Connect with us

کالم کلوچ

9،”کالم کلوچ” میں شامل ہونے پرشکریہ

Published

on

محترم حامد میراپنے کالم "قیمے والے نان پر پابندی ؟” میں لکھتے ہیں کہ
’’قیمے والے نان پر پابندی لگا دینی چاہئے‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘
’’اسلئے کہ قیمے والے نان جمہوریت کیلئے خطرہ بن گئے ہیں۔‘‘
’’وہ کیسے جناب؟‘‘
’’کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کے جلسوں میں غریب عوام ججوں کے خلاف تقریریں سننے نہیں آتے بلکہ قیمے والے نان کھانے آتے ہیں اگر قیمے والے نان بند کر دیئے جائیں تو نواز شریف کے جلسوں میں لوگ آنا کم ہو جائیں گے۔ ‘‘
’’اچھا اچھا تو آپ قیمے والے نان پر پابندی کی بات طنزیہ انداز میں کر رہے ہیں تاکہ آپ نواز شریف کو پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا مزاحمتی کردار بنا کر پیش کر سکیں اور جاوید ہاشمی اس پاکستانی چے گویرا کے سامنے بونا بن جائے۔ ‘‘
’’یہ تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ آج نواز شریف پاکستان کا سب سے زیادہ پاپولر لیڈر ہے اور پاکستان کے تمام ریاستی اداروں کی طاقت اُس کے سامنے زیرو ہو چکی ہے وہ عوام کے دلوں کی دھڑکن بن چکا ہے۔ ‘‘
’’ہاہاہا۔ مجھے آپ کی اور نواز شریف کی خود فریبی پر ترس آتا ہے۔ یاد کریں نومبر 1997ء میں نواز شریف نے لاہور سے چند سو افراد کو بسوں میں بھر کر پنجاب ہائوس اسلام آباد بلایا۔ ان کو دہی کے ساتھ قیمے والے نان کھلائے اور پھر سپریم کورٹ پر حملہ کرا دیا۔ اُس وقت کا چیف جسٹس سجاد علی شاہ سندھ سے تعلق رکھتا تھا شاید اسی لئے کچھ نہ کر سکا لیکن اپنی تذلیل کی ساری داستان ایک کتاب میں لکھ گیا۔
اس کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ 1997ء میں نواز شریف کی حکومت ججوں کو تقسیم کرنے میں کامیاب رہی لہٰذا عدلیہ کے خلاف جنگ جیت گئی لیکن بیس سال کے بعد نواز شریف عدلیہ کو تقسیم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اس لئے وہ شکست کھا چکے ہیں، شکست کو چھپانے کے لئے انہوں نے ہاہاکار مچا رکھی ہے اور اس ہاہاکار میں میڈیا کے وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا کوئی نہ کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ مفاد نواز شریف کے ساتھ وابستہ ہے۔ ‘‘
’’دیکھئے صاحب آپ نواز شریف پر تنقید ضرور کریں لیکن میڈیا کی آزادی پر حملہ نہ کریں۔ ‘‘
’’آپ تو بُرا منا گئے۔ میں اُن میڈیا والوں کا ذکر نہیں کر رہا جن کو نواز شریف نے سرکاری عہدے دیئے میں تو اُن کا ذکر کر رہا ہوں جن کے ساتھ راحیل شریف کی وجہ سے دھوکہ ہو گیا۔ ‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ جب میڈیا میں تھینک یو راحیل شریف کا نعرہ روز گونجتا تھا تو کچھ میڈیا والوں کو یقین ہو گیا کہ فیلڈ مارشل راحیل شریف پاکستانی فوج کے تاحیات سپہ سالار بن چکے ہیں لہٰذا میڈیا کے بڑے بڑے نام راحیل شریف کے ’’بول‘‘ کو بالا کرنے کے لئے ایک مشہور زمانہ چینل میں جمع ہو گئے لیکن راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ان میڈیا والوں کا بھی تھینک یو ہو گیا۔ ان سب کے کپڑوں پر داغ لگ گیا لہٰذا راحیل شریف سے لاتعلقی ثابت کرنے کے لئے ان سب کو نواز شریف کے حق میں گلا پھاڑنا پڑتا ہے تاکہ عوام کی توجہ ان کے دامن پر لگے داغوں کی طرف نہ جائے کیونکہ سب داغ اچھے نہیں ہوتے۔‘‘
’’یہ اچھے داغ کون سے ہوتے ہیں؟‘‘
’’ارے بھائی یہ جو سیالکوٹ میں ایک گمراہ مولوی نے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے چہرے پر سیاہی گرائی اس سیاہی کے داغوں سے خواجہ صاحب کو نقصان نہیں بہت فائدہ ہوا۔ انہوں نے اپنے چہرے پر پانی کے چند چھینٹے مارے اور کچھ لمحوں کے بعد اپنے داغ داغ کپڑوں کے ساتھ تقریر کے لئے واپس آ گئے۔ ایسے داغ انسان کی زندگی میں اجالا بن جاتے ہیں۔‘‘
’’تو آپ مانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں پر جوتیاں چلا کر اور سیاہی گرا کر انہیں شکست نہیں دی جاسکتی۔ ‘‘
’’بالکل یہ ماننا پڑے گا کہ سیاستدان کو جوتے اور سیاہی کے ذریعہ شکست نہیں دی جا سکتی لیکن جو سیاستدان عوام کے ساتھ جھوٹ بولتا ہے اُس کے چہرے پر تاریخ سیاہی پھینک دیتی ہے۔‘‘
’’سمجھ نہیں آئی۔ ذرا کھل کر بات کریں۔ ‘‘
’’کیا کھل کر بات کروں۔ لوگوں کو سب سمجھ آ جاتی ہے۔ اب دیکھئے ناں پچھلے جمعہ کو شاہد خاقان عباسی کی کابینہ کے ایک اہم وزیر نے اسحاق ڈار کے خلاف انتہائی اہم دستاویزات ایک ریاستی ادارے کے حوالے کر دی ہیں جب یہ دستاویزات عدالت کے سامنے آئیں گی تو عدالت کو سزا سنانا پڑے گی اور پھر یہ سزا ایک داغ بن جائے گی۔ یہ سزا کسی ملٹری ڈکٹیٹر کے دور میں کوئی ملٹری کورٹ نہیں سنائے گی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں حکومت کے ایک سینیٹر کو منی لارنڈرنگ اور حقائق چھپانے کے الزام میں سنائی جائے گی۔ ایسی سزائیں اچھے داغ نہیں بُرے داغ ہوتے ہیں اور اس قسم کے بہت بُرے بُرے داغ مزید سامنے آنے والے ہیں۔ ‘‘
