Khouj English Advertising Privacy Policy Contact Us
Connect with us

کالم کلوچ

8،”کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

Published

on

جناب عطا ء الحق قاسمی اپنے کالم "الیکشن کمیشن کے نادر سوالات” میں لکھتے ہیں کہ
مجھے کیا علم تھا کہ علم وہ سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ ہی نہیں، اس کا اندازہ تو الیکشن کمیشن کے ایک فارم سے ہوا جو بردار عزیز قمر ریاض نے اس میں درج ایک لفظ کے معنی پوچھنے کے لئے ارسال کیا تھا، یہ فارم ووٹر بننے کے لئے ہے اور اس میں درخواست گزار سے کچھ ایسے سوالات پوچھے گئے ہیں جن کا جواب ویسے تو مشاہدے اور تجربے ہی سے سامنے آتا ہے لیکن علم غیب خدا کے علاوہ کس کو ہے، چنانچہ جب درخواست گزار سے انٹرا الیکشن ہی نہ ہوا ہو، ان سوالوں کا جواب صرف پوچھنے ہی کی صورت میں مل سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کا متذکرہ فارم اس وقت میرے سامنے ہے جس میں بہت سے سوال پوچھے گئے ہیں، ایک سوال تو مذہب کے بارے میں ہے کہ کیا آپ مسلمان ،عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی ، بدھ مت، قادیانی (احمدی) یا کسی اور مذہب کے پیروکار ہیں۔ چلیں یہ تو ٹھیک ہے لیکن جو شخص خود کو مسلمان قرار دے، اس سے یہ پوچھا جانا ہی ضروری تھا کہ آپ دیوبندی ہیں، اہل حدیث ہیں ، شیعہ ہیں یا اہل سنت ہیں اور ان چاروں کے مسلمان ہونے کے دعوے کی تصدیق ان کے مخالف فرقوں کے علماء سے کرائی جائے تاکہ ان لوگوں کی یہ غلط فہمی دور ہو جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
چلیں یہ بات تو بس برسبیل تذکرہ درمیان میں آگئی، میری معلومات میں اضافہ تو ان سوالات نے کیا، جو درخواست گزارکی جنس کے حوالے سے پوچھے گئے ہیں، پہلا سوال یہ ہے کہ کیا آپ مرد ہیں؟ ممکن ہے بہت سے لوگ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سوچ میں پڑجائیں، اسی طرح یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا آپ عورت ہیں؟ اس امر کا امکان یہاں بھی موجود ہے کہ کچھ عورتیں بھی اس حوالے سے سوچ میں پڑجائیں کیونکہ مرد کہلانے والے بہت سے مردوں میں مردوں والی اور عورت کہلانے والی بہت سی عورتوں میں عورتوں والی کوئی بات نہیں ہوتی۔ میں دانستہ اس تذکرے کو زیادہ طویل نہیں کرنا چاہتا ورنہ مرد والے خانے میں اگلا سوال یہ بھی ہوسکتا تھا کہ آپ نے ملک کو درپیش بحرانوں میں کب مرد ہونے کا ثبوت دیا ہے اگر وہ اس حوالے سے کوئی ثبوت دیں تو یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ یہاں ’’مردانگی‘‘ دکھانے کا اصل محرک کیا تھا؟ اور عورت والے خانےمیں بھی اس سوال کی گنجائش موجود تھی کہ اگر آپ خود کو عورت کہہ رہی ہیں تو مردوں کے اس معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے لئے آپ نے کبھی کچھ کیا ہے، اس کا ممکنہ جواب کچھ عورتیں یہ بھی دے سکتی ہیں کہ جی ہاں ہم نے کئی عورتوں کو طلاق دلائی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس فارم کا سب سے اہم حصہ دراصل وہ ہے جس میں ایک سوال یہ ہے کہ کیا آپ خواجہ سرا ہیں اور یہ بھی کہ کیا آپ خواجہ سرا مرد ہیں یا خواجہ سرا عورت ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اس سوال نے مجھے اندر سے چکنا چور کردیا، میں خود کو اچھا خاصا عالم سمجھتا تھا لیکن اپنی جہالت کا اندازہ ہونے پر دل اندر سے بجھ سا گیا۔ مجھے افسوس ہوا کہ زندگی میں ایسے بہت سے مواقع آئے جب مجھے اس سوال کے اندر پوشیدہ معنویت کے بارے میں پوچھنے کاموقع مل سکتا تھا، مگر افسوس میں نے وہ سب مواقع گنوا دئیے، مثلاً جب میں ماڈل ٹائون میں رہا کرتا تھا، وہاں پھوپھی خدا بخش سے اکثر دلدار کے کھوکھے پر ملاقات ہوا کرتی تھی۔ میں اس سے پوچھ سکتا تھا کہ پلیز مجھے بتائو کہ تم پھوپھی خدا بخش ہو یا پھوپھا خدا بخش ہو۔ دراصل لوگوں نے اس دریائے معانی میں پوشیدہ بہت سے نازک امور کی وجہ سے اس خواجہ سرا کو خود بخود پھوپھی خدا بخش کہنا شروع کردیا تھا، اگر ایسا نہیں تھا تو اس ’’پھوپے‘‘ کا دل’’پھوپھی‘‘ کہلائے جانے پر کتنا دکھتا ہوگا، اللہ مجھے معاف فرمائے۔ مگر اصل مرحلہ تو ابھی درپیش ہے جس کے لئے قمر ریاض نے مجھ سے رجوع کیا تھا۔ اس فارم میں خواجہ سرا مرد اور خواجہ سرا عورت سے اگلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ’’خنثہ شکل‘‘ ہیں، قمر ریاض جاننا چاہتا تھا کہ یہ خنثہ شکلکیا چیز ہے؟ مجھے حیرت ہوئی کہ قمر ریاض جو بہت اچھا شاعر ہی نہیں، اتنا بڑا عالم بھی ہے کہ اسے جنس کی تمام ا قسام کا بخوبی علم ہے تو پھر اس نے یہ سوال مجھ سے کیوں پوچھا، یہ تو ایسے ہی جیسے کسی گنجے سے کنگھی مانگی جائے، مگر پیشتر اس کے کہ میں قمر کے علم و دانش کے حوالے سے تذبذب میں پڑتا ، کچھ ہی دیر بعد اس کا فون آگیا کہ اس کی ریسرچ کے مطابق’’خنثہ شکل‘‘ اس خو اجہ سرا کو کہتے ہیں جو سرجری کے ذریعے ’’مرد‘‘ یا’’ عورت‘‘ بنا ہو، شاباش قمر ریاض اور ہیٹس آف ٹو الیکشن کمیشن کہ جس نے اردو کو ایک ایسا لفظ دیا، جس کے ساتھ اس نے خود ہی لفظ’’شکل‘‘ بھی شامل کردیا، تاہم میرے نزدیک اس حوالے سے دوایک سوالات اور بھی بنتے تھے کہ اگر آپ دیکھنے میں مرد لگتے تھے مگر عادتیں زنانہ قسم کی تھیں تو آپریشن کی کیا ضرورت تھی، آخر ہمارے ہاں دکھاوے کے مرد بھی تو موجود ہیں اور اگر آپ عورت نظر آتے تھے اور شوق مردانہ نوعیت کے تھے توبھی کوئی حرج نہیں تھا کیونکہ مردوں کی طرح دکھاوے کی عورتیں بھی تو ہمارے سماج میں رہتی ہیں اور ہمارے سماج کا یہی حسن ہے، تاہم واضح رہے یہ سب باتیں محض کالمانہ ہیں اور نہ اس میں کسی انسان کی اپنی مرضی یا خواہش کا کوئی دخل نہیں، یہ ٹیکنالوجی ہی علیحدہ ہے، البتہ بعض ملکوں میں خواجہ سرائوں کی تمام بیان کردہ قسمیں شوقیہ یا کاروباری مقاصد کے لئے بھی تیار ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں خواجہ سرا (مرد) مختلف شعبوں میں کھپ گئے ہیں، زیادہ تر شوبز سے منسلک ہیں، باقی چوراہوں میں نظر آتےہیں، ان میں سے کچھ بھیک مانگتے ہیں اور کچھ بھیک کو حرام سمجھتے ہوئے بن سنور کر نہر کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں، جہاں کئی کار سوار ان کے قریب پہنچ کر کار کی رفتار آہستہ کردیتے ہیں۔ پس نوشت ، کالم کے آخر تک پہنچتے پہنچتے آپ کو شک گزرا ہوگا کہ شاید میں بھی قمر ریاض کی طرح عالم فاضل ہوں اور اگر آپ کو یہ شک گزرا ہے تو یہ بےجا نہیں ہے، واضح رہے خود کو جاہل مطلق ظاہر کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ کالم علم کی بنیاد پر نہیں، بنتا ہی جہالت کی بنیاد پر ہے۔ جناب محترم الطاف حسن قریشی اپنے کالم "اعلیٰ وفاقی عہدوں میں بلوچستان کا حصہ” میں لکھتے ہیں کہ
بلوچستان کو ہماری قومی سیاست میں نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ قائداعظم نے 1928ء میں ہندوستان کے آئینی مسائل حل کرنے کے لئے جو چودہ نکات دیے تھے، ان میں بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر لانے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے 1948ء میں سبی میلے کے موقع پر یہی عزم دہرایا تھا اور اپنی زندگی کے آخری ایام صحت افزا مقام زیارت میں گزارے تھے۔ ان کی وفات کے بعد اس پس ماندہ علاقے پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کا تقاضا وہاں کی غربت اور افلاس کر رہے تھے۔ 1970ء میں اسے پہلی بار صوبے کا درجہ ملا اور انتخابات کے نتیجے میں نیپ اور جمعیت علمائے اسلام نے سردار عطاء اللہ مینگل کی سربراہی میں حکومت بنائی جو بھٹو صاحب نے 14فروری 1973ء کی سہ پہر برطرف کر دی اور فوجی آپریشن شروع ہو گیا۔ عشروں کے بعد وفاق نے بلوچستان کے حالات سنوارنے پر کام شروع کیا اور فوج نے بھی اس کی سماجی اور معاشی ترقی میں حصہ ڈالا۔ نوازشریف کی حکومت جو 2013ء میں قائم ہوئی، اس نے بلوچستان کی نیشنلسٹ جماعتوں کو حکمرانی کا موقع دیا۔ ڈھائی سال ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیراعلیٰ رہے اور انہوں نے عسکری قیادت کے تعاون سے علیحدگی پسند عناصر سے مذاکرات شروع کئے جو قومی دھارے میں آتے گئے اور صوبے میں دہشت گردی کے واقعات بتدریج کم ہوتے گئے۔ ڈھائی سال بعد نواب ثناء اللہ زہری وزیراعلیٰ بنے جو مسلم لیگ نون کے صوبائی صدر بھی تھے۔ ان کی مدت پوری ہونے سے چھ ماہ قبل انہیں تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا اَور حالات نے انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ سیاسی بغاوت ان کی اپنی جماعت میں ہوئی۔ جس گروپ نے بغاوت کی، اسے سینیٹ میں چھ ارکان کی حمایت حاصل ہے اور وہ سینیٹ کے چیئرمین کے منصب کا مطالبہ کر رہا ہے۔
سینیٹ کے انتخابات جو 3مارچ کو منعقد ہوئے، ان کے بارے میں یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ بدترین ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے اور عمران خان نے فاضل چیف جسٹس سے عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اہلِ دانش اپنے تجزیوں میں یہ نکتہ واقعات اور دلائل کی روشنی میں اُجاگر کر رہے ہیں کہ سیاسی تنازعات اور معاملات کو عدالتوں میں لے جانے سے غیر سیاسی اداروں کو دخل اندازی کا موقع ملتا ہے۔ سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے بعض اچھے پہلو بھی سامنے آئے ہیں جن کی روشنی میں انتخابی نظام کے اندر اصلاحات کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان کی حکومت میں جو بغاوت ہوئی، اس میں بعض حلقوں کو اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ نظر آیا اور زرداری صاحب نے دعویٰ کیا کہ ہم نے صرف ’دعا‘ کی تھی۔ مجھ ایسے بے خبر کالم نگار کو بھی انتخابات سے صرف چھ ماہ پہلے حکومت کی اتھل پتھل بہت ناگوار گزری، مگر اس کا ایک پہلو اور بھی ہو سکتا ہے کہ نواب ثناء اللہ زہری کی حکومت کے معاملات میں عدم دلچسپی ناقابلِ برداشت ہوتی گئی جس نے انوارالحق کاکڑ اور وزیرداخلہ سرفراز بگتی کو حالات کے خلاف اُٹھنے پر مجبور کر دیا۔ یہ دونوں پاکستان کی محبت سے سرشار نڈر اشخاص ہیں کہ جب کوئٹہ میں پاکستان کا نام لینا اپنی موت کو دعوت دینا تھا، تو یہ سریاب روڈ پر پاکستان کے حق میں نعرے بلند کرتے، قومی پرچم بلند رکھتے اور علیحدگی پسند عناصر کے سامنے ڈٹے رہے۔ ان کی کوششوں سے بگتی علاقے میں امن قائم ہوا اور تعمیری عمل کو فروغ ملا، مگر وفاقی حکومت کے اعلیٰ عہدے دار بلوچستان آئے نہ اپنی حکومت کا کوئی خیال رکھا۔ ناقدین کہتے رہے کہ اچکزئی قبیلے کے سرداروں کے حوالے تمام اختیارات کر دینے سے شدید عدم توازن پیدا ہوا۔ اس عدم توازن کے نتیجے میں مسلم لیگ نون کے اندر باغیانہ رجحانات کو غالب آنے کا موقع ملا۔ اب وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ سینیٹ کی چیئرمین شپ بلوچستان کو ملنی چاہیے۔ مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کو اس پر ہمدردانہ غور کرنا اور اپنے ساتھیوں کو سینے سے لگا لینا چاہیے۔اس امر کا قوی امکان ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جناب حاصل بزنجو کی چیئرمین شپ پر متفق ہو جائیں۔ یہ انتخاب مسلم لیگ نون کے لیے بھی قابلِ قبول ہو گا۔ وفاق کی چاروں اکائیوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وفاقی سطح پر وہ اقتدار میں شامل ہیں جہاں چار چھ منصب بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں صدرِ مملکت، وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین، اسپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر شامل ہیں۔ قومی یک جہتی کا تقاضا ہے کہ ان میں ایک عہدہ بلوچستان کے حصے میں آئے۔ اس طرح سیاسی اقتدار میں ایک توازن قائم ہو گا اور اچھی روایت پروان چڑھے گی کہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ بھی وفاقی سطح پر ایک اعلیٰ منصب پر فائز ہو سکتا ہے۔سینیٹ کے انتخابات میں یہ سیاسی شعور بھی اُبھرتا دکھائی دیا کہ صوبائی ارکانِ اسمبلی نے اپنی قیادت کے بعض فیصلوں سے اختلاف کیا۔ مثال کے طور پر زبیرگل کو جناب نوازشریف نے اس لیے ٹکٹ دیا کہ وہ لندن میں ان کی خدمت بجا لاتے ہیں۔ وہ چودھری سرور کے مقابلے میں شکست کھا گئے اور مسلم لیگ نون سے وابستہ چند ارکانِ اسمبلی نے زبیرگل کے بجائے انہیں ووٹ دیئے جو زیادہ اہل ہیں۔ تحریکِ انصاف کے ارکانِ اسمبلی کی خاصی تعداد نے خیبرپختونخوا میں عمران خان کی اس پالیسی سے اختلاف کا عملی مظاہرہ کیا جس میں قابل افراد کے بجائے دولت مند اشخاص کو ٹکٹ دیئے گئے۔ اسی طرح ایم کیو ایم کے ارکانِ اسمبلی نے اپنے قائدین کی داخلی جنگِ اقتدار کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے۔ اب آزاد سینیٹرز بادشاہ گر بن گئے ہیں اور قیاس کیا جا رہا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کا ایک اور خوفناک دور چلے گا۔
سیاسی قائدین کو ہارس ٹریڈنگ کا نوحہ پڑھتے رہنے کے بجائے اپنی اخلاقی اور سیاسی پستی کا جائزہ لینا اور اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت کو فروغ دینا ہوگا۔ انہیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ ان اشخاص کو جاری کرنے چاہئیں جن میں اخلاق کے بنیادی اوصاف پائے جاتے ہوں اور عوام کی خدمت کرنے کا اچھا ریکارڈ رکھتے ہوں۔ اس پورے عمل میں سیاسی کارکنوں کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ بلاشبہ مسلم لیگ نون نے سخت آزمائش کے موقع پر غیر معمولی یک جہتی اور حمیت کا ثبوت دیا ہے اور حریفوں کے تمام حربے ناکام بنا دیے ہیں۔ یہ ہماری تاریخ کا بہت اہم واقعہ ہے جو اس کا متقاضی ہے کہ اس جماعت کی جڑیں تمام صوبوں میں بہت مضبوط ہوں اور اس کی قیادت پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ایک فعال پالیسی اختیار کرے۔ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے جس کا احترام تمام اداروںپر واجب ہے۔ اسی طرح دنیا کے تمام مہذب معاشروں میں عدلیہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور اس کے فیصلوں کا اختلاف کے باوجود احترام کیا جاتا ہے۔ احترام لفظی نہیں عملی اور حقیقی ہونا چاہیے۔ نفرتوں کو پھیلانے سے مکمل اجتناب حددرجہ لازم ہے کہ ان کے بطن سے جو تصادم اُبھرتا ہے، اس پر قابو پانا محال ہو جاتا ہے۔ انصاف، توازن اور باہمی احترام سے معاشرہ ترقی کرتا اور اس کی آغوش میں نئی منزلیں طے کرتا جاتا ہے۔ زبان میٹھی ہونی چاہیے اور خیرخواہی کا جذبہ عوام کی زندگی میں آسودگی لاتا اور اداروں کو قوت عطا کرتا ہے۔ محترم جاوید چوہدری اپنے کالم "پیٹرا میں” میں لکھتے ہیں کہ پیٹرا کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا‘ یہ ہوا کی طرح ہے‘ یہ خوشبو کی طرح ہے اور یہ برف میں گرم جھونکے کی طرح ہے‘ آپ اسے صرف محسوس کر سکتے ہیں آپ بیان نہیں کر سکتے‘ یہ اگر دنیا کا تیسرا عجوبہ ہے تو یہ واقعی عجوبہ ہے اور یہ عجوبہ ٹشو پیپر کی طرح آپ کو اپنی سرخ چٹانوں میں جذب کر لیتا ہے‘ آپ آپ نہیں رہتے‘ آپ بھی پیٹرا بن جاتے ہیں‘ پیٹرا کیا ہے؟
