختیارات اور حقوق ہیں، پارلیمان کو دوسرے اداروں پر آمریت مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
بچہ جمہورا:پارلیمان تو آئین کی ماں ہے خودمختار ہے، عوام نے ووٹ دیئے تو قانون میں تبدیلی لائی جائے گی۔ یہ نہیں رک سکتی۔ کبھی تاریخ کا دھارا بھی رکا ہے؟
بچہ جمورا:اس ملک کے ادارے طاقتور نہ ہوتے تو سیاستدان تو ملک تک بیچ کھاتے، بھارت کے آگے گھٹنے ٹیک چکے ہوتے، امریکہ کی ہر جائز اور ناجائز خواہش مان کر ملک کی خودمختاری کھو چکے ہوتے۔
بچہ جمہورا:ہاہاہا۔ ملک کے دریا جنرل ایوب خان نے بیچے کسی سیاستدان نے نہیں، سیٹو اور سینٹو پر دستخط آمر نے کئے اور تو اور ملک بھی جنرل یحییٰ خان کے دور میں ٹوٹا۔ افسانے چھوڑو اور حقیقت کو جانو۔
بچہ جمورا:سیاستدان تو ملک لوٹتے ہیں اربوں کے قرض لیتے اور ہڑپ کر جاتے ہیں، ترقی ایوب خان، جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے دور میں ہوئی صنعتی ترقی اور خوشحالی کے اعداد و شمار میری دلیل کی تصدیق کرتے ہیں۔
بچہ جمہورا:ترقی تو ہوئی مگر امریکہ کے ساتھ فوجی معاہدوں کے بعد، افغانستان کی دو خون آشام جنگوں میں شرکت کے بعد۔ تو کیا انسانی جانوں کے بدلے معاشی ترقی کا سودا اچھا تھا؟
بچہ جمورا:کرپشن بھی تو اہل سیاست ہی کا وطیرہ ہے، ملک کو لوٹ کر کھا گئے ہیں۔ پاکستان کی لوٹ مار سے لندن اور یورپ میں محل بناتے ہیں۔ پاکستان کی غربت کی وجہ سیاستدانوں کی کرپشن ہے۔
بچہ جمہورا:سیاستدانوں کے پاس 30فیصد بجٹ ہے جبکہ 70فیصد اداروں کے پاس۔ 30فیصد سے پورا ملک چلتا ہے تنخواہیں، سڑکیں، اسپتال اور تعلیمی ادارے۔ 70فیصد کا کوئی حساب کتاب نہیں لے سکتا اور 30فیصد پر روز سوال کھڑے کئے جاتے ہیں کیا جنرل مشرف نے لندن اور دوبئی میں جائیدادیں نہیں بنائیں؟ کیا ایوب خان کے بیٹے 22خاندانوں میں شامل نہیں ہو گئے تھے؟ ضیاء الحق کے بیٹے کا کاروبار کیا ہے وہ کیسے زندگی گزار رہا ہے؟
بچہ جمورا:ہر ادارے میں احتساب کا نظام موجود ہے، اداروں میں بہت ڈسپلن ہے ہر کرپٹ کو سزا ملتی ہے، سیاستدان کا کوئی احتساب نہیں، جج اور جرنیل تو تنخواہ پر گزارہ کرتے ہیں بڑی مشکل سے ایک آدھ گھر بناتے ہیں، بچوں کو اچھی تعلیم دلاتے ہیں مگر یہ سیاستدان اور بیورو کریٹ مل کر بیرون ملک منی لانڈرنگ کرتے ہیں اور جائیدادیں بناتے ہیں۔
بچہ جمہورا:طفلستان میں تو صرف سیاستدانوں کا احتساب ہوا ہے، ہر وزیر اعظم کو زبردستی اتارا گیا جبکہ پاکستان توڑنے والے جنرل یحییٰ خان کو قومی پرچم کی سلامی دے کر دفن کیا گیا، یہ تضاد کیوں؟ ایڈمرل منصور اور جنرل زاہد علی اکبر کے خلاف الزامات ثابت ہوئے انہیں زبردستی واپس لایا گیا مگر پھر انہیں چھوڑ دیا گیا، کیوں؟
بچہ جمورا:وائٹ کالر کرائم کو پکڑنا مشکل ہوتا ہے سیاستدان جرم اس طرح سے کرتے ہیں کہ پکڑے نہیں جاتے۔ مگر اب یہ سارے مجرم پکڑے جائیں گے، ادارے فعال ہو چکے ہیں اور فیصلہ کر چکے ہیں کہ کرپشن اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے۔ اگلے الیکشن میں یہ کرپٹ لوگ نہیں ہوں گے۔
بچہ جمہورا:سیاستدانوں کی چھانٹی کا فارمولا، ہر دور میں آزمایا گیا مگر ناکام ہوا۔ ایوب خان نے ایبڈو لگایا، جنرل ضیاء الحق نے سینکڑوں لوگوں کو نااہل کیا اور عدالتوں سے اس پر مہر تصدیق ثبت کروائی، جنرل مشرف نے کبھی بی اے کی ڈگری کے نام پر اور کبھی کسی اور بیانیے سے چھانٹی کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا جبر کم ہوا تو پھر سے وہی بے نظیر اور نواز شریف نکل کر سامنے آ گئے۔ اب پھر ایسا نہ ہوا کہ چھانٹی، احتساب اور سزائوں کے باوجود پھر سے ن لیگ زندہ و تابندہ مگر زخمی حالت میں نکل کر پھر سے کھڑی ہو جائے۔ ایسا ہوا تو کیا ہو گا۔