’’ڈار صاحب کے علاوہ اور کس کس پر داغ لگنے والے ہیں؟‘‘
’’اللہ تعالیٰ سب کو داغوں سے محفوظ رکھے لیکن پتہ چلا ہے کہ برطانیہ کی حکومت نے نواز شریف اور اُن کے خاندان کے بارے میں کچھ ایسی دستاویزات پاکستانی اداروں کے سپرد کر دی ہیں جو عدالتوں میں پہنچ گئیں تو عمران خان کا دل باغ باغ ہو جائے گا اور وہ چلّا چلّا کر کہیں گے کہ نواز شریف جمہوریت کی نہیں منی لانڈرنگ کی علامت ہے۔ دیکھتے ہیں پھر عوام نواز شریف کے جلسوں میں قیمے والے نان کھانے آتے ہیں یا نہیں؟‘‘
’’آپ کی باتیں سن کر میرا دل ڈوبنے لگا ہے۔ ‘‘
’’دل تو میرا بھی ہچکولے کھا رہا ہے کیونکہ صرف نواز شریف کو سزائیں سنائی گئیں تو لوگ پوچھیں گے کہ کیا پاکستان کا قانون صرف سویلینز کے لئے ہے؟ سپریم کورٹ نے صرف نواز شریف کے خلاف نہیں پرویز مشرف کے خلاف بھی ایک فیصلہ دیا تھا اور اُس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے مشرف کے خلاف آئین سے بغاوت کا مقدمہ دائر ہوا لیکن یہ مقدمہ انجام کو کیوں نہیں پہنچتا؟ وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو جھٹلانا پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے وہ مشرف کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کب تک کرائیں گے؟ دیکھ لینا جیسے ہی نواز شریف کو سزا سنائی جائے گی تو پاکستان بھر میں مشرف مشرف ہونے لگے گی اور مشرف کے خلاف مقدمہ پاکستانی عدالتوں کے لئے ایک چیلنج نہیں بلکہ ایک چھیڑ بن جائے گا۔‘‘
’’آپ نے بالکل ٹھیک کہا۔ نواز شریف کے ساتھ ساتھ مشرف کو بھی سزا مل جائے تو قیمے والے نان پر پابندی کی نوبت نہیں آئے گی بلکہ ہماری عدالتیں ہمارا فخر بن جائیں گی۔ ‘‘
جناب نفیس صدیقی اپنے کالم "سیاسی الجھنیں اور آئندہ عام انتخابات” لکھتے ہیں کہ
پاکستان کی سیاست الجھنوں اور مغالطوں کا شکا ر ہے ۔ ملکی ہیئت مقتدرہ ( اسٹیبلشمنٹ ) کا بیانیہ بڑی حد تک امریکہ مخالف ہو گیا ہے ۔ دائیں بازو کی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی وہی بیانیہ اختیار کر لیا ہے ، جو کسی زمانے میں بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کا ہوا کرتا تھا ۔ پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست بہت حد تک غیر موثر ہو گئی ہے ۔ بائیں بازو کی سیاسی اور قوم پرست جماعتیں ایک طرف تو چھوٹے دائروں میں محدود ہو گئی ہیں اور دوسری طرف ان کا طویل عرصے تک دائیں بازو کی بڑی سیاسی جماعتوں خصوصاً مسلم لیگی دھڑوں کے ساتھ سیاسی اتحاد رہا ہے ۔ ایک پاکستان پیپلز پارٹی رہ گئی تھی ، جو اسٹیبلشمنٹ مخالف اپنا لیبل ہٹانے کی کوششوں میں رہی اور ہے ۔ وہ کس حد تک ان کوششوں میں کامیاب رہی ، اس کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کو کرنا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا اپنا اصل بیانیہ تبدیل ہو گیا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پیپلز پارٹی کا ماضی کا بیانیہ اختیار کر لیا ہے ۔ نظریاتی سیاست اور صف بندیاں بظاہر ختم ہو چکی ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ہماری نسل کی الجھنیں ہوں ، جس نے سرد جنگ کے زمانے میں سیاست کی اور انسانی سماج اور اس کے تضادات کا تاریخی اور جدلیاتی مادیت کے تناظر میں ادراک کیا لیکن ہمارے بعد کی آنیوالی نسلوں میں بھی اپنے عہد کے حالات اور مستقبل کے اہداف کے بارے میں کوئی واضح سوچ نہیں ہے ۔ ہم نے وہ عہد دیکھا ، جب امریکہ مخالف بیانیہ اختیار کرنا کسی بڑے خطرے یا عبرت ناک انجام کا سبب بن جاتا تھا ۔ آج وہی بیانیہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا ہے ۔ ہماری عسکری اور دائیں بازو کی سیاسی قیادت نے ماضی کا وہ بیانیہ اختیار کر لیا ہے ، جسے رائج کرنے کا بائیں بازو کا خواب پورا نہیں ہو سکا تھا ۔ ہماری نسل کے لوگ اگرچہ اس امر پر خوشی محسوس کرتے ہیں کہ کم از کم ہماری بات تو کی جا رہی ہے ۔ اس کا ایک سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ پاکستان اپنے پرانے ’’ دوست ‘‘ امریکہ سے بوجوہ دور ہو گیا ہے اور چین کے قریب ہو گیا ہے ۔ اس طرح کا ایک مرحلہ پہلے بھی آیا تھا ، جب فیلڈ مارشل ایوب خان کی کابینہ کے وزیر ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو چین کے قریب لے گئے تھے اور خود ایوب خان نے پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں ’’ فرینڈز ناٹ ماسٹرز ‘‘ نامی کتاب لکھی لیکن بعد میں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ایوب خان نے بھٹو کو اپنی کابینہ سے برطرف کر دیا تاکہ امریکہ کو یہ باور کرایا جا سکے کہ پاکستان میں کسی امریکہ مخالف کی گنجائش نہیں ۔ پھر بھٹو کے عبرتناک انجام نے بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں خصوصاًپیپلز پارٹی نے بھی بیانیہ تبدیل کر لیا ۔ اب اگرچہ حالات بہت مختلف ہیں اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی میں شفٹ کی وجہ حالات کا جبر بھی ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے اس نئے بیانیہ سے نوجوان نسل خوش بھی ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ سامراج مخالف بیانیہ آئندہ نسلوں تک منتقل ہوا ہے لیکن الجھن یہ ہے کہ جو قوتیں انتہائی پرجوش انداز میں اس بیانیہ کو آگے لے کر جا رہی ہیں ، وہ کب تک اس پر قائم رہیں گی ۔ اس الجھن کی وجہ ماضی کے تجربات ہیں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پاناما کیس میں عدالت سے نااہل ہونے کے بعد وہ باتیں کر رہے ہیں ، جن کی ماضی میں وہ خود نفی کرتے رہے ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کی عدلیہ اور حقیقی مقتدر حلقوں کے بارے میں جو سیاسی بیانیہ اختیار کر لیا ہے ، وہ بیانیہ کسی زمانے میں بائیں بازو اور ترقی پسند سیاسی قوتوں کے اسٹڈی سرکلز اور خفیہ اجلاسوں میں رائج تھا لیکن وہاں سے باہر اس بیانیہ کا اظہار نہیں کیا جاتا تھا ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی قیادت کا یہ بیانیہ مقبول ہوا ہے ۔ کچھ سیاسی تجزیہ کار اس دعوے کی تائید بھی کرتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس وقت جو سیاسی بیانیہ اختیار کر رکھا ہے ، وہ اگرچہ اس کے ماضی کے سیاسی بیانیے کے متضاد تو نہیں ہے لیکن ویسا بیانیہ بھی نہیں ہے ۔ ماضی کا بیانیہ گرجدار آواز میں اختیار کرنے والے پیپلز پارٹی کے کچھ رہنما پارٹی میں پہلے والی پوزیشن پر نہیں رہے ۔ یہ الگ بحث ہے کہ یہ رہنما ہماری طرح نظریاتی رومانویت کا شکار ہیں اور نئے عہد کے سیاسی تقاضوں اور حالات کا ادراک نہیں کر سکے ہیں یا معاملہ کچھ اور ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ فی الوقت مسلم لیگ(ن) بظاہر اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کی جماعت تصور کی جا رہی ہے ۔
الجھن یہ ہے کہ ماضی میں عالمی اور پاکستان کی حقیقی مقتدر قوتوں کے خلاف بائیں بازو کا بیانیہ ان قوتوں نے اختیار کر لیا ہے ، جو پہلے مخالف تھیں لیکن اب انہوں نے اپنی صف بندی تبدیل کر لی ہے ۔ کون کیا ہے اور اس کے سیاسی اہداف کیا ہیں ؟ بظاہر صورت حال کیا ہے اور پس پردہ حقائق کیا ہیں ؟ یہ پیچیدہ صورت حال شاید پاکستان سمیت تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں موجود ہے ۔ نہ صرف ماضی کی صف بندیاں نہیں رہیں بلکہ سیاست سمیت ہر شعبے میں زوال اور انحطاط کا عمل جاری ہے ۔ تاریخ میں اگرچہ ایسے مراحل آتے ہیں ، جب اس طرح کے حالات ہوتے ہیں ۔ پھر حالات کی پیچیدگیاں ختم ہوتی ہیں اور دوبارہ ایک ایسا عہد آتا ہے ، جب الجھنیں اور مغالطے کم ہوتے ہیں ۔ ضروری نہیں ہے کہ یہ دور ہر حال میں نظریاتی ٹکراؤ کا ہو ۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں خصوصاً پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے سرپرست اعلیٰ میاں محمد نواز شریف بہت زیادہ تجربات سے گزرے ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کی سیاست میں بہت اتار چڑھاؤ دیکھا ہے ۔ وہ معروضی حالات سے بہت زیادہ جڑے ہوئے ہیں لیکن قوم کئی الجھنوں کے ساتھ آئندہ عام انتخابات کی طرف جا رہی ہے ۔ میں یوں محسوس کرتا ہوں کہ اس کا اثر انتخابی نتائج پر بھی پڑے گا اور ہم اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ خطے اور بین الاقوامی صورتحال ہماری الجھنوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ محترم انصار عباسی اپنے کالم "جسٹس شوکت صدیقی کا فیصلہ اسلامی بھی آئینی بھی” میں لکھتے ہیں کہ
اسلام آباد ہائی کورٹ کے محترم جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ختم نبوتﷺ کے معاملہ پر اہم فیصلہ دیا جس پر ایک مخصوص سیکولر طبقہ کی طرف سے سوشل میڈیا میں ایک مہم کے ذریعے یہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی جیسے اس فیصلہ سے ایک مخصوص غیر مسلم اقلیت کے ساتھ کوئی زیادتی کر دی گئی ہو۔ بظاہر اعتراض کرنے والوں کی اکثریت نے اس فیصلہ کو پڑھے بغیر اپنا ردعمل دیا جبکہ کچھ نے اپنے اندر کا بغض کھل کر نکالتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم تک کو بُرا بھلا کہا کہ ایک مخصوص اقلیت کو کیوں آئین پاکستان کے ذریعے غیر مسلم قرار دیا گیا۔ جسٹس شوکت صدیقی نے تو اپنے فیصلہ میں وہ کہا جو مکمل طور پر اسلامی اور آئینی حقیقت ہے۔ انہوں نے تو اپنے فیصلےکی شروعات اس بات سے کی کہ دین اسلام اور آئین پاکستان مذہبی آزادی سمیت غیر مسلم اقلیتوں کے تمام بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت فراہم کرتا ہے اور ریاست پر یہ لازم ہے کہ انکی جان، مال، جائیداد اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے اور بطور شہری انکے مفادات کا تحفظ کرے۔ فیصلے میں لکھا گیا کہ ریاست پاکستان کے ہر شہری کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی شناخت درست اور صحیح کوائف کے ساتھ کرائے، کسی مسلمان کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اپنی شناخت کو غیر مسلم میں چھپائے اور اسی طرح کسی غیر مسلم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود کو مسلم ظاہر کر کے اپنی پہچان اور شناخت کو چھپائے۔ ایسا کرنے والا ہر شہری ریاست سے دھوکہ دہی کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس کے بعد فیصلے میں آئین کی شق نمبر 260 کا حوالہ دیا گیا جس میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کی گئی اور جسے اجماع ِقوم حاصل ہے لیکن بدقسمتی سے اس واضع معیار کے باوجود کچھ ضروری قانون سازی نہ کی جاسکی جس کی وجہ سے ایک مخصوص غیر مسلم اقلیت اپنی اصلی شناخت چھپا کر اور ریاست کو دھوکہ دیتے ہوئے خود کو مسلم اکثریت کا حصہ ظاہر کرتی ہے جس سے نہ صرف مسائل جنم لیتے ہیں بلکہ انتہائی اہم آئینی تقاضوں سے انحراف کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔ جسٹس صدیقی نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کے پاس اس حوالہ سے کسی بھی افسر کی شناخت موجود نہیں۔ فیصلہ میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ پاکستان میں بسنے والی بیشتر اقلیتیں اپنے ناموں اور شناخت کے حوالے سے جداگانہ پہچان رکھتی ہیں لیکن ہمارے آئین کی رو سے قرار دی گئی ایک اقلیت اپنے ناموں اور عمومی پہچان کے حوالے سے بظاہر مختلف تشخص نہیں رکھتی جس کی وجہ سے اپنے عقیدہ کو مخفی رکھ کر مسلم اکثریت میں شامل ہو کر اعلیٰ اور حساس مناصب تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ چونکہ پارلیمنٹ کی رکنیت سمیت اکثر محکموں کے لیے اقلیتوں کا خصوصی کوٹہ بھی مقرر ہے اس لیے جب کسی بھی اقلیت سے تعلق رکھنے والا شخص اپنا اصل مذہب اور عقیدہ چھپا کر خود کو فریب کاری کے ذریعے مسلم اکثریت کا جزو ظاہر کرتا ہے تو دراصل وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے الفاظ اور رو کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے جس کو روکنے کے لیے ریاست کو ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس صدیقی نے دین اسلام میں ختم نبوتﷺ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں اسلام کی اس دینی اساس پر حملوں کی لاتعداد مثالیں موجود ہیں جس کی حفاظت و نگہبانی ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر کہ معاشرہ کو انتشار سے بچایا جا سکے اور آئینی تقاضوں کے مطابق جداگانہ مذہبی شناخت رکھنے والی تمام اقلیتوں کے حقوق کا بھی تحفظ ہو عدالت نے کچھ احکامات جاری کیے جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ کوئی اپنے مذہب اور عقیدہ کے معاملہ میں جھوٹ بول کر نہ تو کوئی سرکاری عہدہ حاصل کرسکے اور نہ ہی ریاست سے دھوکہ کیا جا سکے۔اس مقصد کے حصول کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ شناختی کارڈ، پیدائشی سرٹیفیکیٹ، پاسپورٹ اور انتخابی فہرستوں میں اندراج کے لیے درخواست گزار سے آئین پاکستان کی شق 260 ذیلی شق 3 اور جز اے بی میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف پر مبنی بیان حلفی لازم قرار دیا جائے، تمام سرکاری و نیم سرکاری محکموں بشمول عدلیہ، مسلح افواج، اعلیٰ سول سروسز میں ملازمت کے حصول یا شمولیت کے لیے بھی اس بیان حلفی کی شرط رکھی جائے۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں کہ تمام شہریوں کے درست کوائف ریاست کے پاس موجود ہوں اور کسی بھی شہری کے لیے اپنی اصل پہچان یا شناخت چھپانا ممکن نہ ہو۔ فیصلے میں ریاست کو اس بات کا بھی پابند بنایا گیا ہے کہ وہ مسلم امہ کے حقوق، جذبات اور مذہبی عقائد کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس فیصلہ میں کہاں اقلیتوں کے ساتھ کسی زیادتی کی بات کی گئی یا کسی مخصوص اقلیت کے حقوق چھیننے کا ذکر ہے۔ یہ فیصلہ تو دراصل ایک ایسے دھوکے اور فریب کو روکنے کی بات کر رہا ہے جو معاشرہ میں انتشار اورتشدد کا باعث بنتا ہے۔ ہاں اگر کوئی یہ خواہش رکھتا ہو کہ دین اسلام کے بنیادی عقیدہ اور آئین پاکستان کی اسلامی شقوں کو ہی بدل دیا جائے تو ایسا ممکن نہیں۔