پیٹرا انسانی ہاتھوں کی صناعی ہے‘ میلوں لمبی پینٹنگ‘ صدیوں پر پھیلا تہذیب کاایک نغمہ اور وقت کے صفحوں پر درج ایک حیران کن داستان ہے۔ اردن کے پاس اگر کچھ نہ بھی ہوتا تو بھی اردن کی بقا‘ اردن کی عزت کے لیے پیٹرا کافی تھا‘ یہ کسی بھی ملک کے لیے ایک مکمل حوالہ ہے‘ وقت کا حوالہ‘ وقت وہ جو گزر گیا‘ وقت وہ جو گزر رہا ہے اور وقت وہ جو ہمارے بعد بھی گزرتا رہے گا‘ پیٹرا وقت اور انسان دونوں کی اجتماعی داستان ہے۔
آپ اگر عمان سے خلیج عقبہ کی طرف سفر کریں تو آپ ساڑھے تین گھنٹے میں پیٹرا میں داخل ہو جاتے ہیں‘ یہ وادی موسیٰ کے پہاڑوں میں واقع ہے‘ حضرت موسیٰ ؑ صحرائے سینا سے ہوتے ہوئے یہاں تشریف لائے تھے‘ شہر میں حضرت موسیٰ ؑسے منسوب ایک چشمہ بھی موجود ہے‘ یہ چشمہ بھی عین موسیٰ کہلاتا ہے‘ چشمے کا پانی بہت ٹھنڈا‘ صاف اور صحت بخش ہے اور یہ ساڑھے تین ہزار سال سے علاقے کی ضرورت پوری کر رہا ہے‘ حکومت نے چشمے کے اوپر عمارت بنا دی ہے‘ ہم نے چشمے کا پانی پیا‘ پانی واقعی صاف اور ٹھنڈا تھا‘ اس میں حضرت موسیٰ ؑ کی دعاؤں کی تاثیر بھی تھی۔
پیٹرا وادی موسیٰ کے آخر میں تھا‘یہ شہر 14ویں صدی کے بعد گم ہو گیا تھا‘ یہ انیسویں صدی میں مقامی چرواہوں نے بکری کی تلاش کے دوران دریافت کیا‘یورپ سے اسے سوئس سیاح جوہان لڈوک نے 1812ء میں متعارف کرایا‘ ہم چار گھنٹے کے بعد پیٹرا پہنچے‘ ٹکٹ خریدے اور ایک پتھریلی سڑک پر آ کھڑے ہوئے‘ سامنے گھوڑوں کا تھان تھا‘ ہر ٹکٹ ہولڈر کو گھوڑے کی سواری کا موقع دیا جاتا ہے‘ ہم گھوڑوں کے ذریعے پتھریلی زمین پر چلتے ہوئے بلند وبالا پہاڑوں کے درمیان پہنچ گئے۔
ہمارے چاروں اطراف پہاڑ تھے اور ان پہاڑوں کے درمیان پانچ چھ میٹر چوڑا ایک درہ تھا‘ ہم درے میں داخل ہو گئے‘ ہمارے دائیں اور بائیں اونچے پہاڑ تھے اور پہاڑوں کے درمیان لمبی اور پیچ دار گلی کی طرح ایک طویل درہ تھا‘ درے میں سیکڑوں سیاح چل رہے تھے‘ یہ راستہ ہزاروں سال قبل انسانوں نے سرخ پتھر کاٹ کر بنایا تھا‘ وہ لوگ پہاڑوں کے اوپر بیٹھ کر پتھر کاٹتے کاٹتے دو اڑھائی سو فٹ نیچے آئے‘ گلی بنائی اور وہ اس گلی کو چار کلو میٹر تک لے گئے۔
آپ اس سرنگ نما گلی میں چلتے جائیں‘ آپ کو دو سو فٹ اوپر آسمان کی سفید لکیر دکھائی دے گی اور آپ کے دائیں بائیں سرخ پتھروں کی دیواریں ہوں گی‘ گلی کے دونوں طرف فرش سے پانچ فٹ اوپر پانی کی نالیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں‘ ان نالیوں میں پینے کا صاف پانی چلتا تھا‘ نالیاں سودو سو فٹ کے بعد حوض میں تبدیل ہو جاتی تھیں اور حوض پانی کی کثافت دھو کر اسے آگے روانہ کر دیتا تھا‘ درے کے اندر دونوں طرف پچاس ساٹھ فٹ کی بلندی پر غار تھے‘ یہ غار قدیم دور میں پیٹرا کے لوگوں کی رہائش گاہیں تھے۔
ان میں شہر کے نگران اور فوج بھی رہتی ہو گی‘ہر آدھ کلو میٹر بعد گلی کھلی ہو جاتی تھی‘ یہ جگہیں قدیم زمانے میں ’’میٹنگ پلیس‘‘ یا چوک ہوتی ہوں گی‘ گلی کے دونوں اطراف قدیم زبان میں فرمان بھی تحریر تھے‘ پتھر کے اندر بت بھی تراشے ہوئے تھے اور دیویاں اور دیوتا بھی‘ یہ پتھر وقت کے ہاتھوں مدہم ہو چکے ہیں‘ صرف ان کے آثار باقی ہیں‘ راستے میں دو جگہ ٹیمپل بھی تھے‘ گھوڑے باندھنے کی جگہیں بھی اور پانی کے حوض بھی‘ درے کے اندر خاص قسم کی خوشبو اور ٹھنڈ تھی‘ یہ جگہ یقینا گرمیوں کے موسم میں ٹھیک ٹھاک ٹھنڈی ہوتی ہو گی۔
گلی کے آخر میں ایک وسیع عمارت تھی‘ یہ عمارت خزانہ کہلاتی ہے‘ پوری عمارت پہاڑ کاٹ کر بنائی گئی تھی‘ عمارت کے چھ ستون تھے‘ ستونوں کے اوپر آرچ تھی‘ آرچ کے اوپر دو دو ستونوں کے تین سیٹ تھے اور ان کے اوپر گنبد تھے‘ گنبدوں کے اوپر قدیم دیوتاؤں کے بت تھے ‘ یہ تمام چٹان تراش کر بنائے گئے تھے اور یہ ’’ون پیس‘‘ تھے‘ یہ فن کا نکتہ کمال تھا اور وہ لوگ جو اسے بناتے رہے تھے وہ کوئی عام لوگ نہیں تھے‘ وہ ہنر اور فن کی مٹی سے تراشے ہوئے حیران کن لوگ تھے۔
خزانہ پیٹرا کا شناختی نشان ہے‘ آپ جہاں بھی پیٹرا ٹائپ کریں گے یا پیٹرا کی تصویر دیکھیں گے آپ کو خزانے کی تصویر ملے گی‘ یہ عمارت صرف عمارت نہیں یہ ایک جادوگری‘ ایک طلسم کدہ ہے‘ خزانے سے دائیں طرف مڑیں تو دنیا کے اس عظیم خفیہ شہر کاسب سے بڑا چوک آ جاتا ہے۔
چوک کے چاروں طرف پہاڑوں کے مختلف لیولز پر مختلف قسم کے ٹیمپل‘ محلات اور مکان ہیں‘ ہر عمارت پہاڑ تراش کر بنائی گئی تھی‘ ہر عمارت کے نیچے گیراج تھا‘ یہاں پرانے زمانے میں گھوڑے‘ گدھے اور خچر باندھے جاتے تھے‘ گیراج کے اندر سیڑھیاں تھیں‘ یہ سیڑھیاں مختلف لیولز سے ہوتی ہوئیں چٹان کے آخری سرے تک چلی جاتی تھیں‘ وہ لوگ چٹان کے آخری سرے پر اپنی خواب گاہیں بناتے تھے‘ خواب گاہوں کے باقاعدہ ٹیرس بھی ہوتے تھے اور کھڑکیاں اور دروازے بھی اور یہ سب چوک کی طرف کھلتے تھے۔