بچہ جمہورا:یقین رکھو، ایسا کچھ نہیں ہو گا، سب بندوبست ہو چکا ہے (قہقہہ) محترم سلیم صافی اپنے کالم "گدھوں سے معذرت” میں لکھتے ہیں کہ جونہی پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات کے لئے شیڈول کا اعلان ہوا تو پشاور سے لے کر کراچی تک اور کوئٹہ سے لے کر لاہور تک منڈی لگ گئی ۔ تجوریوں کے منہ کھل گئے ۔ روایتی بیوپاری اور کھلاڑی میدان میں اترآئے ۔ آصف زرداری ، میاں نوازشریف ،عمران خان وغیرہ نے کھرب پتیوں کو ٹکٹ دینے شروع کردئیے جس سے واضح ہورہا تھاکہ اب کی بار سیاسی اسٹاک ایکسچینج میں خوب گرمی رہے گی۔مجھ تک خریدوفروخت کی جو خبریں پہنچیں وہ ناقابل یقین تھیں۔ چنانچہ الیکشن کمیشن اور قوم کو بروقت آگاہ کرنے کی خاطر مجھے اس موضوع پر اس وقت کالم لکھنا پڑا جو 6فروری 2018 کو روزنامہ جنگ میں ’’ڈنکی ٹریڈنگ‘‘ کے زیرعنوان شائع ہوا۔ اگرچہ پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی خریدوفروخت اور وفاداریاں تبدیل کرنے کے عمل کے لئے سیاست کی زبان میںہارس ٹریڈنگ کا لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن تب میرا خیال تھا کہ چونکہ گھوڑا ایک کارآمد اور وفاشعار جانور ہے اور خصوصاً ہمارے معاشرے میں اسے ایک عزت دار اور سمجھدار جانور سمجھا جاتا ہے ، اس لئے اس عمل کو ہارس ٹریڈنگ کہنا میں نے گھوڑوں کی توہین سمجھا اور یوں اپنی فہم کے مطابق اس عمل کے لئے ڈنکی ٹریڈنگ یعنی گدھوں کی تجارت کا لفظ استعمال کیا ۔ تب سوچ یہ تھی کہ ہمارے معاشرے میں گدھا، چونکہ بے وقوفی ، بے وفائی اور بے ڈھنگے پن کی علامت سمجھا جاتا ہے ، اس لئے میں نے ووٹ اور ضمیر فروخت کرنے والوں کو گھوڑوں کی بجائے گدھوں سے تشبیہ دینا ضروری سمجھا، لیکن سینیٹ کے انتخابات کے دوران جو کچھ ہوا اور جس بے شرمی اور بے حیائی کے ساتھ ہوا ، ا س نے مجھے گدھوں کے سامنے شرمندہ کیا۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ووٹ اور ضمیر فروخت کرنے والے اراکین سے تشبیہ دے کر میں گدھوں کی توہین کا مرتکب ہوا ہوں اور اسی لئے میں آج دنیا بھر کے گدھوں سے معذرت کرنے پر مجبور ہوں ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ گدھے بھی اس طرح نہیں بک سکتے جس طرح سینیٹ کے ان انتخابات میں ایم پی ایز اور ایم این ایز (خصوصا فاٹا کے بعض ایم این ایز)بکے ۔ گدھاگاڑی کے لئے گدھے کا انتخاب کرتے ہوئے بھی کوئی معیار ہوتا ہے لیکن تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے سینیٹ کے اکثر ٹکٹوں کی الاٹمنٹ (سوائے چند ایک کے ) کے وقت پیسے کے سوا کسی معیار کو مدنظر نہیں رکھا۔ یقین نہ آئے تو چند نمونے ملاحظہ کیجئے ۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں تبدیلی کی علمبردار جماعت پاکستان تحریک انصاف کے دو درجن سے زائد اراکین صوبائی اسمبلی جن میں صوبائی وزراء بھی تھے، فروخت ہوئے ۔ حالانکہ اپنی پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کی صورت میں ان کو اپنی حکومت کی طرف سے دیگر مراعات کے ساتھ ساتھ رقم بھی مل رہی تھی لیکن دوسری پارٹی کی رقم چونکہ بہت زیادہ تھی ، اس لئے یہ بے شرم نوٹوں کے آگے ڈھیر ہوگئے۔ بعض ایسے ہیں جنہوںنے اپنی حکومت سے رقم لے کر بھی ووٹ فروخت کیا جبکہ بعض ایسے ہیں جنہوں نے دوسری پارٹی سے رقم لے کر بھی ووٹ اس کے امیدوار کو نہیں ڈالا۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کومسترد کرکے تبدیلی کے نام پر تحریک انصاف کو ووٹ ڈالے تھے اور اس لئے بعض ایسے لوگ بھی ایم پی اے اور ایم این اے منتخب ہوئے جو گدھوں کے اصطبل کا انتظام چلانے کے بھی اہل نہ تھے ۔ عوام کے مینڈیٹ کی رو سے پیپلز پارٹی کو اتنی کم سیٹیں ملی تھیں کہ ان کا ایک سینیٹر بھی منتخب نہیں ہوسکتا تھا لیکن ان ضمیر فروشوں کی وجہ سے اس کے دو سینیٹرز منتخب ہوئے اور تیسرا سینیٹر منتخب ہوتے ہوتے رہ گیا۔