Advertisement

کالم کلوچ

قادری عمران کھانا اورملکی سیاست

Rashid Saeed

Published

on

پاکستانی سیاست میں ہر دن نیا دن ہوتا ہے سیاسی بسات کے مہرے اپنی چالیں چلتے رہتے ہیں اور یہی سیاست کا حسن ہے۔ پاکستان کے سینئر سیاستدان شیخ رشید جو ہر روز سونے سے پہلے یہ دعا کرکے سوتے ہیں کہ جب وہ صبح اٹھائیں تو نواز حکومت ختم ہو چکی ہو لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ بہر حال وہ پاکستان کے ایک سیزن سیاستدان ہیں اور وہ بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ تمام اپوزیشن جماعتیں یکجا ہو کر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلائیں۔ ابھی تک تو ان کو اس حوالے سے مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی مگر ان کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کی کوششوں کی بدولت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہر القادری کھانے پر ملاقات کریں گے۔یہ خبر بھی انہوں نے طاہر القادری کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔اگر مولانا طاہرالقادری کو عمران خان کے گھر جا کر کھاناکھاناپڑاتو میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ کھاناکیسا ہوگا اور کیا طاہر القادری کی مرضی کا ہوگا کہ نہیں؟ مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ طاہر القادری شوق سے کیا کھاتے ہیں۔جو میں نے سناہے کہ وہ شاید سبزی اورآلو قیمہ پسند کرتے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بارے میں میں بتا سکتا ہوں کہ وہ کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں اور اگر ان کومولانا طاہر القادری نے کھانے کی دعوت دی تو مینو کیا ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کے سربراہ کو دیسی مرغ ، شکار کا گوشت جس میں بیٹر، تتر ، مرغابی سمیت کوئی بھی شکار ہو بہت پسند کرتے ہیں ساتھ ہی بکرے کی ران روسٹ بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ ان تمام پکوان کو دیسی گھی میں پکوایاجائے تو بہت اچھا ہوگا ۔ ان تمام اشیاءکو بتانا اتنا ضروری نہ تھا لیکن ان کے بارے میں تفصیلات اس لیے بتا رہا ہوں کہ طاہر القادری صاحب کو کسی سے پوچھنا نہ پڑے۔ اب بات کر لیتے ہیں ملکی سیاست کی ۔ پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک کو ایک مرتبہ پھر قریب لانے میں شیخ رشید نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ چونکہ شیخ رشید صاحب کا خیال ہے کہ اگر 30 روز کے اندر حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک نہ چلائی گئی تو حکومت کا جانا نہ ممکن ہوگا اور الیکشن2018ءمیں ہی ہوں گے اور شیخ صاحب یہ مطلع بار کہہ چکے ہیں کہ اگر میاں نوازشریف کی حکومت 2018ءتک رہی تو اس کے بعد بھی اگلی حکومت مسلم لیگ ن کی ہی ہوگی اور ان کو ہرانا تقریباً نہ ممکن ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ صاحب اپوزیشن کو متحرک کرنے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف جو کہ عوامی دباﺅ حکومت پر بنا رہی رہے اس سلسلے میں تحریک انصاف ملک بھر میں جلسے اور ریلیاں کر رہے ہیں۔ میری ناقص عقل کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ عوامی دباﺅ اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے حکومت کو دباﺅ میں رکھا جائے تاکہ حکومت کوئی بڑی غلطی کر سکے۔ اگر حکومت کوئی بڑی غلطی کرتی ہے تو قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اور اگر حکومت کوئی بڑی غلطی نہیں کرتی اور قبل از وقت انتخابات نہیں ہوپاتے تو کم از کم حکومت کو 2018ءکے الیکشن تک مسلسل دباﺅ میں رکھا جائے گا اور عوام میں حکومت کی بدعنوانی اور حکمرانوں کی کرپشن کا ایشو زندہ رکھا جائے ۔ تحریک انصاف موجودہ صورتحال کے پیش نظر بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ عوامی رابطہ مہم جس کا نام انہوں نے احتساب موومن رکھا ہے۔ اس میں ملک کے تمام اپوزیشن حماعتیں ان کے ساتھ دیں گی۔ اسی ضمن میں انہوں نے اپنی پارٹی رہنماﺅں کی دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کی ڈیوٹی بھی لگائی اور تحریک انصاف کو دوسرے درجے کی قیادت جس کی سربراہی پارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی ، سنی تحریک اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سمیت عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سے ملاقاتیں کیں۔ اطلاعات ہیں کہ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور دیگر چند سیاسی جماعتوں نے عمران خان کی احتساب ریلی میں علامتی طور پر شرکت کی یقین دہانی کروائی جبکہ پاکستان عوامی تحریک ، سنی تحریک سمیت دیگر مذہبی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کا وعدہ کیا۔ یہ عمل باعث تعجب ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے جہانگیر ترین کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے وفد اور عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید کے ساتھ مشترکہ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ لاہور میں ہونے والی پی ٹی آئی کی احتساب ریلی میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ ان کی جماعت پاکستان عوامی تحریک اسی روز یعنی کے 3ستمبر کو پنڈی میں حکومت کے خلاف عوامی اجتماع کر رہی ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک طرف پاکستان عوامی تحریک عمران خان کے ساتھ لاہورکی ریلی میں شامل ہونے کے لئے اپنے کارکنوں کو شرکت کی اپیل کر رہے ہیں جبکہ خود پنڈی میں بھرپور دھرنا دے رہے ہیں ۔پاکستان عوامی تحریک کے کارکن کی روایت رہی ہے کہ وہ جہاں بھی ان کااجتماع ، دھرنا یا سیاسی پروگرام ہو تو تمام کارکن وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا طاہر القادری کی جماعت کے کارکن پنڈی میں ہونے والے اپنے اجتماع میں بھرپور شرکت کریں گے جبکہ لاہور میں ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی عوامی ریلی میں مولاناکی جماعت کی علامتی شرکت ہوگی۔ پاکستان تحریک انصاف عروج کا آغاز لاہور کے تحریکی مینار پاکستان کے جلسے سے ہوا ۔مجھے ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں مل رہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی لاہور میں ہونے والی ریلی میں تمام سیاسی جماعتوں کوشرکت کی دعوت کیوں دی ہے اور اگر دی ہے تو یہ کیوں کہا ہے کہ سب اپنے اپنے کینٹینر پر آئیں۔ اگر کپتان حکومت کے خلاف تمام اپوزیشن کو ملا کر بھرپور عوامی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو پھر اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے سربراہوں کو ایک کنٹینر پر ہونا چاہیے تا کہ حکومت کو یہ تاثر دیا جائے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف یکجا ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے آج کل سیاسی مشیر کون ہیں میں وثوخ سے نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ کپتان کے ساتھ مخلص نہیں۔ عمران خان کے مشیروں سے عمران خان کو وقتی طور پر سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کو نقصان ہو رہاہے اور روز بہ روز پارٹی اختلافات میں شدت آ رہی ہے۔ خان صاحب نے جہلم سے فواد چوہدری جبکہ بورے والا سے عائشہ نذیر جٹ کو حالیہ ہونے والے ضمنی الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دی ہے۔فواد چوہدری نے جہلم NA67 سے پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیا ۔ اگرچہ انہوں نے 2013ءکے الیکشن کے مقابلے میں 30 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے لیکن جہلم سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن انکوٹکٹ دیئے جانے پر خوش نہ تھے ان کا مو¿قف ہے کہ فواد چوہدری متعدد بار سیاسی جماعتیںتبدیل کر چکے ہیں وہ پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن صرف اس لیے لڑے کہ ان کے پاس کوئی اوراچھا (0pption)آپشن نہ تھا اسی طرح بورے والا سے پی پی 232کی ٹکٹ عائشہ نذیر جٹ جو کہ سابقہ ایم این اے نذیر جٹ کی بیٹی ہے ان کو دی گئی۔ نذیر جٹ پہلے ق لیگ اور پھر پیپلز پارٹی میں رہ چکے ہیں ۔ اب ان کے لئے بہتر آپشن پی ٹی آئی تھا اور پاکستان تحریک انصاف نے بہتر امیدوار ہونے کے ناطے ان کو ٹکٹ جاری کر دیا۔ اس فیصلے کو بھی بورے والا کی تحریک انصاف کی قیادت نے نہیں سراہا بلکہ ان کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف بھی ایک روایتی سیاسی جماعت بن چکی ہے جو نظریات کی بجائے دھرہ بندی اور برداری کی سیاست کواہمیت دے رہی ہے۔ عائشہ نذیر جٹ کے بارے میں انتخابی مہم شروع ہوتے وقت یہ تاثر عام تھا کہ وہ با آسانی ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوجائیں گی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز جو کہ جہلم اور بورے والا دونوں الیکشنوں کی براہ راست نگرانی کر رہے تھے ان کو بھی یہی اطلاعات مل رہی تھیں کہ عائشہ نذیر جٹ انتہائی مضبوط امیدوار ہیں اوران کو ہرانا آسان نہ ہے کیونکہ ان کے والدنذیر جٹ برادری اور دھروں کی سیاست کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور یہی سے 2008ءمیں وہ آزاد حیثیت سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں ۔ نذیر جٹ جوکہ اپنی بیٹی کی خود کمپیئن بھرپور انداز سے چلا رہے تھے ان کو بھی یقین تھا کہ وہ یہ سیٹ با آسانی جیت جائیں گے مگر ایسا نہ ہوا حمزہ شہباز شریف کی ٹیم نے اس حلقہ میں بھرپور عوامی رابطہ مہم چلائی اور میری اطلاعات ہیں کہ یہاں سے پی ٹی آئی کے سابقہ ٹکٹ ہولڈر سمیت پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے اہم رہنماﺅں پس پردہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اپنے زیر اثر لوگ اور دھروں کے ووٹ بھی مسلم لیگ ن کو دلوائے ہیں۔ مجھ یقین ہے کہ کپتان کو ان کے رفقاءنے دونوں ضمنی انتخابات کے حوالے سے یہ بریفنگ دی ہوگی کہ پارٹی نے بھرپور طریقے سے پرفارم کیاہے جس سے پارٹی کی مقبولیت کااندازہ لگایا جاسکتاہے اور ان سے اصل حقائق پوشیدہ رکھے ہوں گے۔ کپتان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اورکان چند قریبی مشیروں کی جانب مرکوز کروانے کی بجائے اپنے عام ورکر کی آواز اور رائے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