چٹان تراش کر غار بنانا اور پھر غاروں کو خوبصورت‘ ہوادار اور محفوظ گھروں میں تبدیل کرنا آسان کام نہیں تھا لیکن وہ لوگ ہزاروں سال تک یہ کارنامہ سرانجام دیتے رہے‘ چوک کے درمیان میں اسٹیڈیم تھا‘ یہ پورا اسٹیڈیم نیچے سے لے کر اوپر تک پہاڑ تراش کر بنایا گیا تھا اور یہ دنیا میں اس نوعیت کا واحد اسٹیڈیم تھا‘ قبل مسیح میں یقینا وہاں گلیڈی ایٹرز بھی ہوتے ہوں گے‘ اسٹیڈیم سے آگے دائیں جانب پہاڑ کی بلندی پر ٹیمپل تھے۔
ٹیمپلز کے جہازی سائز کے کالمز دل میں ہیبت طاری کر رہے تھے‘ ٹیمپلز کے اوپر پہاڑوں کا طویل سلسلہ تھا‘ ہم نے پہاڑوں پر چڑھنا شروع کر دیا‘ چڑھائی مشکل بھی تھی اور تھکا دینے والی بھی لیکن ہم جیسے تیسے چڑھ گئے‘ ٹاپ کا منظر حیران کن تھا‘ دور دور تک سرخ پہاڑ تھے اور ان پہاڑوں میں پیٹرا چھپا ہوا تھا‘ ہمیں وہاں جا کر پتہ چلا‘ یہ کوئی ایک شہر نہیں تھا‘ یہ چھوٹے چھوٹے شہروں کا گروپ تھا۔
ہماری نظر جہاں تک جا رہی تھی وہاں تک پہاڑ تھے‘ ان پہاڑوں پر غار تھے اور ان غاروں میں گھر تھے‘ وادی کے درمیان سے دریا بھی گزر رہا تھا‘ دریا خشک تھا‘ شاید یہ دریا برسات کے موسم میں زندہ ہوتا ہو‘ پہاڑوں کے اوپر سے پانی کے چھوٹے چھوٹے چینلز نیچے آ رہے تھے‘ پیٹرا کے لوگوں نے اس پانی کو گھروں تک پہنچانے کے لیے پہاڑوں کے ساتھ ساتھ نالیاں بنا رکھی تھیں‘ یہ نالیاں تمام گھروں تک پانی پہنچاتی تھیں‘ گھر اور نالیاں ضرورت اور پانی کے فلو کو ذہن میں رکھ کر بنائی گئی تھیں۔
پہاڑوں کے اوپر تک باقاعدہ سیڑھیاں ہیں‘یہ سیڑھیاں بڑی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں پہاڑوں کے اوپر بھی گھر اور چھاؤنیاں تھیں اور وہ لوگ گھوڑوں‘ گدھوں اور خچروں کے ساتھ یہاں تک پہنچتے تھے‘آپ کو بلندی سے تمام شہر پہاڑ دکھائی دیتے ہیں‘ آپ وہاں کھڑے ہو کر کسی طور اندازہ نہیں کر سکتے نیچے آبادی بھی ممکن ہے‘ پیٹرا کے لوگوں نے شاید اپنے دفاع کے لیے پہاڑوں کے اندر یہ شہر تراشے تھے لیکن پھر وہ یہ معجزاتی شہر چھوڑ کر کہاں چلے گئے؟
کسی کو معلوم نہیں! ہم چوٹی پر دائرے میں گھوم کر اس چٹان تک پہنچ گئے جس کے بالکل نیچے خزانے کا گیٹ تھا‘ یہ دنیا کی ’’موسٹ وانٹیڈ راک‘‘ ہے‘ آپ اگر زندگی اور موت کے خطرات سے بچ کر اس چٹان تک پہنچ جائیں اورآپ میں اگر مزید خطرات مول لے کر دو سو فٹ نیچے کھائی میں لٹکنے کی ہمت ہو تو آپ تین بائی دو فٹ کے اس پتھر تک پہنچ سکتے ہیں جس کے عین نیچے خزانے کا گیٹ ہے‘ یہ پیٹرا میں تصویر کے لیے شاندار ترین اسپاٹ ہے لیکن اس اسپاٹ پر صرف ایک فیصد سیاح پہنچ پاتے ہیں‘ ہم چاروں ڈھیٹ قسم کے لوگ تھے چنانچہ ہم وہاں پہنچ گئے‘ ہم نے فضا میں لٹکے اس پتھر پر بھی قدم رکھ دیا ۔
جس پر ذرا سی لرزش انسان کو دو سو فٹ نیچے لے جا سکتی ہے‘ ہم نے اس خطرناک پتھر پر لیٹ کر تصویریں بنوائیں اور واپسی کا سفر شروع کر دیا‘ پیٹرا کے تمام نوجوان انڈیانا جونز کے مرکزی کردار(ہیریسن فورڈ) کی طرح لمبے لمبے بال رکھتے ہیں‘ ماتھے پر رنگین رومال باندھتے ہیں اور تنگ جینز پہنتے ہیں‘ یہ گیٹ اپ شاید ان لوگوں نے فلم سے لیا تھا یا پھر ہیریسن فورڈنے ان لوگوں کے گیٹ اپ کو فلم میں کاپی کیا‘ اللہ بہتر جانتا ہے تاہم یہ حقیقت ہے انڈیانا جونز سیریز کی فلم لاسٹ کروسیڈ کا ایک بڑا حصہ پیٹرا میں فلمایا گیا تھا۔پیٹرا کی بلند ترین چوٹیوں پر اللہ کے نبی اور حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی حضرت ہارون ؑ کا مزار بھی ہے لیکن وہاں پہنچنے کے لیے کم از کم تین گھنٹے کی چڑھائی چڑھنا پڑتی ہے لہٰذا ہم وہاں نہیں جا سکے۔
ہم واپسی کے لیے چوٹی سے روانہ ہوئے تو سورج ڈوب رہا تھا‘ قدرت پیٹرا کے افق پر سرخی مل رہی تھی‘ سرمئی چٹانیں سرخ ہو رہی تھیں‘ میں کنارے پر پہنچ کر رک گیا‘ میرے سامنے سرخ افق تھا‘ وادی میں اندھیرے کی سیاہ لکیریں ابھر رہی تھیں اور ہمارے پاؤں کے نیچے سرمئی چٹانیں اپنا رنگ‘ اپنا روپ بدل رہی تھیں‘ شام کے اس لمحے ہماری پشت پر چودھویں کا چاند بھی چمک رہا تھا۔
میں نے زندگی میں بہت کم چاند اور سورج کو اکٹھا دیکھا‘ یہ دونوں اس وقت پیٹرا کی چوٹی پر موجود تھے‘ سامنے ایک گورا سیاح اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ ایک غار صاف کر رہا تھا‘ یہ دونوں وہ رات دنیا کی اس طلسماتی جگہ پر گزارنے کا منصوبہ بنا رہے تھے‘ میں نے لمبی سانس لی اور پیٹرا کا سارا فسوں اپنی رگوں میں اتار لیا‘ پیٹرا اب بے خود لہو کی طرح‘ دل مضطرب کی آوارہ دھڑکنوں کی طرح اور بے ربط اداس سانسوں کی طرح میری رگوں میں دوڑ رہا تھا‘میں سر سے پاؤں تک پیٹرا بن چکا تھا۔