ہر پارٹی نے نمائشی طور پر پارٹی کے بعض رہنمائوں اور نظریاتی لوگوں کو بھی ٹکٹ دئیے لیکن مسلم لیگ (ن)ہو ، پیپلز پارٹی یا پی ٹی آئی ، ہر ایک نے ایسے ایسے کھرب پتیوں کو سینیٹ کے ٹکٹ دئیے کہ جو صلاحیت اور پارٹی کے لئے خدمات کے لحاظ سے یونین کونسل کے ٹکٹ کے بھی حقدار نہیں ۔ یہ لوگ اس خیال سے امیدوار بنائے گئے کہ وہ اپنی جماعتوں کے ایم پی ایز بھی خرید سکیں ۔ بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کی پوری پارٹی نے آزاد امیدواروں کو ووٹ دئیے ۔ سندھ میں ایم کیوایم جیسی جماعت کے درجنوں ایم پی ایز لوٹا ہو گئے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کے چوہدری سرور نے اپنے استحقاق سے کئی ووٹ زیادہ حاصل کئے ۔ سوائے چند کے سب پارٹیوں کے لوگوں نے وفاداریاں بدلیں ۔اس بہتی گنگا میں قوم پرستوںنے بھی ہاتھ دھوئے اور مذہبی لوگوں نے بھی ، پی ٹی آئی والوں نے بھی اور مسلم لیگیوں نے بھی ۔ جمہوریت کی ٹھیکیدار پیپلز پارٹی کی تو خیر بات ہی کیا ہے۔ اس سے زیادہ افسوسناک اور شرمناک بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان ارب پتی نہ ہونے کی وجہ سے ہار گئے لیکن طلحہ محمود کھرب پتی ہونے کی وجہ سے سینیٹر منتخب ہوگئے ۔ فاٹا میں تو حسب روایت بے شرمی اور قوم فروشی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے گئے ۔ حسب روایت چھ ایم این ایز نے حکومت کے تعاون سے پول بنایا اور چھ بندوں نے چار سینیٹروں کا انتخاب کیا ۔ باقی پانچ ایم این ایز کا سرے سے ووٹ ہی ضائع ہوا ۔ اور تو اور حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کے ایم این اے شہاب الدین خان سالارزئی نے بطور احتجاج انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا۔ بے شرمی اور قوم فروشی کی انتہادیکھ لیجئے کہ اس معاملے میں انضمام کے چیمپئن حاجی شاہ جی گل آفریدی اور انضمام کے مخالف بلال رحمان اور جی جی جمال ایک ساتھ رہ کر جوڑ توڑ کرتے رہے ۔ جس طرح یہ ایم این ایز کسی صورت قبائلی عوا م کے حقیقی نمائندے نہیں اسی طرح دولت کے زور پر منتخب ہونے والے سینیٹرز کسی صورت قبائلی عوام کے نمائندے اور ترجمان نہیں ہوسکتے ۔ اس طرح کے تماشے بھی ہوتے رہے کہ سابق سینیٹر نے دولت کے زور پر اپنے والد کو مسلم لیگ(ن) کے تعاون سے فاٹا سے سینیٹر بنوادیا جبکہ ان کے بھائی جو خیبر پختونخوا سے ایم پی اے ہیں، زرداری صا حب کی خدمت میں مگن رہے ۔
قصہ مختصر یہ کہ سینیٹ کے انتخابات کے نام پر عوام کی رائے اور ووٹ کی بدترین توہین ہوئی ۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے جس نظریے کو ووٹ دیا تھا، سینیٹ کے انتخابات میں اس رائے کے برعکس ہوا اور ووٹ کا تقدس بری طرح پامال ہوا۔ سندھ میں ایک اور طریقے سے جبکہ بلوچستان میں ایک اور طریقے سے ووٹ کا تقدس پامال ہوا۔ فاٹا کے تو خیر نہ ایم این اے وہاں کے عوام کے نمائندے کہلانے کے مستحق ہیں اور نہ ان کے منتخب شدہ سینیٹرز ۔ لیڈران کرام نے عوامی رائے اور ووٹ کی توہین اس طریقے سے کی کہ اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر دولت دیکھ کر ٹکٹ دئیے اور پھر ایم پی ایز اور ایم این ایز کی ایک بڑی تعداد نے چمک کی بنیاد پر ووٹ دے کر عوامی رائے کی توہین کی۔ہم وہ بدقسمت لوگ ہیں جو دن رات اس پارلیمنٹ کی بالادستی کے خواب دیکھتے اور دکھاتے ہیں اوراس پر لعنت بھیجنے والوںپر ہم لعنت بھیجنے میں دیر نہیں لگاتے ۔ جمہوریت پر یقین تقاضائے حب الوطنی ہے اور پارلیمنٹ کی عزت اور توقیر ہم پر فرض ہے لیکن بہر حال جن لوگوںنے نوٹ دیکھ کر ووٹ اور ضمیر کا سودا کیا ، ان پر لکھ لعنت ۔ ضمیر اور عوام کا مینڈیٹ فروخت کرنے والے گدھوں سے بھی بدتر ہیں لیکن جن لیڈروں اور امیدواروں نے نوٹ دے کر ووٹ خریدے ، یا نوٹ دیکھ کر یا لے کر ٹکٹ دئیے ، وہ گدھے تو کیا الوئوں سے بھی بدتر ہیں ۔ انسان اشرف المخلوقات ہے اور انسانیت کے دائرے میں رہے تو فرشتوں سے بھی افضل قرار پاتا ہے لیکن وہ قوم کا ، عوام کا اور اپنے مینڈیٹ کا سودا کرے اور انسانوںکو نوٹوں میں تولنے لگے تو الوئوں سے بھی بدتر ہے۔ یہی لوگ ہیں جو ہزار بار جمہوریت کا نام لیں لیکن وہ آئین اور جمہوریت کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔

Advertisement

کالم کلوچ

قادری عمران کھانا اورملکی سیاست

Rashid Saeed

Published

on

پاکستانی سیاست میں ہر دن نیا دن ہوتا ہے سیاسی بسات کے مہرے اپنی چالیں چلتے رہتے ہیں اور یہی سیاست کا حسن ہے۔ پاکستان کے سینئر سیاستدان شیخ رشید جو ہر روز سونے سے پہلے یہ دعا کرکے سوتے ہیں کہ جب وہ صبح اٹھائیں تو نواز حکومت ختم ہو چکی ہو لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ بہر حال وہ پاکستان کے ایک سیزن سیاستدان ہیں اور وہ بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ تمام اپوزیشن جماعتیں یکجا ہو کر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلائیں۔ ابھی تک تو ان کو اس حوالے سے مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی مگر ان کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کی کوششوں کی بدولت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہر القادری کھانے پر ملاقات کریں گے۔یہ خبر بھی انہوں نے طاہر القادری کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔اگر مولانا طاہرالقادری کو عمران خان کے گھر جا کر کھاناکھاناپڑاتو میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ کھاناکیسا ہوگا اور کیا طاہر القادری کی مرضی کا ہوگا کہ نہیں؟ مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ طاہر القادری شوق سے کیا کھاتے ہیں۔جو میں نے سناہے کہ وہ شاید سبزی اورآلو قیمہ پسند کرتے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بارے میں میں بتا سکتا ہوں کہ وہ کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں اور اگر ان کومولانا طاہر القادری نے کھانے کی دعوت دی تو مینو کیا ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کے سربراہ کو دیسی مرغ ، شکار کا گوشت جس میں بیٹر، تتر ، مرغابی سمیت کوئی بھی شکار ہو بہت پسند کرتے ہیں ساتھ ہی بکرے کی ران روسٹ بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ ان تمام پکوان کو دیسی گھی میں پکوایاجائے تو بہت اچھا ہوگا ۔ ان تمام اشیاءکو بتانا اتنا ضروری نہ تھا لیکن ان کے بارے میں تفصیلات اس لیے بتا رہا ہوں کہ طاہر القادری صاحب کو کسی سے پوچھنا نہ پڑے۔ اب بات کر لیتے ہیں ملکی سیاست کی ۔ پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک کو ایک مرتبہ پھر قریب لانے میں شیخ رشید نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ چونکہ شیخ رشید صاحب کا خیال ہے کہ اگر 30 روز کے اندر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک نہ چلائی گئی تو حکومت کا جانا نہ ممکن ہوگا اور الیکشن2018ءمیں ہی ہوں گے اور شیخ صاحب یہ مطلع بار کہہ چکے ہیں کہ اگر میاں نوازشریف کی حکومت 2018ءتک رہی تو اس کے بعد بھی اگلی حکومت مسلم لیگ ن کی ہی ہوگی اور ان کو ہرانا تقریباً نہ ممکن ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ صاحب اپوزیشن کو متحرک کرنے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف جو کہ عوامی دباﺅ حکومت پر بنا رہی رہے اس سلسلے میں تحریک انصاف ملک بھر میں جلسے اور ریلیاں کر رہے ہیں۔ میری ناقص عقل کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ عوامی دباﺅ اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے حکومت کو دباﺅ میں رکھا جائے تاکہ حکومت کوئی بڑی غلطی کر سکے۔ اگر حکومت کوئی بڑی غلطی کرتی ہے تو قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اور اگر حکومت کوئی بڑی غلطی نہیں کرتی اور قبل از وقت انتخابات نہیں ہوپاتے تو کم از کم حکومت کو 2018ءکے الیکشن تک مسلسل دباﺅ میں رکھا جائے گا اور عوام میں حکومت کی بدعنوانی اور حکمرانوں کی کرپشن کا ایشو زندہ رکھا جائے ۔ تحریک انصاف موجودہ صورتحال کے پیش نظر بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ عوامی رابطہ مہم جس کا نام انہوں نے احتساب موومن رکھا ہے۔ اس میں ملک کے تمام اپوزیشن حماعتیں ان کے ساتھ دیں گی۔ اسی ضمن میں انہوں نے اپنی پارٹی رہنماﺅں کی دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کی ڈیوٹی بھی لگائی اور تحریک انصاف کو دوسرے درجے کی قیادت جس کی سربراہی پارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی ، سنی تحریک اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سمیت عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سے ملاقاتیں کیں۔ اطلاعات ہیں کہ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور دیگر چند سیاسی جماعتوں نے عمران خان کی احتساب ریلی میں علامتی طور پر شرکت کی یقین دہانی کروائی جبکہ پاکستان عوامی تحریک ، سنی تحریک سمیت دیگر مذہبی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کا وعدہ کیا۔ یہ عمل باعث تعجب ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے جہانگیر ترین کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے وفد اور عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید کے ساتھ مشترکہ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ لاہور میں ہونے والی پی ٹی آئی کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ ان کی جماعت پاکستان عوامی تحریک اسی روز یعنی کے 3ستمبر کو پنڈی میں حکومت کے خلاف عوامی اجتماع کر رہی ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک طرف پاکستان عوامی تحریک عمران خان کے ساتھ لاہورکی ریلی میں شامل ہونے کے لئے اپنے کارکنوں کو شرکت کی اپیل کر رہے ہیں جبکہ خود پنڈی میں بھرپور دھرنا دے رہے ہیں ۔پاکستان عوامی تحریک کے کارکن کی روایت رہی ہے کہ وہ جہاں بھی ان کااجتماع ، دھرنا یا سیاسی پروگرام ہو تو تمام کارکن وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا طاہر القادری کی جماعت کے کارکن پنڈی میں ہونے والے اپنے اجتماع میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ لاہور میں ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی عوامی ریلی میں مولاناکی جماعت کی علامتی شرکت ہوگی۔ پاکستان تحریک انصاف عروج کا آغاز لاہور کے تحریکی مینار پاکستان کے جلسے سے ہوا ۔مجھے ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں مل رہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی لاہور میں ہونے والی ریلی میں تمام سیاسی جماعتوں کوشرکت کی دعوت کیوں دی ہے اور اگر دی ہے تو یہ کیوں کہا ہے کہ سب اپنے اپنے کینٹینر پر آئیں۔ اگر کپتان حکومت کے خلاف تمام اپوزیشن کو ملا کر بھرپور عوامی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو پھر اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے سربراہوں کو ایک کنٹینر پر ہونا چاہیے تا کہ حکومت کو یہ تاثر دیا جائے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف یکجا ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے آج کل سیاسی مشیر کون ہیں میں وثوخ سے نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ کپتان کے ساتھ مخلص نہیں۔ عمران خان کے مشیروں سے عمران خان کو وقتی طور پر سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کو نقصان ہو رہاہے اور روز بہ روز پارٹی اختلافات میں شدت آ رہی ہے۔ خان صاحب نے جہلم سے فواد چوہدری جبکہ بورے والا سے عائشہ نذیر جٹ کو حالیہ ہونے والے ضمنی الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دی ہے۔فواد چوہدری نے جہلم NA67 سے پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیا ۔ اگرچہ انہوں نے 2013ءکے الیکشن کے مقابلے میں 30 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے لیکن جہلم سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن انکوٹکٹ دیئے جانے پر خوش نہ تھے ان کا مو¿قف ہے کہ فواد چوہدری متعدد بار سیاسی جماعتیںتبدیل کر چکے ہیں وہ پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن صرف اس لیے لڑے کہ ان کے پاس کوئی اوراچھا (0pption)آپشن نہ تھا اسی طرح بورے والا سے پی پی 232کی ٹکٹ عائشہ نذیر جٹ جو کہ سابقہ ایم این اے نذیر جٹ کی بیٹی ہے ان کو دی گئی۔ نذیر جٹ پہلے ق لیگ اور پھر پیپلز پارٹی میں رہ چکے ہیں ۔ اب ان کے لئے بہتر آپشن پی ٹی آئی تھا اور پاکستان تحریک انصاف نے بہتر امیدوار ہونے کے ناطے ان کو ٹکٹ جاری کر دیا۔ اس فیصلے کو بھی بورے والا کی تحریک انصاف کی قیادت نے نہیں سراہا بلکہ ان کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف بھی ایک روایتی سیاسی جماعت بن چکی ہے جو نظریات کی بجائے دھرہ بندی اور برداری کی سیاست کواہمیت دے رہی ہے۔ عائشہ نذیر جٹ کے بارے میں انتخابی مہم شروع ہوتے وقت یہ تاثر عام تھا کہ وہ با آسانی ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوجائیں گی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز جو کہ جہلم اور بورے والا دونوں الیکشنوں کی براہ راست نگرانی کر رہے تھے ان کو بھی یہی اطلاعات مل رہی تھیں کہ عائشہ نذیر جٹ انتہائی مضبوط امیدوار ہیں اوران کو ہرانا آسان نہ ہے کیونکہ ان کے والدنذیر جٹ برادری اور دھروں کی سیاست کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور یہی سے 2008ءمیں وہ آزاد حیثیت سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں ۔ نذیر جٹ جوکہ اپنی بیٹی کی خود کمپیئن بھرپور انداز سے چلا رہے تھے ان کو بھی یقین تھا کہ وہ یہ سیٹ با آسانی جیت جائیں گے مگر ایسا نہ ہوا حمزہ شہباز شریف کی ٹیم نے اس حلقہ میں بھرپور عوامی رابطہ مہم چلائی اور میری اطلاعات ہیں کہ یہاں سے پی ٹی آئی کے سابقہ ٹکٹ ہولڈر سمیت پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے اہم رہنماﺅں پس پردہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اپنے زیر اثر لوگ اور دھروں کے ووٹ بھی مسلم لیگ ن کو دلوائے ہیں۔ مجھ یقین ہے کہ کپتان کو ان کے رفقاءنے دونوں ضمنی انتخابات کے حوالے سے یہ بریفنگ دی ہوگی کہ پارٹی نے بھرپور طریقے سے پرفارم کیاہے جس سے پارٹی کی مقبولیت کااندازہ لگایا جاسکتاہے اور ان سے اصل حقائق پوشیدہ رکھے ہوں گے۔ کپتان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اورکان چند قریبی مشیروں کی جانب مرکوز کروانے کی بجائے اپنے عام ورکر کی آواز اور رائے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