Continue Reading

کالم کلوچ

جنت کا دروازہ

Published

on

میں سڑک کنارے پیدل چل رہی تھی کہ اچانک میرے کانوں میں ایک صدا گونجی اوئے پترا۔۔۔۔۔ ان الفاظ سے دل میں عجب سا درد محسوس ہوا اور میرے قدم وہیں رک گئے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک بوڑھا جس کی جھکی کمر موٹے شیشوں والی عینک کانپتے ہاتھ، صاف ستھرے کپڑے سفید پگڑی سر پر اور وہ زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ جب میں نے دیکھا تو وہ کچھ بول نہیں پا رہا تھا وہ اپنے کانپتے ہاتھ آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پھر بھی اس کے ہاتھ اٹھ نہیں رہے تھے۔ دیکھنے سے صاف ظاہر تھا کہ بھیک مانگنے میں کتنی شرمندگی ہو رہی ہے اسے۔ مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے اس ضعیف مانس سے پوچھا کہ آپ اچھی نسب کے لگتے ہو تو یہ فقیری کیوں؟ تو اس کی آنکھوں میں اشک بھر آئے۔ عینک کے نیچے سے ہی دونوں ہاتھوں سے وہ اپنے اشک سمیٹنے لگا۔ میں نے بات کو دہراتے ہوئے کہا بتائیں ناں بابا۔ تو اس نے ڈگمگاتی ہوئی آواز سے بتایا۔ آج صبح میں کمرے میں سویا ہوا تھا اچانک میری آنکھ کھلی تو میرے کانوں میں کچھ آوازیں آئی جب میں نے غور کیا تو میرے بچے بحث کر رہے تھے میرا چھوٹا بیٹا جس کے ساتھ میں پچھلے تین سالوں سے رہ رہا تھا وہ اب مجھ سے مخلصی چاہتا ہے جب تک جائیداد میرے نام تھی بہت تابعداری کی میری۔ لیکن اب جب اپنی ساری جمع پونجی میں نے تینوں بیٹوں کو برابر حصوں میں تقسیم کر دی تو میرے چھوٹے صاحبزادے کو اس بات پر اعتراض تھا کہ جب حصہ سب کو برابر ملا تو پھر باپ کی کفالت مجھ اکیلے کے حصے میں کیوں؟ مجھے کس بات کی سزا ہے؟ اور میرے دونوں بڑے بیٹے یہ کہہ رہے تھے کہ ماں باپ چھوٹے کے حصے میں ہی آتے ہیں ہم نے پہلے بہت کیا باپ کیلئے اب تمھاری باری ہے تب میرا چھوٹا بیٹا میری ضروریات زندگی کا حساب کرنے لگا یہاں تک کہ تین وقت کے کھانے کی ضرب تقیسم کرنے لگا۔ اس وقت مجھے ان کا بچپن یاد آ گیا جب میں خود بھوکا رہ کر ان کو تین وقت کا کھانا کھلاتا تھا اپنی خواہشات کو دفن کر کے ان کو اس لائق بنایا کہ وہ اپنی خواہشات پوری کر سکیں۔۔۔ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بوڑھا باپ بولا ان ہاتھوں نے ہمیشہ اپنی اولاد کو دیا ہے آج یہی ہاتھ اسی اولاد کے منہ در منہ پھیلاتے ہوئے مجھے لاج آتی ہے۔ میری کل کائنات میری اولاد ہے انھیں لگا کہ ہمارا باپ اونچا سنتا ہے مگر ان کا ایک ایک لفظ میرے کانوں میں گونج رہا تھا اور میں بنا کچھ بولے وہاں سے نکل آیا۔ بھیک مانگتے ہوئے لوگوں کی گالیاں برداشت کر لوں گا مگر اپنے بچوں کی طنزیہ باتیں سننے کی ہمت نہیں مجھ میں ۔
والدین کے دلوں میں اللہ تعالی نے محبت کے ایسے خزانے رکھ دئیے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے اولاد فرمابردار ہو یا گستاخ والدین شفقت کی برسات کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اولاد تو والدین کا حساب آسانی سے کر لیتی ہے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ والدین کی محبت اگر دولت کی ہی محتاج ہو تو پھر وہ اپنی جوانی کے بہترین دن رات اپنی اولاد پر خرچ کرنے کی بجائے دنیا کا مال جمع کرنے میں گزارتے۔ بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس کا تن بھی اس کے والدین ڈھانپتے ہیں تب کتنے پیسے دے کر وہ والدین کی محبت خدمت اور پیار خریدتا ہے۔ ماں کے پیروں تلے جنت ہے تو باپ جنت کا دروازہ ۔ باپ کے چہرے کی طرف ایک بار دیکھنا ایک حج جتنا ثواب ہے۔ بدبخت ہیں وہ اولادیں جو جنت کا دروازہ خود اپنے لیے بند کر لیتی ہی

Continue Reading

کالم کلوچ

ناشکری

Published

on

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے“ – قرآن پاک کی آفاقی سچائیوں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ جب ہم اپنے فرائض ادا کرتے چلے جاتے ہیں تو ہمیں ہمارے حقوق بھی ملتے چلے جاتے ہیں یہ حقوق و فرائض کا ایک تعلق ہے جب یہ تعلق ٹوٹتا ہے تو مسائل ، شکوے، شکایات، ناشکرا پن، احتجاج اور بغاوت جنم لیتے ہیں۔ ہم اپنے حقوق کی بات تو بہت کرتے ہیں لیکن اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت اور سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اپنے ہر مسئلے کا ذمہ دار ہم دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ قرآن پاک نے بھی فیصلہ کر دیا ہے کہ ”تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے سو تمہارے فعلوں سے ہے“۔ بہت سارے مسئلے ہم اپنے لیے خود پیدا کرتے ہیں اور پھر بیٹھ کر روتے ہیں۔ بحیثیت قوم کے ہمارا وطیرہ بن چکا ہے کہ ہم اپنے جائز و ناجائز مطالبات منوانے کے لیے احتجاج ، توڑ پھوڑ، جلاﺅ گھیراﺅ کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور احتجاج کے دوران ہم اپنی جہالت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں قومی املاک جو ہمارے ہی خون پسینے کی کمائی سے بنتی ہے ان کو جلاتے ہیں توڑ پھوڑ کرتے ہیں ، ٹائر جلا کر ماحول کو آلودہ کرکے بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں، سڑکوں کو بلاک کر کے ایمبولینس میں مریضوں کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ مسافروں کو مشکل میں ڈالتے ہیں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، اُبلتے گٹر ، دن کے اوقات میں بھی چلتی سٹریٹ لائٹس ، سرکاری نلکوں سے ضائع ہوتا پانی، ملاوٹ پبلک اور سرکاری اداروں خصوصاً سرکاری ہسپتالوں کے گندے ٹوائلٹ، سرکاری منصوبوں کے پیسے ہڑپ کرنا یہ سب کس کی غیر ذمہ داری ہے؟ حکومت کی؟ نہیں بلکہ بحیثیت قوم ہماری اپنی، جب ہم اپن گھروں کو صاف رکھتے ہیں تو گلی محلوں، سڑکوں اور ہسپتالوں وغیرہ میں کیوں گند مچاتے ہیں کیااس میں بھی حکومت کا قصور ہے۔ ایک مفکر نے ٹھیک کہا تھا کہ ”جو قوم اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا نہیں کرتی ، ہروقت اپنے حقوق کا مطالبہ، احتجاج اور بھوک ہڑتال ، قرضہ اور آپسی لڑائی اس کا مقدر بن جاتی ہے“ بحیثیت قوم اگر ہم اپنی ذمہ داریاں ایمان داری سے ادا کرنا شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ ہم پر حکمران بھی ہر لحاظ سے اچھے ہی” نازل” کرے گا۔