Advertisement

کالم کلوچ

قادری عمران کھانا اورملکی سیاست

Rashid Saeed

Published

on

پاکستانی سیاست میں ہر دن نیا دن ہوتا ہے سیاسی بسات کے مہرے اپنی چالیں چلتے رہتے ہیں اور یہی سیاست کا حسن ہے۔ پاکستان کے سینئر سیاستدان شیخ رشید جو ہر روز سونے سے پہلے یہ دعا کرکے سوتے ہیں کہ جب وہ صبح اٹھائیں تو نواز حکومت ختم ہو چکی ہو لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ بہر حال وہ پاکستان کے ایک سیزن سیاستدان ہیں اور وہ بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ تمام اپوزیشن جماعتیں یکجا ہو کر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلائیں۔ ابھی تک تو ان کو اس حوالے سے مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی مگر ان کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کی کوششوں کی بدولت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہر القادری کھانے پر ملاقات کریں گے۔یہ خبر بھی انہوں نے طاہر القادری کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔اگر مولانا طاہرالقادری کو عمران خان کے گھر جا کر کھاناکھاناپڑاتو میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ کھاناکیسا ہوگا اور کیا طاہر القادری کی مرضی کا ہوگا کہ نہیں؟ مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ طاہر القادری شوق سے کیا کھاتے ہیں۔جو میں نے سناہے کہ وہ شاید سبزی اورآلو قیمہ پسند کرتے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بارے میں میں بتا سکتا ہوں کہ وہ کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں اور اگر ان کومولانا طاہر القادری نے کھانے کی دعوت دی تو مینو کیا ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کے سربراہ کو دیسی مرغ ، شکار کا گوشت جس میں بیٹر، تتر ، مرغابی سمیت کوئی بھی شکار ہو بہت پسند کرتے ہیں ساتھ ہی بکرے کی ران روسٹ بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ ان تمام پکوان کو دیسی گھی میں پکوایاجائے تو بہت اچھا ہوگا ۔ ان تمام اشیاءکو بتانا اتنا ضروری نہ تھا لیکن ان کے بارے میں تفصیلات اس لیے بتا رہا ہوں کہ طاہر القادری صاحب کو کسی سے پوچھنا نہ پڑے۔ اب بات کر لیتے ہیں ملکی سیاست کی ۔ پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک کو ایک مرتبہ پھر قریب لانے میں شیخ رشید نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ چونکہ شیخ رشید صاحب کا خیال ہے کہ اگر 30 روز کے اندر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک نہ چلائی گئی تو حکومت کا جانا نہ ممکن ہوگا اور الیکشن2018ءمیں ہی ہوں گے اور شیخ صاحب یہ مطلع بار کہہ چکے ہیں کہ اگر میاں نوازشریف کی حکومت 2018ءتک رہی تو اس کے بعد بھی اگلی حکومت مسلم لیگ ن کی ہی ہوگی اور ان کو ہرانا تقریباً نہ ممکن ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ صاحب اپوزیشن کو متحرک کرنے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف جو کہ عوامی دباﺅ حکومت پر بنا رہی رہے اس سلسلے میں تحریک انصاف ملک بھر میں جلسے اور ریلیاں کر رہے ہیں۔ میری ناقص عقل کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ عوامی دباﺅ اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے حکومت کو دباﺅ میں رکھا جائے تاکہ حکومت کوئی بڑی غلطی کر سکے۔ اگر حکومت کوئی بڑی غلطی کرتی ہے تو قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اور اگر حکومت کوئی بڑی غلطی نہیں کرتی اور قبل از وقت انتخابات نہیں ہوپاتے تو کم از کم حکومت کو 2018ءکے الیکشن تک مسلسل دباﺅ میں رکھا جائے گا اور عوام میں حکومت کی بدعنوانی اور حکمرانوں کی کرپشن کا ایشو زندہ رکھا جائے ۔ تحریک انصاف موجودہ صورتحال کے پیش نظر بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ عوامی رابطہ مہم جس کا نام انہوں نے احتساب موومن رکھا ہے۔ اس میں ملک کے تمام اپوزیشن حماعتیں ان کے ساتھ دیں گی۔ اسی ضمن میں انہوں نے اپنی پارٹی رہنماﺅں کی دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کی ڈیوٹی بھی لگائی اور تحریک انصاف کو دوسرے درجے کی قیادت جس کی سربراہی پارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی ، سنی تحریک اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سمیت عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سے ملاقاتیں کیں۔ اطلاعات ہیں کہ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور دیگر چند سیاسی جماعتوں نے عمران خان کی احتساب ریلی میں علامتی طور پر شرکت کی یقین دہانی کروائی جبکہ پاکستان عوامی تحریک ، سنی تحریک سمیت دیگر مذہبی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کا وعدہ کیا۔ یہ عمل باعث تعجب ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے جہانگیر ترین کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے وفد اور عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید کے ساتھ مشترکہ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ لاہور میں ہونے والی پی ٹی آئی کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ ان کی جماعت پاکستان عوامی تحریک اسی روز یعنی کے 3ستمبر کو پنڈی میں حکومت کے خلاف عوامی اجتماع کر رہی ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک طرف پاکستان عوامی تحریک عمران خان کے ساتھ لاہورکی ریلی میں شامل ہونے کے لئے اپنے کارکنوں کو شرکت کی اپیل کر رہے ہیں جبکہ خود پنڈی میں بھرپور دھرنا دے رہے ہیں ۔پاکستان عوامی تحریک کے کارکن کی روایت رہی ہے کہ وہ جہاں بھی ان کااجتماع ، دھرنا یا سیاسی پروگرام ہو تو تمام کارکن وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا طاہر القادری کی جماعت کے کارکن پنڈی میں ہونے والے اپنے اجتماع میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ لاہور میں ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی عوامی ریلی میں مولاناکی جماعت کی علامتی شرکت ہوگی۔ پاکستان تحریک انصاف عروج کا آغاز لاہور کے تحریکی مینار پاکستان کے جلسے سے ہوا ۔مجھے ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں مل رہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی لاہور میں ہونے والی ریلی میں تمام سیاسی جماعتوں کوشرکت کی دعوت کیوں دی ہے اور اگر دی ہے تو یہ کیوں کہا ہے کہ سب اپنے اپنے کینٹینر پر آئیں۔ اگر کپتان حکومت کے خلاف تمام اپوزیشن کو ملا کر بھرپور عوامی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو پھر اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے سربراہوں کو ایک کنٹینر پر ہونا چاہیے تا کہ حکومت کو یہ تاثر دیا جائے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف یکجا ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے آج کل سیاسی مشیر کون ہیں میں وثوخ سے نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ کپتان کے ساتھ مخلص نہیں۔ عمران خان کے مشیروں سے عمران خان کو وقتی طور پر سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کو نقصان ہو رہاہے اور روز بہ روز پارٹی اختلافات میں شدت آ رہی ہے۔ خان صاحب نے جہلم سے فواد چوہدری جبکہ بورے والا سے عائشہ نذیر جٹ کو حالیہ ہونے والے ضمنی الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دی ہے۔فواد چوہدری نے جہلم NA67 سے پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیا ۔ اگرچہ انہوں نے 2013ءکے الیکشن کے مقابلے میں 30 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے لیکن جہلم سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن انکوٹکٹ دیئے جانے پر خوش نہ تھے ان کا مو¿قف ہے کہ فواد چوہدری متعدد بار سیاسی جماعتیںتبدیل کر چکے ہیں وہ پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن صرف اس لیے لڑے کہ ان کے پاس کوئی اوراچھا (0pption)آپشن نہ تھا اسی طرح بورے والا سے پی پی 232کی ٹکٹ عائشہ نذیر جٹ جو کہ سابقہ ایم این اے نذیر جٹ کی بیٹی ہے ان کو دی گئی۔ نذیر جٹ پہلے ق لیگ اور پھر پیپلز پارٹی میں رہ چکے ہیں ۔ اب ان کے لئے بہتر آپشن پی ٹی آئی تھا اور پاکستان تحریک انصاف نے بہتر امیدوار ہونے کے ناطے ان کو ٹکٹ جاری کر دیا۔ اس فیصلے کو بھی بورے والا کی تحریک انصاف کی قیادت نے نہیں سراہا بلکہ ان کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف بھی ایک روایتی سیاسی جماعت بن چکی ہے جو نظریات کی بجائے دھرہ بندی اور برداری کی سیاست کواہمیت دے رہی ہے۔ عائشہ نذیر جٹ کے بارے میں انتخابی مہم شروع ہوتے وقت یہ تاثر عام تھا کہ وہ با آسانی ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوجائیں گی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز جو کہ جہلم اور بورے والا دونوں الیکشنوں کی براہ راست نگرانی کر رہے تھے ان کو بھی یہی اطلاعات مل رہی تھیں کہ عائشہ نذیر جٹ انتہائی مضبوط امیدوار ہیں اوران کو ہرانا آسان نہ ہے کیونکہ ان کے والدنذیر جٹ برادری اور دھروں کی سیاست کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور یہی سے 2008ءمیں وہ آزاد حیثیت سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں ۔ نذیر جٹ جوکہ اپنی بیٹی کی خود کمپیئن بھرپور انداز سے چلا رہے تھے ان کو بھی یقین تھا کہ وہ یہ سیٹ با آسانی جیت جائیں گے مگر ایسا نہ ہوا حمزہ شہباز شریف کی ٹیم نے اس حلقہ میں بھرپور عوامی رابطہ مہم چلائی اور میری اطلاعات ہیں کہ یہاں سے پی ٹی آئی کے سابقہ ٹکٹ ہولڈر سمیت پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے اہم رہنماﺅں پس پردہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اپنے زیر اثر لوگ اور دھروں کے ووٹ بھی مسلم لیگ ن کو دلوائے ہیں۔ مجھ یقین ہے کہ کپتان کو ان کے رفقاءنے دونوں ضمنی انتخابات کے حوالے سے یہ بریفنگ دی ہوگی کہ پارٹی نے بھرپور طریقے سے پرفارم کیاہے جس سے پارٹی کی مقبولیت کااندازہ لگایا جاسکتاہے اور ان سے اصل حقائق پوشیدہ رکھے ہوں گے۔ کپتان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اورکان چند قریبی مشیروں کی جانب مرکوز کروانے کی بجائے اپنے عام ورکر کی آواز اور رائے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