Continue Reading

کالم کلوچ

جنت کا دروازہ

Published

on

میں سڑک کنارے پیدل چل رہی تھی کہ اچانک میرے کانوں میں ایک صدا گونجی اوئے پترا۔۔۔۔۔ ان الفاظ سے دل میں عجب سا درد محسوس ہوا اور میرے قدم وہیں رک گئے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک بوڑھا جس کی جھکی کمر موٹے شیشوں والی عینک کانپتے ہاتھ، صاف ستھرے کپڑے سفید پگڑی سر پر اور وہ زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ جب میں نے دیکھا تو وہ کچھ بول نہیں پا رہا تھا وہ اپنے کانپتے ہاتھ آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پھر بھی اس کے ہاتھ اٹھ نہیں رہے تھے۔ دیکھنے سے صاف ظاہر تھا کہ بھیک مانگنے میں کتنی شرمندگی ہو رہی ہے اسے۔ مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے اس ضعیف مانس سے پوچھا کہ آپ اچھی نسب کے لگتے ہو تو یہ فقیری کیوں؟ تو اس کی آنکھوں میں اشک بھر آئے۔ عینک کے نیچے سے ہی دونوں ہاتھوں سے وہ اپنے اشک سمیٹنے لگا۔ میں نے بات کو دہراتے ہوئے کہا بتائیں ناں بابا۔ تو اس نے ڈگمگاتی ہوئی آواز سے بتایا۔ آج صبح میں کمرے میں سویا ہوا تھا اچانک میری آنکھ کھلی تو میرے کانوں میں کچھ آوازیں آئی جب میں نے غور کیا تو میرے بچے بحث کر رہے تھے میرا چھوٹا بیٹا جس کے ساتھ میں پچھلے تین سالوں سے رہ رہا تھا وہ اب مجھ سے مخلصی چاہتا ہے جب تک جائیداد میرے نام تھی بہت تابعداری کی میری۔ لیکن اب جب اپنی ساری جمع پونجی میں نے تینوں بیٹوں کو برابر حصوں میں تقسیم کر دی تو میرے چھوٹے صاحبزادے کو اس بات پر اعتراض تھا کہ جب حصہ سب کو برابر ملا تو پھر باپ کی کفالت مجھ اکیلے کے حصے میں کیوں؟ مجھے کس بات کی سزا ہے؟ اور میرے دونوں بڑے بیٹے یہ کہہ رہے تھے کہ ماں باپ چھوٹے کے حصے میں ہی آتے ہیں ہم نے پہلے بہت کیا باپ کیلئے اب تمھاری باری ہے تب میرا چھوٹا بیٹا میری ضروریات زندگی کا حساب کرنے لگا یہاں تک کہ تین وقت کے کھانے کی ضرب تقیسم کرنے لگا۔ اس وقت مجھے ان کا بچپن یاد آ گیا جب میں خود بھوکا رہ کر ان کو تین وقت کا کھانا کھلاتا تھا اپنی خواہشات کو دفن کر کے ان کو اس لائق بنایا کہ وہ اپنی خواہشات پوری کر سکیں۔۔۔ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بوڑھا باپ بولا ان ہاتھوں نے ہمیشہ اپنی اولاد کو دیا ہے آج یہی ہاتھ اسی اولاد کے منہ در منہ پھیلاتے ہوئے مجھے لاج آتی ہے۔ میری کل کائنات میری اولاد ہے انھیں لگا کہ ہمارا باپ اونچا سنتا ہے مگر ان کا ایک ایک لفظ میرے کانوں میں گونج رہا تھا اور میں بنا کچھ بولے وہاں سے نکل آیا۔ بھیک مانگتے ہوئے لوگوں کی گالیاں برداشت کر لوں گا مگر اپنے بچوں کی طنزیہ باتیں سننے کی ہمت نہیں مجھ میں ۔