Continue Reading
police crack down
پاکستان9 منٹ ago

پولیس کی کارروائی، شراب کا کنٹینر برآمد، ٹرک ڈرائیور گرفتار

shahid kapoor
شوبز30 منٹ ago

بھارتی فلم انڈسٹری میں اقربا پروری کیخلاف ہوگئے

British police
انٹرنیشنل48 منٹ ago

حادثہ یا دہشتگردی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پولیس کی کارروائی جاری

Shilpa
شوبز2 گھنٹے ago

11 سال بعد بالی ووڈ میں واپسی کیلئے تیار

sardar atiq
کشمیر2 گھنٹے ago

شریف خاندان کی رہائی کے پیچھے این آر او ہے:عتیق احمد خان

man marziyan
شوبز3 گھنٹے ago

’من مرضیاں‘ ریلیز کے بعد ہی قانونی شکنجے میں پھنس گئی

bilawal
پاکستان3 گھنٹے ago

بیگم کلثوم نواز کا انتقال شریف خاندان کیلئے ریلیف ہے: بلاول بھٹو

Salman khan
شوبز3 گھنٹے ago

سوناکشی سہنا کیساتھ بگ باس جانا پسند کروں گا: سلمان خان

Prime Minister imran khan interview
پاکستان3 گھنٹے ago

پاکستان سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے گا: عمران خان

india win
کھیل4 گھنٹے ago

پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست

president wenzvaila
انٹرنیشنل5 گھنٹے ago

مجھے قتل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے: صدروینزویلا نکولس مدورو

nawaz shrif
پاکستان5 گھنٹے ago

رہائی کے بعد نواز شریف ،مریم نواز کی تازہ ترین تصاویر سامنے آ گئیں

mariyam nawaz
پاکستان6 گھنٹے ago

مریم نواز نے رہائی کے بعد بڑا فیصلہ کر لیا

ishaq dar
پاکستان6 گھنٹے ago

سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز بورڈ کی سربراہی سے ہٹادیا

karthik pandia
کھیل6 گھنٹے ago

انجری کا شکار پانڈیا کی ایشیا کپ کے بقیہ میچز میں شرکت مشکوک

mariyam nawaz
پاکستان6 گھنٹے ago

مریم نواز نے رہائی کے بعد بڑا فیصلہ کر لیا

shahbaz shrif
پاکستان9 گھنٹے ago

شہباز شریف کی والدہ کو خوشخبری

nawaz shrif
پاکستان5 گھنٹے ago

رہائی کے بعد نواز شریف ،مریم نواز کی تازہ ترین تصاویر سامنے آ گئیں

faisal javed
پاکستان10 گھنٹے ago

نواز ، مریم اور صفدر کا اصل ٹھکانہ اڈیالہ جیل

mariyam orang zaib
پاکستان7 گھنٹے ago

مریم اورنگزیب جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں …….. رو پڑیں

nawaz shrif
پاکستان8 گھنٹے ago

مجھے یقین تھا اللہ تعالیٰ مجھے انصاف دے گا:نواز شریف

nawaz maryiam and safdar
پاکستان7 گھنٹے ago

مشکل گھڑیاں ختم …….. اڈیالہ جیل سے رہا

Islamabad Accountability court
پاکستان15 گھنٹے ago

خواجہ حارث اور سردار مظفر عباسی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

ahsan, shahbaz and khwaja asif
پاکستان10 گھنٹے ago

نواز شریف کو سزاء دینا عمران کےلئے جیت کی راہ ہموار کرنا تھا :احسن اقبال

maria wasti
شوبز14 گھنٹے ago

عشق میں ناکامی

national accountability beauru
پاکستان8 گھنٹے ago

نیب کا نواز شریف کی سزا معطلی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

sardar atiq
کشمیر2 گھنٹے ago

شریف خاندان کی رہائی کے پیچھے این آر او ہے:عتیق احمد خان

bilawal
پاکستان3 گھنٹے ago

بیگم کلثوم نواز کا انتقال شریف خاندان کیلئے ریلیف ہے: بلاول بھٹو

k-Electric company
پاکستان7 گھنٹے ago

کے الیکٹرک اورکرنٹ لگنے سے معذوربچے کے اہل خانہ میں سمجھوتہ

peoples party
پاکستان7 گھنٹے ago

پیپلز پارٹی نے نواز شریف اور دیگر کی سزا معطلی کو خوش آئند قرار دے دیا

مقبول خبریں