Continue Reading

کالم کلوچ

جنت کا دروازہ

Published

on

میں سڑک کنارے پیدل چل رہی تھی کہ اچانک میرے کانوں میں ایک صدا گونجی اوئے پترا۔۔۔۔۔ ان الفاظ سے دل میں عجب سا درد محسوس ہوا اور میرے قدم وہیں رک گئے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک بوڑھا جس کی جھکی کمر موٹے شیشوں والی عینک کانپتے ہاتھ، صاف ستھرے کپڑے سفید پگڑی سر پر اور وہ زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ جب میں نے دیکھا تو وہ کچھ بول نہیں پا رہا تھا وہ اپنے کانپتے ہاتھ آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پھر بھی اس کے ہاتھ اٹھ نہیں رہے تھے۔ دیکھنے سے صاف ظاہر تھا کہ بھیک مانگنے میں کتنی شرمندگی ہو رہی ہے اسے۔ مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے اس ضعیف مانس سے پوچھا کہ آپ اچھی نسب کے لگتے ہو تو یہ فقیری کیوں؟ تو اس کی آنکھوں میں اشک بھر آئے۔ عینک کے نیچے سے ہی دونوں ہاتھوں سے وہ اپنے اشک سمیٹنے لگا۔ میں نے بات کو دہراتے ہوئے کہا بتائیں ناں بابا۔ تو اس نے ڈگمگاتی ہوئی آواز سے بتایا۔ آج صبح میں کمرے میں سویا ہوا تھا اچانک میری آنکھ کھلی تو میرے کانوں میں کچھ آوازیں آئی جب میں نے غور کیا تو میرے بچے بحث کر رہے تھے میرا چھوٹا بیٹا جس کے ساتھ میں پچھلے تین سالوں سے رہ رہا تھا وہ اب مجھ سے مخلصی چاہتا ہے جب تک جائیداد میرے نام تھی بہت تابعداری کی میری۔ لیکن اب جب اپنی ساری جمع پونجی میں نے تینوں بیٹوں کو برابر حصوں میں تقسیم کر دی تو میرے چھوٹے صاحبزادے کو اس بات پر اعتراض تھا کہ جب حصہ سب کو برابر ملا تو پھر باپ کی کفالت مجھ اکیلے کے حصے میں کیوں؟ مجھے کس بات کی سزا ہے؟ اور میرے دونوں بڑے بیٹے یہ کہہ رہے تھے کہ ماں باپ چھوٹے کے حصے میں ہی آتے ہیں ہم نے پہلے بہت کیا باپ کیلئے اب تمھاری باری ہے تب میرا چھوٹا بیٹا میری ضروریات زندگی کا حساب کرنے لگا یہاں تک کہ تین وقت کے کھانے کی ضرب تقیسم کرنے لگا۔ اس وقت مجھے ان کا بچپن یاد آ گیا جب میں خود بھوکا رہ کر ان کو تین وقت کا کھانا کھلاتا تھا اپنی خواہشات کو دفن کر کے ان کو اس لائق بنایا کہ وہ اپنی خواہشات پوری کر سکیں۔۔۔ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بوڑھا باپ بولا ان ہاتھوں نے ہمیشہ اپنی اولاد کو دیا ہے آج یہی ہاتھ اسی اولاد کے منہ در منہ پھیلاتے ہوئے مجھے لاج آتی ہے۔ میری کل کائنات میری اولاد ہے انھیں لگا کہ ہمارا باپ اونچا سنتا ہے مگر ان کا ایک ایک لفظ میرے کانوں میں گونج رہا تھا اور میں بنا کچھ بولے وہاں سے نکل آیا۔ بھیک مانگتے ہوئے لوگوں کی گالیاں برداشت کر لوں گا مگر اپنے بچوں کی طنزیہ باتیں سننے کی ہمت نہیں مجھ میں ۔
والدین کے دلوں میں اللہ تعالی نے محبت کے ایسے خزانے رکھ دئیے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے اولاد فرمابردار ہو یا گستاخ والدین شفقت کی برسات کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اولاد تو والدین کا حساب آسانی سے کر لیتی ہے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ والدین کی محبت اگر دولت کی ہی محتاج ہو تو پھر وہ اپنی جوانی کے بہترین دن رات اپنی اولاد پر خرچ کرنے کی بجائے دنیا کا مال جمع کرنے میں گزارتے۔ بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس کا تن بھی اس کے والدین ڈھانپتے ہیں تب کتنے پیسے دے کر وہ والدین کی محبت خدمت اور پیار خریدتا ہے۔ ماں کے پیروں تلے جنت ہے تو باپ جنت کا دروازہ ۔ باپ کے چہرے کی طرف ایک بار دیکھنا ایک حج جتنا ثواب ہے۔ بدبخت ہیں وہ اولادیں جو جنت کا دروازہ خود اپنے لیے بند کر لیتی ہی