والدین کے دلوں میں اللہ تعالی نے محبت کے ایسے خزانے رکھ دئیے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے اولاد فرمابردار ہو یا گستاخ والدین شفقت کی برسات کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اولاد تو والدین کا حساب آسانی سے کر لیتی ہے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ والدین کی محبت اگر دولت کی ہی محتاج ہو تو پھر وہ اپنی جوانی کے بہترین دن رات اپنی اولاد پر خرچ کرنے کی بجائے دنیا کا مال جمع کرنے میں گزارتے۔ بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس کا تن بھی اس کے والدین ڈھانپتے ہیں تب کتنے پیسے دے کر وہ والدین کی محبت خدمت اور پیار خریدتا ہے۔ ماں کے پیروں تلے جنت ہے تو باپ جنت کا دروازہ ۔ باپ کے چہرے کی طرف ایک بار دیکھنا ایک حج جتنا ثواب ہے۔ بدبخت ہیں وہ اولادیں جو جنت کا دروازہ خود اپنے لیے بند کر لیتی ہی

Continue Reading

کالم کلوچ

ناشکری

Published

on

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے“ – قرآن پاک کی آفاقی سچائیوں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ جب ہم اپنے فرائض ادا کرتے چلے جاتے ہیں تو ہمیں ہمارے حقوق بھی ملتے چلے جاتے ہیں یہ حقوق و فرائض کا ایک تعلق ہے جب یہ تعلق ٹوٹتا ہے تو مسائل ، شکوے، شکایات، ناشکرا پن، احتجاج اور بغاوت جنم لیتے ہیں۔ ہم اپنے حقوق کی بات تو بہت کرتے ہیں لیکن اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت اور سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اپنے ہر مسئلے کا ذمہ دار ہم دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ قرآن پاک نے بھی فیصلہ کر دیا ہے کہ ”تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے سو تمہارے فعلوں سے ہے“۔ بہت سارے مسئلے ہم اپنے لیے خود پیدا کرتے ہیں اور پھر بیٹھ کر روتے ہیں۔ بحیثیت قوم کے ہمارا وطیرہ بن چکا ہے کہ ہم اپنے جائز و ناجائز مطالبات منوانے کے لیے احتجاج ، توڑ پھوڑ، جلاﺅ گھیراﺅ کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور احتجاج کے دوران ہم اپنی جہالت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں قومی املاک جو ہمارے ہی خون پسینے کی کمائی سے بنتی ہے ان کو جلاتے ہیں توڑ پھوڑ کرتے ہیں ، ٹائر جلا کر ماحول کو آلودہ کرکے بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں، سڑکوں کو بلاک کر کے ایمبولینس میں مریضوں کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ مسافروں کو مشکل میں ڈالتے ہیں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، اُبلتے گٹر ، دن کے اوقات میں بھی چلتی سٹریٹ لائٹس ، سرکاری نلکوں سے ضائع ہوتا پانی، ملاوٹ پبلک اور سرکاری اداروں خصوصاً سرکاری ہسپتالوں کے گندے ٹوائلٹ، سرکاری منصوبوں کے پیسے ہڑپ کرنا یہ سب کس کی غیر ذمہ داری ہے؟ حکومت کی؟ نہیں بلکہ بحیثیت قوم ہماری اپنی، جب ہم اپن گھروں کو صاف رکھتے ہیں تو گلی محلوں، سڑکوں اور ہسپتالوں وغیرہ میں کیوں گند مچاتے ہیں کیااس میں بھی حکومت کا قصور ہے۔ ایک مفکر نے ٹھیک کہا تھا کہ ”جو قوم اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا نہیں کرتی ، ہروقت اپنے حقوق کا مطالبہ، احتجاج اور بھوک ہڑتال ، قرضہ اور آپسی لڑائی اس کا مقدر بن جاتی ہے“ بحیثیت قوم اگر ہم اپنی ذمہ داریاں ایمان داری سے ادا کرنا شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ ہم پر حکمران بھی ہر لحاظ سے اچھے ہی” نازل” کرے گا۔