Continue Reading

کالم کلوچ

ناشکری

Published

on

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے“ – قرآن پاک کی آفاقی سچائیوں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ جب ہم اپنے فرائض ادا کرتے چلے جاتے ہیں تو ہمیں ہمارے حقوق بھی ملتے چلے جاتے ہیں یہ حقوق و فرائض کا ایک تعلق ہے جب یہ تعلق ٹوٹتا ہے تو مسائل ، شکوے، شکایات، ناشکرا پن، احتجاج اور بغاوت جنم لیتے ہیں۔ ہم اپنے حقوق کی بات تو بہت کرتے ہیں لیکن اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت اور سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اپنے ہر مسئلے کا ذمہ دار ہم دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ قرآن پاک نے بھی فیصلہ کر دیا ہے کہ ”تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے سو تمہارے فعلوں سے ہے“۔ بہت سارے مسئلے ہم اپنے لیے خود پیدا کرتے ہیں اور پھر بیٹھ کر روتے ہیں۔ بحیثیت قوم کے ہمارا وطیرہ بن چکا ہے کہ ہم اپنے جائز و ناجائز مطالبات منوانے کے لیے احتجاج ، توڑ پھوڑ، جلاﺅ گھیراﺅ کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور احتجاج کے دوران ہم اپنی جہالت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں قومی املاک جو ہمارے ہی خون پسینے کی کمائی سے بنتی ہے ان کو جلاتے ہیں توڑ پھوڑ کرتے ہیں ، ٹائر جلا کر ماحول کو آلودہ کرکے بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں، سڑکوں کو بلاک کر کے ایمبولینس میں مریضوں کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ مسافروں کو مشکل میں ڈالتے ہیں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، اُبلتے گٹر ، دن کے اوقات میں بھی چلتی سٹریٹ لائٹس ، سرکاری نلکوں سے ضائع ہوتا پانی، ملاوٹ پبلک اور سرکاری اداروں خصوصاً سرکاری ہسپتالوں کے گندے ٹوائلٹ، سرکاری منصوبوں کے پیسے ہڑپ کرنا یہ سب کس کی غیر ذمہ داری ہے؟ حکومت کی؟ نہیں بلکہ بحیثیت قوم ہماری اپنی، جب ہم اپن گھروں کو صاف رکھتے ہیں تو گلی محلوں، سڑکوں اور ہسپتالوں وغیرہ میں کیوں گند مچاتے ہیں کیااس میں بھی حکومت کا قصور ہے۔ ایک مفکر نے ٹھیک کہا تھا کہ ”جو قوم اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا نہیں کرتی ، ہروقت اپنے حقوق کا مطالبہ، احتجاج اور بھوک ہڑتال ، قرضہ اور آپسی لڑائی اس کا مقدر بن جاتی ہے“ بحیثیت قوم اگر ہم اپنی ذمہ داریاں ایمان داری سے ادا کرنا شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ ہم پر حکمران بھی ہر لحاظ سے اچھے ہی” نازل” کرے گا۔

Continue Reading
Advertisement
pakistan and imf
پاکستان7 گھنٹے ago

مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھنے لگے

gilgit
پاکستان8 گھنٹے ago

ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا

UAE
پاکستان8 گھنٹے ago

اعلیٰ سطح وفد کا دورہ پاکستان ملتوی

police chief
انٹرنیشنل10 گھنٹے ago

فائرنگ کے نتیجے میں صوبائی پولیس چیف ہلاک

ahad cheema
پاکستان12 گھنٹے ago

مشکلات میں اضافہ۔۔۔ آمدن سے زائد اثاثہ جات ، ریفرنس دائر

Peshawar house condition
پاکستان12 گھنٹے ago

پشاور کے رہائشیوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

Twitter
ٹیکنا لوجی13 گھنٹے ago

ٹویٹر صارفین ہوجائیں ہوشیار، کمپنی نے بڑا اقدام اٹھالیا

Imran khan
پاکستان13 گھنٹے ago

کپتان بڑی مشکل سے بچ گئے، درخواست مسترد

Federal Cabinet
پاکستان13 گھنٹے ago

وفاقی کابینہ کا اجلاس، ای سی سی کے فیصلوں کی توثیق

Dr Faisal
پاکستان13 گھنٹے ago

کشمیر میں بھارتی مظالم، پاکستان کا اقوام عالم کو واضح پیغام

Bilawal bhutto
پاکستان14 گھنٹے ago

بلاول بھٹو کا دھماکے دار بیان،عمران خان حکومت کو خبردار کردیا

veena malik
شوبز14 گھنٹے ago

’’ڈراما کوئین‘‘ کہنے پر وینا ملک تنقید کانشانہ

kinza hashmi
شوبز14 گھنٹے ago

’ماریہ بنت عبداللہ‘کاپہلا ٹیزر آن ایئر

mobile phones
پاکستان14 گھنٹے ago

موبائل صارفین کے لیے اچھی خبر، سینٹ کمیٹی نے پی ٹی اے کو ہدایت کردی

mawra hussain
شوبز14 گھنٹے ago

تم جیو ہزاروں سال

مقبول خبریں