Continue Reading
driving
انٹرنیشنل4 گھنٹے ago

خواتین کو ڈرائیونگ سکھانے والے نئے سکول قائم کرنے کا عندیہ

D R C
کھیل5 گھنٹے ago

سیزن کے افتتاحی میچ میں ویسٹرن آسٹریلیا کی نمائندگی سے محروم

flood
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

نائیجیریا: سیلاب کی زد میں آکر 100 سے زائد افراد ہلاک

Refugees
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

نیوزی لینڈ کا ڈیڑھ ہزار مہاجرین کو پناہ دینے کا اعلان

arrested
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

منشیات سمگلنگ میں 21 مشتبہ افراد کو 15سال کی سزا

knife attack
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

جاپان میں چاقو کے وار سے پولیس اہلکار ہلاک

niteen
انٹرنیشنل6 گھنٹے ago

شام میں ایران کے خلاف کارروائی نہیں رکے گی: بینجمن نیتن یاہو

Ranbir Kapoor
شوبز6 گھنٹے ago

کامیابی سنبھالنا ناکامی سے آسان ہے: رنیبر کپور

Hans Georg Maassen
انٹرنیشنل6 گھنٹے ago

جرمن انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ہانس گیورگ ماسن عہدے سے برطرف

police crack down
پاکستان7 گھنٹے ago

پولیس کی کارروائی، شراب کا کنٹینر برآمد، ٹرک ڈرائیور گرفتار

shahid kapoor
شوبز7 گھنٹے ago

بھارتی فلم انڈسٹری میں اقربا پروری کیخلاف ہوگئے

British police
انٹرنیشنل7 گھنٹے ago

حادثہ یا دہشتگردی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پولیس کی کارروائی جاری

Shilpa
شوبز9 گھنٹے ago

11 سال بعد بالی ووڈ میں واپسی کیلئے تیار

sardar atiq
کشمیر9 گھنٹے ago

شریف خاندان کی رہائی کے پیچھے این آر او ہے:عتیق احمد خان

man marziyan
شوبز9 گھنٹے ago

’من مرضیاں‘ ریلیز کے بعد ہی قانونی شکنجے میں پھنس گئی

mariyam nawaz
پاکستان12 گھنٹے ago

مریم نواز نے رہائی کے بعد بڑا فیصلہ کر لیا

shahbaz shrif
پاکستان15 گھنٹے ago

شہباز شریف کی والدہ کو خوشخبری

nawaz shrif
پاکستان11 گھنٹے ago

رہائی کے بعد نواز شریف ،مریم نواز کی تازہ ترین تصاویر سامنے آ گئیں

mariyam orang zaib
پاکستان13 گھنٹے ago

مریم اورنگزیب جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں …….. رو پڑیں

faisal javed
پاکستان17 گھنٹے ago

نواز ، مریم اور صفدر کا اصل ٹھکانہ اڈیالہ جیل

nawaz shrif
پاکستان14 گھنٹے ago

مجھے یقین تھا اللہ تعالیٰ مجھے انصاف دے گا:نواز شریف

bilawal
پاکستان9 گھنٹے ago

بیگم کلثوم نواز کا انتقال شریف خاندان کیلئے ریلیف ہے: بلاول بھٹو

sardar atiq
کشمیر9 گھنٹے ago

شریف خاندان کی رہائی کے پیچھے این آر او ہے:عتیق احمد خان

nawaz maryiam and safdar
پاکستان14 گھنٹے ago

مشکل گھڑیاں ختم …….. اڈیالہ جیل سے رہا

Islamabad Accountability court
پاکستان22 گھنٹے ago

خواجہ حارث اور سردار مظفر عباسی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

maria wasti
شوبز21 گھنٹے ago

عشق میں ناکامی

ahsan, shahbaz and khwaja asif
پاکستان16 گھنٹے ago

نواز شریف کو سزاء دینا عمران کےلئے جیت کی راہ ہموار کرنا تھا :احسن اقبال

national accountability beauru
پاکستان15 گھنٹے ago

نیب کا نواز شریف کی سزا معطلی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

Prime Minister imran khan interview
پاکستان10 گھنٹے ago

پاکستان سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے گا: عمران خان

k-Electric company
پاکستان13 گھنٹے ago

کے الیکٹرک اورکرنٹ لگنے سے معذوربچے کے اہل خانہ میں سمجھوتہ

مقبول خبریں